Monday, 27 February 2012

انکار

انکار
افسانہ /عامر حسینی
وہ ریل وے اسٹیشن میں ایک روم میں بیٹھا ٹکٹ چیکرز سے کیش وصول کر رہا تھا-اسٹیشن پر تیز گام آکر رکی تھی-اس میں ایک نوجوان نکل کر اس کے کمرے میں داخل ہوا -اور اسی سے پوچھنے لگا کہ آپ میں سے عادل کون ہیں؟اس نے کہا کہ میرا نام عادل ہے-آپ کو کیا کام ہے؟نووارد نے کہا کہ اس کا نام حیدر ہے اور ایک کوپے میں ان کی اہلیہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں-عادل کو بہت حیرانی تھی کہ اس کو کون خاتوں اور کیوں ملنا چاہتی ہیں؟عادل وہاں سے اٹھا اور اس نوجوان کے ساتھ تیز گام کے اس کوپے کی طرف چل پڑا-کوپے میں داخل ہوا تو سامنے جس کو بیٹھے دیکھا تو وہ ساکت ہوگیا -سامنے سرخی لگائے اور ایک شوخ سا لباس زیب تن کئے شاہین بیٹھی تھی-اس کے چہرے پر عجب سی اداسی تھی-اور یہ لباس اس کی ظاہری کیفیت سے لگا نہیں کھا رہا تھا-شاہین کے شوہر نے کھا کہ وہ جاکر اخبار لیکر آتا ہے-آپ باتیں کیجئے -یہ کہہ کر نوجوان چلا گیا -اور عادل اور شاہین کوپے میں تنہا رہ گئے-کچھ دائر کی خاموشی کے بعد شاہین کہنے لگی کہ عادل یہ لباس میں نے حیدر کے ضد کرنے پر پہنا ہے-عادل کی دنیا زیر و زبر ہوگی تھی-اس سے کوپے میں بیٹھا نہیں جارہا تھا-تھوڑی دیر بعد حیدر کوپے میں آگیا تو وہ بہانے بہانے سے اٹھ کر کپوپے سے باہر جاتا کبھی کچھ تو کبھی کچھ ان کو لاکر دیتا -حیدر نے کھا بھائی جان !آپ تشریف رکھیں-لیکن عادل کیا بتاتا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے-اس دن تیز گام بھی ایسا لگتا تھا سست گام ہوگئی تھی-جو چلنے کا نام نہیں لے رہی تھی-خیر جیسے تیسے ٹرین وہاں سے روانہ ہوئی تو وہ کوپے سے اتر گیا-اس کی ذہنی حالت بہت خستہ تھی -اس نے اپنے ایک ساتھ کے ذمہ کام لگایا اور گھر چلا آیا-گھر آکر اپنے کمرے میں بیڈ پر دراز ہوگیا-اس کے ذہن پر ماضی کی ایک فلم چلنے لگی تھی-وہ ماضی کی یادوں میں کھوگیا-
اس کی ریل وے میں نئی نئی ملازمت ہوئی تھی-ٹرین میں اس کا سفر اور کھانا فری تھا-وہ پہلی مرتبہ ملازمت کے بعد کراچی گیا-اور وہاں اس اپنے ایک عزیز کے ہاں ٹھہرا -اس کے عزیز ایک رات اس کو نارتھ ناظم آباد ایک گھر لے گئے-یہ مصطفیٰ حیدری کا گھر تھا جو ایک عرصۂ ہوا وفات پا گئے تھے-ان کے بیٹے سعودی عرب ہوتے تھے-جبکہ گھر میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی شاہین رہا کرتی تھیں-شاہین ایک اسکول میں ٹیچر تھیں-عادل جب وہاں گئے تو شاہین ان کو بہت زبردست ادبی اور جاملیاتی ذوق کی مالک خاتون لگیں-عادل کو بھی شعر و ادب اور موسیقی سے خاص لگاؤ تھا-شاہین کے پاس موسیقی کی بہت اچھی کلیکشن تھی-اور اس کا ایک مختصر سا کتب خانہ تھا-جس میں کتابوں کا انتخاب خوب تھا-دونوں میں خوب نبھ گئی تھی-شاہین نے عادل کو پیشکش کی وہ اس کو کراچی کی سیر کرتی ہے-عادل کو جس طرح سے شاہین نے کراچی کی تاریخی اور ثقافتی سیر کرائی وہ عادل کبھی نہیں بھول سکتا تھا-یہ سفر اس کے لئے یادگار سفر تھا-شاہین اس کی اچھی دوست بن گئی تھی-عادل کراچی سے واپس آگئے-لیکن دونوں میں خطوط کا تبادلۂ ہوتا رہا-دوستی مستحکم ہوگئی-
ہندوستان میں عادل کے ایک رشتہ دار کان پور میں رہا کرتے تھے-ان کو سب پیار سے پیارے میاں کہ کر بلاتے تھے-موصوف خوب گورے چٹے تھے-بہت وجیہ تھے-ان کو اپنی رعنائ پر ناز تھا-وہ پاکستان آئے-عادل کے پاس بھی ٹھہرے -اور پھر عادل کے ساتھ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کراچی بھی تشریف لے گئے-وہیں پر عادل کے ساتھ پیارے میاں بھی شاہین سے ملے-شاہین کو دیکھا تو دیکھ کر ان پر فریفتہ ہوگئے-اور عادل سے کہنے لگے کہ یار میں تو شاہین پر یہ دل ہار بیٹھا ہوں-اور عادل کو کہا کہ کوئی سبیل کرو کہ میں اظہار کر سکوں-عادل نے سمندر کی سیر کا پروگرام بنا لیا -اور ایک مقرہ دن تینوں سیر پر چلے گئے-کراچی کے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے پیارے میاں نے جب شاہین کو اپنے دل کا حال سنایا تو شاہین نے سختی سے پیارے میاں کو کہا کہ ان کے دل میں پیارے میاں مکے لئے کوئی جگہ نہیں ہے-وہ عادل کے دوست ہونے کی وجہ سے ان کی عزت کرتی ہے-سمندر سے واپسی آتے ہوئے شاہین نے کار میں بیٹھتے ہوئے عادل کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اس کو ہلکا سا دبایا-اور جب عادل واپس اپنے شہر جانے لگا تو اس کو استاد امانت علی کی ایک کیسٹ دی جس میں ان کا صرف ایک ہی گانا ریکارڈ تھا-ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے-عادل جب گھر آیا اور اس کیسٹ میں یہ گانا بار بار سنا تھ اس کی حالت بھی دبدل گئی-ایک ہفتہ نباد عادل کو شاہین کا خط ملا -خط میں پہلی دفعہ اظہار محبت کیا گیا تھا-عادل نے بھی جواب میں محبت سے بھرا ایک پتر لکھا-یوں قیامت کے ناموں کا ایک سلسلہ چل نکلا-عادل کراچی جاتا تو شاہین اور وہ اکثر شامیں یا تو ساحل سمندر پر گزارتے یا پھر ان کی شامیں صدر میں بنے مختلف کیفوں میں گرتی تھیں-زندگی بہت حسین ہوگئی تھی-
عادل کو ایک دن شاہین نے فون کیا اور کہا کہ اس کا ایک رشتہ آیا ہے-اور وہ چاہتی ہے کہ تم کسی طرح سے اس کا ہاتھ مانگ لو-پھر بیشک شادی دس سال بعد کرلینا -عادل نے جب یہ سنا تو اس نے بہت ہمت کرنی چاہی کہ اپنی والدہ سے بات کرے مگر نہیں کر پایا-اس نے اپنے دوست رضا واسطی سے بات کی جو اس کی اس محبت سے واقف تھا-تو رضا واسطی اور ان کی بہن عادل کے گھر ان کی والدہ کے پاس گئے-اور ان سے عادل اور شاہین کے رشتہ کی بات چلانے کو کہا-شاہین کی رضا واسطی کی بہن نے بہت تعریف کی تو آدفل کی والدہ کہنے لگیں کہ ان کو شاہین کے بارے میں ان کی بھابی نے بتایا تھا-وہ بہت آزاد خیال ہے-اور ہم سادات کے ہاں ایسی آزاد خیالی کا تصور بھی نہیں ہے-انھوں نے سختی سے انکار کر دیا-رضا اور ان کی بہن میو ہوکر واپس آگئے-عادل اپنی ماں کا بہت فرمانبردار تھا -وہ ان کی نافرمانی کر کے جنت سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا-عادل بہت رنجیدگی کے ساتھ رات کو محسن شیرازی کے گھر پہنچا -جہاں رات کو محفل فسجا کرتی تھی-مشسن شیرازی کٹر مارکسی تھے-ان کا حلقہ احباب میں صرف عادل ہی مذہبی ترقی پسند تھا-محسن نے یہ لقب عادل کو دیا تھا-محسن نے جب عادل کے چہرے کو بھجا بھجا دیکھا تو پوچھا کیوں بھی شاہ جی!اس قدر اداس کیوں ہو-عادل نے پہلے ٹالنا چاہا مگر جب محسن کا اصرار زیادہ ہوا تو اس نے ساری کہانی کھول دی-یاس پر محسن تو بہت غصے میں آگیا-اور کہنے لگا عادل تم بہت زیادتی کر رہے ہو-ماں کے قدموں میں جنت ہوتی ہوگی لیکن اس کا مطلوب یہ نہیں ہے کہ اس جنت کے لئے تم ایک جہنم مستقل طور اپنے سینے میں آباد کر لو-محسن بہت کچھ کہتا رہا لیکن عادل خاموش رہا-
ایک ہفتہ بعد اس نے شاہین کو فون کیا کہ وہ کراچی آرہا ہے اس کو کوئی بات کرنا ہے-اس نے اپنے دوست علی واسطی کو فون کیا کہ وہ کراچی آرہا ہے-اپنے کسی عزیز کو بتانا نہیں چاہتا-اور اس مرتبہ اس کی کراچی آمد شائد ایک زندہ کی آمد ہو اور وہ واپس جاتا ہوا شائد زندہ نہ ہو-علی واسطی یہ سنکر بہت پریشان ہوا-عادل کراچی چلا آیا-اس نے شاہین کو صدر کے اس کیفے میں بلایا جہاں سے انھوں نے اکٹھے پہلی مرتبہ کھانا کھایا تھا-شاہین کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس کو کیا کہنا والا ہے-شاہین آئی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی-اس نے شاہین کو بس دو جملے کہے کہ وہ اس سے شہدی نہیں کر سکتا اور وہ اس کو ہر عہد سے آزاد کرتا ہے-یہ سنکر شاہین بھی کچھ نہیں بولی اور خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی-دو ماہ بعد عادل کو شاہین کی ماں کا فون آیا-اس نے عادل کو کراچی آنے کا کہا -عادل شاہین کے گھر پہنچا -شاہین ابھی اسکول سے نہیں آئی تھی-شاہین کی ماں نے کہا کہ عادل شاہین تمہاری بہت اچھی دوست ہے-اس کو نجانے کیا ہوا ہے-وہ اپنی فرمایش سے اپنے بھائی سے منگوایا ہوا سامان اپنے دوستوں میں بانٹ رہی ہے -ابھی کل اس نے نیا ٹائپ ریکارڈر اپنی ایک سہیلی کو دے ڈالا-اس نے جو پلات خریدا تھا وہ بھی اونے پونے بیچ ڈالا ہے-ہماری بات تو وہ سنتی نہیں ہے-تم ہی اس کو کہو-عادل کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں -اس کو ساحل سمندر پہ گزری شاموں کا احوال یاد آرہا تھا-شاہین نے اس کو بتایا تھا کہ اس کو جب معلوم ہوا کہ عادل کو ٹائپ ریکارڈر کا بہت شوق ہے تو اس نے اپنے بھیا کو کہہ کر وہ منگوا لیا-جب ان کی شہدی ہوگی تو وہ اس کو گفت کرے گی-اس نے اس طرح سے کراچی کے ایک پاپوش علاقے میں پلاٹ خریدا تھا کہ اس پر مکان بنوا کر وہ دونوں رہیں گے-کیسے کیسے کیسے خواب دیکھ تھے دونوں نے-آج جب ان کی تعبیر نہیں نکلی تو شاہین سارے خواب کدے اپنے ہاتھوں سے مسمار کر رہی تھی-عادل یہ سوچ کر اندر اندر لرز رہا تھا-اور اپنی سوچوں میں گم تھا کہ شاہین آگئی-گرمیوں کے دن تھے-شاہین کا چہرہ دھوپ کی تمازت سے تمتمایا ہوا تھا-سر کے بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پر آگری تھیں-عادل سے وہ منظر دیکھا نہیں جارہا تھا-اس قدر حسین لگ رہی تھی وہ-مگر آنگون میں اداسی کے ساغر تھے-شاہین کو اس نے سلام کیا اور پھر جب وہ فریش ہوکر اس کے پاس آئی تو اس نے کہا کہ شاہین تم کیا کر رہی ہو-اور کیوں اپنی چیزیں اس طرح سے بانٹ رہی ہو-تو شاہین بولی-عادل اب یہ صرف میری زندگی ہے اور اس سے جڑی چیزیں بھی میری ہیں آپ کو اس بارے میں بولنے کا کوئی حق ماہی ہے-عادل نے یہ سنا تو اس کو چھپ لگ گئی اور وہ وہاں سے چلا آیا-کچھ ماہ بعد شاہین کی شادی کا کارڈ آگیا-وہ شادی میں نہیں گیا تھا-اور وہ تو جیسے دنیا سے بیگانہ ہوگیا تھا-اس نے اپنی بہنوں کی شادی کی- بھائیوں کی شادی کی -لیکن اپنی شادی سے گریز کیا-اسی دوران والدہ کا انتقال ہوگیا-اس کے بہن اور بھائی دوسرے شہروں میں شفٹ ہونے لگے-بھائیوں نے اس کو بھی لاہور چلنے کو کہا مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کیا-عادل کا کہنا تھا کہ اس شہر مینس کی ماں کی قبر ہے - وہ کیسے اس کو چھوڑ کر جاسکتا ہے-پھر اس پر شادی کے لئے دباؤ پڑا اور اس کی بری بہن جو اس کی ماں جیسی تھی-اس نے اپنا دوپٹہ پھیلا کر اس کو شادی کرنے کو کہا تو اس کو مجبوری میں شادی کرنا پڑی-مگر اس نے ساری زندگی اپنی بیوی کو اپنے زخم خوردہ ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا-اس کے مرنے تک اس کو خوش و خرم رکھا-وہ یہ سب سوچ رہا تھا کہ اس کی چھوٹی سی بیٹی کمرے میں آئی اور تتلاتی زبان میں پوچھنے لگی بابا کیا ہوا ؟آپ نے آج ہمیں کھانا نہیں کھلانا؟تو وہ اٹھ کھڑا ہوا-اس نے اپنے بچوں کو کھانا کھلایا اور مغرب کی نماز پڑھ کر وہ گھر سے نکلا اور مکزی قزبرستان چلا آیا -وہاں آکر اس نے اپنی بیوی اور اپنی ماں کی قبر پر دیا جلایا-اور ان کے لئے خیر طلب کی-پھر بوجھل قدموں سے واپس گھر کی طرف لوٹ گیا-

