Sunday, 25 January 2015

کمٹمنٹ (افسانہ )


وہ بیس سال بعد اس شہر میں آیا تھا اور میرے پاس فیصل کا فون آیا کہنے لگا یار کل تم جو ادبی نشست رکھنے جارہے ہو ، اس کا مہمان احمد کو بنالو ، وہ بہت سالوں بعد آیا ہے میں نے کہا ، ٹھیک ہے ایسا ہی کرلیتے ہیں میں نے ناجد کو کہا کہ پروگرام بدل گیا ہے ، اب کل کی نشست کا مہمان احمد ہوگا ، تم اسی کے مطابق پروگرام ترتیب دے لو ،ناجد نے کہا کہ ایسا ہی ہوگا احمد کا میں نے نام تو سن رکھا تھا ،لیکن کبھی اسے ملا نہیں تھا کتنی عجیب بات تھی کہ وہ دو عشروں تک لاہور رہا اور میں نے بھی ایک عشرہ لاہور گزارا لیکن کبھی ملاقات نہیں ہوسکی ،ہاں کئی بار وہاں دوست اس کا تذکرہ کرتے ، میں سنتا اور چپ کرجاتا اور آج وہ خود چل کر اس شہر میں آگیا تھا تقریب ہوگئی ،اس نے اپنے شعر بھی سنا ڈالے ، تقریب سے فارغ ہوکرمیں نے اس کو کھانے کی پیشکش کی تو کہنے لگا کہ چلیں باؤ محمد علی کے زمیندارہ ہوٹل چلتے ہیں ، وہاں کے چنے کھائیں گے اور پرانی یاد تازہ کریں گے اور ساتھ ہی رحمان سويٹس پو جاکر دیسی گھی میں بنی گلاب جامن کھائیں گے اور ساتھ رحمان صاحب کی باتوں سے بھی لطف اٹھائیں گے ، احسان کی چائے پئیں گے اور چھانو کے ہوٹل پر سیاسی کارکنوں کی بحث بھی سنیں گے وہ ایک ہی سانس میں یہ سب باتیں کرگیا میں زرا شاک میں آیا اور تھوڑی دیر تک کچھ نہ کہہ سکا کیا واقعی اس نے ان بیس سالوں میں اس شہر کی کوئی خبر نہ رکھی تھی خاموش کیوں ہوگئے ؟ کیا باؤ جی سے کوئی ناراضگی ہے ؟ احمد بولا نہیں باؤ جی سے کوئی ناراض ہوسکتا تھا ؟ وہ تو ایسے آدمی ہی نہیں تھے میں نے فوری طور پر کہا "تھے" کیا مطلب باؤ محمد علی تو کب کے " تھے " ہوگئے اور ان کے ساتھ "زمیندار ہوٹل " اور اس کے "چنے " بھی تھے ہوگئے ، میں نے کہا اوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔احمد نے کہا اور وہ رحمان سویٹس ، احسان اور چھانو کے چائے کے ہوٹل ، وہاں جمتی سیاسی محفلیں جب رحمان ، احسان اور چھانو ہی نہ رہے تو ان کے ٹھکانے کیسے رہتے ، اور تم تو جانتے ہی ہو کہ ضیاءالحق کے بچوں نے جوان ہوکر سیاست ہی نہ رہنے دی تو سیاسی کارکن کہاں سے باقی رہتے ، اب کسے سیاسی کارکنوں کی ضرورت ہے ، ہاں کہتے ہو تو شہر خموشاں چلتے ہیں وہاں یہ سب ہوں گے ، ان سے مل لیں گے میں نے احمد ، فیصل کو ساتھ لیا اور ایک ہوٹل میں جاکر کھانا کھایا کھانا کھانے کے بعد ہم جب ہوٹل سے نکلے تو اچانک دھند پڑنے لگی آپ کہاں بیٹھتے ہیں ؟ احمد بولا ایک کیفے ہے جسے لطیف ٹی سٹال کہتے ہیں ، حالانکہ اچھی خاصی دکان ہے مڈووالے چوک میں وہاں بیٹھتا ہوں ، پرسکون ہے ، شور زرا بھی نہیں ، میں نے کہا چلو وہیں چلتے اور زرا بیچ شہر سے چلو میں شہر کی گلیوں اور سڑکوں کو دیکھنا چاہتا ہوں احمد بولا مجھے پتہ لگ رہا تھا کہ بیس سال کے بعد اس کی واپسی بے سبب نہیں ہے ، وہ کسی چیز کو تلاش کرنے واپس آیا ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہیں کہیں اب بھی بیس سال بعد اسے اچانک وہ مل جائے گی میں فیصل اور وہ آہستہ آہستہ ، چھوٹے ،چھوٹے قدموں کے ساتھ ایوب روڈ سے ہوتے ہوئے ، گوردوارہ روڈ سے جب چوک سنگلہ والے پہنچے تو بے اختیار ہماری نظریں اس جانب اٹھیں جہاں کبھی زمیندارہ ہوٹل ہوتا تھا مگر وہاں اب کچھ بھی ویسا نہیں تھا ، جنت روڈ سنسان پڑا تھا ،چھانو کا ہوٹل جو نہیں رہا تھا اور رحمان سویٹس والی دکانیں بھی بند پڑی تھیں اور گلی بھی سنسان تھی ، یار وہ شیخ پیرو ، عالم شیرازی ، عطا عاصی کوئی بھی تو نہیں نظر آرہا ہاں شیخ پیرو تو وہیں گئے جہاں باؤ جی اور رحمان و چھانو گئے ، جبکہ عطا عاصی ک اس شہر میں ہونا نہ ہونا برابر ہے ، شیر عالم شیرازی لاہور ہجرت کرگئے اور پھر نہیں پلٹے ہم چلتے چلتے جب گپّی والے چوک پہنچے تو وہآن چوک تو کشادہ ہوگیا تھا لیکن نہ بوہڑ کا درخت تھا اور نہ اس کے نیچے گپی کا پھٹا اور نہ اس کے اردگرد بچھی کرسیوں پر بیٹھے شعیب الرحمان ، اکرام القادری ، قدیر طاہر ، شمس القمر تھے یار ! یہ چوک کی کشادگی مجھے نجانے کیوں اچھی نہیں لگ رہی احمد دھیرے سے بولا ہم یہ سنکر چپ رہے ، کیونکہ کہنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں چلتے ، چلتے ہم لطیف ٹی سٹال پہنچ ہی گئے اور وہاں بیٹھے میں نے بیٹھتے ہی سگریٹ سلگانی چاہی تو دیکھا احمد فرید کھانس رہا تھا لگتا ہے آپ کو سگریٹ سے پرابلم ہوگی ، میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ارے نہیں ، میں تو خود چین سموکر ہوں ، آج بس طبیعت نہیں کررہی کجھ دیر کے لیے ہم سب خاموش ہوگئے ہاں تو شہر کیوں چھوڑا تھا ، اجآنک میں نے اس سے سوال کیا کمٹمنٹ کے لیے ، اس کے منہ سے بے اختیار نکلا کمٹمنٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں یار ، میں " کالا بابا " تانگے والے کا بیٹا " کمٹمنٹ " کے لیے یہ شہر چھوڑ گیا تھا کالونی میں جہاں ہم رہتے تھے ساتھ ہی شفقت بھائی کا گھر تھا جو اس وقت نیشنل سٹودنٹس فیڈریشن پنجاب کے صدر تھے ، ان کے گھر ہمارا بہت آنا جانا تھا بلکہ ان کی اماں ہم سب کی اماں بھی تھی ، ان کی بیٹھک میں ایک سالخوردہ الماری کتابوں سے بھری تھی ، میں پانچویں کاس میں تھا جب میں نے ساحر ، منٹو ، فیض ، علی سردار جعفری ، امرتا پریتم ، عصمت چغتائی ، سبط حسن ، بنّے میآں سب کے کام کو چکھ چکا تھا ، اور تک بندی تک کرنے لگا تھا ارے اس وقت تو میں عمروعیار ، ٹارزن کی کہانیاں پڑھ رہا تھا اور ان گنت دیو تھے جن سے ہر وقت ڈرتا رہتا تھا ، چڑیلیں ، بھوت پریت تھے جن کے خوف سے دل کی دھڑکن تیز ہوجایا کرتی تھی اور پریوں کے دیس کوہ قاف کے خواب دیکھا کرتا تھا ، میں نے کہا نہیں ایسا بچپن تو مرے قریب بھی نہیں پھٹکا ۔۔۔۔احمد نے کہا اوہ تو آپ " انوکھے لاڈلے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔" زرا بڑا ہوا تو شفقت بھائی کے گھر میں نے معراج محمد خان ، فتح یاب علی خان ، افراسیاب خٹک جیسے کمیونسٹوں اور ترقی پسندوں کو آتے جاتے دیکھا افراسیاب ۔۔۔۔۔۔۔ہا ہاہا ۔۔۔۔۔۔میں نے قہقہہ لگایا ہنسے کیوں ۔۔۔۔۔۔۔ احمد نے پوچھا افراسیاب کو کمیونسٹ اور ترقی پسند کہنے پر ہنسی آئی ہاں نا ،ایسے تو کئی لوگوں کو سابقین کہنا پڑے گا ، احمد بولا سابق نہيں بلکہ مرحوم کیمونسٹ ، ترقی پسند کہو ، مغفور مت کہنا اس کا مجھے یقین نہیں ہے ،میں نے کہا شفقت بھائی ہمارے گرو تھے ، اسٹڈی سرکل لیتے تھے اور ایسے ہی ایک تربیتی سیشن میں انھوں نے مجھے کہا احمد ! اس دنیا میں اگر کوئی شئے سب سے قابل قدر اور مقصود ہے تو وہ کمٹمنٹ ہے ، اپنے ںظریات کے ساتھ میں نے ان کی بات کو پلّے باندھ لیا شفقت بھائی مرے آئیڈیل تھے ، وہ بھی ایک غریب گھر سے تعلق رکھتے تھے ، صحافت کا شوق تھا تو اسے بطور پیشہ بھی اختیار کرلیا اور "روزنامہ امروز ملتان " میں ملازم ہوگئے ، دن رات طالب علموں کو کمٹمنٹ کا درس دیتے تھے اور اکثر فیض کی نظم " بول کہ لب آزاد ہیں تیرے " گنگناتے رہتے اور میں نے بھی لب آزاد کر ليے ، اپنی زبان کو اپنا سمجھ لیا ، قفل کھولے ، زنجیر کا دامن پھیلا لیا اور کمٹمنٹ سے بندھ گیا ایک دن شفقت بھائی نے کہا کہ انقلاب کی جدوجہد کا مثالی مرکز " صنعتی شہر " ہوا کرتا ہے اور وہاں کمٹیڈ دانشوروں کی ضرورت ہمہ وقت رہتی ہے تو میں نے بھی انقلاب کے مرکز میں جانے کا فیصلہ کرلیا اور لاہور چلا آیا اس کے بعد اپنی کمٹمنٹ سے جڑا میں چھوٹے ،بڑے اداروں میں قلم کی مزدوریاں کرتا رہا اور سماج بدلنے کے خواب دیکھتا رہا یہ وہ زمانہ تھا جب سوویت یونیں روبہ زوال تھا ، سماجی تبدیلی کا خواب انقلاب کے راستے دیکھنے والے مغرب سے آنے والی این جی اوز آندھیوں اور جھکڑ میں گم ہوتے جاتے تھے ، کوئی انسانی حقوق کا علمبردار ، تو کوئی بانڈڈ لیبر کا محافظ تو کوئی روشن خیالی کا پروجیکٹ چلارہا تھا اور تبدیلی کے دھارے کی کایا کلپ سول سوسائٹی کے نام سے ہوگئی تھی اور مرے بہت سے سنگی ساتھی این جی اوز کو پیارے ہوگئے تھے این ایس ایف ، قومی محاز آزادی ، کمیونسٹ پارٹی ، کسان کمیٹی ، ٹریڈ یونین سب قصہ رفتہ ہوئیں اور ان کی جگہ ایچ آر سی پی ، سیپ ، عورت فاؤنڈیشن ، شرکت گاہ نے لے لی اور اب سب پروجیکٹ تھا ، میں کمٹمنٹ کے ساتھ چمٹا ہوا تھا پھر ایک دن مجھے شفقت بھائی کا خط ملا ، خط پر ان کا پتہ فیض آباد اسلام آباد کی ایک سٹریٹ کے مکان کا لکھا تھا یہاں تک بیان کرکے احمد نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ نکالا جو خاصا پرانا ہوچکا تھا اور اسے ضایع ہونے سے بچانے کے لیے اس کی لیمینشن کرالی گئی تھی احمد نے وہ کاغذ مری جانب بڑھا دیا میں نے وہ کاغذ جو تہہ کیا ہوا تھا کھولا تو وہ ایک خط تھا جو احمد کے نام تھا پیارے احمد سلام ! امید ہے خیریت سے ہوں گے ، کل مجھے چھوٹا بھائی مہتاب ملا ، اس سے میں نے تمہارے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ تم " جنگ " ميں سب ایڈیٹر کی نوکری کرتے ہو اور ابتک کوئی ٹھکانہ لاہور میں نہیں بناسکے ، جنگ کے دفتر میں نيچے پریس کے گودام ميں نیوز پرنٹ کے بنڈلوں پر سوتے ہو ، اور اس نے بتایا کہ ابتک تم " سماج بدلنے " کا خواب دیکھتے ہو اور بار بار " کمٹمنٹ " کا حوالہ دیتے ہو مجھے یہ سب سنکر بہت تعجب ہوا کہ اتنے برس لاہور شہر میں گزارنے کے باوجود اور اس شہر کے کاسمو پولٹن کلچر سے آشنائی کے باوجود بھی تم نے اپنے ماہ و سال بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور تم اب تک " شراب احمر قدیم " کی محبت میں گرفتار ہو میں تمہیں کہتا ہوں کہ اس سراب سے باہر نکلو ، حقیقت پسندی سے کام لو ، اور ایک بات دھیان سے سن لو " دنیا میں " کمٹمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ، اس سے " چو۔۔۔۔یا اور کوئی چیز نہیں ہے ، یہاں مرے پاس چلے آؤ ، مرے پاس تمہارے لیے اپنی این جی او میں شاندار پروجکیٹ موجود ہے ، بہت جلد تمہارے پاس سب کچھ ہوگآ ، مہتاب کو دیکھا ہے نا تم نے کیسی زندگی گزار رہا ہے اور یہاں آغاز میں بھی تمہیں رہائش ، گاڑی کی فکر نہیں ہوگی ، مری کوٹھی میں رہنا احمد ! وہ سب بکواس تھی جو اس کالونی کے اس ادھ کچے پکّے گھر میں اس بیٹھک میں ، میں تم سے کیا کرتا تھا ، زرا اپنے بھائی کو دیکھو کم از کم اس نے مکان پکا کرلیا ہے ، اور سارا گھر چلا رہا ہے ، تم دیکھو نا اس کمٹمنٹ کی گردان نے تمہیں کیا دیا اس لیے یہ خط ملتے ہی بوریا بستر باندھو اور مرے پاس اسلام آباد چلے آؤ فقط والسلام تمہارا بھائی شفقت۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, 24 January 2015