Monday, 13 February 2012

محبت کرنے والے کم نہیں ہوں گے



محبت کرنے والے کم نہیں ہوں گے
افسانہ /عامر حسینی
پورے روم میں خوف کی فضاء طاری تھی -شہنشاہ کے سپاہی روم کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے-چوکوں اور چوراہوں پر پہرے اور ناکے لگے ہوئے تھے-گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری تھا-اور سرکاری منادی کرنے والے منادی کرتے پھرتے تھے کہ خبردار روم کا کوئی شہری محبت کرنے کی کوشش نہ کرے اور کوئی پادری کسی گرجا میں کسی محبت کرنے والے جوڑے کی شادی نہ کرے-اگر کسی نے شادی کی رسومات ادا کیں تو اس کو سخت سزا کا سامنا کرنا ہوگا-شہنشاہ کا یہ فرمان روم کے کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ میں گشت کر رہا تھا-نوجوان دبک کر بیٹھ گئے تھے-اسقف اعظم نے تمام گرجا گھروں کو سختی سے حکم دیا تھا کہ روم کے حاکم کے فرمان کو سختی سے نافذ کیا جائے-کوئی اس حکم کے خلاف بولنے کو تیار نہیں تھا-
روم میں مشرق کی طرف ایک قدیم محلہ تھا-جس کی ایک تنگ و تاریک گلی میں ایک دو منزلہ مکان میں جان پال نام کا ایک نوجوان بیچینی سے اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا-وہ ایک کلیسائی مدرسہ میں پڑھتا تھا -اور اس کو اس مدرسہ میں روز جانے کے لئے محلہ سینٹ پال سے گزرنا ہوتا تھا-اس محلہ کی ایک گلی سے جب بھی وہ گزرتا تھا تو ایک مکان جو سرخ اینٹوں سے بنا ہوا تھا کے ایک کمرے کی کھڑکی کھل جاتی تھی اور ایک نقاب پوش لڑکی وہاں سے جھانک رہی ہوتی تھی-اس کی آنکھوں میں کوئی سحر تھا جو اس کو جکڑ لیتا تھا-پہلے پہل وہ بس کی خیال نہ کرتا لیکن آہستہ آہستہ اس کو اب روز صبح ہونے کا انتظار رہنے لگا تھا-صبح سویرے جب وہ محلہ سینٹ پال کی گلی سے گزرتا اور اس مکان کے سامنے کچھ دیر ٹھہر جاتا تھا-اب کھڑکی پوری طرح سے کھلنے لگی تھی-اور اس میں سے اس لڑکی کا پورا سراپا دکھائی دیتا تھا-وہ کچھ دیر وہاں کھڑا رہتا اور جب گلی میں چہل پہل کے آثار نظر آنے لگتے تو وہاں سے چل پڑتا تھا-یہ سلسلہ یونہی چل رہا تھا کہ ایک دن جب وہ اس گلی میں اس مکان کے سامنے جا کر ٹھہرا تو کھڑکی سے جھانکتی نقاب پوش لڑکی نے ایک پھول اس کی طرف پھینکا جس کو اس نے کیچ کر لیا-سرخ گلوب کا پھول ترو تازہ تھا-اس میں سے بھینی بھینی مہک آرہی تھی-یہ نقاب پوش لڑکی کے جذبات کا اظہار تھا-پھر ایک دن جب وہ چھٹی والے دن مرکزی بازار سے گزر رہا تھا تو اس کو وہ نقاب سے جھانکتی آنکھیں نظر آئیں تو وہ اس کے پیچھے چل پڑا-لڑکی کے ساتھ ایک خاتون تھی-اور لڑکی نے بھی اس کو دیکھ لیا تھا-اس کی آنکھوں پر پلکوں کی جھالر اچانک نیچے جھکی گویا لڑکے کو سلام کیا گیا تھا -اس نے بھی آنکھ کے اشارے سے اس کو سلام کیا-ابھی وہ لڑکی کے قریب ہونا چاہتا تھا کہ اس کی نظر روم کے ایک فوجی گھڑ سوار دستے پر پڑی جو تیزی سے بازار میں داخل ہو رہا تھا-وہ چپ چاپ دوسری طرف نکل گیا-اس کو بہت افسوس تھا کہ وہ لڑکی سے کوئی بات نہ کر سکا-
آج اتوار تھا-اس نے فیصلہ کیا کہ اس دن عبادت وہ سینٹ پال محلے کے گرجا گھر میں کرے گا-وہ صبح تیار ہوکر سینٹ پال گرجا گھر چلا گیا-اور اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب نس نے اس لڑکی کو اسی طرح سے نقاب میں ایک خاتون کے ساتھ دیکھا-اس نے لڑکی کے پیچھے والی نشست سنبھال لی-اس نے رات کو بیٹھ کر کی ورق لکھے تھے اور پھر ایک ورق پر لکھا خط چن کر اس کو دینے کا فیصلہ کیا تھا-اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-جب سب لوگ باری باری پادری برکت حاصل کر رہے تھے تو اس نے موقعہ پا کر اس لڑکی کے ہاتھ میں وہ خط تھما دیا-جس نے خط کو اپنی عبا میں چھپا لیا تھا-سینٹ پال کا پادری ایک نوجوان تھا-اس کے چہرے پر بہت معصومیت تھی-نور کی کرنیں اس کے جوان چہرے سے پھوٹتی محسوس ہوتی تھیں-اس نے بہت نرم دلی سے جان پال کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کو ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں-جان پال بہت خوش تھا-وہ گرجا سے باہر نکل آیا -اگلی صبح جب وہ مدرسہ جا رہا تھا تو اسی گلی سے گرا-جب مکان کے پاس پہنچا تو کھڑکی کھلی ہوئی تھی-آج اس نقاب پوش لڑکی نے نقاب کھول رکھا تھا-اس کا چہرہ دیکھ کر جان پال کو لگا جیسے اس کا دل دھڑکنا بند ہوگیا ہو-ساری کائنات ٹھہر گئی ہو-لڑکی نے کوئی چیز اس کی طرف پھینکی جس کو اس نے اپنی جھولی میں کیچ کر لیا-یہ بند لفافہ تھا-اس نے اس کو اپنی قمیض کی جیب میں ڈال لیا -لڑکی اپنے ہاتھ کو ماتھے تک لے گئی اور اس کے لب حرکت کرتے نظر آئے-اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے اس کو سلام کیا اور چل پڑا-مدرسہ میں اس کا دل نہ لگا-وہ جلدی سے گھر جانا چاہتا تھا-شام کو جب چھٹی ہوئی تو اس نے اپنے کسی بھی ساتھ کی طرف نہ دیکھا اور تقریبا دوڑتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوگیا-گھر میں اس کا مروہ سب سے اوپر والی منزل پر تھا-اس نے اوپر آکر بیتابی سے خط کھولا .............
میرے گمنام شہزادے ...........
سلام !
تمھیں میں ادھ کھلی کھڑکی سے روز گلی سے صبح سویرے گرزتے دیکھا کرتی تھی-مجھے نہیں معلوم کے کب تمھیں یوں چوری چھپے دیکھتے دیکھتے میں تم سے محبت کرنے لگی-مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ تم سے اظہار کر پاتی-بس پھر جب تم بھی مجھے دیکھنے لگے اور اس دن بازار میں تمہارا بیتابی سے میری طرف کھنچے چلے آنا مجھے یقین دلا گیا کہ تم بھی مجھ سے پیر کرتے ہو-اس دن سنڈے کو تم نے جب گرجا گھر میں مجھے خط دیا تو مجھے معلوم ہوا کہ تمہارا نام جان پال ہے اور تم مدرسہ کے طالب علم ہو-میں اس خط کو رات بھر لیکر کرسی پر بیٹھی پڑھتی رہی-کئی بار اس خط کو سینے سے لگایا -پتہ ہی نہیں چلا کب صبیح ہوگئی-میں نے صبح تمہارے آنے سے پہلے یہ خط لکھنا شروع کیا تھا-تمہیں کیسے بتاؤں دل کا کیا حال ہے-ہمارے ملنے میں بہت سی مشکل حائل ہے-لیکن میں تمھیں کہتی ہوں اس مرتبہ جب تم گرجا گھر او تو میں سب سے نظریں بچا کر تم سے گرجا کے پیچھے والے صحن کی گیلری میں ملوں گی-تم بھی وہیں آجانا-
وسلام
تمھاری نتاشا ڈومینیکا
خط کو جان پال نے کئی مرتبہ پڑھا اور اس کو اپنے سینے سے لگا کر خونب خوب بھینچا -ساری رات اس کی بھی جاگتے گزری-اس کے دماغ میں نتاشا ڈومینکا کا سراپا گھوم رہا تھا-
پھر اتوار کا دن آپہنچا اور جب سب پادری سے برکت حاصل کر رہے تھے تو جان پال اور نتاشا ڈومینکا دونوں گرجا کی عمارت کے عقبی حصہ میں بنے ایک لان کے ساتھ بنی گیلری میں ملے-دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور کافی دیر ایک دوسرے میں کھوئے رہے-پھر اچانک نتاشا ڈومینکا نے کہا کہ اس کی ملازمہ پریشن ہو جائے گی اب وہ چلتی ہے-دونوں نے اگلے اتوار پھر ملنے کا وعدہ کیا-
دونوں ہر اتوار گرجا گھر میں اسی طرح سے چوری چھپے ملتے رہے-روم میں محبت کرنے اور شادی کرنے پر پابندی لگ چکی تھی-شہنشاہ کو تجرید کی زندگی کو روم کا رواج اور قانون بنانے کا خبط ہوچلا تھا-اور کسی مذہبی رہنما میں جرات نہیں تھی کہ شہنشاہ کے اس خبط کو خبط کہہ کر رد کرنے کی ہمت کرے-چند ایک نوجوانوں لڑکے اور لڑکیوں قانون کی خلاف ورزی کی سخت سزا دی گئی تھی-ایسے میں جان پال اور نتاشا کیلئے بہت مشکل تھا کہ وہ ایک ہونے کی کوئی سبیل کرتے-
ایک اتوار کو جب وہ اسی گرجا گھر کی گیلری میں مل رہے تھے تو نجانے کہاں سے گرجا کا ووہی نوجوان پادری وہاں آنکلا تھا-وہ اس کو دیکھ کر سخت گھبرا گئے تھے-لیکن پادری نے نرم نگاہوں سے ان کو دیکھا -اور ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں-تعارف کے بعد پادری نے ان کو تنہائی میں چھوڑ دیا-جب وہ جانے لگے تو پادری نے کہا کہ آئندہ وہ اس کے دفتر میں مل سکتے ہیں-
روم میں شہنشاہ کے مخبروں نے یاس کو خبر کی کہ روم میں نوجوان محبت کرنے والے جوڑوں کو کوئی شخص ملنے اور ان کو خفیہ طور پر ایک کرنے کی کوشش کر رہا ہے-وہ ان جوڑوں کی شادی بھی کروا رہا ہے-شنشہ نے اپنے سپاہیوں کو تلاشی سخت کرنے اور جاسوسی کے محکمہ کو اس شخص کا پتہ چلانے کا حکم دیا-پورے روم میں سخت قسم کی تلاشی اور جاسوسی کا کام شروع کر دیا گیا -جلد ہی اسقف اعظم نے جاسوسی محکمہ کے سربراہ کو خبر دی کے سینٹ پال گرجا گھر کا ایک نجوان پادری اس طرح کی حرکت کا مرتکب ہورہا ہے-شہنشاہ تک جب یہ خبر پہنچی تو اس نے پفوری طور پر اس پادری کی گرفتاری سے گریز کیا-اور اسقف اعظم سے رائے مانگی کہ اس کو کس طرح سے گرفتار کیا جائے-اسقف اعظم نے اپنی مذہبی کونسل سے مشوره کیا اور شہنشاہ کو مشوره دیا کہ سینٹ پال کے پادری پر شیطان پر ایمان لانے کا الزام لگا دیا جائے-
جب روم کا شہنشاہ رات کو اسقف اعظم سے مشوره کر رہا تھا تو سینٹ پال گرجا گھر کے ایک کمرے میں پادری اور چند اس کے ماننے والے موجود تھے-جبکہ جان پال اور نتاشا ڈومینکا دلہا اور دلہن کے لباس میں موجود تھے-دونوں کو سینٹ پال کے پادری نے ایک کر دیا تھا-سینٹ پال کا پادری دونوں کو کہہ رہا تھا کہ وہ حلف دیں کے وہ جب تک زندہ رہیں گے تو محبت ،امن اور مساوات کے لئے قائم کرتے رہیں گے-
اگلی صبح اتوار تھی-لوگ سینٹ پال کے گرجا گھر میں اکٹھے تھے-سینٹ پال کا پادری انجیل مقدس کی طالوت کر رہا تھا-کہ اچانک مرکزی دروازہ زور سے کھلا اور شنشہ روم کے فوجی دندناتے ہوئے اندر آغسے اور انھوں نے سینٹ پال گرجا گھر کے پادری کو انجیل مقدس پڑھتے ہوئے گرفتار کر لیا-پادری کے چہرے پر ذرا خوف کے آثار نہیں تھے-وہ مسکراتے ہوئے سپاہیوں کے ساتھ چل پڑا -اس کو قید خانے میں ڈال دیا گیا-اور اس کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع ہوگئی-اسقف اعظم مقدمے کی سماعت کر رہا تھا-مذہبی کونسل کے دیگر اراکین بھی موجود تھے-اسقف اعظم نے محکمہ جاسوسی کے سربراہ کو پادری کے خلاف فرد جرم پڑھ کر سنانے کے لئے کہا-محکمہ جاسوسی کے سربراہ نے فرد جرم پڑھنا شروع کی-
،،"سینٹ پال گرجا گھر کا پادری ویلٹائن کے بارے میں ہمارے ایک جاسوس نے خبر دی کہ وہ شیطان کے فرقہ میں شامل ہوگیا ہے-وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور ان میں زنا کاری کو عام کر رہا ہے-وہ خفیہ طور پر سینٹ پال گرجا گھر کو شیطان کے پیروکاروں کا مرکز بنا رہا ہے-ہمارے کئی جاسوس اس کے پاس گئے اور پھر دکھاوے کے لئے شیطان کے فرقہ کے ممبر بن گئے-ویلنٹائن یہ سب کر رہا تھا-اور وہ کہتا ہے کہ شہنشاہ روم خداوند کے نائب نہیں ہیں-اور وہ یسوع کو مصلوب بھی خیال نہیں کرتا"
محکمہ جاسوسی کا سربراہ اور بھی الزامات لگاتا رہا- اس کے بعد اس نے گواہان پیش کرنے شروع کے-سب نے گواہی دی کہ ویلنٹائن ان سب جرائم میں ملوث تھا جن کا تذکرہ فرد جرم میں ہوا-
اسقف اعظم نے پوچھا کہ ویلنٹائن اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو ویلنٹائن جو خندہ پیشانی سے سب کچھ سبن رہا تھا کہنے لگا کہ نہ تو وہ شیطان کا پیروکار ہے-نہ ہی کسی کو اس کی تبلیغ کرتا ہے-اس نے تو محبت اور شادی کو جرم قرار دینے والے شیطانی حکم کی خلاف ورزی کی ہے-اور یسوع مسیح کے محبت ،امن اور مساوات کی اقدار کو عام کیا ہے یهیگر جرم ہے تو وہ یہ کرتا رہے گا-ہاں شہنشاہ ہوںیا بادشاہ وہ خداوند کا نہ تو سایہ ہیں نہ ہی وہ نائب-وہ ناجیز قابض ہیں-خادوند ظالموں کو نائب تو کیا اپنا پیرو بھی نہیں بناتے-
یہ کہہ کر ویلنٹائن چپ ہوگیا-
اسقف اعظم اور اس کی کونسل کے ممبر کچھ دیر اٹھ کر اندر کمرے میں چلے گئے-گھنٹہ بعد کونسل دوبارہ آکر بیٹھی تو اسقف اعظم نے ایک کپڑے پر لکھی تحریر پڑھنا شروع کی جس میں لکھا تھا کہ پادری ویلنٹائن پر لگے الزام ثابت ہوئے ہیں اور اس کو ان الزامات کے ثابت ہونے پر سولی پر لٹکائے جانے کا حکم سنایا جاتا ہے-
14 فروری کا دن تھا-روم کے مرکزی چوک میں ایک تختہ گاڑھ کر اس پر پادری ویلنٹائن کو لٹکا دیا گیا تھا-کیلیں ٹھونکی جارہی تھیں اس کے ہاتھوں اور پیروں میں اور پادری ویلنٹائن کے چہرے پر کرب بھی تھا مگر ہونٹوں پر مسکان مٹائے نہ مٹتی تھی-جب اس نے لب کھولے اور انجیل مقدس میں یسوع کے محبت پر مبنی گیت گانے شروع کئے ٹچوک میں کئی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی-ہجوم میں ایک جگہ جان پال اور نتاشا ڈومینکا بھی موجود تھے جو پادری ویلنٹائن کی مسلک محبت سے وابستگی کی وجہ سے ایک ہوگئے تھے-جان پال بہت بچیں نظر آتا تھا-وہ ویلنٹائن کو بچانا چاہتا تھا کہ اس کی نظریں ویلنٹائن کی نظروں سے مل گئیں -ویلنٹائن کی آنکھوں میں چمک آگئی اور جیسے وہ جان پال کے ارادے کو پہچان گیا ہو اس نے آنکھ کے اشارے سے پال کو وجہیں رک جانے کو کہا-اور پھر زور سے بولا
"جن سے محبت ،امن اور مساوات پھیلانے کا عہد ہوا ان کو چاہئے کہ وہ عہد پر قائم رہیں اور محبت کو امر کر دیں-مصیبت پر صبر کریں-مصلوب ہونا تو یسوع کی سنت ہے اس پر گھبرانا کیسا -اور مسلک محبت پر چلنے والوں کی جان سے زیادہ ان کی زبان سے نکلے لفظ خطرناک سمجھے جاتے ہیں-"
اسقف اعظم بہت بچیں نظر آتا تھا اس کو ڈر تھا کہ اگر ویلنٹائن اسی طرح سے بولتا رہا تو ہجوم بغاوت کر دے گا-اس نے چیخ کر جلادوں سے کہا کہ ویلنٹائن کی زبان کاٹ ڈالو -اس پر شیطان کا قبضہ ہوچکا ہے-اور پھر اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالو -جلاد یہ سنتے ہی آگے بڑھے اور ویلنٹائن کی زبان کاٹ ڈالی پھر ہاتھ اور پیر-اس کے بعد وائنتآئن کو مسلونب کر دیا گیا-
رات ہوچکی تھی اور روم کے کئی گھروں میں آج چراغ نہیں جلے تھے-کھانا نہیں پکا تھا-کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سیاہ ماتمی لباس زیب تن کئے ہوئے تھے-
ویلنٹائن کو سولی دئے ایک سال گزر چکا تھا -اسقف اعظم اور شہنشاہ کی موت ہوچکی تھی-نئے شہنشاہ نے نئے اسقف اعظم کو کہہ کر محبت کرنے اور شادی کرنے کا قانون دوبارہ جاری کر دیا تھا-
14 فروری پھر ان پہنچا تھا -اس دن جان پال نے سرخ رنگ کے پھولوں کی ایک چادر لی اور نتاشا اور اپنے ایک سال کے بچے کے ساتھ اس چوک میں آگیا جہاں پر ویلنٹائن کو سولی دی گئی تھی-اس نے اس مقام پر جہاں ویلنٹائن کی سولی تھی پھولوں کی چادر رکھی اور علامتی طور پر اس نے نتاشا کو بوسہ دیا-ایک سال کے بیٹے جس کا نام انھوں نے والنتآئن رکھا تھا اس کو چوما-ابھی وہ وہاں کھرے ہی تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ کئی اور لڑکے لڑکیاں پھول کی چادر اٹھائے چوک کی طرف آرہے تھے-سب ایک دوسرے سے اظہار محبت کر رہے تھے-چوک سرخ گلابوں سے بھر گیا تھا-شام کو جیسے سارے روم کے مرد اور عورتیں اس چوک میں اکٹھے ہوگئے تھے-سب نے مل کر موم بتیاں روشن کی تھیں-جان پال اور نتاشا ڈومینکا کو لگا کہ دور کہیں آسمان پر ویلنٹائن مسکرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا
محبت کرنے والے کم نہیں ہوں گے