تخلیقیت کے ریشم بننتے بنتے مرجانے والا منٹو


تخلیقیت کے ریشم بنتے بنتے مرجانے والا منٹو اٹھارہ جنوری 1955 ء اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی وفات کا دن تھا اور اس دن پوری دنیا میں منٹو کے چاہنے والوں نے منٹو کو یاد کیا ، اس دن ہندوستان کی ایک معروف فلم میکر نے منٹو کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان کیا جس نے اس سے پہلے طوطی ہند رگھو پتی ناتھ سہائے فراق پر فلم بنائی تھی میں بھی اس دن کی مناسبت سے سعادت حسن منٹو کو یاد کرنے بیٹھا تو مجھے دنیا زاد کے شمارے چالیس میں چھپا افسانہ نگار ، نقاد محمد حمید شاید کا سراج الدین اسلم مرحوم کو بعد از مرگ لکھا خط یاد آیا ،جس کے آغاز میں انھوں نے سراج الدین اسلم کا ادب اور ادیب بارے یہ لکھا یہ بیان نقل کیا تھا امید اور نا امیدی کے درمیان ایک پیچاک ہی ادب ، خاص طور پر فکشن کا موضوع ہے اور اسی پیچاک کے درمیان ایک پڑاو برج عاج ہے جس میں بیٹھ کر ادیب خواب و خیال کے لچھوں سے جھوجھتا رہتا ہے ، کچھ کو سلجھا لیتا ہے ، کچھ میں ریشم کے کیٹرے کی طرح الجھ کر رہ جاتا ہے اور انجام کار مرجاتامگر دنیا کو تخلیقیت کا ریشم دے جاتا ہے منٹو برج عاج میں بیٹھا ایسا ادیب تھا جس کی تخلیقیت کے ریشم کی آب و تاب ، اور قدر و قیمت اردو ادب کے دیگر ادیبوں کی تخلیقیت کے ریشم سے کہیں زیادہ ہے اور شاید اسی لیے منٹو خون تھوکتے 18 جنوری 1955 ء کو بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوگیا یوسا نے ایک جگہ لکھا کہ فنکار بہت پیچیدہ لوگ ہوتے ہیں ، ان کو نہ تو مثالیت زدگی کے ساتھ دیکھنا چاہئیے ، نہ ہی ان کو مجسم شیطان ، ان کا فن ہے جو اہم ہوتا ہے نہ کہ ان کی زندگی ، ان کو سادھو سنت یا شیطان سمجھنا غلطی ہوگی اسی لیے منٹو کو اگر ہم اس کے کام سے الگ کرکے دیکھیں گے تو اسے سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا احمد راہی سے کسی نے منٹو کی نرگسیت اور انانیت بارے پوچھا تم انھوں نے کہا تھا منٹو کی انانیت و نرگسیت اس کی تنہائی کے ساتھ اس کے تفاعل کا نتیجہ تھی ، منٹو کو امرتسر سے دلی اور وہاں سے ممبئی تک دفتر میسر رہا جو لاہور میں کبھی میسر نہیں آیا ادیب کے خود بین ، انانیت اور نرگسیت میں مبتلا ہونے میں شمس الرحمان فاروقی کو بھی کوئی برائی نظر نہیں آئی تھی اور اس موقعہ پر انھوں نے اشعر نجمی کو کہا تھا منٹو جس قدر انانیت پسند اور جتنا بڑا خود بیں و بڑا نرگسی تھا ، اس کا اپنا فن بھی اتنا بڑا تھا جبکہ حنیف رامے نے کہا تھا کہ سماج اگر ایک دیو ہے تو منٹو وہ پرندہ جس میں اس کی جان ہے ، منٹو انا کی بادشاہت کا اکیلا مالک تھا اور اس کے مرنے سے انا کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا ابھی فیس بک پر مرے دوست جمیل خان نے وسیم علی کا ایک مضمون شئیر کیا جس میں انھوں نے برطانوی ڈرامہ نگار ابسن کے حوالے سے لکھا کہ ابسن نے اپنے ڈرامے میں ایک عورت کو مرد کو طلاق دیتے ہوئے دکھایا تو اس زمانے کا برطانوی معاشرہ ڈرامے میں بھی ایک عورت کی جرات رندانہ کو برداشت نہ کرسکا اور ابسن پر سخت تنقید ہوئی منٹو نے جس زمانے میں افسانے لکھنا شروع کئے تو ان افسانوں میں دکھائے جانے والے کرداروں کو قدامت پرست تو کیا قبول کرتے ، خرد افروزی ، روشن خیالی ، عقلیت پسندی ، صنفی برابری ، مساوات کے علمبرداروں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا سعادت حسن منٹو پاک و ہند کے ایک ایسے ادیب تھے جنھوں نے سچائی کے ساتھ سماج کے ان کرداروں کی زندگی پر کہانیاں لکھیں جن کے بارے میں کوئی بات کرنا ایک ٹیبو خیال کیا جاتا تھا اور سماج کے اندر منافقانہ طور پر اخلاقیاتی ملمع کاری کرتے ہوئے اس کے بدترین پہلووں کو چھپائے جانے کی جو روائت تھی اس کو انہوں نے توڑدیا ، منٹو کی اس بے باکی اور ہمت کو متحدہ ہندوستان میں بھی اردو کی ادب ، صحافت کی دنیا پر چھائی اشرافیہ نے قبول نہ کیا ، یہاں تک کہ اس وقت کے جو اشتراکی خیالات کے مالک ترقی پسند ادیب تھے وہ بھی منٹو کی اس سچ بیانی و تلخ بیانی کو برداشت نہ کرسکے اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ منٹو کو ترقی پسند تحریک کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا سعادت حسن منٹو کے افسانوں کو شاہد دہلوی نے اپنے رسالے میں شایع کرنا شروع کیا اور اس حوالے سے منٹو کے افسانے " بو " کو شایع کرنے پر ان کو بطور رسالے کے ناشر و ایڈیٹر لاہور کی ایک عدالت میں ماخوز بھی کیا گیا ، شاہد دہلوی نے منٹو پر لکھے اپنے خاکے میں اس بارے کافی تفصیل سے بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ منٹو کو اپنے خلاف مقدمات کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور اس پر وہ پریشان نہیں ہوتے تھے نندنا داس سچیتا کہتی ہیں کہ جب وہ طالب علم تھیں تو انہوں نے منٹو کو پہلے انگریزی میں پڑھا اور اس کے بعد انہوں نے دیوناگری خط میں لکھی اردو کہانیاں پڑھیں تو منٹو نے ان کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں لے لیا منٹو نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز تراجم سے کیا اور اس سلسلے میں وہ معروف کمیونسٹ ادیب و تاریخ دان باری علیگ کے ساتھ ہوئے اور یہ امرتسر میں ان کی ادبی زندگی کا بطور ایک اشتراکی ادیب کے آغاز تھا ، ہندوستان کے معروف ادیب ڈاکٹر علی فاطمی نے " کامریڈ منٹو " کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ان کی اشتراکی خیال کے زیر اثر لکھی تحریروں کا جائزہ اور فہرست پیش کی ہے ، منٹو نے اردو ادب کے قاری کو روسی فکشن نگاروں سے واقف کرایا ، چیخوف کے گورکی کے نام خط کے تراجم کئے اور روس کے معروف ادیبوں کی کہانیوں اور شاعری کے منتخب تراجم کئے جن کے مستند ہونے پر کسی کو شک نہیں ہے فیض صاحب نے بھی ایک جگہ منٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی زمانہ طالب علمی کی چند جھلکیاں دکھائیں ، جس میں منٹو کو نصابی تعلیم سے باغی مگر ادب کا زھین طالب علم کی جھلکیاں دکھائی ہیں ، آزاد منش طبعیت منٹو کی آغاز کار سے تھی اور یہی آزاد منشی تھی جو منٹو کو ممبئی تک لے گئی تھی پطرس بخاری نے بھی آل انڈیا ریڈیو سروس میں منٹو کی زندگی کی کچھ جھلکیاں ہمیں دکھائی ہیں منٹو کے بارے میں حمید شاہد نے بھی بہت ہی پیاری بات لکھی ہے کہ اردو ادب کبھی بھی منٹو کے سحر سے باہر نہیں آسکا اور اردو ادب کو دوسرا منٹو بھی کبھی میسر نہ آسکا منٹو نے کالونیل دور میں انگریز راج بارے عام آدمی اور سفید فام آقا کی زھنیت کو بے نقاب کرنے والے کئی ایک افسانے بھی لکھے جن میں " نیا قانون " ایک ایسا افسانہ ہے جو کوئی بھی پڑھتا ہے تو اسے فراموش نہیں کرپاتا ، منٹو نے فرنگی راج کے خاتمے سے ایک عام آدمی کو کیا توقعات تھیں اسے منگو کوچوان کی شکل میں دکھانے کی کوشش کی ، اس زمانے میں 1935 کا انڈیا ایکٹ نافذ کئے جانے کی باتیں ہورہی تھیں اور اسے ہندوستان کی عام طور پر اور پنجاب کی سیاسی اشرافیہ اور وکلاء وغیرہ اسے بہت بڑا کارنامہ بتلارہے تھے ، ایسے میں " نیا قانون " کا مطلب ایک تانگہ چلانے والے کوچوان نے کیا لیا اور جب اس نے آزادی کے اپنے معنی متعین کرتے ہوئے اس پر عمل کیا تو اس کے ساتھ کیا بنا ، بین السطور اس افسانے میں منٹو نے پوسٹ کالونیل دور ، ہندوستان کے برطانوی قبضے سے آزاد ہونے کے بعد کی صورت حال کی پیشن گوئی بھی کرنے کی کوشش کی جو بعد میں گماشتہ ریاست ، گماشتہ سرمایہ داری ، گماشتہ حکمران طبقے کے ساتھ ہمارے سامنے آن کھڑی ہوئی اور اس کو جب نیو کالونیل یا نو آبادیاتی دور کہا گیا جس میں سفید جلد والے آقا تو چلے گئے تھے لیکن ان کی جگہ کالے ، زرد جلد والے جن کے نام ، خدوخال ، زبان ہماری جیسی تھی لیکن زھنیت وہی سفید آقا والی تھی اور بقول فرانز فینن کہ کالونی بن جانے والے علاقوں کے لوگ جو محکومیت اور غلامی کے تجربے سے گزرے تھے ان پر غلام بنائے جانے کا اثر یہ ہوا کہ وہ خود بھی آقا جیسے بننے کے خبط میں مبتلا ہوگئے منٹو نے تقسیم ہندوستان کو " ٹوبہ ٹیک سنگھ " میں تصویر کیا اور اسے ایک طرح سے پاگل پن اور جنون سے تعبیر کیا اور اس سے جو تقسیم کلچرل سطح پر ہونی تھی اور اس سے ایک عام آدمی کو اپنی جنم بھومی کے اچانک اجنبی بن جانے کا جو صدمہ اٹھانا پڑرہا تھا اور اپنے شہر ، گاوں اور محلے کے یک دم کوئی اور جگہ بن جانے کا جو نقابل فہم عمل تھا اس سے جو صورت حال پیدا ہوئی اسے پاگلوں کی مذھبی شناخت کے حوالے سے تبادلہ آبادی کی صورت بیان کیا ہے ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں جائے گا ، اس کے پیچھے دراصل نئے بننے والے دونوں ملکوں کو اصل میں ایسی جگہ بن جاتے ہوئے دکھائے جانے کا عمل ہے کہ کسی کو بھی اپنی جنم بھومی نہیں ملتی اور سب اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں آج اس افسانے کی کہیں زیادہ بڑی تفہیم کی جاسکتی ہے کہ ایک طرف تو پاکستان کے اندر بسنے والی قومیتیں بلوچ ، سندھی ، پشتون ، سرائیکی ، گلگتی بلتی ، کشمیری اور یہاں تک کہ خود پنجابی بھی اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ تلاش کررہی ہیں ، جبکہ 1971ء میں بنگالی اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ بنانے کے لئے بنگلہ دیش کی منزل تک پہنچ گئے تھے ، ادھر ہندوستان میں کشمیری ، ناگا لینڈ ، آسام ، چھتیس گڑھ سمیت ساوتھ انڈین اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو تلاش کررہے ہیں ، اسی طرح سے برصغیر پاک ہند کی مذھبی اقلیتوں ، نسلی گروہوں ، عورتوں کو بھی اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تلاش ہے ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی رٹ لگانے والا بشن سنگھ نو مین لینڈ پر جم کر کھڑا ہوجاتا ہے اور بالآخر دم توڑ دیتا ہے اور بشن سنگھ کا نو مین لینڈ جہاں نہ پاکستان تھا اور نہ ہندوستان تھا پر کھڑے ہوجانا ایک طرح سے ہندوستان اور پاکستان کے ان لوگوں ، گروہوں اور اقوام کا المیہ ہے جن کو تاحال اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہیں مل سکا اور وہ ان ملکوں میں اصل میں نو مین لینڈ پر کھڑے ہیں نو مین لینڈ پر پاکستان میں ہندو ، کرسچن ، احمدی بھی کھڑے ہیں اور مذھبی دہشت گردی کے سامنے آنے کے بعد نومین لینڈ پر کھڑے برصغیر کی متنوع اور تکثیر المذھبیت کی نمائیندگی کرنے والے بھی کھڑے ہیں جن کو ان کے مخصوص عقیدے اور یہاں تک کے مخصوص ناموں کی وجہ سے مارے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور ا ن کی بہت بڑی تعداد ہجرت زدگی کا شکار ہوئی ہے ایسی نو مین لینڈ ہندوستان میں مسلمانوں ، کرسچن کے لئے بنی ہوئی ہے جن کو آر ایس آیس ، بجرنگ دل جیسی ہندو فسطائی تنظیموں کے جبر کا سامنا ہے منٹو نے ہندوستان کی تقسیم کے دوران افراتفری ، نفسانفسی کے دوران کئی ایک تصویروں کے زریعے اس طرح کی شاک تھراپی سے کام لیا ہے کہ اس کا سامنا ایک منافق سماج کرہی نہیں سکتا ٹوبہ ٹیک سنگھ افسانے کے بارے میں پاکستانی نژاد ن-م -دانش نے ایک مضمون میں لکھا کہ یہ افسانہ ادب میں Irony کی بہترین مثال ہے ، اس میں راوی کے بیانات سے ، کرداروں کی گفتگو سے ، عمل سے اور کہیں بیان و عمل کے درمیان اور کہیں پوری صورت حال میں ، کہیں پیراڈوکس کی شکل میں اور کہیں دبے ہوئے طنز میں ،یہاں تک کہ اس کے پورے سٹرکچرل نیچر سے یہ Irony جھلک رہی ہے تقسیم کے وقت ایک پاگل پن ظہور پذیر ہوا جس نے پوری فضا کو Ironic کردیا کالی شلوار ، کھول دو ، ٹھنڈا گوشت ، موزیل ، بابو گوپی ناتھ ، یزید جیسے افسانے گہرے طنز کے ساتھ ساتھ جس بدنمائی کو بے نقاب کرتے ہیں اس بدنمائی کو دیکھ کر ہمارے بہت سے واعظ ، محتسب ، مفتی ، قاضی ، اخلاقیات کے ٹھیکے دار کل بھی منٹو کو کوستے تھے اور آج بھی منٹو ان کے ہاں معتوب ہے پاکستان ، بنگلہ دیش ، ہندوستان ان تینوں ملکوں میں سچائی کی اس سرحد پر جاپہنچنے والوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا گیا جس سرحد پر کئی ایک ٹیبو بے نقاب ہوتی ہوں ،یا ان ملکوں کی ریاستوں اور اس کی نام نہاد نظریاتی سرحدوں کی پول کھلتی ہو ، یا کوئی ایسا شخص کارہائے نمایاں سرانجام دے دے جس کی مذھبی شناخت کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دے دیا گیا ، ایسے لوگ ان سماجوں میں بقول وسیم الطاف مس فٹ ٹھہرادئے گئے قرہ العین حیدر کو پاکستان سے واپس اس لئے جانا پڑا کہ ان کے ناول ، کہانیاں ، افسانے پاکستان کی ریاست اور اس کے نظریاتی نام نہاد محافظوں کے بیانئے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے سجاد ظہیر کو اپنے اشتراکی خیالات کی بنیاد پر پاکستان میں رہنا محال نظر آیا تو واہس ہندوستان چلے گئے ، ڈاکٹر عبدالسلام کو اس ملک نے ان کی مذھبی شناخت کی وجہ سے قبول نہ کیا ساحر لدھیانوی کو سویرا رسالے میں اشتراکی خیالات کی ترویج کرنے کی بنا پر بغاوت کا مرتکب ٹھہرایا گیا اور ان کو بھی ہندوستان جانے پر مجبور کیا گیا لیکن خود ہندوستان میں صورت حال کیا ہے ، ایف ایم حسین کو آرٹ کی وجہ سے قطر بھاگنا پڑا ، ساجد رشید قاتلانہ حملے میں بال بال بچے ، ارون دھتی رائےنے جب ہندوتوا ، سرمایہ دارانہ تصور ترقی کے بخئیے ادھیڑتے ہوئے ماوسٹ تحریک اور کشمیر سمیت دیگر علاقوں کی ٹھیک ٹھیک صورت حال بیان کی اور ابھی حال ہی میں دی ڈاکٹر اینڈ سینٹ میں انہوں نے مہاتما گاندھی کی رد تشکیل کی اور ڈاکٹر امبیدکر کو ہندوستان کا حقیقی مہاتما قراردیا تو اس پر بھی شور مچ گیا منٹو کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا اور ان کی سچ بیانی پر مشتمل ان کا آرٹ کسی کو بھی نہیں بھایا اگرچہ منٹو کو عام آدمی کی طرف سے خوب پذیرائی ملی لیکن منٹو کے ذھبی سٹریس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کیسے وہ اس سٹریس کے تحت پاگل خانے جاپہنچے اور ایک دن خون تھوکتے مرگئے منٹو کو مشرف عالم زوقی نے انگلش میں منتقل کیا تو ایک لاکھ سے زیادہ کاپیاں ہاتھوں ھاتھ بک گئیں اور انگریزی پڑھنے والے یورپی نقادوں نے اسے موپساں کے ہم پلہ قرار دیا منٹو نے اپنے فکشن اور نان فکشن میں جن حقیقتوں کو منکشف کرنے اور حقیقت و فسانہ سے ملاکر جس فنتاسی کو تخلیق کیا وہ نقل بمطابق اصل تو تھی ہی لیکن پورا فکشن بھی تھی اور اتنی تلخ تھی کہ اس کی تلخی سے صرف منہ ہی کڑوا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس سے چہرے بھی بری طرح سے بگڑ جاتے تھے ، کہتے ہیں کہ عبداللہ حسین ، انتظار حسین اور مشتاق یوسفی نے بھی تو اسی ادب سے لاکھوں روپے کمائے لیکن مرا خیال یہ ہے کہ وہ اس چڑھائی پر کبھی نہیں چڑھے جہاں چڑھنا منٹو کے لئے کھیل تماشے سے زیادہ نہ تھا اور ارباب اختیار اور اس ملک کے اخلاقی کوڑے رکھنے والوں کے لئے اس چڑھائی پر چڑھنا ناقابل معافی جرم تھا اس لئے منٹو کو وہ سکون نہیں ملا جو کم از کم انتظار حسین ، عبداللہ حسین وغیرہ کے حصے میں آگیا ، ہمارے ہاں تو جانگلوس کی ڈرامائی تشکیل ہی ریاست اور حکمران طبقہ بچا سکا تھا وہ منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کیسے بچا پاتا عاصم بٹ نے ایک جگہ لکھا تھا کہ سٹیفن ہاکنگ نے "وقت کے سفر " میں لکھا تھا ایسے طاقتور اور عظیم الجثہ ستارے موجودہیں جو حجم میں بڑے ہونے کی وجہ سے اپنی روشنی خود کھاجاتے ہیں ، ان کا بڑا ہوناان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوتا .......مگر اس وقت مجھے ایسے چھوٹے ستاروں کا خیال آرہا ہے جو چھوٹے ہونے کے باوجود بڑے ہونے کا زعم رکھتے ہیں اس لئے بڑے ہونہیں پاتے اسی وجہ سے وہ اپنی روشنی ساری کی ساری کھاجاتے ہیں ، ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ بڑے سیاروں کا بڑا پن ان کی روشنی کو کھاجانے سے پتہ چلتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بڑے سیارے تو روشنی کھانے سے پہلے بھی بڑے ہوتے ہیں جبکہ بونے اگر اپنی روشنی کھائیں تو وہ اپنے آپ کو مضحکہ خیز بنالیتے ہیں پاکستان کے اندر منٹو نے جس ٹوبہ ٹیک سنگھ کی نشاندہی کی تھی اس سے یار لوگوں نے ضیاءالحق کے نظریات کے مطابق پاکستانیت برآمد کرنے کی کوشش کی بالکل ایسے ہی جیسے سیکولر ، لبرل ، اعتدال پسند جناح اور مسٹر اقبال کو مولوی بنانے کی کوشش کی گئی تھی ، منٹو پاکستانی تھا یا ہندوستانییہ بحث اصل میں چھوٹے سیاروں کا بڑے ہونے کے زعم میں مبتلا ہونا اور منٹو کی روشنی کو کھانے کی کوسش ہے شاید ایسے ہی بڑے ہونے کا زعم رکھنے والے لوگوں کے بارے میں ہندوستانی نکسل باڑی شاعر پاش نے " کاغذی شیراں دے ناں " ایک نظم لکھی اور کہا تھا تسی اتر ہو نہ دکھن تیرنہ تلوار تے ایہہ جو سلھ والی کچی کندھ اے تسیں ایس وچلیاں دو موریاں ہو جینہاں وچوں کندھ پچھلا شیطان آپنا ڈیفنس تکدا اے تسیں کنک دے وڑھ وچ کرے ہوئے چھولے او تے مٹی تہاڈا وی حساب کرنااے سادے لئے تسی اک ٹھوکر وی نئیں شاید تہانوں آپنی ہوند دا وہم اے میں دسدا آن تسیں کیہ او تسیں کیکر دے بی او جاں ٹٹیا ہویا ٹوکرا جو کجھ وی چکن توں امرتھ او تسیں ایہہ ائر گن موڈھے تے لٹکائی پھردے او تسیں قتل نئیں کرسکدے صرف ست اکونجا دے مدعی ہوسکدے او منٹو کو کیکر کے بیج، ست اکونجا دے مدعی بن سکن آلے دفن نہیں کرسکدے منٹو ایک ایسا فکشن نگار ہے کہ جس کی تحریریں نت نئے معنی اور تفہیم کا در وا کرتی رہیں گی اور جیسے جیسے وقت گزررہا ہے اس کی تحریروں میں چھپے معانی کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں اور اس کی تخلیقیت زیادہ سے ہمارے سماج سے متعلق ہوتی جاتی ہے نوٹ : انجمن ترقی پسند مصنفین خانیوال شاخ کی دوسری ادبی نشست کے لئے لکھا جانے والا مضمون ، منٹو کی یوم وفات کے حوالے سے لکھا گیا )