Saturday, 4 February 2012

مجھے معاف کردینا (افسانہ) تحریر :عامرحسینی

غزالہ کا جنم ایک متوسط طبقے کے گھرانے میں ہوا تھا-اور وہ ایک پسماندہ علاقے میں پیدا ہوئی تھی-جہاں لڑکیوں کو بس دسویں تک تعلیم دلائے جانے کے بعد گھر بیٹھا لیا جاتا تھا اور پھر کوئی اچھا سا بر دیکھ کر اس کی شادی کر دی جاتی تھی-ایک تو وہ پسماندہ علاقے میں جنم پذیر ہوئی -دوسرا پھر وہ سید گھرانے کی بیٹی تھی-اس لئے جب وہ پانچویں کلاس میں پڑھتی تھی تو اس کو حجاب لینا پڑا-آج وہ سوچتی ہے تو اسے بہت عجیب لگتا ہے اتنی چھوٹی سی عمر میں مکمل لپٹے لپٹائے ہوکر گھر سے باہر نکلنا اور اسکول جانا-اس کے والد سید مستجاب حیدر بری فوج سے ریٹائر ہوچکے تھے لیکین وہ خود کو ابھی تک فوجی ان سروس خیال کرتے تھے-اس کی والدہ سیدہ خاتون بیگم پیشہ کے اعتبار سے استانی تھیں-اور ان میں سخت گیر استانیوں والی ساری عادتیں پائی جاتی تھیں-غزالہ نے میٹرک کیا تو کالج جانے پر اصرار کیا -اس کے والد اور بھائی اس کے کالج جانے کی مخالفت کرنے لگے-اس نے بہت زد کی تو ہتھیار دل دیے گئے لیکن باپور والد بلا ناغہ اس کو علاقے میں قائم ایک انٹر کالج تک چھوڑنے آیا کرتے تھے-وہاں اکثر لڑکیاں ایک عدد پہرے دار اور نگہبان کے ساتھ آتی تھیں-لیکن وہ واحد لڑکی تھی جو دو دو پہرے داروں کی نگرانی میں کالج آتی اور جاتی تھی-سر سے پیر تک ایک حجاب ہوتا ،ہاتھوں میں دستانے اور آنکھوں پر بلیک عدسوں کی عینک -گویا سر تا پیر تک اس کو اپنا آپ چھپانا پڑتا تھا-سردیوں میں تو یہ چل جاتا تھا لیکن گرمیوں میں اس کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوںس ہوتا تھا-دونوں پہریدار بہت عجیب تھے-کالج سے آتے ہوئے اور کالج جاتے ہوئے ان کے چہروں پر عجیب سے سختی جھلکتی تھی-بہت زیادہ سنجیدہ ہوتے-اس پاس وحشت سے دیکھتے ہوئے چلتے-اس کو بات کرنے کی تو کیا زور سے سانس لینے یا کھانسنے کی اجازت نہیں تھی-اس کو کہا جاتا نظریں نیچی رکھے اور چلتی چلی جائے-شروع میں تو بہت تکلیفیں اٹھانی پڑیں -اکثر اس کو ٹھوکر لگ جاتی اور وہ اپنی آواز بھی نکلنے نہیں دے دیتی تھی-جب تک گھر نہ آجاتا دونوں پہریداروں کا منہ سختی سے بند ہوجاتا تھا-پھر گھر آکر اس کو لگتا کہ باہر جو ابا اور بھائی تھے وہ کوئی اور تھے-یہ جو اندر گھر میں ہیں کوئی اور ہیں-پہلے فل اس کو اپنے ابا اور بھائی کی گھمبیرتا اور وحشت سے الجھن ہوتی بعد میں وہ ان کی وحشت اور الجھن سے لطف اٹھانے لگی تھی -اس کو بہت ہنسی آتی جب رستے میں ابا کا کوئی جانکر مل جاتا اور وہ ابا کو سلام کرتا اور ابا اس کو بہت تیزی سے اور عجیب سا منہ بنا کر جواب دیتے -وہ اپنی دبی دبی ہنسی کو آواز بننے سے روکنے میں مشکل سے کامیاب ہوتی تھی-یہ سلسلہ چلتا رہا-دو دو پہریداروں کو دیکھ کر نوجوان لڑکے اس صدور دور رہتے تھے-لیکن ان میں سے اکثر نظروں ہی نظروں میں پیغام رسانی کرتے اور ابا کی خوفناک نظروں کو دیکھ کر ان لڑکوں کے چہرے پر جو تاثر پیدا ہوتا -اس کی مضحکہ خیزی کو دیکھ کر اسے خوب ہنسی آتی اور مزہ بھی آتا تھا-ابا گھر آکر ماحول کے خراب ہونے کا تذکرہ کرتے اور اپنے زمانے کی سادگی کے گن گاتے تھے-اس کو کالج کے کتاب خانے سے منٹو اور عصمت چغتائی کی کتابیں پڑھنے کو مل گئیں جو اس نے نصابی کتاب میں چھپا کو گھر آکر پرہیں تو اس کو ابا کی جوانی کے زمانے کے سادہ ہونے کا خوب پتا چلا-اس کا بھائی جو ابا کے سامنے بہت زیادہ شریف بنا رہتا تھا اور اس کے ساتھ جاتا ہوا بہت بہت زیادہ سنجیدہ نظر آتا تھا-اس کو جیسے غزالہ کے کچھ ہونے کا ڈرلگا ہو -اووه رات کو اپنے کمرے میں موبائل فون پر اپنی کسی دوست سے لمبی گھنٹوں باتیں کیا کرتا-ایک مرتبہ وہ رات کو واش روم جانے کے لئے اٹھی تو اس کے کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے کانوں میں بھائی کی جو باتیں پڑیں تو وہ ان کو سن کر حیران بھی ہوئی اور اس کو خوب ہنسی بھی آئی-غزالہ کو ایک دن اپنے ابا اور امان کی لڑائی کے دوران آوازیں سنائی دین تو غزالہ کو معلوم ہوا کہ امان اس کے ابا کو کہہ رہی تھیں کہ ان کو معلوم ہیکہ تم اس بستی میں غریب بیوہ کو کھانا دینے کے بہانے کیا کرنے جاتے ہو-جوان بیٹی اور بیٹوں کے باپ ہوچکے ہو -لیکن تمہاری رنگینی ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے-غزالہ نے یہ سب سنا تو بہت حیران ہوئی-ابا کی سخت مزاجی اس کو بس ایک ڈھونگ لگنے لگی تھی-یا پھر اندر کا کوئی چور تھا جو غزالہ کے اولے سے ان کو خدشات کا شکار رکھتا تھا-غزالہ نے انٹر کرنے کے بعد جب بی اے کرنے کے لئے یونیورسٹی جانے کی خواہش ظاہر کی تو پھر ایک ہنگامہ پبا ہوگیا-اس نے بھی بھوک ہڑتال کر ڈالی -دو دیں تک تو ابا نہ نرم ہوئے-تیسرے دن جب اس کی حالت غیر ہونے لگی تو امان کے دباؤ پر ابا راضی ہوگئے -

غزالہ لاہور چلی آئی-ایک بڑا شہر تھا-اور یونورستے اس کے خیالوں سے بھی زیادہ خوبصورت اور دلچسپ جگہ نکلی-پھر اس کو یونورسٹی کے ہاسٹل میں جگہ نہیں ملی تو ایک نجی ہاسٹل میں کمرہ لینا پڑا-ابا چھوڑ گئے تو پہلے دو تین ہفتوے اس نے حجاب میں یونیورسٹی جانا شروع کیا لیکن پھر اس نے حجاب کو ایک طرف رکھ دیا اور ایک چادر کے ساتھ یونیورسٹی جانا شروع کر دیا-بی اے میں اس نے نفسیات اور عمرانیات کے مضمون رکھ ڈالے-تھوڑا انگریزی ادب کا چسکہ بھی لگا-دیہی ماحول سے شہری اور وہ بھی ایک میٹرو پولٹن شہری کلچر سے اس کا واسطہ پڑا تو اس کو زندگی کے نئے روپ دکھائی دئے-اس کو بہت حیرانگی ہوئی شہری لڑکیوں کے اکثر ابا اور بھائیوں کو دیکھر -ان میں اکثر بہت کھلے دل و دماغ والے تھے-اس کو پتہ چلا کہ ہر ابا مستجاب حیدر نہیں ہوتا-ہر بھائی قدوس حسین نہیں ہوتا-اور ایک اپنی دوست مہرین کے ریٹائرڈ فوجی افسر ابا سے ملی تو اس کو پتہ چلا کہ ہر فوجی افسر اس کے ابا کی طرح دوہری زندگی نہیں گزارتا-وہ بی اے کر گئی-اور ایم اے نفسیات میں بھی اچھے نمبروں سے پاس ہوگی-پھر اس نے ایم فل بھی کرڈالا -اس کے گھر والے اس کو واپس آنے کا کہتے تھے-لیکن اس نے پھر پی ایچ ڈی کرنے کا سوچ لیا-گھر والوں نے خرچہ نہ ہونے کا بہانہ کیا تو اس نے پارٹ ٹائم جاب کر کے اپنا خرچہ نکل لیا-پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اس کو ایک یونیورسٹی میں کنٹریکٹ جب مل گئی-یہیں پر اس کی ملاقات جوزف سے ہوئی-جووہاں پر کنٹریکٹ پر امریکہ سے فزکس پڑھنے آیا تھا-دونوں بہت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے-وہ نہیں چاہتی تھی کہ دونوں کے درمیانتبدلی مذھب کا کوئی سوال اٹھے لیکن ایک دن جوزف کو پتہ نہیں کیا ہوا اور اس نے غزالہ کو کہا کہ وہ شیعہ مسلم ہوچکا ہے-اس نے اپنا نیا نام علی اکبر رکھا ہے-اس نے کہا اس نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا تھا-جوزف جو اب علی اکبر ہوچکا تھا کہنے لگا کہ بس اسے لگا کہ غزالہ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کے لئے اس کو یہ کرنا ہوگا-اس کے بعد اس نے غزالہ کو شادی کے لئے کہا-غزالہ نے جب اپنے گھر والوں کو بتایا تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا-اس کے والد اور بھائی اور ماموں اس کو گھر لیجانے کے لئے آگئے-غزالہ کو کہا جانے لگا کہ ایک نومسل غیر سید سے اس کی شادی نہیں ہوسکتی-غزالہ نے علی اکبر کی مدد سے انتظامیہ کی مدد لی-اور دونوں کورٹ میرج کا سوچنے لگے-جب اس کے والد نے دیکھا کہ معاملہ نہیں سدھر رہا تو اس نے غزالہ کو کہا کہ ہم تمھیں باعزت طریقے سے رخصت کریں گے-لیکن بعد میں کویتعلق نہیں رکھیں گے-غزالہ راضی ہوگئی اور گھر آئی-اس کے گھر والے اس کی شادی کی تیاری کرنے لگے-فروری کی چودہ تاریخ اس کی رخصتی کادن قرار پاگئی-شادی میں دو دن باقی تھے-وہ گھر میں ہونے والی تیاریاں دیکھ کر اپنے اندیکھے خدشات پر کو وہم سمجھ کر ترک کرچکی تھی-ایک رات کو اس کی ماں اس کے لئے چائے بنا کر لی-بڑا مگ تھا چائے کا-اس کو چائے پیش کی-اس نے امان کو کہا آپ نے کیوں تکلیف کی-ماں کہنے لی دو دن بعد تو چلی جائے گی-میں نے اپنے ارمان پورے کئے ہیں-ماں کے ہاتھ کانپ رہے تھے-اس نے سمجھا کے شائد دکھ اور جذبات کی وجہ سے ایسا ہے-اس نے چائے کا گھونٹ بھرا تو اس کو چائے کا ذائقہ عجیب لگا-اس نے ماں کے جذبات کو دیکھتے ہوئے کچھ اظہار نہ کیا-اور چائے سپ کرنے لگی-آدھ کپ پیا ہوگا کہ اس کو اچانک لگا کہ جیسے اس کا سینہ کوئی تیز چھری سے کاٹ رہا ہے -اس نے سینہ پکڑنے کی کوشش کی-لیکن اس کو لگا کہ اس کے ہاتھ پیر مفلوج ہوتے جاتے ہیں-آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اس نے دیکھا کہ اس کی ماں کے آنکھوں سے آنسوں نکلے جارہے ہیں-اور وہ مشکل سے اپنی چیخوں کو دبا رہی ہے-بس آخری منظر جو اس نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس کی ماں کے ہاتھ اس کی طرف بڑھ رہے تھے-اور اس کے کانوں میں آواز آرہی تھی-بیٹی مجھے معاف کر دینا -