Wednesday, 31 December 2014

میں " نیا سال مبارک ہو " کہہ نہ سکا


میں ابھی ابھی دسمبر کی آخری رات کا آخری لمحہ اس جگہ گزار کر واپس آیا ہوں جہاں ہم تین دوست دسمبر کی اس آخری رات کا آخری لمحہ گزارا کرتے تھے اور پچھلے سال دسمبر کی آخری رات کو میں نے ان گزرے لمحوں کی یاد بھی تازہ کی تھی میں 11 بجے رات کو گھر سے نکلا تو اس مرتبہ دسمبر کی یہ آخری رات اس قدر سرد اور کہر آلود نہیں تھی جتنی یہ اس وقت ہوا کرتی تھی ، آسمان پر تارے چمک رہے تھے اور نو ربیع الاول کا چاند پوری آب و تاب سے ضوفشانی کررہا تھا اور اپنے گھر سے نکل جب میں سڑک پر آیا جو کہ مرے گھر سے بس دو قدم کے فاصلے پر ہے تو اس مرتبہ سڑک اس طرح سے ویران نہیں تھی جتنی اس وقت ہوا کرتی تھی ، طارق آباد سے پانچ بلاک اور نو بلاک کے درمیان سے گزرتی سڑک پر بھی اب کچھ رونق تھی ورنہ ان دنوں تو سرشام ہی سناٹا چھا جاتا تھا جبکہ چھے اور دس بلاک کے درمیان سے لیکر نو اور سات بلاک کے درمیان اور اس سے آگے آٹھ بلاک سے گیارہ بلاک کے درمیان تو سڑک پر خوب رونق تھی نجانے مجھے یہ چہل پہل اور رونق کیوں اچھی نہیں لگ رہی تھی میں نے وہاں سے خلاف معمول ٹرن لیا اور میں چوک سنگلہ والہ کی طرف آگیا اور تمباکو نوشی جسے میں کچھ عرصہ سے ترک کرچکا تھا اس ترک کو میں نے ترک کیا اور بھیاری پان والے سے دو کیپٹن بلیک کے سگریٹ لئے اور جیسے ہی میں سرسید روڈ پر آیا تو میں نے ایک سگریٹ جسے امریکن لٹل سگار بھی کہتے ہیں سلگا لیا اور نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ اب جیسے ہی میں کالج روڈ پر چڑھوں گا تو گورنمنٹ گرلز کالج کی دیوار سے ایک سایہ کود کر اترے گا اور ہمارے ساتھ شامل ہوجائے گا میں نے اپنی ٹیب آن کی اور سکائپ پر سیکنہ زیدی کو کال کرنے لگا ، اس نے وڈیو کال جیسے ہی رسیو کی میں نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی طرف کیمرے کو زوم کیا اور اس دیوار کے ساتھ کھڑا ہوا جہاں سے وہ بنک لگایا کرتی تھی ،وہ اس مرتبہ بھی دریائے پراگ کے پل پر رسیوں سے بنی ریلنگ کو تھامے کھڑی تھی ، ویسی ہی دھان پان سی تھی اور لگتا تھا جیسے عمر اس پر ٹھہر سی گئی ہے موٹو ! وزن کافی بھڑگیا ہے ، پیٹ پر ہی نہيں ، گالوں پر بھی چربی چڑھ گئی ہے اس کی آواز سنکر جیسے مجھ میں بھی زندگی کی چابی سی بھرگئی تھی ، میں نے برجستہ کہا ہاں یار تم اور وقار تو اب یہاں ہو نہیں جن کے ساتھ میں راتوں کو شہر کی سڑکیں ناپتا پھرتا تھا اور تمہارے بعد اس شہر میں ایک ہی چارہ ساز تھا اور وہ بس اپنے ڈرائنگ روم کے اندر ہی مراقبہ زن ہے اس سے باہر نکلتا نہيں ہآں یار سناؤ ،کامران کیا کررہا ہے ؟ تمہارا تو گروسمان ہے ، اس کی موسیقی کی ریاضت کہاں تک پہنچی ؟ کیا کوئی چیز سامنے بھی آئی سیکنہ نے بے اختیار پوچھا میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ ٹوٹے خوابوں کی چبھن لئے کامران نے تو اپنے آپ کو افیم اور اس کے کشید کردہ مشروب میں غرق کردیا لیکن یہ ان خوابوں کی کرچیوں سے پیدا ہونے والی تکلیف ہے کم ہونے کا نام نہیں لیتی اچھا یہ بتاؤ یہ وقار کہاں گم ہے ، اس کی بھی کوئی خبر نہیں ہے ، سکینہ نے پوچھا یار مجھے لگتا ہے کہ وہ ہمیں راندہ درگاہ کرنے کے بعد خود دنیاداری کے دھندوں میں لگ گیا ہے ، شہر آتا بھی ہے تو کبھی مرے پاس نہیں آتا ، نوید باٹی کے پاس جاتا ہے ، لگتا ہے اسے اب ہماری ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی میں بدلے ہوئے وقار سے ملنے کا خواہش مند بھی نہیں ہوں ، آج سے بہت عرصہ پہلے میں نے اپنے پرانے وقار کو اپنے اندر محفوظ کرلیا تھا اور آج بھی اسے اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب میں رکھکر لایا ہوں سکائپ پر ہماری یہ گفتگو جاری تھی اور میں نے کالج روڈ پر آگے سفر شروع کردیا تھا اور میں چلتے چلتے سینٹ جوزف اسکول اور اس سے ملحقہ چرچ کے سامنے آگیا تھا ، میں نے سیکنہ کو کلیسا کا مینار ، اسکول کا بورڑ دکھایا اور اندر کلیسا کے صحن میں جاکر عین اس جگہ کھڑا ہوگیا جہاں کئی سالوں سے ہم دسمبر کی آخری رات کے آخری لمحات گزارا کرتے تھے اور میں جب بھی شہر میں ہوتا ہوں تو ان لمحات کو یہاں پر ہی گزارتا ہوں سیکنہ نے کہا یار اس وقار کو تو اپنی جیب سے باہر نکالو تاکہ ہماری ٹرائیکا پوری ہو اور ہم سال گزشتہ کی اس آخری رات کی محفل سجائیں میں نے سکینہ کی یہ بات سنکر اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند کاغذ نکالے ، یہ وہ کاغذ کے ٹکڑے تھے جو وقار اپنے لمبے سے کوٹ کی جیبوں میں ٹھونسے رکھتا تھا جو اس نے مختلف اوقات میں لکھے ہوتے تھے میں نے اکثر وہ ٹکڑے اس سے مانگ لیا کرتا تھا ، ایسا ہی ایک ٹکڑا 1999ء کا تھا جب دسمبر میں دھند پڑنے کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹے تھے اور ملک اک مرتبہ پھر مارشل لاء کی لپیٹ میں تھا ، یہ افتخار عارف کی اک نظم " خوف کے موسم میں لکھی گئی ایک نظم " پر مشتمل تھا میں نے سیکنہ کو دکھانے کے لیے وہ ٹکڑا کیمرے کے سامنے کیا اور اس کو زوم کیا سکینہ کہنے لگی زرا ٹھہرو ، وقار سے کہو ابھی نہ سنائے پہلے زرا ووڈکا کا ایک ،ایک جام نوش کرلیا جائے یہ کہہ کر اس نے اپنے لانگ اوورکوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پیٹروسکایا ووڈکا کی بوتل نکال لی ، اس کا کارک کھولنے میں مصروف ہوگئی میں نے بھی ترک مئے نوشی کو اس رات کے لیے ترک کیا اور اپنی جیب سے وہ بوتل برآمد کی جو آج سارے دن کی تگ و دود کے بعد اپنے ایک دوست کے ہاں سے حاصل کی تھی ، مری بیوری کی بنی ووڈکا اور میں نے دانتوں سے اس کی سیل توڑی اور اتنے میں وہ بھی بوتل کا کارک کھول چکی تھی ہم نے ایک دوسرے کی جانب بوتل کو ہلایا اور فوری طور پر اس کے دو گھونٹ بھرے ، تلخی مئے سے مرے چہرے کے زاويے حسب معمول بگڑے اور مجھے لگا کہ مرے سینے پر کسی نے چھری چلادی ہو مگر سیکن کے چہرے کے زاويے معمول پر رہے ، اس نے ایسے دو گھونٹ بھرے جیسے کسی شریں مشروب سے شغل کررہی ہو مرے بگڑے چہرے کو دیکھ کر ہنسنے لگی اور کہا اس معاملے میں تم ابھی بھی مبتدیوں کی صف ميں کھڑے ہو ، منہ تو ایسے بنارہے ہو جیسے آج پہلی مرتبہ نیٹ کا گھونٹ بھرا ہو میں نے اس کے طنز کو نظر انداز کیا اور وقار سے کہا کہ وہ افتتاح کرے جیسے وہ وہاں واقعی موجود ہو، میں نے اس کے انداز میں بالوں کو پیچھے کی جانب جھٹکا اور کاغذ کے ٹکڑے کو سامنے رکھکر پڑھنے لگا وہ طائر جو کبھی اپنے بال و پر آزمانا چاہتے تھے ہواؤں کے خدوخال آزمانا چاہتے تھے آشیانوں کی طرف جاتے ہوئے ڈرنے لگے ہیں کون جانے کون ساصیاد کیسی وضع کے جال آزمانا چاہتا ہو کون سی شاخوں پہ کیسا گل کھلانا چاہتا ہو شکاری اپنے باطن کی طرح اندھے شکاری حرمتوں کے موسموں سے نابلد ہیں اور نشانے مستند ہیں جگمگاتی شاخوں کو بے آواز رکھنا چاہتے ہیں ستم گاری کے سب در باز رکھنا چاہتے ہیں خداوند ! تجھے سہمے ہوئے باغوں کی سوگند صداؤں کے ثمر کی منتظر شاخوں کی سوگند اڑانوں کے لیے پر تولنے والوں پر اک سایہ تحفظ کی ضمانت دینے والا کوئی مسم بشارت دینے والا یہ نظم ختم ہوئی تو سیکنہ نے امجد اسلام امجد کی نظم "دسمبر " سنانا شروع کی آخری چند دن دسمبر کے ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں خواہشوں کے نگار خانے میں کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں اس نظم کے بعد ہم دونوں خاموش ہوگئے ، کیونکہ یادوں کے ریلے نے ہم دونوں کو گھیر لیا تھا ، مجھے دسمبر کی وہ آخری رات بھی یاد آئی جو کراچی میں گزری تھی اور صدر میں ایک سیلون میں ہما علی نے مجھے کلین شیو ہونے اور اپنی داڑھی ،مونچھوں سے پہلی مرتبہ دستبردار ہونے پر مجبور کردیا تھا اور میں نے پہلی مرتبہ جینز پہنی تھی ، ہما علی منوں مٹی تلے جا سوئی ، سروش ایرانی نہ جانے کہاں ہوگا ، مجھے ڈرلگا رہتا ہے کہ کہیں شام یا عراق سے اس کے کسی محاز پر لڑتے ہوئے جان سے گزرجانے کی خبر نہ آجائے ، ایسا ہی تھا ، شہر بانو اور ہما علی ، علی احمد مرزا کے ساتھ عالم مثال ( جس کے نہ ہونے کا میں صدا قائل رہا ) اکٹھے ہوئے ہوں گے اور نہج البلاغہ کی مادی تعبیروں پر مجھ پر عتاب نازل کررہے ہوں گے کیونکہ مری مادیت پرستی کے باوجود وہ مجھے دوست خیال کرتے تھے اور دوستوں پر تبراء نہیں بلکہ عتاب ہوا کرتا ہے ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں نے اک نظم " کیا فرق پڑتا ہے " لکھی جس کے پیچھے ایک پس منظر تھا اور نہ جانے کس رو میں میں اس پس منظر پر روشنی ڈال بیٹھا اور مجھے اپنا افسانہ " عشق ناتمام "یاد آیا ہاں لارنس گارڈن لاہور کو کیسے بھول سکتا ہوں اور وہاں پر بدھا کے اس درخت کو جو مجھے اپنی طرح ہجر وفراق کا مارا لگتا ہے ، براذیل کے جنگلوں سے اکھاڑ کر اسے وہاں لگادیا گیا تھا اور بادشاہی مسجد کے عقب میں اقبان حسین کا کوٹھا جہاں اب کوکوڈین ریسٹورنٹ بنا ہوا ہے جہاں اقبال کے بنائے ہوئے مجسمے اور مورتیوں نے مجھے جکڑ لیا تھا اور وہاں سے آنے کو من نہیں کرتا تھا ، آج وہاں نجانے کون ،کون آیا ہوگا اور ہاں انار کلی تو کل کی آگ میں جھلس کر مرجانے والوں کے غم میں بند پڑی ہے اور اس کے سامنے ٹولنٹن مارکیٹ کے چوک میں کوئی کھڑا مرا انتظار تو کرتا نہیں ہوگا کیونکہ جسے انتظار کرنا تھا وہ تو مشی گن سٹیٹ کے ٹاؤن میں کہیں مری طرح یاد کے ریلے کی زد میں ہوگا اور بہے چلا جارہا ہوگا میں وہآں سے اٹھکر کھڑا ہوگیا جبکہ سیکنہ دریائے پراگ کے لکڑی کے پل پر بیٹھ گئی تھی اور مراقبے میں گم تھی ، جب میں کلیسا سے نکل کر ایس پی چوک پر آگیا تو میں نے اور سیکنہ نے اکٹھے بے اختیار اپنی اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالا اور موم بتیوں کے پیکٹ باہر نکالے ہمیں بہت سے لوگوں کی یاد میں شمعیں جلانا ہوتی تھیں ، ان میں مری اور سکینہ علی کی طرف سے بارہ آئمہ، شہر بانو ، ہما علی ، احمد علی مرزا ، فاطمہ بنت محمد ، زینب شریکۃ الحسین سمیت جملہ اہل بیت کے لیے جبکہ ابوزر غفاری ، کارل مارکس ، اینگلس ، لینن سمیت اشتراکی مجاہدوں کے لیے بشمول بھگت سنگھ ، بھٹو ، شاہ نواز کے لیے پھر اس میں مرتضی کا اضافہ ہوگیا ، استاد سبط جعفر اور اس سے پہلے شہید بے نظیر بھٹو سمیت بہت سے شہیدوں کا اضافہ ہماری ٹرائيکا کے تتر بتر ہوجانے کے بعد ہوا اور ان سب کے نام ان شمعوں کی لو کو کیا جاتا رہا اور اس مرتبہ اس میں 138 بچوں اور آٹھ مرد و خواتین کا نام بھی شامل تھا اور میں نے شمعیں روشن کرتے ہوئے ان 22 ہزار شیعہ اور 10 ہزار صوفی سنّی کو بھی یاد کیا اور لاہور ، کوئٹہ میں شہید ہونے والوں کو جن کا جرم ان کی مذھبی شناخت بنی ، اس یاد میں وہ مزدور ، اساتذہ اور غریب لوگ بھی شامل تھے جوبلوچستان میں بلوچ نہ ہونے کی وجہ سے ماردئے گئے اور وہ 4000 سے زائد بلوچ بھی جو بلوچستان میں بلوچ ہونے کی بنا پر مارے گئے اور وہ سندھی قوم پرست کارکن بھی جن کی مسخ شدہ لاشیں ویران سے ملیں ، دسمبر کی آخری رات کے آخری پہر میں کوئی خوشی پاس پھٹک کر نہیں دی ، اپنی ساری امید پرستی کے باوجود گزرجانے والوں کی یاد اس قدر بھاری تھی کہ کوئی خوش کن خواب پلکوں پر اس نے سجانے نہیں دیا ، صبا دشتیاری، ڈاکٹر شبیہ الحسن ، استاد سبط جعفر ، ڈاکٹر علی حیدر سمیت کئی چہرے سامنے آئے اور سوال ایک تھا کہ کیا علم و آگاہی سے سرفراز ہونے اور اس کی روشنی گھر ،گھر پہنچانے کا صلہ ہماری زندگیوں کے چراغ گل کرنا ہی تھا ؟ میں نے سال 2014ء کے ختم ہوتے ہی یکم جنوری 2015 ء کے آغاز پر ہی امید پرستی کو آواز دینا چاہی تو وہ مجھے بہت دور کھڑی نظر آئی اور میں نے اپنے جھکے سر کو مزید جھکا لیا اور سیکنہ علی زیدی کو بغیر " نیا سال مبارک ہو " کہے بغیر سکائپ بند کردیا اور گھر لوٹ آیا