Monday, 19 December 2011

دسمبر (افسانہ) عامرحسینی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میری رجائیت بہت تیزی سے ختم ہونے لگے گی -شک کے سائے طویل ہوجائیں گے-اور مجھ میں کوئی تلخی کسی جگر کو خوں کردینے والے زہر کی طرح میری ہستی میں گھل جائے گی -اور مجھے اپنے اعصاب پر ایک ان دیکھا خوف ہر دم طاری ہوا ملے گا-بہت خوبصورت دن تھے-اور بہت ہی خوبصورت راتیں تھیں-ایک جوش تھا من میں اور ایک جزبہ تھا دل میں -جسے شائد انگریزی کا شاعر ولیم بلیک جوانی کا جوش کہتا ہے-میرے ایک ہم دم رفیق تھے وقار اسلم بلوچ-ہم دن رات اکٹھے گزارتے تھے-وہ پرویز صاحب کے عاشق تھے اور میں کارل مارکس کا-لکین بہت مزے لیکر ادب اور شعر کی محفل سجاتے تھے-ہم نے سال کے آخری دنوں کی سردی کو لمبی دھند بھری راتوں میں تنہائی کو اکٹھے اپنے صحن میں،گلی،بازار میں اترتے دیکھا تھا-اور سارے جہاں کی باتیں تھیں جو ہم کرتے تھے-عجب رنگ کی اداسی تھی-جس میں مایوسی نہیں ہوتی تھی-اس اداسی میں بھی امید کے چراغ جلا کرتے تھے-شہر کا سناٹا ہمیں کاٹ خانے کو نہیں دوڑتا تھا-وہ اور میں رات کو جب نکلتے تھے تو گرلز ہاسٹل سے سحربھی ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا کرتی تھی-خود کو گرم رکھنے کےلئے برانڈی کے چند گھونٹ ہم اپنے اپنے معدوں میں اتار لیا کرتے تھے-وقار اسلم ایسے موقعہ پر ہمیں پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں سے لیجاتا ہوا سول لائن میں آنکلتا تھا-اور یہ سول لائن کسی زمانے میں انگریزوں نے تعمیر کی تھی-اور آج یہاں کے اکثر بنگلے پرانی طرز کے تھے-اور ان میں پرانی اشرافیہ یادگار زمانہ کی طرح رہتی تھی-وقار اسلم کا معمول تھا کہ وہ ہمیں سول لائیں لیجانے سے پہلے کرسچن کی اس بستی سے ضرور گزارتا تھا -جہاں برصغیر کے وہ افتادگان خاک بستے تھے جو اپنی ذات کے چھوٹے پن کو ختم کرنے کے لئے کرسچن ہوئے تھے-لکین انگریز نے ان کو اپنے برابر میں بٹھانا پسند نہ کیا-اور ان کی بستی کو اس طرح سے بنایا کہ وہ انگریز حاکموں کی ترقی یافتہ کالونی اور غلام بنا لئے گئے ہندوستانی باشندوں کے پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں والے محلوں کے درمیان عملی طور پر ایک بفر زون بن کر رہ گئی-ان کا گرجا گھر بھی انگریز نے الگ بنایا تھا -یہ بستی پاکستان بننے کے بعد بھی ایک طرح سے بفر زون ہی بنی رہی پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں بسنے والی غریب عوام اور سول لائن میں قیام پذیر ہونے والی اشرافیہ کے درمیان -وقار اور ہم غریبوں اور اچھوتوں کے گرجا گھر کو دیکھتے اور پھر سول لائن میں بنی اس عظیم الشان عمارت کو بھی دیکھتے جو انگریزوں نے اپنے لئے تعمیر کی تھی-وقار اسلم نے ایک مرتبہ مجھے کہا کہ برطانیہ ایسٹ کمپنی کے فرنگی ان فرنگیوں سے زیادہ ہوشیار تھے جنہوں نے امریکہ اور آسٹریلیا میں جاکر قبضے کے تھے-اور انھوں نے اپنے وہاں کے رائد انڈینز کو نیست و نابود کر ڈالا تھا-جبکہ برطانوی سامراج نے یہاں کے مقامی ہندوستانی نیچ ذات کے لوگوں کو نیست و نابود نہیں کیا بلکہ ان کو اپنے ہم مذھب بنا کر ان کی ایسی کایا کلپ کی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اجنبی ہوگئے-اور برطانوی سامراج کے محکوم ہوگئے-ہم سول لائن کے ارد گرد بننے والی نئی کالونیوں کو بھی دیکھا کرتے تھے-یہ کالونیاں ایک اور تہذیب کی آئنہ دار تھیں-اور وہ تھی کارپوریٹ امریکی تہذیب -ایک مرتبہ ہمیں سول لائن میں سابق وزیر خارجہ عزیز احمد کی کوٹھی میں جانے کا اتفاق ہوا-یہاں میاں اعجاز رہتے تھے-انھوں نے ہمیں جس ڈرائنگ روم میں بٹھایا وہ پرانے وکٹوریائی طرز پر بنا ہوا تھا-یہ جنگلے والی کوٹھی کے نام سے مشہور کوٹھی تھی-اور اس کو ایک آباد کار رائے جسونت سنگھ نے بنایا تھا-جس کے نام پر ایک علاقہ جسونت نگر اب بھی اس شہر میں موجود تھا-میاں اعجاز ہم سے کہنے لگے کے نو دولتیوں نے ملک ملک میں تہذیب اور ثقافت کو تباہ کر دیا ہے-یہ ایک ایسا فقرہ ہے جو ہم نے بارہا سنا تھا-اور لکھا ہوا بھی دیکھا -جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ١٨٥٧ میں دلی اجاڑ دی اور پورے ہندوستان میں وکٹوریائی کلچر ابھرا تو فارسی اور اردو کی تہذیب والی اشرافیہ کچھ ایسا ہی مرثیہ پڑھتی نظر آتی تھی-اور جب فرنگی کلچر سے امریکی کلچر ظہور پذیر ہوا تو ہم نے فرنگی دور کے امراء سے ایسا ہی گلہ سنا -میں، وقار اور سحر علی تینوں ہنستے ہوئے کوٹھی سے باہر آگئے تھے-بس کچھ ایسے ہی وہ دسمبر کے آخری دن تھے-ہوا بھی بہت سرد تھی-اور ہم راتوں کو اسی طرح سے مٹر گشت کرتے تھے-اور جب دسمبر کی آخری تاریخ تھی-اور رات کے دس بج چکے تھے-ہم تینوں باہر نکلے تھے-اس چھوٹے سے شہر میں شائد ہم تین ہی تھے جو سال نو کا جشن منانے رات کو نکلے تھے-اور کوئی نہیں تھا جو یہ جشن مناتا -اس مرتبہ ہم نے یہ رات ایک شمشان گھاٹ میں منانے کا فیصلہ کیا تھا-یہ شمشان گھاٹ اس دور کی یاد گار تھا جب اس شہر میں ہندو ،مسلم،سکھ اور کرسچن سب ہی تو رہتے تھے-اس شہر کے بیچ میں ایک گردوارہ بھی تھا-جس کے درمیان ایک بازار تھا -جس کو گردوارہ بازار کہتے تھے-یہاں جو بھی لاہور کی طرف جاتا یا لاہور کی طرف سے آتا تو وہ اس جگہ متھا ٹیک کر جاتا تھا-اسی طرح یہاں ایک خالصہ اسکول تھا-جو اب مسلم ہائی اسکول ہوگیا تھا-ایک رام چونترہ تھا جہاں سے دریا بکل سیدھا تھا-کہا جاتا ہے کہ رام کرشن اور سیتا جی یہاں آئے تھے تو کنارے پر وہ سیتا کو چھوڑ کر اشنان کرنے چل نکلے -اس وقت دریا کا رستہ ٹیڑھا تھا-انھوں نے دریا کے بیچ جا کر جب سیتا کو دیکھنا چاہا تو دریا کے کنارے بکل سیدھے ہوگئے-اس کو رام چونترہ کہتے تھے-یہ جگہ بھی بہت مقدس جگہ تھی-پیچھلے سال ہم نے نئے سال کا جشن وہیں منایا تھا-آج یہاں شمشان گھاٹ آئے تو بہت سی کہانیاں اس گھاٹ کے بارے میں مشہور تھیں-کہ یہاں رات کو پچھل پیری فرا کرتی تھیں-یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک مذھب کے ماننے والے اپنے مردوں کو روحیں اور دوسرے مذھب کے مردوں کو بدروحیں کہتے تھے-ویسے ہم تینوں کو پیچھل پیری دیکھنے کا بہت شوق تھا-لکین حمائ یہ خواہش پوری نہ ہوسکی-وقار کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے لان کوٹ میں بہت سے کاغذ ٹھونسے ہوتا تھا-اور ہر کاغذ پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا تھا -اس رات بھی اس نے کچھ کاغذ اپنی جیب میں ٹھونسے ہوئے تھے-ہم پہلے ٹیلی فون ایکسچینج گئے-اور وہاں جا کر ہم انتظار کرنے لگے عبد الله اور دوسرے دوستوں کی کال کا جو پیرس میں ایفل ٹاور کے نیچے رات کو سال نو کا جشن منانے اکٹھے ہورہے تھے-یہ زمانہ بھی خوب تھا -ابھی ہمارے یہاں ا کمپوٹر آیا تھا-نہ کوئی موبائل فون تھے-نہ انٹرنیٹ-رسائی اور وصال ایک دشوار مرحلہ ہوا کرتے تھے-ایسے ہی ٹرنک کال آئی-باری باری ہم نے بات کی-عبد الله نے کہا کہ وہ شیمپین کے ایک گھونٹ سے سال نو کے جشن کو ہمارا نام لیکر شروع کر رہا ہے-میں نے حیرانی سے کہا مولوی عبد الله حسین کیسے مسٹر بنا گیا-اور ہمیں مولوی بنانے کی انتھک کوشش کرنے والا عبد الله کی یہ کایا کلپ کیسے ہوئی -تو پیچھے سے راحیلہ نے آواز لگائی یہ نیلی آنکھوں والی نت کھٹ فرنچ لڑکی جینی کا کمال ہے-بات کرنے کے بعد ہم تینوں وہاں سے نکلے اور شمشان گھاٹ کی طرف چلنے لگے-وقار نے جینز کی پینٹ اور موتی سی شرٹ کے اوپر لان کوٹ پہنا ہوا تھا-اس نے سر سے لیکر کانوں تک ٹوپ لیا ہوا تھا -اس کے نیچے اس کے لمبے بال جو اس کے شانوں تک آتے تھے-بھکرے نہیں تھے-آج اس نے ان کی پونی بنا رکھی تھی-سحر علی نے بھی جینز ،شرٹ اور لانگ کوٹ پہن رکھا تھا-اس کے بال ٹوپ کے نیچے بکھر کر شانوں تک آئی ہوئے تھے-دونوں کے گال ریڈ وائن سے اور زیادہ سرخ ہو کر قندھاری اناروں کی طرح لگ رہے تھے-اور آنکھیں نشیلی تھیں-جبکہ میں حسب معمول شلوار کامیز اور اس کے اوپر کوٹ پہنے ہوئے ان کے ساتھ چل رہا تھا-میرا رنگ جو کبھی گندمی ہوا کرتا تھا -قدرے سانولا ہوگیا تھا-چلتے چلتے وقار کو جانے کیا سوجھی کہنے لگا تم ہمیں ایسا لگتا ہے کہ دراوڑ قوم کے باشندے ہو اور ہم کوئی آریہ جو ساتھ ساتھ چل رہے ہیں-آج کی رات تم کو مہمان بنایا ہے-تاکہ ہم اپنے بزرگوں کی غلطیوں کی تلافی کرسکیں-مجھے دونوں بہت عجیب لگے تھے-سحر علی اور وقار کا کہنا تھا کہ ہم سرخ و سفید رنگت والے ہندوستان کی وادی کے لوگ نہیں تھے-کتنی عجیب بات ہے کہ کرشن بھی تو کالے تھے گورے نہیں تھے-ہندوستان کا رام بھی گورے رنگ میں اپنے شہود کو پسند نہیں کرسکا- وقار کو جانے کیا ہوگیا تھا اس رات -وہ مجھے خود بھی کوئی دیو مالا کا کردار لگ رہا تھا-آج جب یہ سطریں لکھنے بیٹھا ہوں تو ووہی دسمبر کے آخری دن اور سرد لمبی راتیں ہیں-لکین اس چھوٹے شہر میں نہ تو سحر ہے اور نہ ہی وقار -اس رات وقار نے جانے کیوں امجد اسلام امجد کی نظم "دسمبر "ہمیں سنائی تھی-سماں باندھ دیا تھا-اس کی آواز ایک گونج کی صورت تھی-اور مجھے کبھی وہ لفظ بھولتے نہیں تھے-
"آخری چند دن دسمبر کے ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے کیسے کیسے گمان گرتے ہیں
یہ لائنیں مجھے اس لئے بھی یاد آگئیں کہ آج ایک دوست نے پیغام بھیجا کہ وہ آخری دسمبر میں اپنے دوستوں کی لسٹ مختصر کر رہا ہے-اور اس نے امجد کی یہ نظم لکھ ڈالی-مجھے خیال آیا کہ میں نے تو کبھی کاغذ پر یہ لسٹ بنائی نہیں تھی-اور دل کے کاغذ پر لکھی لسٹ پر کبھی نظر ثانی نہیں کی تھی-پھر آنے والا ہر دسمبر کیوں خود ہی اس لسٹ کو مختصر کرتا چلا گیا -آج بہت عرصۂ بعد وقار کا ایک میسج مجھے موبائل پر ملا -جانے اس کو میرا نمبر کس نے دیا -میسج کچھ یوں تھا
"میرے والد اسلم بلوچ دس دن قبل انتقال کر گئے تھے"
یہ مختصر سا میسج مجھے بہت کچھ بتا گیا تھا-وہ دس دن اپنےاندر حوصلہ پیدا کرتا رہا کہ مجھے اس کی خبر دے تو کیسے دے-مجھے یاد ہے کہ اس کو جتنے بھی دکھ ملے وہ دسمبر میں ملے تھے-وہ اکثر کہا کرتا ہے کہ یہ دسمبر جاتا جاتا چرکہ لگا ہی جاتا ہے-٢٧ دسمبر جب بینظیر بھتو شہید کی خبر آئی تو میں تنہا سول لائن کی اس سڑک پر گرجا کے سامنے کھڑا تھا جہاں ہم تینوں اکثر اکٹھے ہوتے تھے-واقعی دسمبر بہت ظالم ہوتا ہے-دسمبر کے ایک رات دادا روٹھ گئے تھے-اور دسمبر کی رات تھی جب دادی نے رخت سفر باندھا تھا-آج جب دسمبر کے آخری دن تھے تو اسلم صاحب کے جانے کی خبر آگئی-سحر علی کا مجھے پراگ سے فون آیا ہے-وہ بھی سخت دسمبر میں برفباری میں اس خبر سے پیدا ہونے والی اداسی کو ساتھ لئے دریائے پراگ پر بنے لکڑی کے ایک پل پر اکیلی کھڑی تھی-اس نے بتایا کہ وققر نے اس کی ہوں کال پک نہیں کی-اس نے تو میری کال بھی پک نہیں کی-اور ہاں اس کی بیوی جس کو حجن بی بی کہ کر بلاتا تھا-جو اس کی رندی اور اس کی مذھب بیزاری پر اسی طرح سے ماتم کرتی تھی -جس طرح سے میری بیوی کرتی ہے-اور سحر علی تو اب تک اکیلی ہے-اس لئے اس کو کوئی نہیں ملا جو اس پر ماتم کرے-وقار کی بو کہتی ہے کہ وہ کمرے میں بند بس خاموش بیٹھا ہے-کوئی بات نہیں کرتا-میں جانتا ہوں اس کی اس طویل خاموشی کا سبب -آخری رات جب وہ یہ شہر چھوڑ کر جانے والا تھا تو اس نے مجھے آکر بتایا تھا کہ اس نے ایک این جی او میں نوکری کرلی ہے-اور میں یہ خبر سن کر حیران تھا -اس لئے کہ وہ سی ایس پی اکیڈمی چھوڑ کر آگیا تھا-اور ایک رات وہ مجھے کافی دیر تک یہ بتاتا رہا تھا کہ این جی او اور سامراج کی باہمی رشتہ داری ہے کیا-اس سے قبل ایک مذہبی لڑکی سے شادی کر کے اس نے مجھے حیران کرڈالا تھا-جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب میری شادی ارینج ہورہی تھی تو لڑکی کے مذہبی ہونے اور اس سے شادی کے بعد مل کر وہ مجھے روایتی مرد ہونے کا طعنہ دیتا رہا تھا-اور پھر خود بھی ایسی ہی ایک لڑکی سے شادی کر بیٹھا تھا-بس وہ ایسا ہی تو تھا-وہ سال کے دوسرے مہینوں میں تو چپ کا لباس پہنے رکھتا تھا-لکین دسمبر کے آتے ہی وہ کلام کی عبا پہن لیتا تھا-لکین اس دسمبر میں اس نے چپ کے لباس کو بدلنے سے نجانے کیوں انکار کرڈالا ہے-

Wednesday, 14 December 2011

رخصتی

رخصتی (افسانہ)
عامر حسینی
احمر اور راشدہ بہت تیزی سے گھر کا سامان سمیٹ رہے تھے-احمر چہرے کے تاثرات کے اعتبار سے قدرے مطمئن نظر آتا تھا-لکین راشدہ بہت اداس تھی-وہ صبیح سے سامان سمیٹ رہے تھے-یہ گھر ایک یونیورسٹی کے احاطہ میں قائم تھا-آج سے چھے سال پہلے جب احمر لندن سے یہاں آیا تھا اور اس نے شعبہ فلسفہ میں بطور پروفیسر جوائننگ دی تھی تو یہ گھر ان کو الاٹ ہوا تھا-احمر بہت جوش اور جذبہ کے ساتھ یہاں آیا تھا-سامان سمیٹے ہوئے احمر نے جب اپنی چھے سللقبل کی لکھی ڈائری کو سامان میں رکھنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ بے اختیار کچھ دیر کے لئے ماضی میں کھوگیا -
اس نے لندن کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جن کا جد ١٩٠٥ میں لندن میں تعلیم حاصل کرنے اتر پردیش کے شہر بلند شہر سے پڑھنے ایک بحری جہاز سے یہاں آگیا تھا-اور پھر لندن فضاء اس کو ایسی راس آئی کہ وہ بس یہیں کا ہوکر رہ گیا-یہیں شادی ہوئی اور یہیں پر ایک خاندان کی بنیاد پڑ گئی-احمر کو اپنے والد سے جہاں بہت سا تہذیبی ورثہ ملا تھا -وہیں پر ایک ورثہ اس کے پاس یہ تھا کہ وہ تقسیم کے بعد کے پاکستان سے بہت محبت بھی کرتا تھا-اس پاکستان کے لئے اس کے دل میں بہت درد تھا-اس نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی تھی-اور وہ لندن کے معروف کالج امپریل کالج میں استاد ہو گیا تھا-اس کالج میں وہ طلبا کو یونانی فلسفہ اور تاریخ فلسفہ پڑھاتا تھا-اس کی ذہانت اور وسعت علمی کی اس کالج کا ہر فرد گواہی دیتا تھا-اس کو مسلم دنیا کی علمی پسماندگی کا بہت قلق تھا-اور وہ مسلم دنیا میں فکری آزدی کے فقدان پر بہت زیادہ افسردہ بھی رہا کرتا تھا-وہ اس کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتا تھا-
پھر ایسا ہوا کہ اس کے کالج نے جنوبی ایشیا کی یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے فلسفہ کی ایک کانگریس منعقد کی-اس کانگریس میں پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے صدر ڈاکٹر منظور احمد بھی آئے-ان سے احمر کی ملاقات ہوئی-اور وہ ایک ہفتہ لندن رہے تو احمر سے مسلسل ان کی ملاقات ہوتی رہی-اس دوران ڈاکٹر منظور احمد سے پاکستان میں سماجی علوم کی زبوں حالی پر کافی بات چیت ہوئی-ڈاکٹر منظور احمد احمر کی اس بات سے متفق تھے کہ فکری آزادی کے بغیر مسلم سماج ترقی نہیں کر سکتے-اور اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہاں کی یونیورسٹیز میں اکیڈمک آزادی کا رستہ ہموار ہو-اور یہ کام فلسفہ کی تعلیم کو فروغ دئے بنا ممکن نہیں ہے-ڈاکٹر منظور کہتے تھے کہ ان کی یونیورسٹی کو فلسفی استادوں کی ضرورت ہے-جو مشکل سے میسر آتے ہیں-انھوں نے احمر کو کہا کہ اگر اس جیسے لوگ تھوڑی قربانی دے ڈالیں تو پاکستان میں فکری انقلاب کی رہ ہموار ہوسکتی ہے-ڈاکٹر منظور احمد سے ملاقات کے بعد احمر کے ذہن میں ایک کشمکش شروع ہو گئی-اس کو یاد آیا کہ اس کے بابا کس قدر زور دیتے تھے احمر پر کہ اس کو پاکستان جا کر تدریس کرنی چاہئے-اور وہ پاکستان میں ان دنوں آمریت ہونے کی وجہ سے نہیں جاسکا تھا-کیونکہ جب اس نے پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں اپلائی کیا تھا تو وہ انٹرویو کے لئے جب پاکستان میں سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو اس سے انٹرویو لینے والے نے آیت الکرسی اور دعائے قنوت سنانے کے لئے کہا-اس کو بہت حیرانی ہوئی کہ فلسفہ کی تدریس سے اس کا کیا تعلق تھا-اس کو پتہ چلا کہ اس سے قبل کیمسٹری کے ایک ٹاپر کو اس لئے ریجکٹ کر دیا گیا تھا کہ اس کو رات کو سوتے وقت کی دعا یاد نہیں تھی-وہ واپس چلا آیا تھا-اس نے ڈاکٹر منظور کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تو انھوں نے تسلی کرائی کہ اب وہ دور چلا گیا ہے-سو اس نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا -اور وہاں ایک یونیورسٹی کو جوائن کر لیا-
یہاں آکر اس نے پہلے تو یہ دیکھا کہ لوگ فلسفہ جیسے اہم مضمون کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے-بلکہ یہاں تو سرے سے علم کی تحقیر و توہین کو لوگوں نے رواج بنا رکھا تھا-اس کو ایسے لگا کہ وہ مغرب میں اس دور کے اندر واپس آگیا ہے جب کلیسا نے علم اور حکمت کے خلاف ایک مہم چلائی ہوئی تھی-وہ جب بھی یونیورسٹی کی واحد مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے جاتا تو اس کو مولوی صاحب کا سارا خطبہ علم کی تحقیر پر مبنی معلوم ہوتا تھا-اور ایسے لگتا تھا کہ سماجی علوم کی ترقی مولوی صاحب کے نزدیک کوئی بہت بڑا جرم تھی-اس کو خیال آتا کہ جب وہ نویں صدی میں عرب میں فلسفہ اور حکمت کی کتابوں کو جلائے جانے کا تذکرہ پڑھا کرتا تھا تو اس وقت وہ سوچا کرتا تھا کہ آجووہ فعل کرنے والے موجود ہوتے تو خود کتنی شرمندگی محسوس کرتے -لکین یہاں آکر اسے محسوس ہوا کہ پاکستان سمیت دیگر کئی ملکوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو اب بھی اسی طرح کا فعل روا رکھنے کو مذہب اور سماج کی خدمت خیال کرتے تھے-اور جب بامیان میں طالبان نے بدھا کا مجسمہ گرا ڈالا تھا تو اس کو بہت حیرانی ہوئی تھی کہ اس کی یونیورسٹی کے کئی استاذہاس عمل کو ٹھیک کہ رہے تھے-یہ سب باتیں دیکھ کر اس کو اپنے فیصلے کے ٹھیک ہونے کا یقین آگیا تھا-اور وہ زیادہ تندہی سے فکری آزادی کے لئے کام کرنے لگا تھا-اس نے ناصرف اپنے شعبہ میں فکری آزادی کو پروان چڑھانے پر زور دینا شروع کیا بلکہ اس نے اس عمل کو پوری یونیورسٹی میں آگے لیکر جانے پر زور دیا-
اس کے اس عمل پر ایک مرتبہ ایک مذہبی تنظیم نے سخت رد عمل بھی دکھایا لکین اس نے کوئی پرواہ نہ کی-وہ یونیورسٹی کی ضابطہ کمیٹی کا رکن بھی تھا-احمر کو اپنی کوششوں کے دوران ہی یہ احساس ہوگیا کہ فکری آزادی کے عمل کو یونورستیز میں پھیلنے سے روکنے میں رجعت پسندوں سے زیادہ روکاوٹ وہ لوگ ہیں جو ترقی پسندی کا علم اٹھائے کھڑے ہیں-جو اپنی ہوس اور شہوت انگیزی کو ترقی پسندی کا نام دیتے ہیں-
احمر کو اس امر کا اندازہ اس وقت ہوا جب اس کے شعبہ کے ایک استاد نے پرچہ لیتے ہوئے تئیں لڑکیوں کے سوا سب لڑکیوں کو فیل کر ڈالا اور پھر جب ایک لڑکی نے اس کو آکر یہ شکایت کی کہ مذکورہ استاد کہتے ہیں کہ بی بی اگر پاس ہونا ہے توکچ لو اور کچھ دو پر عمل کرنا پڑے گا-اسی طرح شعبہ میں وزٹینگ اساتذہ کی بھرتی کے معاملے پر بھی ایسی ہی حرکت دیکھنے کو ملی-جس کا احمر نے کبھی لندن کے کسی تعلیمی ادارہ میں تصور بھی نہیں کیا تھا-اس نے جب اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا تیکسر لوگوں نے اس کو معمول کی بات قرار دیکر نظر انداز کرنے کی تجویز دی-لکینووہ ڈٹ گیا-اس وقت تک ڈاکٹر منظور بھی وی سی بن گئے تھے-انھوں نے بھی ان کا ساتھ دیا-تو اس روش پر قابو پالیا گیا-لکین اس نے دیکھا کہ تعلیمی ادارہ میں یہ تو ایک رجحان بنتا جا رہا ہے-اور ڈاکٹر منظور کے جانے کے بعد جب نئے وی سی آئے تو اس کو بہت زادہ تنہائی کا احساس ہونے لگا-اور ایک دن وہ ہوگیا جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا-
یہ سردیوں کے دن تھے-جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے شعبہ میں نئی بھرتی ہونے والی لیکچرر چخیتی ہوئی اس کے کمرے میں داخل ہوئیں-یہ مس ساجدہ تھیں-اس نے ان کو چھپ کرایا-وہ کہ رہی تھیں کہ ان کو بچا لیا جائے-ان کے پاس کوئی دوپٹہ یا چادر نہیں تھی-اس نے اپنا لانگ کوٹ مس ساجدہ کو پہنایا-ان کو تسلی ڈی-جب وہ بات کرنے کے قابل ہوئیں تو ان سے پوچھا کیا ہوا تھا؟تو وہ روتے ہوئے کہنے لگیں کہ آج ان کو سر صداقت نے اپنے روم میں بلایا تھا-اور ان کو کہا کہ یهداکومنٹ سوفٹ کاپی میں ان کے پی سی میں موجود ہیں-ان کو آکے پڑھئیے-جب وہ پڑھنے کے لئے قریب ہوئیں تو اچانک پیچھے سے ان کو صداقت نے پکڑ لیا اور ان کے گالوں کو چومنے کی کوشش کرنے لگے-اور اس دوران ان کی شال بھی اتار کر پھینک دی-انھوں نے خود کو بہت مشکل سے بچایا اور بھاگ کر اس کے کمرے میں اگائیں-احمر کو یہ سب سنکر بہت غصہ آیا-اس نے مس ساجدہ کو فوری طور پر اےکدرخوسٹ لکھنے کو کہا-درخواست لکھی گئی-وی اسی نے ضابطہ کمیٹی کو معاملے کی تحقیق کرنے کو کہا-ضابطہ کمیٹی میں کل پانچ رکن تھے-احمر کو اس وقت سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا-جب ضابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا-اور اس میں ضابطہ کمیٹی کے صدر نے جو کہ ساجدہ کے باپ کی عمر کے ہوں گے-اور یونیورسٹی میں ترقی پسندی کے گرو گھنٹال خیال کے جاتے تھے-بہت ہی گھٹیا انداز اختیار کرتے ہوئے یهکھنے لگے
ساجدہ کے بارے میں ایک بات تو کہنی پڑتی ہے کہ وہ ہے تو سیکس
بم جس کو دیکھ کر بہت سے لوگوںکا ایمان ڈول جاتا ہے-اگر صداقت
اگر صداقت صاحب بہک گئے تو کوئی بڑی بات نہیں-
ایک اور رکن بولے کہ "سالی صداقت کے قابو میں آجاتی تو سارے کس بل نکل گئے ہوتے اور اب فلاں رجعت پسند گروپ کو ہم پر باتیں بنانے کی جرات نہ ہوتی-
ایک اور کا خیال تھا کہ یہ سب سازش ایک مذہبی تنظیم کی کارستانی ہے-
احمر یہ سب باتیں سن کر حیران ہورہا تھا-اور اس وقت حد ہو گئی جب مس ساجدہ کو ضابطہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا -اور کمیٹی کے وہ لوگ جو ان کے بارے میں توہین آمیز بیانات دی رہے تھے -ان کے ساتھ ایسے بیہودہ سوالات کرنےلگے کہ احمر کو اس پر سخت احتجاج کرنا پڑا -اور جب احمر نے صدر کمیٹی کے اصل چہرے کو بےنقاب کیا اور وی سی سے ان کو ضابطہ کمیٹی سے الگ کرنے کا کہا تو اگلے دنہمر کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی جبوی سی نے ان کو ضابطہ کمیٹی سے الگ کر دیا-اور احمر پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا-اور اسی دن اس گروپ کا بھی اجلاس ہوا جو خود کو یونیورسٹی میں مذہبی فاشزم کا مخالف کہا کرتا تھا-اس نے صداقت کو بیگناہ کہا اور یونیورسٹی میں کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی بھی دی-اور اسے یونیورسٹی میں طالبانیت کو پھیلانے والوں کی سازش بھی قرار دے ڈالا-
مس ساجدہ نے یہ صورت حال دیکھتے ہوئے نہ صرف درخواست کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا -بلکہ یونیورسٹی جاب بھی ترک کردی-احمر کے لئے یہ بہت تکلیف دہ صورت حال تھی-وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ علم کی درسگاہوں میں یہ کھیل کھیلے جاتے ہونگے-اور ہوس کے پجاریس طرح سے فکری آزادی کے نام پر دندناتے ہونگے-اس کے بہت سے خواب تھے جوچکنا چور ہوگئے تھے-اس نے یہ سبدیکہ کر واپس جانے کا فیصلہ کیا-اس نے امپریل کالج کی انتظمیہ کو خط لکھا کہ ووہواپس آنا چاہتا ہے -اس کو اگلے دن ہی جواب موصول ہوا-امپریل کالج کے پرنسپل اور شعبہ فلسفہ کے ڈین نے لکھا تھا کہ اس کا پرانا آفس اور کلاس روم اس کی آمد کے شدت سے منتظر ہیں-آج وہ یہاں سے جا رہا تھا-وہ انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کی بیوی راشدہ کی آواز آئی کہ سامان گاڑی میں رکھا جاچکا ہے-آپ بھی آجائیے-وہ بھاری قدموں کے ساتھ چل کر گاڑی میں بیٹھ گیا-اور گاڑی ائر پورٹ کی طرف روانہ ہو گئی -جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اسے یاد آتا رہا کہ کیسے کیسے خواب دیکھے تھے-اور کیا کچھ کرنے کا عزم کیا تھا اس نے-اس کو یاد آتا رہا کہ وہ تو پورے معاشرے میں فکری آزادی کی تحریک چلانے آیا تھا-اور چند پروفیسروں اور بابوؤں سے مار کھا گیا تھا-
بہت عرصۂ بعد لندن کی ایک کافی شاپ میں وہ بیروت سے آئے ایک پروفیسر کے ساتھ بیٹھا کاپی سپ کر رہا تھا-تو پروفیسر نے کہا کہ جنوبی لبنان کے اکثر ترقی پسند مرد اور خواتین حزب الله اور العمل کے کارکن بن گئے ہیں-اور انھوں نے ٹھیک کیا ہے-کیونکہ کھوکھلا اور بنجر لبرل ازم ان کو کچھ نہیں دی رہا تھا-احمر یہ سن کر چھپ رہا-اگر یہی فقرہ اس نے پاکستان جانے اور واپس آنے سے قبل سنا ہوتا تو وہ شائد مذکورہ پروفیسر سر لڑ پڑتا -اور بہت بحث کرتا-لکین اسے لگا کہ اس کی شکایت بھی بہت حد تک ٹھیک ہے-پھر اس پروفیسر نے احمر کو کہا کہ احمر ترقی پسندی اور انقلاب کیجنگ یونیورسٹیوں میں نہیں لڑی جاتی یہ تو باہر بیٹھ کر لڑی جاتی ہے-اوٹو بائر کو برداشت نہیں کیا تھا جرمنی والوںنے-نکال باہر کیا تھا-کارل مارکس کو بون میں نہیں نوکری ملی تھی-تیسری دنیا کے ملکوں میں کرئیر اور ریڈکل ازم ساتھ ساتھ نہ چل سکتے-زہین دماغ یا تو ہجرت کر کے مغربی ملکوں میں اپنی ذہانت سے سکوں پاتے ہیں یا پھر اپنے ملکوں میں غربت کے ساتھ لڑتے لڑتے جان دی دیتے ہیں-احمر یہ سب سن کر کافی شاپ سے اٹھا اور اس پروفیسر سے ہاتھ ملایا اور باہر کے دروازہ سے نکلتا چلا گیا ---------