Monday, 24 November 2014

دفن ہوجانے والا باغ اور مرجانے والا محمد رانا محمد حسین


یوسف پارک خانیوال
میں جب اندرون شہر رہتا تھا تو اکثر گرمیوں کی دوپہر اور شام کو اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر بنے ایک باغ میں چلا جاتا تھا ، یہ یوسف پارک کہلاتا تھا اور یہاں سینکڑوں درخت اور پودے تھے اور وہاں گراؤنڈ میں پڑے بنچوں میں سے ایک بنچ پر بیٹھ جاتا اور اس باغ میں بیٹھ کر میں نے بلامبالغہ کئی سو کتابیں پڑھی ہوں گی ، ریڈیو پر کرکٹ اور ہاکی میچوں کی کمنٹری سنی ہوں گی اور بی بی سی اردو سروس ، صدائے روس ماسکو ریڈیو ، ریڈیو سیلون اور آل اںڈیا ریڈیو سروس کی نشریات سنی ہوں گی میں نے اس باغ کے درختوں تلے بنچ اور گھاس پر زرا دیر سستانے والے ان دیہاتی مرد و خواتین کو دیکھا جو دور دراز کے دیہاتوں سے شہر سودا سلف لینے ، کورٹ کچہریوں اور ڈی سی ، اے سی کے ہاں پیشیاں بھگتنے آتے یا اپنے کسی مریض کے ساتھ آتے اور ان کے پاس کہیں ٹھکانہ نہ ہوتا اور وہ یہاں باغ میں ڈیرا ڈال دیتے لیکن ایک ڈی سی او عثمان عظمت جس کی سکن بلیک اور ذھنیت سفید فام نکلی نے اس باغ کو اجاڈ دیا اور اس کی جگہ اپنے سے بڑی سفید فام زھینت دکھنے والے شوباز کو خوش کرنے کے لیے ماڈل بازار بنانے کے لیے سینکڑوں درخت کاٹ ڈالے اور اب وہاں دو کروڑ کی مٹی ڈلواکر اس باغ کو دفن کرنے کا کام کیا جارہا تھا اور اسے وہ ترقی کا نام دے رہا تھا میں اس اجڑے باغ کو حسرت کی تصویر بنا دیکھ رہا تھا جو ایک کالے انگریز کی فرعونیت کی بھینٹ چڑھ گیا تھا اور ستم یہ تھا کہ سینکڑوں درخت کاٹے جانے اور ایک تاریخی باغ کو اجاڑے جانے کے واقعے پر سارا شہر خاموش تھا اور کہیں سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہوئی ، کسی نے ایک احتجاجی بینر تک نہ لگا، اس شہر کی وکلآ کی بار میں اس روز پنجاب بار کونسل کے الیکشن میں جیت جانے والے دو وکلاء کے چیمبرز کے سامنے مٹھائیاں تقسیم ہورہی تھیں ، ڈھول بجائے جارہے تھے اور مبارکبادیں دی جارہی تھیں اور میں سوچ رہا تھا کہ کیا اس شہر میں کوئی بھی انسان اب زندہ نہیں رہا ؟ کیا یہ سماج مردوں پر مشتمل رہ گیا ہے باغ اجڑنا ، درختوں کا کٹنا ، ایک تاریخی اہمیت کے پارک کا ختم ہونا یہ سب کسی کے لیے المناک اور اس شہر کے ماحول کی تباہی کے لیے اتنا بڑا واقہ شاید تھا ہی نہیں میں پریس کلب گيا اور وہاں پر ایک صحافی نے یہ سوال اٹھایا کہ اس نے ایک ڈائری میں اس منصوبے کا زکر کیا اور کچھ لوگوں سے رابطہ بھی کیا لیکن کسی نے بھی کوئی عملی قدم نہ اٹھایا میں نے ایک واجبی سی تعلیم کے حامل ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک وکیل کے زریعے اس باغ کو اجڑںے سے بچانے کی سبیل کرتا نظر آیا اور ایسے میں وہ عام سا آدمی مجھے اس شہر خموشاں میں واحد زندہ آدمی لگا جس نے اپنی آدمیت کو ابتک برقرار رکھا ہوا تھا اس باغ کے عین سامنے رانا مارکیٹ بنی ہوئی ہے میں نے اس مارکیٹ کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اچانک مجھے خیال آیا کہ یہاں بھی تو ایک شخص رانا محمد حسین نام کا رہا کرتا تھا جو اپنی زات میں ایک تاریخ تھا جس نے اس وقت اس ملک کے مزدروں اور کسانوں ، طالب علموں ، عورتوں اور سیاسی کارکنوں کے حقوق ، شہری آزادیوں ، جمہوریت اور سماجی انصاف کے حصول کی لڑائی لڑنی شروع کی تھی جب اس کی مسیں بھی پوری نہیں بھیگی تھیں ڈی ایس ایف ، پھر نیشنل عوامی پارٹی پھر پی ڈی پی اور پھر پی این پی اور اس کے بعد اے این پی کی تاسیس رکھنے والوں میں وہ شامل تھا اور اس نے باچا خان ، ولی خان ، مولانا بھاشانی ، محمود الحق عثمانی ، اجمل خٹک ، سی آر اسلم ، میاں محمود ، فیض ، صفدر میر ، سبط حسن ، سجاد ظہیر ، عبداللہ ملک ، دادا امیر حیدر ، میر غوث بخش بزنجو ، عطاء اللہ مینگل ، نواب خیر بخش مری ، شیر باز مزاری ، عطاء اللہ ملک ، جمال بوٹا ، قصور گردیزی ، رانا ریاست ، مرزا اعجاز بیگ الغرض کے سیاست کے بڑے نامی گرامی لوگوں کے ساتھ کام کیا رانا محمد حسین کی " رانا مارکیٹ " جب ضیاء دور میں محض ڈھانچہ تھی تو اس زمانے میں اس کے کونے کھدرے سیاسی کارکنوں ، طالب علموں کی پناہ گاہ تھے جہاں وہ ضیاء الحق کی مارشل لآئی عفریتوں سے ان کو پناہ دیتا اور انھیں گرفتاری سے بچاتا تھا ، یہ مارکیٹ کے کئی کمروں میں اس شہر میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنی قسمت آزمانے والے نوجوانوں کو مفت اور کبھی کبھار نہایت معمولی سے کرائے پر ٹہرا لیتا اور کئی بار تو وہ دور دراز علاقوں سے آنے والے نوجوان صبح اور رات کا کھانا بھی اس سے کھاتے اور کئی ایک کی یہ اپنی جیب سے امداد بھی کرتا تھا یہ ایک دور میں رانا محمد علی ایڈوکیٹ والد رانا ندیم عبداللہ ، رانا ریاست ، کامریڈ اعظم خان ، شیر عالم شیرازی سابق جنرل سیکرٹری پی پی پی کا ٹھکانہ ہوتا تھا اور یہیں پر لاہور ، کراچی ، کوئٹہ ، پشاور اور دیگر شہروں سے آنے والے سیاسی کارکنوں کا جھمگٹا لگا رہتا تھا اور رانا محمد حسین نے ایک وقت تک بہت فعال سیاسی زندگی گزاری اور شعور و بیداری کی شمع فروزاں کئے رکھی اور ایک طرح سے اس کی مارکیٹ سیاسی تھڑا تھی اور پھر جب بے ضمیری کی ہوا چلی اور سیاست مال بنانے اور اشراف کے گھر کی لونڈی بن گئی تو میں نے دیکھا کہ رانا محمد حسین بھی جیسے خود اپنے اندر ہی سمیٹ کر رہ گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بینائی بھی جاتی رہی اور اب تو وہ چہرے پہچان بھی نہیں سکتا تھا زمانہ بہت ظالم ہے اس نے بھی اپنے اندر سکڑ جانے اور سمٹ جانے والے اس شخص محمد حسین کو بھلا دیا یہ شام کا تارہ جسے تم چھوڑ گئے صحرائے محبت میں نشان غم ہے واقعی رانا محمد حسین شام کا وہ تارہ تھے جنھیں سب بھول گئے اور چھوڑ گئے اور صحرائے محبت میں وہ نشان غم بنکر زندگی گزارتے رہے لیکن یہ کیا کہ ایک دن جب وہ شخص مرگیا تو بھی ایک بھی شخص نے اسے یاد نہ کیا اور نہ ہی کسی طرف سے اس کی خدمات پر ایک لفظ تحسین بھی نہیں لکھا گیا کیا آج کے شہر اور اس کے باسی اتنے کٹھور اور ظالم ہوگئے ہیں جو ساری عمر انصاف ، آزادی ، حقوق کے لیے لڑتے رہے ، جنھوں نے صلیب جھٹکی اور دار کو چوم لیا ، آج ان کو کوئی یاد کرنے والا اس شہر میں نہیں تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ وہ جو اعزاز کے ساتھ دفنانے کی بات تھی وہ بھی شاید ختم ہوگئی ہے کیا رانا محمد حسین کی موت بس اس کے بیٹے سورج کے لیے کوئی المناک خبر تھی ، اس کی بیوہ کے لیے آنسو بہانے کی بات تھی ، کیا وہ صرف اس کے خون کے رشتوں کے لیے اہمیت رکھنے والا شخص تھا میں یہ سب باتیں سوچ رہا تھا اور ایک مرتبہ تو جی میں آئی یہیں سڑک پر کھڑے کھڑے لوگوں کو سقراط کی طرح روک روک کر ان سے سوال کروں حسن کیا ہے ؟ فنا کسے کہتے ہیں سچائی اور صداقت کیا ہوتی ہے اور پھر ان سے سوال کروں محمد حسین جیسے لوگ کیا تھے اور اس طریقے سے ان کو احساس دلاتا کہ کس بے حسی ، خود غرضی اور جہالت کے سرد جہنم میں وہ فریز ہوکر پڑے ہیں اور ان کو بڑے سے بڑا واقعہ اب جھنجھوڑتا نہیں ہے لیکن سچی بات ہے کہ میں یہ سب باتیں سوچ کر ہی رہ گیا ، کیونکہ مجھے لگا کہ اگر اس مدینہ میں رہنا ہے تو مجھے بھی رکھنی پڑے گی منافقوں کے ساتھ میرے پیچھے اجڑا ہوا یوسف باغ تھا اور آگے رانا محمد حسین کے بغیر کھڑی رانا مارکیٹ تھی جو تمام تر رنگوں کے باوجود اجڑی اجڑی لگ رہی تھی اور میں جب شام کے سائے گہرے تر ہوتے جاتے تھے تھکے تھکے قدموں اور احساس شکست کے ساتھ اپنے گھر کی طرف چل دیا

Sunday, 2 November 2014

قدیم ثقافتی شامی شہر سلمیہ پر داعش کا منڈلاتا بھوت اور قصّہ شاعر الماغوط کا


محمد عیسی احمد الماغوط
کل رات کو امام بارگاہ سے واپس آیا تو فوری طور پر نیند نہیں آرہی تھی اور میں نے ننید کی دیوی کو راضی کرنے کے لیے خالد احمد کی کتاب : پاکستان میں فرقہ وارانہ جنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔" کا دوسرا باب پڑھنا شروع ہی کیا تھا تو میری شریک حیات نے حسب معمول کہا کہ " کبھی اپنے جسم اور ذھن کو آرام بھی کرنے دیا کریں " تو میں نے حسب معمول ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کو کہا کہ " آرام کرنے کی خواہش جب اندر سے جنم لے گی تو آنکھیں خوبخود بند ہوجائیں گی " انھوں نے اس پر میری طرف تشویش سے دیکھا اور پھر آنکھیں موند لیں ، اسی دوران شام میں دمشق یونیورسٹی کے اسامہ شہود کا پیغام مجھے اپنے موبائل پر فیس بک میسجنر کے زریعے موصول ہوا عامر کیا تمہیں معلوم ہے ؟ محمد عیسی احمد الماغوط کا شہر سلیمۃ پر داعش کے خون آشام سائے منڈلارہے ہیں ؟ داعش سلمیۃ شہر پر دستک دینے اور اسے تباہ کرنے کو بے تاب ہے ؟ نوٹ :پیغام عربی میں تھا ، اس کا رف سا مفہوم میں اردو میں آپ تک ترجمہ کرکے پہنچا رہا ہوں ، کیونکہ میں نے عربی تھوری سی باقاعدہ اور باقی بے قاعدہ سیکھی تھی اور اسامہ شہود کی انگریزی بہت بری جبکہ عربی اور فرنچ ، کرد ، ترکش بہت ہی شاندار ہیں اور میں فرنچ سے کجھ شد بد رکھتا ہوں ، کرد ش رسم الخط تو بالکل سمجھ سے باہر ہے اور ترکش رسم الخط بھی میری عقل سے باہر ہے حالانکہ اس کے اکثر الفاظ اردو میں موجود ہیں میں نے یہ پیغام پڑھا تو خالد احمد کی کتاب ایک طرف رکھ دی - کیونکہ میرے زھن میں ایک دم سے بہت سی یادوں نے گھر کرلیا تھا اور مجھے کراچی یونیورسٹی میں عربی ادب پر ایم فل کرنے والا ایک شامی عرب جوڑا یاد آگیا - ہشام الماغوط اور سنیۃ ہشام ، دونوں میاں بیوی تھے اور پکّے سوشلسٹ تھے اور ان کا تعلق ایک اسماعیلی شیعی شامی عرب خاندان سے تھا اور یہ دونوں میری کلاس فیلو ، دوست ہما علی کے دوست تھے اور صدر کراچی میں میرے ایک پسندیدہ ایرانی ریسٹورنٹ میں ملنے والی ایک کردش کھانے کی ڈش کی دعوت پر ہما علی نے ان سے میرا تعارف کرایا تھا اس ملاقات کے بعد ہم سب گہرے دوست بن گئے تھے اور مجھے ہشام اور سنیۃ نے یہ بتاکر حیران کیا تھا کہ ثانیہ کا نام پہلے لیلی تھا جو اس نے بدل کر ثانیہ کرلیا تھا اور ہشام نے اپنے نام کے ساتھ الماغوط کا اضافہ کیا تھا اور مجھے اس تبدیلی و اضافے کے پس پردہ وجہ جاننے کا اشتیاق ہوا تو دونوں نے میری طرف حیرت سے دیکھا اور ہشام نے کہا تم نزار قبانی سے واقف ہو ، تو محمد عیسی احمد الماغوط سے واقف نہیں ہو؟ اور ثانیہ نے کہا کہ تم بیروت سے شایع ہونے والے ادبی میگزین " الشاعر " میں چھپی فیض احمد فیض کی شاعری بارے کرتے ہو اور تمہیں ثانیۃ الصالح کے بارے میں معلوم نہیں ہے ، حیرت ہے میں نے کہا تھا کہ ہاں یہ ایسے ہی ہے جیسے تم فیض احمد فیض سے واقف ہو لیکن تمہیں احمد فراز کا نہیں پتہ ، شکیب جلالی کا نہیں معلوم اور یقینی بات ہے کہ تمہیں پروین شاکر ، فہمیدہ ریاض اور سارا شگفتہ کا بھی پتہ نہیں ہوگا اس پر وہ دونوں سر ہلانے لگے اور پھر میں نے ان ناموں کے بارے میں بتایا کہ وہ کون ہیں اور ہما سے کہا کہ وہ احمد فراز کی " محاصرہ " کا ایک عام فہم سا عربی ترجمہ ہشام اور ثانیہ کو کرکے بتائیں ، سنیۃ کو میں نے فہمیدہ کی کچھ ںطموں کا خلاصہ بتایا تھا اور پھر اس رات ہشام نے اپنے ہاسٹل کے کمرے سے مجھے محمد عیسی احمد الماغوط کی شاعری کی پہلی کتاب " حزن فی ضوء القمر " ( چاند کی روشنی میں اداسی ) دی ، جس میں اصل عربی متن کے ساتھ انگریزی ترجمہ بھی موجود تھا اور یہ کتاب بعد میں ہشام نے مجھے تحفے ميں دے ڈالی ، ہشام نے مجھے شام سے نکلنے والے ایک معروف اخبار " تشرین (اکتوبر ) کے بھی کچھ تراشے دکھائے تھے جس کے مدیر محمد عیسی احمد الماغوط تھے اور ان تراشوں میں سے ایک تراشے میں ماغوط کا ایک فقرہ جیسے میرے دماغ پر نقش ہوکر رہ گیا ماغوط کہتا ہے کہ بیدو تحریر العقل العربی اصعب تحریر الفلسطین یعنی عرب کی عقل کی آزادی فلسطین کی آزادی سے زیادہ مشکل ہے ایک شعر ماغوط کا یوں تھا کہ ہمارا جرم اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم عرب ہیں عربوں کے لیے باالعموم اور شامی و لبنانیوں کے لیے بالخصوص الماغوط کا نام اجنبی نہیں ہے اور وہ اسے بطور ایک باغی شاعر ، دانشور ، ڈرامہ نگار ، مزاح نگار ، صحافی اور سیاسی مفکر کے طور پر جانتے ہیں اور الماغوط کی جنم بھومی دریائے عاصی کے کنارے آباد ایک انتہائی قدیم شہر سلیمۃ میں ہوئی تھی اور یہ شہر ہمیشہ سے باغی دانشوروں کے جنم و پرداخت میں مشہور رہا ہے اور یہ باغی دانشور بھی سلیمۃ میں ہمیشہ انتہائی غریب گھرانوں میں جنم لیتے رہے اور اسی شہر میں مصر میں پہلی فاطمی سلطنت کی بنیادیں رکھنے والے اسماعیلی تحریک کے روح رواں دانشور اور سپہ سالاروں نے جنم لیا اور یہی وہ شہر ہے جہاں فاطمی سلطنت کا پہلا خلیفہ اور قاہرہ میں عالم اسلام کی سب سے قدیم اور بین الاقوامی شہرت کی حامل یونیورسٹی الازھر کی بنیاد رکھنے والا دانشور خلیفہ عبداللہ المہدی نے جنم لیا تھا اور آج بھی سلمیۃ شہر ایسے ہی باغی دانشوروں اور سماجی اصلاح کاروں کی جائے پیدائش اور ابتدائی دن گزارنے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور اس شہر نے شام کے اندر سوشلسٹ انقلابی اور عرب نیشنلسٹ تحریک کو بہت سے دانشور دئے جن میں محمد عیسی احمد الماغوط کا نام بہت اہم ہے انتہائی غربت ، بے روزگاری اور مادی پسماندگی کے باوجود یہاں کے باشندوں کی دانشورانہ امارت میں کوئی فرق نہیں آیا اور ہشام و سنیۃ بھی اس قصبے سلمیۃ میں پیدا ہوئے تھے اور پھر علم کی پیاس میں وہ کراچی یونیورسٹی چلے آئے تھے اور جب کبھی وہ کراچی کے ساحل سمندر جاتے تو انھیں دریائے عاصی کی یاد ستانے لگتی تھی ہشام اور ثانیہ پھر شام واپس چلے گئے ، پہلے وہ دمشق میں رہے ، اس کے بعد بیروت اور پھر پتہ چلا کہ دونوں حزب اللہ میں شامل ہوگئے اور مجھے ان سوشلسٹوں کے حزب اللہ میں جانے کا پس منظر سمجھ میں نہیں آیا تھا ، جبکہ ہما علی کا کہنا تھا کہ وہ سوشلسٹ نظریات سے دستبردار بھی نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی اپنے اسماعیلی پس منظر کو کبھی بھول پائے تھے ، پھر جب ہما علی آغا خان کے کینسر وارڈ میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہی تھی تو اس کی موت سے دو دن پہلے ہشام اور سنیۃ کے ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوجانے کی خبر آگئی تھی آج اسامہ شہود کے اس پیغام نے مجھے یہ سب کچھ یاد دلادیا تھا اور میں نے اپنی کتابوں کی الماری میں بنے " عرب سیکشن " میں سے ہشام کی دی ہوئی کتاب " حزن فی ضوء القمر " کو نکالا اور بے اختیار ایک نظم پر میری نظریں ٹھہر گئیں سامحيني أنا فقيرٌ يا جميلة. .حياتي حبرٌ ومغلّفات وليلٌ بلا نجوم. .شبابي باردٌ كالوحل، عتيقٌ كالطفولة مجھے معاف کردینا ۔ میں تہی دست ہوں اے جمیلہ میری زندگی ایک سیاہی کی مانند ہے اور میں پابہ زنچیر ہوں اور ایسی رات ہوں جو اماؤس کی ہو جس میں ستارے غائب ہوجاتے ہیں میرا شباب وحول کی طرح سرد ہے اور میری بلوغت بچے کی طرح ہے اس کتاب میں ماغوط کی بیوی سنيۃ الصالح کا مقدمہ شامل ہے اور اس میں سنیۃ بتاتی ہے کہ ماغوط خود کو شاعر نہیں سمجھتا تھا اور شام کے اندر "آزاد نظم " کی بجائے پابند نظم کا چلن تھا ، یہ اس کی بیوی سنیۃ تھی جس نے ماغوط کے لکھے سینکڑوں صفحات کو پڑھا تو اس نے ماغوط کے اندر چھپے شاعر کو ڈھونڈ نکالا تھا اور اسے پتہ چلا تھا کہ ماغوط فرانسیسی باغی شاعر بادلئیر سے کس قدر متاثر تھا خود سنیۃ الصالح بھی بیروت کی ایک باغی روح تھی ، اس نے بھی بیروت میں بہت خون ریزی ، خانہ جنگی اور پھر اشراف کی کرپشن ، مذھبی جنون دیکھا تھا اور اس کی اپنی شاعری کے اندر بھی جہاں رومان ہے وہیں تلخی اور حیات کی سختیوں کا زکر بھی ہے اور جب ماغوط بیروت میں جلاوطن ہوکر آیا تھا تو اس کی شاعری نے سنيۃ کو بہت متاثر کیا تھا اور وہ اس کی مداح بن گئی تھی اور پھر یہ رشتہ محبت میں بدلا اور ماغوط و سنيۃ ایک ہوگئے اس کتاب کے شروع میں ایک خالی صفحہ پر میں نے ایک شعر عربی کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے جس کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ میں یہ گمان رکھتا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو میں یہ گمان کرتے ہوئے بھول گیا تھا کہ اکثر گمان گناہ ہوا کرتے ہین ماغوط طنزکے اظہار کے لیے استعاراتی زبان و بیان کے استعمال کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے اور مجھے خیال آتا ہے کہ اس کی اسی بادشاہت فن کی مثال سامنے رکھنے کے لیے میں نے کتاب کے شروع میں یہ شعر لکھکر رکھ لیا تھا ، ماغوط کو اپنے شام کی بہت فکر تھی اور اپنے شہر سلیمۃ سے بھی اسے بہت پیار تھا اور شام سے اس کی محبت کا یہ عالم تھا کہ بار ، بار وہ یہاں قید ہوا اور اس نے بہت نفرت اور غضب کا سامنا بھی کیا لیکن وہ جلاوطنی کاٹ کر بھی پھر شام لوٹ آتا رہا بلکہ اسے دکھ ہوتا تھا کہ شام کے اکثر دانشور ، شاعر ، ادیب یہاں موجود جبر ، آمریت اور گھٹن سے تنگ آکر مغرب کی جانب ہجرت کرجاتے تھے ، اس نے اس المیہ پر ایک ڈرامہ "مہجر " کے نام سے بھی لکھا اور اس نے ایک ڈرامہ جو شام کی سیاسی - سماجی صورت حال کا زبردست عکاس تھا طنزیہ پیرائے میں لکھا تھا ، جس کا نام تھا " کا سک یا وطنی " اور اس کی ایک اور کتاب " سآخون وطنی " اے میر ے ہم وطن میں تجھ سے بغاوت کربیٹھوں گا تو بہت ہی شہرت کی حامل ہے اور اس سے شام کے اہل دانش بخوبی واقف ہیں ابھی میں نے شیخ باقر نمر النمر کی ایک تقریر عوامیہ سعودی عرب میں کی گئی سنی تھی جس میں نمر بار بار کہتا ہے کہ " یہ وطن کیا ہوتا ہے ؟ یہ مٹی کیا ہوتی ہے ؟ یہ زمین کیا ہوتی ہے ؟ وہ سعودی عرب کے آل سعود کی مذمت کررہا تھا اگرچہ میں اس کی آل سعود کے خلاف مزاحمت اور جدوجہد کا بےپناہ مداح ہوں اور اس کی سیاسی عدم تشدد پر مبنی تحریک کا بھی قائل ہوں ، لیکن مجھے لگا کہ وہ ماغوط ، محمود درویش ، نزار قبانی ، فیض احمد فیض ، ناظم حکمت ، حمزہ رسول جیسوں کی مٹی کی محبت اور زمین سے جڑت کے فلسفے کی حلاوت سے شاید اس لیے ناآشنا ہے کہ وہ مقاومت و مزاحمت کے سفر کی طرف تھیوکریٹک راستے سے آيا ہے ، اسی لیے اس کے ہاں زمین ، مٹی اور اس کی ثقافت سے محبت کا معاملہ زرا کمزور نظر آتا ہے ، لیکن پھر مجھے یہ خیال بھی آتا ہے کہ کیا نمر نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکّہ سے محبت اور اس سے جدائی پر کہے جانے والے جملے نہیں سنے ہوں گے اور خود جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو سخت سردی میں ابن عباس نے کوفہ میں کانپتے ہوئے دیکھکر صوف کا لباس پہننے کو کہا تھا تو ان کا یہ جملہ نہیں سنا تھا کہ ابن عباس مجھے یہ مدینہ سے لایا ہوا باریک لباس یہاں کے صوف سے ہزار گناہ زیادہ عزیز ہے اور بھی ایسے کئی جملے تاریخ میں خود آئمہ سے مٹی اور زمین کی محبت میں مرقوم ہیں خیر یہ جملہ ہائے معترضہ تھے ماغوط نے "کاسک یا وطنی " میں درید الحم جو کہ شام کا معروف کامیڈین ہے کے ساتھ خود بھی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے وہابیت کے ہاں ان سب چیزوں کی بھلا کیا حثیت واہمیت ہوسکتی ہے اور سلیمۃ کی تاریخ و ثقافت کی قدامت سے انھیں کیا لینا دینا ہے ، وہ تو اپنے پیورٹن ازم کے جوش میں سب کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہیں ، سلیمۃ ان کے نزدیک مرتدوں اور اسلام کے دشمنوں کا شہر ہے ، جیسے وہ حماۃ کو بھی یہاں موجود قدیم ترین کنیسۃ یعنی کلیساؤں ، صوفی سنّی مزارات اور مساجد کی وجہ سے شرک و ضلالت کا گڑھ قرار دیتے ہیں اور وہ خود کو واپس اس دور میں پاتے ہیں جب فاطمیوں کی تحریک عروج پر تھی اور اسے کفر و ضلالت کی تحریک قرار دیکر اس کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ کے فتوے دئے جارہے تھے اور اب سلیمۃ کے اسماعیلی باشندے نہ تو کوئی سلطنت رکھتے ہیں ، نہ وہ کسی ریاست کی تعمیر کے علمبردار ہیں ، وہ تو بمشکل اپنی روٹی روزی کرنے کے قابل ہوتے ہیں اور داعش ان کو اسلام کے لیے سب سے بڑاخطرہ قرار دیکر صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہے شام کا صوبہ حماۃ جس کا دارالحکومت حماۃ شہر ہے جوکہ قدیم شہر ہے اور اس شہر کی تاریخ پیدائش 6970 قبل مسیح بتائی جاتی ہے اور یہ شام کا پانچواں بڑا شہر ہے جبکہ دیگر بڑے شہروں میں دمشق ، حمص ، حلب اور الیپو شامل ہیں - یہیں سے شام کا مشہور دریاء عاصی گزرتا ہے جوکہ اس خطے کا واحد دریا ہے جو کہ جنوب سے شمال کی طرف بہتا ہے اور یہ دریا بہار اللبوہ کی پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور اللبوہ(عربی میں اس کا مطلب قلب ہوتا ہے اور یہ عبرانی زبان سے نکلا ہے اور اسی دریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہی اصل میں لیونٹ دریا تھا ) شام کا ایک پہاڑی شہر ہے جہاں سات سو قبل مسیح تہذیب کے آثار پائے جاتے ہیں حماۃ اصل میں سارے کا سارا ماقبل مسیح ، مابعد مسیح اور پھر مابعد اسلام تہذیب و ثقافت کے حوالے سے بہت زرخیز خطّہ ہے اور اس خطّہ میں عبرانی ، سریانی اور عربی زبانوں نے بھی بہت سی ارتقاء کی منزلیں طے کی ہیں اور شام کا یہ صوبہ مختلف نسلوں اور زبانوں کے ارتقاء سے جنم لینے والی شامی عرب نسل کا مرکز ہے اور حماۃ صوبے میں سنّی ، شیعہ ، کرسچن ، اسماعیلی شیعہ اور اسی طرح عرب اور کرد آبادی موجود ہے میں بھی کہاں کھوگیا ، چاہتا ہوں کہ شام کی لینڈ سکیپ سے ناواقف دوستوں میں حماۃ جہاں داعش سے نجات کا آخری معرکہ لڑا جارہا ہے ، اس بارے میں اپنے پڑھنے والوں کو کچھ بنیادی معلومات بھی فراہم کردوں حماۃ دمشق سے 133 کلومیٹر اور حمص سے 45 کلومیٹر دور ہے - دمشق کے شمال میں حمص اور حماۃ واقع ہیں اور حماۃ کے گردونواح میں ایک چھوٹا سا شہر سلمیۃ بھی ہے اور یہ بھی بہت قدیمی شہر ہے ، جس میں آج اسماعیلی شیعہ فرقے کے لوگ اکثریت کے ساتھ آباد ہیں اور کئی صدیوں سے سلمیۃ اس شہر میں آباد چلے آرہے ہیں ، جہاں ان کی عبادت گاہیں بنی ہوئی ہیں اور وہ یہاں بہت امن و سکون سے رہتے آئے ہیں ، لیکن ان کا سکون اور آرام اب باقی نہیں رہا ہے کیونکہ وہابی -دیوبندی سلفی دھشت گرد تنظیم سلیمۃ کے دیہی علاقوں میں پہنچ چکی ہے اور اس شہر کی اسماعیلی آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہے -کیونکہ داعش نے غیر وہابی -دیوبندی سلفی مسلمان فرقوں کو مرتد قرار دے رکھا ہے اور وہ ان کے سب مردوں کو زبح کرنے اور عورتوں کو لونڈیاں بنانے کو اسلامی فریضہ خیال کرتی ہے اگرچہ بشار الاسد کی فوج نے حماۃ شہر اور اس سے ملحقہ اکثر علاقوں پر دوبارہ سے کنٹرول حاصل کرلیا ہے لیکن سلمیۃ کے نزدیک اور مشرقی دیہی علاقوں میں اب تک داعش اور شام کی افواج کے درمیان لڑائی جاری ہے اور داعش نے مقامی آبادی کو دھشت زدہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے گلف عرب ریاستوں کا سرکاری کنٹرول میں موجود میڈیا اور ترکی کا رجب طیب اردوغان کا حامی میڈیا سلمیۃ شہر کے گرد منڈلاتے داعش کے سائے اور یہاں کی اسماعیلی آبادی کو درپیش خطرے کے بارے میں ایک سنگل کالمی خبر بھی شایع نہیں کررہا ہے اور نہ ہی وہ بشارالاسد کی افواج کی حماۃ صوبے کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن میں ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں کوئی خبر شایع کررہا ہے ، جبکہ پاکستان کے اندر مڈل ایسٹ میں شیعہ کریسنٹ کی مفروضاتی سازشی تھیوریز پھیلانے والے بھی اسماعیلی آبادی کو درپیش بقا کے اس خطرے بارے کچھ بتانے سے قاصر ہیں ، کیونکہ ایسے نظریہ ساز اپنی تحریروں کی بنیاد زیادہ تر امریکی اخبارات اور الجزیرہ ، شرق الاوسط ، العربیۃ جیسے ٹی وی جینل و اخبارات کی ویب سائٹ پر ہائی لائٹ ہونے والی خبروں پر ہی رکھتے ہیں اور اس میں بھی اپنے پروجیکٹ کو ترقی دینے والے ایشوز پر ہی فوکس ہوتا ہے سلمیۃ کے لوگ کہتے ہیں کہ داعش ہمارے دروازوں پر آن کھڑی ہوئی ہے سلمیۃ حماۃ کے اہم ترین راستوں میں سے ایک راستے پر واقع ہے اور یہ بشارالاسد اور داعش دونوں کی فوجوں کے لیے اہم ہے اور یہ عدلیب و حماۃ شہروں کے عین درمیان میں واقع ہے اور سب سے اہم یہ کہ اس شہر سے حماۃ کا فوجی ہوائی اڈا صرف آدھے فاصلے پر ہے اور الیپو شہر کا مضافاتی قصبہ خانسیر بھی اتنے ہی فاصلے پر ہے جس سے الیپو شہر پر قبضہ آسان ہے السعن ، صبورۃ اور عقارب نامی قصبات جوکہ سلمیۃ کے شمال مشرق میں واقع ہیں اس شہر کی ڈیفنس لائن ہیں ان چھوٹے بدوی قصبوں کے خلاف جوکہ داعش کے کنٹرول میں ہیں اگرچہ کرنل سہیل الحسن کو الیپو سے بشار الاسد نے مغربی اطراف میں رہبۃ الخطاب اور مرہضۃ کو پھر سے کنٹرول میں لینے کے لیے بھیجا ہے لیکن ان علاقوں کے مقامی باشندے ابتک غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں اور ان کو ابھی پورا یقین نہیں ہے کا اگر داعش نے ان کے قصبوں پر حملہ کیا تو ان کے قصبون کا دفاع ہوبھی سکے گا کہ نہیں - مگر بشارالاسد کی فوج نے حماۃ کے مغربی سمت اور شمال میں مرق کا کنٹرول جو حاصل کیا ہے اس سے سلمیۃ کے لوگوں میں کچھ امید پیدا ہوئی ہے سلمیۃ کے گردونواح میں کچھ بدوی قصبات بھی موجود ہیں جہاں پر وہابیت تیزی سے گلف اور ترکی کی امداد سے پھیلائی گئی اور یہآن پر تکفیری قوتوں نے اپنا فوکس سلمیۃ کی اسماعیلی آبادی کے خلاف پروپیگنڈے پر رکھا جبکہ صوفی سنّی اسلام کے ماننے والوں کو لالچ اور جبر کے زریعے وہابیت اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے اور داعش میں شامل عرب شامی بدو اس شہر کو دارالکفر کہتے ہیں اور اور وہ اس شہر میں موجود قدیمی ثقافتی ورثے کو کفر اور شرک و ارتداد کی نشانیاں قرار دیکر مٹانے کے درپے ہیں جبکہ یہ ٹاؤن فاطمی سلطنت کے پہلے خلیفہ اور بانی عبیداللہ المہدی کی جائے پیدائش ہے سلمیۃ وہ شہر ہے جہاں سے شامی انقلاب کے بڑے بڑے مظاہرے شروع ہوئے تھے اور ان مظاہروں میں شریک لوگوں نے بہت فخر سے کہا تھا کہ وہ کسی مذھبی پیشوائیت کے زیر اثر جمہوریت اور سماجی انصاف کی جدوجہد میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے پیچھے کسی عرب وہابی ریاست یا امریکی سامراجیت سے فنڈ لینے والی کسی تنظیم کا ہاتھ ہے ، جبکہ اس مظاہرے میں شریک کئی ایک لوگ جام مئے لہراتے ہوئے بھی دیکھے گئے تھے اور اس شہر کے باسیوں نے اپنے باغی دانشورانہ ورثے پر فخر و مباہات کا مظاہرہ بھی کیا تھا اس شہر میں ایسے لوگ بھی تھے جو اسماعیلوں کے امام آغا خان کے کہنے پر بشارالاسد اور وہابی داعش کے درمیان ہونے والی جنگ میں غیرجانبدار بھی بنے رہے تھے ، لیکن یہ غیرجانبداری ان کو خاصی مہنگی پڑ گئی اور آج داعش ان کے دروازوں پر آن کھڑی ہوئی اور آغاخان تو وہاں آکر ان کو بچا نہیں سکتے ،لے دے کر شامی فوج ہے جس سے ان کو امیدیں وابستہ ہیں ، لیکن سلمیۃ کے گردو نواح میں جیسے السعن کے باسی ہیں وہ غیر جانبدار نہیں رہے بلکہ وہ داعش سے دست بدست لڑائی لڑرہے ہیں اور انھوں نے داعش کا راستہ روکا ہے نام نہاد اعتدال پسند ، ماڈریٹ اور جمہوریت پسند آزاد شامی فوج تو کہیں بھی نظر نہیں آرہی اور ان کو ملنے والا اسلحہ بھی اس کے کمانڈرز نے داعش کو بیچ دیا ہے اور ڈالر ہڑپ کرگئے ہیں اور غآئب ہوگئے ہیں ، میں نے اسامہ شہود کو جوزف دھر کا چار حصّوں میں شایع ہونے والا اوپن ڈیموکریسی ڈاٹ اوآرجی پر شایع ہونے والا آرٹیکل بھیجا اور اس سے پوچھا کہ اپریل 2014ء میں یہ آرٹیکل شایع ہوا تھا کیا وہاں حماۃ اور سلیمۃ میں کوئی انقلابی ملیشیا ہے جو وہاں کے لوگوں کو داعش سے بچاسکے اسامہ شہود نے الٹا مجھ سے سوال کرڈالا کہ کیا کسی اور جگہ کسی سوشلسٹ انقلابی ملیشیا داعش ، جبہۃ النصرۃ سے شامیوں کو بچاپائی ہے ؟ اس نے پوچھا کہ لوگوں کو کسی سوشلسٹ متبادل نہ ہونے کی وجہ سے کیا ہاتھ پر ہاتھ دھر کر اپنے زبح ہونے کا انتظار کرنا چاہئیے جبکہ داعش ان کو مرتد کہہ کر سوائے موت کا آڈر جاری کرنے کے اور کوئی آپشن چھوڑ نہ رہی ہو اور کیا ان کو اپنی ثقافت کی موت کا اںتظار کرنا چاہئیے ؟ اور جیسے آغا خان نے کہا تھا کہ بشار اور وہابی بنیاد پرستوں کی لڑائی میں غیرجانبدار رہیں اسی طرح غیرجانبدار ہوکر داعش کے آگے سرجھکا دینا چاہئيے ؟ پاکستان کے اندر بہت سے لوگ تنبیہ کررہے ہیں کہ کراچی سے لیکر صادق آباد تک اور پشاور میں افغان مہاجرین کے جلوزئی کیمپ تک داعش کے سیاہ جھنڈے لہرارہے ہیں لیکن سب کے سب اس تنبیہ کو خاطر میں نہیں لارہے اور ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ سامراج اور سرمایہ داری کے خلاف نعرے مار کر داعش کے اندر سے اور طالبان ازم کے اندر سے ہی ترقی پسندی پر مبنی مزاحمت کا سودا بیچنے کے لیے نکال لیا جائے کچھ لوگ شام کے انقلاب اور بہار شام کے ابتک زندہ ہونے اور اس کے پھر سے نمودار ہونے کی جھوٹی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اور اس بنیاد پر یہاں پھیلتی وہابیت -دیوبندیت پر مبنی تکفیریت بارے ابہام پھیلاتے ہیں آخر میں ایک خبر اور بھی جو میرے لیے تو خاصی حیران کن تھی ، سنتے چلئے اور وہ یہ کہ ماروی سرمد فرقہ پرست سیکولر کی خانم لشکر جھنگوی کے سیکنڈ چیف اکرم لاہوری کی سگی بھانجی ہیں

Wednesday, 29 October 2014

عاشور ، اجتماعی شعور ، دیومالائیت اور سلفی وہابی دیوبندی پیورٹن


خزعل الماجدی
ابھی کل کی بات ہے کہ میں محرم کی مناسبت سے اپنی کچھ یادوں کو ترتیب دے کر ایک رپورتاژ لکھنے کا ارادہ باندھ رہا تھا کہ مجھے علامہ ایاز نظامی کا ایک ٹوئٹ پڑھنے کو ملا ، جس میں انھوں نے عزاداری کو ایک وحشیانہ اور تہذیب سے عاری فعل قرار دے ڈالا اور ایک بہت ہی معلوماتی گروپ ہے فری تھنکررز جہاں پر تاریخ میں مذھبی روایات ، الہامی کتب اور دیگر مقدس کتابوں کے متن پر بحث کی جاتی ہے اور اکثر اوقات مذھب سے ٹریٹمنٹ خاصی معاندانہ بھی ہوجاتی ہے اور ایسے لگنے لگتا ہے جیسے ایک جنگ مذھب کے خلاف چھیڑ دی گئی ہے ، اس گروپ میں زیادہ تر لوگ اسلام کو ترک کرکے الحاد کی جانب آئے ہیں تو اسلام اور اس کے مختلف مکاتب فکر ہی زیادہ تر اس معاندانہ مہم کی زد میں آتے ہیں علامہ ایاز نظامی دیوبندی مکتبہ فکر کے ایک مدرسے میں بقول ان کے پڑھتے رہے اور وہیں سے وہ آخرکار ملحد ہوگئے ، ان کی تحریریں جب میں نے پڑھنا شروع کیں تو مجھے ایسے لگا جیسے میں علامہ تمنا عمادی ، مولانا اسد ، غلام احمد پرویز ، ڈاکٹر داؤد اور محمود عباسی اور ان کے شاگردوں کی مجلس میں آگیا ہوں اور مجھے فری تھنکر گروپ اس فکر کی لہر کو ازسر نو زندگی بخشنے والا لگا جوکہ ہمارے ہاں کبھی کالج ، یونیورسٹی کے اندر عقلیت پسندوں کی شکل میں سامنے آیا تھا اور یہ رجحان مصر سے چلا تھا جہاں پر طہ حسین ، ڈاکٹر امین مصری سمیت ایک بہت بڑا مکتبہ فکر ایسا سامنے آیا تھا جس نے ‍پہلے تو حدیث ، تاریخ اور مسلم تاریخ کے اکثر کرداروں اور واقعات کو غیر مستند ، فرضی ، قصّے کہانیاں کہہ کر رد کردیا تھا اور پھر ان میں سے کچھ اس سے بھی آگے گئے اور انھوں نے خود قرآن کے متن کو بھی دیگر کتابوں سے ماخوذ قرار دے ڈالا تھا مسلم متداول تاریخ اور کتب حدیث کی صحت بارے مستشرقین نے بھی خاصے تشکیک بھرے مواد کو پھیلایا اور ان کا بھی اثر اس عقلیت پسند گروپ پر پڑا ،پاکستان کے اندر اس مہم سے سب سے زیادہ دیوبندی اور وہابی پس منظر رکھنے والے لوگ متاثر ہوئے اور انھوں نے اس فکر کو باقاعدہ منضبط کرنا شروع کیا - دیوبند میں مولوی عبداللہ چکڑالوی ، مولوی حسین بھچرواں ، مولوی غلام اللہ خان بانی جامعہ تعلیمات ‍قرآن راولپنڈی ، تمنّا عمادی ، محمود عباسی سمیت بہت سارے لوگ اسی فکری لہر سے وابستہ تھے ، ایک اور بات جو اس نام نہاد عقلیت پسند گروپ میں مشترکہ ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے جہاں تصوف سے جڑے کلچر کو اور اس سے پیدا ہونے والے تنوع کو عجمی قرار دیکر مسترد کیا ، وہیں ان کی جانب سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، اور دیگر آئمہ اہل بیت کی جانب بھی سخت معاندت دیکھنے کو ملی اور ان کے ہاں بنو امیہ کو ترجیح دینے کا رجحان بھی طاقتور نظر آیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں معرکہ کربلاء کو جھٹلانے ، یزید کی حمائت کرنے ، اس کے لیے جواز تلاش کرنے کا رجحان بھی بہت طاقتور نظر آیا میں ایسے مارکسسٹوں سے بھی ملا جوکہ قرون وسطی کی مسلم تاریخ میں علی اور معاویہ کی لڑائی کو قبائلی جمہوریت بمقابلہ ملوکیت کے تناظر میں دیکھتے اور یہ ثابت کرتے کہ پیداواری قوتوں کی ترقی کی وجہ سے قـبائلی جمہوری نظام مسلم دنیا میں چل نہیں سکتا تھا اور اس کی جگہ ملوکیت نے لی جو اس سے زیادہ ترقی پسند تھا اور وہ بنو امیہ والوں کو زیادہ ترقی پسند قرار دیتے اور علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو ایک رجعتی اور ازکار رفتہ نظام کو بچانے کی ناکام کوشش کرنے والا قرار دیتے اور آپ کی سیاست کو ناکام سیاست بھی کہتے تھے اس لیے مجھے اس وقت بھی حیرانی نہ ہوئی جب ایک مرتبہ پھر محمود عباسی کی کربلا کے قصّے کو جھوٹ قرار دینے والی تحقیق کو پھر سے زندہ کیا گیا ، یہ کتاب جنرل ضیاء الحق کے دور میں شایع ہوئی اور پھر جب اس پر شدید احتجاج ہو تو اس پر پابندی لگ گئی ،محمود عباسی جو کہ کٹر دیوبندی اور مماتی دیوبندی گروپ کہلاتے تھے جوکہ برزخی حیات کے قآئل نہ تھے نے واقعہ کربلا کو سرے سے جھوٹ قرار دیا ، انھوں نے تین دن بھوکے ، پیاسے رہنے کو ماننے سے انکار کردیا اور یہ بھی کہا کہ حسین اصل میں عراق آئے ہی نہیں تھے اور محمود عباسی سے جتنے بھی لوگ ملے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ محمود عباسی کو نہ صرف حسین سے چڑ تھی بلکہ پوری آل ابی طالب سے اسے کوئي اللہ واسطے کا بیر تھا اگر اس کے بیر اور دشمنی کی کہانی کا احوال پڑھنا ہو تو مولانا صائم چشتی کی کتاب " ایمان ابی طالب " کی دو جلدیں پڑھنا کافی ہوں گی اسی کی دھائی میں محمود عباسی ، تمنّا عمادی اور مولوی طاہر کی تحریروں نے ایک اودھم مچا رکھا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل سنت المعروف بریلویوں کو بھی میدان میں اترنا پڑا اور یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رکا ، وہ وہابی و دیوبندی جو تاریخ اسلام کے ہر اس واقعے اور قصّہ کو رد کئے جانے پر بہت خوش تھے جس سے بنو امیہ پر زد آتی تھی جب معاملہ صحاح ستّہ اور نفس حدیث تک جاپہنچا تو پھر ان کو ہوش آنے لگا اور ان سے اظہار برآت بھی کرنے کی فکر پڑی ، یہ معاملہ یہاں میرا موضوع نہیں ہے کیونکہ اس زمانے کے اندر اس موضوع پر بہت سی کتابیں منظر عام پر آئیں اور دوبارہ غائب ہوگئیں آج پھر ایسی کوششیں ہورہی ہیں اور الحاد کے نام پر ایسی کوششیں کرنے والوں کی جانب سے بظاہر تو یہ کہا جاتا ہے کہ انھیں کسی مذھب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، نہ ہی وہ کسی فرقے کے اثبات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور میں یہ خیال کرتا ہوں کہ وہ کہتے بھی ٹھیک ہیں لیکن مسئلہ ان کے لاشعور میں جاگزیں اس نفرت اور اس نفی کی شدت کا ہے جو وہ کبھی عقلیت پسندی اور اصول درائت کے نام پر شیعت ، تصوف اور تاریخ اسلام سے ابھرنے والے کلچر کو ایرانی ، مجوسی اور نہ جانے کیا کیا بنیاد دیکر روا رکھتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب کہوہ ملحد ہوگئے اور مذھب کی اساس کے انکاری ہیں لیکن وہ مڈل ایسٹ ، جنوبی ایشیا میں کلچر ، تہذیب کے سوال کو سیکولر انداز سے لینے اور ہمارے ہاں محرم ، عید میلاد النبی ، شب برآت ، عرس ، میلے ٹھیلے اور ان سے جڑی رسموں ، رواجوں اور کلچرل رنگا رنگی کو اس طرح سے لینے کو تیار نظر نہیں آتے جیسے وہ دیوالی کو لیتے ہیں ، کرسمس کو لیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دیوبندی تکفیری عزاداری کو فرقہ پرستانہ بنیادوں پر بند کرانا چاہتا ہے اور وہ عاشور کے جلوس کو چاردیواری میں قید کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو ایاز نظامی اور ان کے جیسے اور بہت سارے لوگ جو ملحد ، سیکولر ، لبرل ہونے کا دعوی کرتے ہیں ان چیزوں کو وحشیانہ ، تہذیب سے عاری ، معاشی ترقی میں روکاوٹ قرار دیکر ان کو چاردیواری میں قید کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن مجھے ان کی یہ تنقید بربنائے عقلیت پرستی ، الحادیت کی بجائے ان کے لاشعور میں بیٹھی نفرت پر مبنی لگتی ہے جو انھوں نے شعیت ، بریلویت اور صوفی اسلام وغیرہ کو اسلام میں ایک اجنبی ، ایرانی ، عجمی سازش قرار دینے والے دنوں میں گزارا اور اس کا آظہار ایسے ہی وہ اب الحادیت ، سیکولر ازم اور روشن خیالی کے نام پر کرتے ہیں پاک و ہند کے عظیم اور بڑے روشن خیال اشتراکی ، لبرل ، ترقی پسندوں کا یہ وتیرہ کبھی نہیں رہا ہے - سب کو معلوم ہے کہ فیض احمد فیض ، صفدر میر ، دادا فیروز الدین منصور ، کامریڈ احسان اللہی قربان یہ لاہور میں ایام محرم میں حویلی نثار لاہور آیا کرتے تھے اور جبکہ نویں اور دسویں محرم کے جلوسوں میں شریک بھی ہوتے تھے ، ان سے جب اس حوالے سے سوال کیا جاتا تو وہ اسے کلچرل معاملہ قرار دیتے تھے اور یہی حال سجاد ظہیر ، سبط حسن ، مظفر علی ، احمد علی ، آپا رشید جہاں ، علی سردار جعفری ، کیفی اعظمی ، دادا امیر حیدر ، کامریڈ ڈانگے وغیرہ کا تھا اور آج بھی سی پی آئی مارکسسٹ اور سی پی آئی ، سماج واد پارٹی وغیرہ کے کامریڈ عید ، عاشور ، شب برآت ، دیوالی اور دیگر تہواروں ، عرس خواجہ اجیمر جشتی ، خاجہ نظام الدین اولیاء وغیرہ میں شرکت کرتے ہیں اور اسے ہندوستانی کلچر کی سیکولر بنیادوں کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں اور انھوں نے کبھی کوئی سیکولر وہابیانہ ، پیورٹن تحریک ان سب کے خاتمے کے لیے نہیں چلائی اور نہ ہی کبھی عقلی ، سائنسی اور مذھبی بنیادوں سے ان کلچرل ریتوں اور معاشرے میں پائی جانے والی مائتھولوجی کو رفیوٹ یا غلط ثابت کرنے کی کوشش کی اور کلچر کی طرف ایس طرح سے اپروچ کرنا ایک اور طرح کی بنیاد پرستی ہے اور اس کا فری تھنکنگ ، آزاد خیالی سے رشتہ کم اور اپنے لاشعور میں بیٹھی نفرت کا اظہار زیادہ ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ جیسے مغرب میں وہابی - دیوبندی فاشزم کے ردعمل میں اسلامو فوبیا سامنے آیا ہے ، ایسے ہی ہمارے ہاں بھی شیعہ فوبیا بہت پایا جاتا ہے اور شیعہ فوب صرف مذھب پرستوں میں ہی نہیں پائے جاتے یہ ملحدوں میں بھی پائے جاتے ہیں اور یہ اینٹی مائتھولوجیکل عقلیت پسندی کے راستے سے اپنے شیعہ فوبیا کا اظہار کرتے ہیں مجھے کلچرل لہروں کے سفر میں محرم کی وہ راتیں یاد ہیں جب حویلی نثار میں اہل تشیع کم اور اہل سنت کے نوجوان مرد و عورتیں زیادہ نظر آتی تھیں اور کراچی میں بھی یہی معاملہ تھا اور آج بھی اگرچہ پہلے سے زرا کم یہ سلسلہ جاری ہے اور ایک مائتھولوجیکل لہر اپنے کلچر میں رواں دواں نظر آتی تھی جس کا اثر اب پاکستان میں مسلسل پھیلنے والے شیعہ و تصوف فوبیا کی وجہ سے کم ہوتا نظر آتا ہے میں اس حوالے سے خاصا پریشان تھا اور اس دوران یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس حوالے سے جب بھی کوئی بات کرنے کی کوشش ہو تو ایسے بہت سے لوگ آن لائن موجود ہیں جو فوری طور پر آپ کو فرقہ پرست ، رجعتی اور نہ جانے کیا کچھ کہنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں پاکستان میں شیعہ نسل کشی ، شیعہ فوبیا ، صوفی سنّیوں اور تصوف سے ابھرنے والے کلچرل مقامات پر حملے ایک حقیقت ہیں لیکن ایسے ٹھگ موجود ہیں جو ایک طرف تو اسے دو فرقوں کی باہمی جنگ بناکر پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف وہ ان حملوں کے زمہ دار دیوبندی وہابی تنظیموں کے لیے جواز ڈھونڈتے ہوئے فرضی طور پر شیعہ اور صوفی سنّی ملیشیاؤں کا وجود پاکستان میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، میں ردعمل میں شیعہ کے اندر یا صوفی سنیوں میں انفرادی طور پر غیر منظم تشدد اور دھشت کے اظہار اور مظاہرے کا انکار پاکستان میں نہیں کرتا لیکن اس انفرادی اور انتہائی شاز و نادر و انتہائی غیر منظم اطءار دھشت و انتہا پسندی کو اگر وہابی - دیوبندی تکفیری فسطائی منظم دھشت گردی اور نسل کشی کرنے کے فعل کے برابر ٹھہرایا جائے تو یہ سوائے شیعہ فوبیا کے شکار ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے خیر یہ سب تو چلتا ہی رہے گا ، واقعہ کربلا اور شہادت حسین یہ سب ایک مائتھولوجی کے طور پر جنوبی ایشیا ، مڈل ایسٹ کے معاشروں اور سماج کا حصّہ بن گئے ہیں اور یہ جو محرم ، عاشور کے بارے میں ہمارے معاشرے کی اکثریت دیومالائی انداز میں سوچتی اور عمل کرتی ہے تو یہ دیومالائی طرز فکر مائتھولوجیکل تھنکنگ صرف ہم سے ہی خاص نہیں ہے بلکہ یہ ایرانیوں اور عربوں دونوں کے بارے میں سچ ہے میں اس بارے میں سوچ رہا تھا کہ مجھے میرے ایک لبنان سے تعلق رکھنے والے دوست راحیل دنداش نے اپنا ایک مضمون بھیجا جوکہ عراق کے معروف ماہر تاریخ و آثار قدیمہ خزعل الماجدی کے عرب دیومالائیت کے بارے میں تھا اور یہ میل مجھے اس وقت ملی جب میں محرم ، عاشور ، واقعہ کربلا اور خانوادہ اہل بیت کے بارے میں مسلمانوں ، ہندؤں ، عیسائیوں اور یہاں تک کہ کسی مذھب کے نہ ماننے والوں کے اندر پائی جانے والی دیومالائی رومانویت اور عقیدت بارے سوچ رہا تھا مجھے خیال آیا کہ مین جب طالب علم تھا اور مارکسی اسٹڈی اسکول لیا کرتا تھا تو ہمارے چند سنئیر کامریڈ کہتے تھے کہ شیعہ خدا کا انکاری ہوجائے ، مذھب ترک بھی کردے اور کمیونسٹ ہوجائے لیکن وہ علی و خانوادہ اہل بیت کا انکاری نہیں ہوتا ، اس اعتبار سے رہتا شیعہ ہی ہے یہ بات ظاہر ہے ازراہ مذاق کہی جاتی تھی اور جب میں نے اس بات کی گہرائی میں جاکر سوچا اور میرے سامنے فیض احمد فیض ، سجاد ظہیر ، کیفی اعظمی ، سبط حسن سمیت کئی ایک ترقی پسندوں کے معمولات سامنے آئے اور عاشور و محرم کی رسومات ، مجالس سے ان کا شغف دیکھا اور میرے سامنے اپنے گھر میں کئی ایک پکّے کمیونسٹوں کی مثالیں تھیں جو سرخ سویرا طلوع ہوتے دیکھنے کے خواہش مند تھے ، شیعہ ملّاؤں سے اور ایرانی آیت اللہ سے اتنے ہی بیزار تھے جتنے وہ دوسرے مذھبی ملّاؤں ، پادریوں ، پنڈتوں سے بے زار تھے لیکن عاشور ان کی زندگی میں ایک اہم کلچرل ، ثقافتی ، تہذیبی سرگرمی کا درجہ رکھتا تھا اور علی ، ابو زر ، عمار یاسر ، سلمان فارسی ، حسن ، حسین وغیرہ ان کے ہاں مزاحمت ، بغاوت ، سچائی ، صداقت ، انقلاب کے استعارے تھے اور ظالموں کے خلاف قیام و مقاومت کا روشن چہرہ تھے اور ان کے ہاں یہ کسی فرقے اور کسی مذھب کو سچا اور حقیقی ثابت کرنے کا معاملہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی منصوص من اللہ کی ولایت کو ثابت کرنے کا معاملہ تھا بلکہ اس کی دو جہتیں تھیں کہ ایک جہت ثقافتی و تہذیبی دیومالائی اور دوسری اس کی استعاراتی ، تشبہاتی حثیت تھی اور پہلی حثیت میں ان کو یہ کٹھ ملائیت اور پیورٹن ازم جسے ہم وہابیت کہہ سکتے ہیں اور اسے ہم مذھبی پیشوائیت یعنی تھیوکریسی بھی کہہ سکتے ہیں کے خلاف ایک مضبوط میڈیم لگتی تھی جوکہ یہ ہے بھی اور دوسری حثیت میں یہ ان کو استحصال ، ظلم ، جبر ، کے نوآبادیاتی ، سرمایہ دارانہ ، سامراجی ضابطوں کے خلاف مدد دینے والے استعارے اور تشبیات لگتی تھیں اور انھوں نے اس سے کام بھی لیا راحیل دنداش کی میل نے مجھے ڈاکٹر علی شریعتی کی عاشور ، محرم ، علی ، حسین کے ساتھ ٹریمنٹ اور برتاؤ یاد کرایا اور ان لیکچر " علی ایک دیومالائی سچ " میرے سامنے آگیا اور مجھے ایسے لگنے لگا کہ جیسے میں تہران یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں ان دو لاکھ ایرانی طلباء و ظالبات کے ساتھ موجود ہوں جن کے سامنے عاشور کے ایام میں شریعتی نے یہ لیکچر دیا تھا اور پھر یہی لیکچر شہادت علی کے موقعہ پر شریعتی نے جامعہ حسینیہ ارشاد میں دیا تھا اور دونوں جگہوں پر مجھے ایرانی کمیونسٹ پارٹی یعنی تودے پارٹی سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کی کثیر تعداد بھی نظر آرہی ہے اور ان دنوں تودے پارٹی کا طلباء ونگ تہران یونیورسٹی کے کمیپس پر چھایا ہوا تھا اور ان کا عاشور کے بارے میں برتاؤ ، شعور ، رویہ یقینا وہ نہیں تھا جو آیت اللہ خمینی ، مرتضی مطہری ، بہشتی کے ماننے والوں کا تھا لیکن دونوں عاشور کو ایک رجعت پرست ، تہذیب سے عاری اور وحشیانہ شئے خیال ہرگز نہیں کرتے تھے خزعل ماجدی کے حوالے سے لکھے آرٹیکل میں راحیل نداش نے بات یہاں سے شروع کی ہے کہ عرب سماج میں دیومالائی طرز پر سوچنا ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے اور اس کے خیال میں یہ بات صرف عرب سماج کے بارے میں ہی درست نہیں ہے بلکہ یہ پوری مسلم دنیا کے سماجوں کے بارے مین درست ہے - بلکہ وہ کہتا ہے کہ پوری دنیا مین لوگوں کی اکثریت کا شعور اور بیداری کا انحصار مائتھولوجی پر ہے اور اس کی وجہ و سبب کو کئی طریقوں سے واضح کیا جاسکتا ہے -اور وہ اس حوالے سے خزعل الماجدی عراقی ماہر تاریخ کے خیالات پیش کرتا ہے ، جس نے بہت تحقیق اور عالمانہ انداز میں یہ ثابت کیا ہے کہ دیومالائیت کا عربوں کے اجتماعی شعور میں بہت ہی اہم کردار ہے خزعل ماجدی کہتا ہے کہ دیوملائیت کلچر اور تہذیب کے دھاروں کی جان ہوتی ہے اور دیومالائی کہانیاں ، ان سے ابھرنے والی رسومات اور خیالات کسی بھی سماج کی ثقافتی بنت کاری میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس کے خيال میں جب کسی مذھب کے نام پر کوئی پیورٹن تحریک جس میں وہ وہابیت ، سلفیت کی مثال دیتا ہے جب اس دیومالائی کہانیوں اور اس سے جنم لینے والی رسومات اور طور تحریکوں کو اس مذھب سے اور اسی بنیاد پر اس سماج کے کلچر ، تہذیب سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر تباہی ، بربادی سامنے آتی ہے اور اس طرح سے کسی طرح کی سچائی سامنے آنے کی بجائے ایک اور طرح کی دیومالائیت ، مائتھولوجیکل وے آف تھنکنگ سامنے آجااتا ہے اور وہ طرز فکر خزعل الماجدی کی ںظر میں آج عرب معاشروں کی تباہی کا باعث بنا ہوا ہے خزعل الماجدی کا کہنا ہے کہ عرب معاشرے سلفی وہابی تحریک کی شکل میں آج بھی قرون وسطی کے ایک نئی دیومالائیت کے ساتھ رہنے کی کوشش کررہے ہیں جو ان سماجوں کی جدیدیت کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ بن چکی ہے اور یہ ترقی نہ کرنے اور سائنسی سوچ سے ہم آہنگ نہ ہونے کا اظہار بھی ہے ماجدی کہتا ہے کہ اس طرح کی سلفیت کی سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ قرون وسطی سے ایسے مائتھ اور لیجنڈ ماضی کے اندھیری غاروں سے نکال کر لاتی ہے اور ان کو اجتماعی شعور کا حصّہ بناتی ہے کہ وہ سب کے سب استعاراتی شکل میں ایسے نعروں اور تمثیلوں میں دھل جاتے ہیں جن سے دھشت گردی کو ایندھن ملتا ہے ، تصادم ظہور پذیر ہوتا ہے ، خانہ جنگی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اکثر یہ استعاراتی عمل خدا کے نام پر اور مقدس علامتوں کے زریعے کیا جاتا ہے خزعل الماجدی کہتا ہے کہ سلفیت عرب معاشروں کی ثقافتی روح میں رواں دواں مائیتھولوجی اور اس سے ابھرنے والی رسوم اور طریقوں کو شرک ، بدعت قرار دیکر ان کی جگہ جو مقدس علامتیں مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے ان علامتوں نے پھر کار بم ، مذھبی وہابی دیوبندی دھشت گرد گروپوں ، اکثر چئیرٹی ، خیراتی اداروں ، نعروں ، علامتوں ، بینرز اور شہادت فی سبیل اللہ کے نعرے ہی ان نئی دیومالائیت کی شکل اختیار کرجاتے ہیں اور خزعل یہ بھی کہتا ہے کہ مائتھولوجی کو زیادہ سے زیادہ سادہ بنانےکا رجحان توحیدی مذاہب میں پایا جاتا ہے اور پیورٹن جیسے ہمارے سلفی ہیں وہ اس کو بالکل ہی ختم کرنے کے درپے ہیں ہوتے ہیں اور مدنیت یعنی شہری زندگی کی چکاچوند کو وہ واپس بدویانہ دور میں لیجانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کے بطن سے انارکی جنم لیتی ہے کلچر کو خشک ملائیت اور اس کی انتہائی شکل وہابیت- دیوبندیت اور اس سے جنم لینے والی تکفیریت سے جن خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ان کی بدترین شکلیں مڈل ایسٹ کے اندر نظر آرہی ہیں

Friday, 17 October 2014

کرد گوریلا خواتین کی جدوجہد ۔ سامراجیت اور جنگجو مزاحمت کار عورتوں کی فیٹشائزیشن


آج کل مغربی میڈیا ، سوشل میڈیا میں کرد عورتوں کی عسکری تنطیم پی وائی جے کی داعش کے خلاف جدوجہد بارے بہت کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے اور فیشن انڈسٹری بھی پیچھے نہیں رہی ، اس نے کرد گوریلا خواتین جو خاکی گرین جمپ سوٹ پہنتی ہیں ،ان کو فیشن کے طور پر متعارف کرایا ہے ، ایک سویڈش فیشن ٹیلر کمپنی ایچ اینڈ ایم نے جب اس کو بطور ماڈرن فیشن کے متعارف کرایا تو اس پر کردوں کی جانب سے تو سخت تنقید ہوئی بلکہ فیمنسٹ حلقوں نے بھی اس پر سوال اٹھائے فیمنسٹ حلقوں کو پی وائی جے کی گوریلا خواتین کی مغربی پروجیکشن اور اس حوالے سے ہونے والی میڈیا رپورٹنگ اور سرخیوں وغیرہ پر تشویش ہے اور وہ اسے عورت مخالف پدرسری طاقت کی تجسید قرار دے رہے ہیں رقیہ شمس الدین لبنانی نژاد امریکی فیمنسٹ سکالر خاتون ہیں ، اور " لیٹرز فرام انڈر گراؤنڈ " کے عنوان سے کالم لکھتی ہیں ، ان کے اکثر آرٹیکل عرب ملکوں کے اخبارات اور جرائد میں شایع ہوتے رہتے ہیں ، ابھی کچھ دن پہلے انہوں نے کرد گوریلاجنگجوؤں میں خواتین گوریلا فائٹرز کا معروف یونٹ پی وائی جے کی داعش کے خلاف شام میں جنگ کے حوالے سے ایک آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا Women as tools: on the selective fetishization of female resistance fighters. یہ آرٹیکل کرخواتین گوریلا فائٹرز خواتین کی داعش کے خلاف عین العرب - کوبانی میں لڑائی کو مغربی میڈیا کی جانب سے ایک انوکھی اور فیسی نیٹ جدوجہد کے طور پر پیش کرنے اور ان گوریلا خواتین کے مخصوص جمپ سوٹ کو ان سے ہی حاص کرنے پر فیمنسٹ تنقید پر مشتمل ہے اور میں نے کم از کم پاکستانی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا و سوشل میڈیا میں اس حوالے سے ابتک کوئی نوٹ یا پوسٹ ، آرٹیکل ، فیچر نہیں دیکھا رقیہ شمس الدین نے اپنے ارٹیکل کے آغاز ہی میں ایک زبردست آئيڈیالوجیکل رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے جوکہ اس کے خیال میں جنگ کے دنوں میں عام طور پر اور جنگ میں شریک ہوجانے والی عورتوں کے حوالے سے پدر سری معاشروں میں دیکھنے کو ملتا ہے رقیہ اس کو فیٹشائزیشن آف ویمن کہہ کر پکارتی ہے اور وہ اسے جنگ میں مصروف عورتوں کی فیٹشائزیشن کا نام دیتی ہے اور اس کے خیال میں یہ پدر سری تجریدی طاقت کی ٹھوس مادی و تجسیمی شکل کا اظہار ہوتا ہے ، وہ لکھتی ہے کہ The fetishization of women during times of war, especially women in combat, can be argued as being a reification of patriarchal power; the patriarchal view of female violence as being a demonstration of chaos reimagined as tolerable and even acceptable so long as this violence serves patriarchy, militant or otherwise. Despite the female identity being granted space for violent expression, the sexualization of these spaces and the bodies which take up these spaces, has become normalized. عورتوں کی جانب سے تشدد تشدد کئے جانے بارے جو تصور پدر سریت کے حامی دانشوروں میں پایا جاتا ہے اس کی دوبارہ سے ایسے تشکیل کہ اس کا جواز فراہم کیا جائے رقیہ کے بقول جنگ کے دنوں میں اس وقت کیا جاتا ہے جب عورتوں کا یہ تشدد پدر سریت کی خدمت کررہا ہو اور پدر سری عسکریت پسندی کا خادم ہو تو نسائی شناخت کے حامل اس تشدد کے اظہار کے لیے جگہ اور ان جگہوں میں نسائی اجسام کے آنے کو قول کیا جاتا ہے اور اسے نارملائزڈ بھی کیا جاتا ہے رقیہ اسی تناظر میں یہ بھی بتاتی ہے کہ "عورتوں کے تشدد اور ان کی عسکریت پسندی یا سیاسی وآئلنس کی فیٹشائزیشن " کا اسی طریقہ کار اور ٹون کے ساتھ ہر اطلاق نہیں کیا جاتا ، بلکہ کئی ایسے گروپ جو اسی طرح کی فیٹشائزیشن کا کریکٹر رکھتے ہیں ان کو اس سے خارج کردیا جاتا ہے رقیہ ایک 21 سالہ آرٹسٹ عاور حسینی کا حوالہ دیتی ہیں جوکہ کہتی ہے کہ یہ جو کردش ویمن پی وائی جے گوریلا یونٹ ہے اس کے بارے میں مغرب کے اندر ہم جو فیسی نیشن دیکھ رہے ہیں اس کی جڑیں سرمایہ داری کے ڈھانچے میں پیوست ہیں ، یہ سرمایہ داری کسی بھی شئے سے پیسے بنانے کے بارے میں سوچتی ہے تو میڈیا عورتوں کی جدوجہد کو مردوں کی طرح سے پیش کرے گا تو جنگ کے حوالے سے اس کی میڈیا پروڈکشن ویسے نہیں بکے گی جیسے کرد گوریلا عورتوں کی لڑائی کو ایک خاص الخاص انوکھا عمل بناکر دکھانے کی وجہ سے بک رہی ہے مغربی میڈیا کرد گوریلا عورتوں کا داعش کے خلاف لڑنا ، ایسے دکھارہا ہے جیسے کرد عورتیں صرف داعش سے ہی لڑنے باہر آگئی ہیں اور اس سے پہلے تو وہ میدان کارزار میں تھیں ہی نہیں عاور حسینی کہتی ہیں کہ کر د گوریلوں چاہے وہ مرد ہوں کہ عورتیں ، ان کی جدوجہد کا حسن یہ ہے کہ وہ ہر عورت اور مرد کے حق کے لیے لڑرہے ہیں جو داعش کے ظلم کا نشانہ بنے ہیں ،چاہے ان مردوں اور عورتوں کی نسل اور مذھب کچھ ہی ہے ، اور میرے خیال میں مغربی میڈیا اس جدوجہد کی اس خوبصورتی کو پیش کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وہ اس خوبصورتی کو ہضم نہیں کرپاتے وائی پے جے کرد عورتوں کی صرف ایک عسکری گوریلا ملیشیا ہی نہیں ہے بلکہ یہ مردوں اور عورتوں کی برابری کی تحریک ہے جو کرد سماج کے اندر عورتوں کے لیے مخصوص قسم کے نام نہاد نسائی کردار اور کام کی ادائیگی پر اصرار کرنے والے سماجی تصورات اور رواجوں کے خلاف جدوجہد کی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے اور آج وائی پی جے کی جدوجہد کو پیش کرتے ہوئے مغربی میڈیا اس پہلو کو پیش کرنے سے قاصر رہا ہے رقیہ کہتی ہے کہ مغربی میڈیا پی وائی جے میں شامل کرد گوریلا عورتوں کی جانب سے داعش کے ممبران کو مارنے اور ان کے خلاف عسکری جنگ لڑنے کو سرخیوں میں ایسے پیش کرتی ہے جیسے کرد گوریلا عورتوں کی یہ جدوجہد داعش کے خلاف شروع ہوئی ہو اور اس سے پہلے یہ کرد خواتین گھریلو عورتیں ہوں ، یہ تصویر شرمناک ، حقائق چھپانے والی ہے کرد عورتیں کئی عشروں سے اپنے حقوق کی جنگ لڑرہی ہیں اور پی وائی جے یونٹ کرد عورتوں کی برابری کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ کردوں کی آزادی کی جنگ میں بھی کرد مردوں کے شانہ بشانہ لڑرہا ہے رقیہ کہتی ہے کہ داعش کے خلاف کرد خواتین کی گوریلا لڑائی کو مغرب جس طرح سے پیش کررہا ہے ،وہ دنیا بھر میں چلنے والی مزاحمت و آزادی کی تحریکوں میں شریک عورتوں کی جدوجہد کو چھپانے کے مترادف بھی ہے رقیہ مغربی فیشن انڈسٹری کی جانب سے پی وائی جے کی گوریلا خواتین کی یونیفارم کو بھی ایک فیشن پروڈکٹ بنانے اور اسے کرد عورتوں سے مخصوص کرنے کے بڑھتے رجحان پر بھی تنقید کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ کیسے کرد گوریلا عورتوں کے پہنے جانے والے جمپ سوٹ کو فیشن کے طور پر متعارف کرایا جارہا ہے ایک سویڈش ریٹیل کلوتھنگ کمپنی آیچ اینڈ ایم نے حال ہی میں ایک جمپ سوٹ بطور کردش انسپائرڈ جمپ سوٹ کے طور پر مارکیٹ میں پیش کیا ، جس پر اسے سوشل میڈیا پر خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے اس پر معافی مانگ لی اس معافی پر امریکی جریدے فارن پالیسی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر الیس گرول نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ایچ اینڈ ایم کمپنی کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں تھی اور اس طرح کے کردش انسپائرڈ جمپ سوٹ سے کرد گوریلا عورتوں کو ژزید توجہ ملتی اور لوگوں کو پتہ چلتا کہ پی وائی جے کرد عورتوں کا یونٹ کتنا زبردست ہے جو داعش کے خلاف لڑرہا ہے الیس گرول پہلا آدمی نہیں ہے جو اس خاص قسم کی ڈریس فیٹشائزیشن کو ، کرد گوریلا عورتوں کی جانب سے کیموفلاج عسکری ڈریس پہنے جانے کو ان سے خاص کرکے دکھانے کو ،اور اسے بطور کردش فیشن جمپ سوٹ کے طور پر پروموٹ کرنے کو ان کے لیے توجہ کا باعث قرار دے رہا ہے ، بلکہ اس طرح کی سوچ جوکہ ادارہ جاتی نسل پرستی کی شکل ہے رکھتی ہے رقیہ کے خیال میں یہ کردوں کی ایک ہمہ جہت جدوجہد کو فلم کے ٹریلر میں بدلنے کے مترادف ہے جس کا نام " کرد گوریلا عورتیں بمقابلہ داعش " ہے رقیہ فیشن انڈسٹری میں عورتوں کی عسکری جدوجہد کے دوران سامنے آنے والی بعض ثقافتی علامتوں کو فیشن میں ڈھالنے اور پیسہ کمانے کا زریعہ بنانے کے اس عمل بارے ٹھیک طور پر یہ کہتی ہیں کہ یہ عمل فیشن انڈسٹری میں نیا نہیں ہے ، فلسطینی عورتیں اسرائیل کے خلاف عسکری جدوجہد میں جو کفایہ استعمال کرتی رہیں ، وہ بطور فیشن مغرب اور مشرق میں یکساں مقبول رہے لیکن رقیہ کہتی ہیں کہ فلسطینی عربی کفایہ تو مغربی فیشن انڈسٹری میں مقبول ہوئے لیکن فلسطینوں کی جدوجہد اور ان کی عسکری بغاوت کو مغرب اور خاص طور پر امریکیوں کے ہاں وہ قبول عام نہیں ملا جو پی وائی جے کی کرد گوریلا عورتوں کی داعش کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کو لتا ںظر آتا ہے اس کی وجہ امریکیوں کی اکثریت کا اسرائیل اور اسرائیلی حکومت نواز ہونا تھا ،اسی لیے لیلی خالد اور اس کی جدوجہد مغرب میں ایک فیسینیٹ عمل کے طور پر نہیں دیکھی گئی ، بلکہ اس کو دھشت گردی کے طور پر تعبیر کیا گیا رقیہ کے یہ جملے قابل غور ہیں جو اس نے فلسطینی عورتوں کی مزاحمت اور کرد عورتوں کی مزاحمت بارے مغرب کے دوھرے ردعمل اور متضاد رويے کو بے نقاب کرنے کے لیے لکھے ہیں critics have long associated female Palestinian resistance with subservience and sexual inhibition while, as we see recently, offering Kurdish women fighters a place of subservience to patriarchy without the disdain. Women are allowed to travel outside what society deems their natural status, that of beautified nurturers, and take part in the horrors of war so long as their targets are castigated by those in power, and in the case of Palestinian resistance this is a hard sell for Americans, for example, who remain unashamedly pro-Israel. Regardless, both associations are destructive as they identify women as tools in conquest or tools of conquest, and while presently Kurdish violence in the vacuum of resistance against ISIS is righteous we notice that Palestinian violence exerted in response to brutal settler-colonialism is reviled. عورتوں کی برابری کا ایک طویل عرصے سے کام کی جگہ ، ٹریڈ یونین ، سیاسی جماعتیں ، اکیڈیمک انسٹی ٹیوشن وغیرہ میں انکار کیا جارہا ہے ، جہاں پر ان کے ساتھ برابر کے انسان کا سلوک روا نہیں رکھا جاتا ، کام کی جگہ پر ان سے ناانصافی جاری ہے ، لیکن جنگوں میں عورتوں کے ایک پیچیدہ اور تہہ دار موضوع کے طور پر جنگ کا حصّہ ہونے یا جنگ کا نشانہ ہونے کو معمول کی اشیاء کی تاریخ کے طور پر ویسے ہی پیش کیا جارہا ہے ،جیسے پیش کیا جاتا رہا ہے اور ان کو ایسے ماحول میں کاموڈوفائی کیا جارہا ہے جو زیادہ تر ، بہت زیادہ عورت مخالف اور ان کا سب سے زیادہ استحصال کرنے والا ہے رقیہ شمس الدین جنگ اور تنازعوں میں عورتوں کی عسکریت پسندی اور ان کے جنگ کا نشانہ بن جانے پر مغربی میڈیا کی ڈیلنگ اور ان کی جدوجہد کو سرمایہ داری سٹرکچر میں دیکھے جانے کے عمل پر اس تنقید کے ساتھ سامنے آئی ہیں جو میڈیا اور سوشل میڈیا میں بہت کم دیکھنے کو ملی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں فیمنسٹ حلقے اس تنقید میں اپنی بصیرت کے ساتھ مزید اضافہ کریں گے http://english.al-akhbar.com/content/women-tools-selective-fetishization-female-resistance-fighters http://roqayah.co/about/ http://www.ibtimes.co.uk/fashion-house-hm-denies-khaki-green-jumpsuit-based-kurdish-female-fighters-uniform-1468782 https://www.yahoo.com/style/h-m-kurdish-fighters-apology-99412095013.html