Monday, 12 December 2011

کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

کبھی کبھی آپ کو بہت مشکل ہوتی ہے کہ اپنا حال کسی کو بتا پائیں-اور شائد اسی مشکل کو دیکھتے ہوئے استعارہ اور مجاز کا سہارہ لیا جاتا ہے-کسی کی بات کر کے اپنی بات کہنے کی کوشش کی جاتی ہے-اور پھر کبھی تو یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی کیفیت کے بیان کے لئے آپ کے الفاظ آپ کو کافی نہیں ہیں-اور یہ الفاظ اس کیفیت کو تصویر نہیں کر پا رہے -تو آپ پر بےبسی کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے-آپ کا دل کرتا ہے کہ آپ دل کھول کر رکھ دین لکین دل کھول کر رکھا نہیں جاتا -اور یہ عجب بات ہے کہ جب ایسی کیفیت کا آپ شکار ہوتے ہیں تو پھر مجلس اور ہنگامے آپ کو پسند نہیں آتے اور آپ ویرانوں کی تلاش کرتے ہیں-اور یہ کتنی عجب بات ہے کہ جن باتوں کو آپ فساد خلق کے سبب سے مجلس میں نہیں کہ پاتے ان کو آسانی کے ساتھ آپ ویرانوں کو سنا ڈالتے ہیں-کہا جاتا ہے کہ امام علی اپنے دل کی باتیں ایک کنوئیں کو سنا ڈالتے تھے-اور یہ تو بڑے لوگ تھے -ان کی باتیں بھی بہت بڑی تھیں-میرے جیسے لوگوں کے پاس تو کہنے کو بھی بس چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں-میں وہ بھی نہیں کہ پاتا-اور اب تو شہر اتنے گنجان آباد ہوگئے ہیں کہ ویران جگہوں کی تلاش بھی ایک مسلہ بن جاتی ہے-

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ کوئی اپنے حالت میں گرفتار ہوتا ہے اور آپ اپنی تو دونوں میں کوئی کیمونیکیشن گیپ آجاتا ہے-اور کوئی ایک اس کو تجاہل عارفانہ سے تعبیر کرنے لگتا ہے-اور اس پر وہ حالات سے،اپنے آپ سے اور اس سے شکوہ کناں بھی ہو جاتا ہے-ایسے میں جو کیفیت ہوتی ہے وہ بیان سے باہر ہوتی ہے-اب اس کا کیا کیا جائے کہ ہم انسان ایک ہونے کی بہت کوشش کرتے ہیں لکین یہ جو حالات ہوتے ہیں یہ ہمیں الگ الگ ہونے کا احساس کراتے ہی چلے جاتے ہیں-ہم نے الفاظ اور احساسات کی جادوگری سے ایک طلسم خانہ ایسا ضرور بنا لیا ہے جو ہمیں ایک ہونے کا احساس دلاتا ہے لکین نجانے کیوں پھر کہیں الگ ہونے اور تنہا ہونے کا احساس مارے دیتا ہے-ابھی زیادہ دن نہیں گزرے مجھ سے میرے ایک غم خوار کہنے لگے کہ ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں لکین گزار نہیں پاتے -اور جب بھی ہمیں کوئی قربانی دینے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو ہم اکثر روایتی انسان ثابت ہوتے ہیں-رسموں میں جکڑے جاتے ہیں-اور بہت سی زنجیریں ہوتی ہیں جو ہمارے آڑے آجاتی ہیں-اور ہم ان سے نکل نہیں پاتے-میں ان صاحب کو جانتا ہوں-وہ میری زندگی میں بہت سی تبدلیوں کا سبب بھی بنے این-لکین آج کل عجیب سے گلٹ میں مبتلا ہیں-اور خود کو نجانے کیوں ایسے جرموں کا مرتکب خیال کرتے ہیں جو انھوں نے کبھی کیے ہی نہیں ہیں-ان کی کیفیت کو میں سمجھ رہا ہوں اور وہ تو ظاہر ہے سمجھتے ہی ہیں لکین الفاظ کا دامن ان کے اظہار کو تنگ پڑ رہا ہے-ہم میں سے ہر ایک آزادی کا طالب بھی ہے اور کسی سے وابستہ اور کسی کے نام اپنی زندگی لگانا بھی چاہتا ہے-اور زندگی پہلے سے جن رشتوں اور ناتوں سے جڑ چکی ہے ان کو زنجیریں بھی خیال کرتا ہے-اور کبھی کبھی تو یہ دریچوں میں گڑی صلیبیں لگنے لگتی ہیں-کسی کی یاد دل کو جکڑے ہوتی ہے اور کسی کو اس سے دکھ پہنچنے کا اندیشہ اس یاد کو پھیلانے اور بر سرعام اس کا اظہار کرنے سے روکتا بھی ہے-ہے نا عجب تضاد سے بھری حالت -اسی حالت کے پیش نظر تو ویرانوں کا رخ کیا جاتا تھا-میں اکثر سوچتا تھا کہ خواجہ فرید سائیں روہی میں کیوں جا کر رہے تھے-ان کو روہی کے کنڈے ،توبے ،جھاڑیاں اور ون اور اونٹ کیوں پسند آئے تھے-اور ان میں حسن ازل کی جھلک کیوں نظر آئی تھی-یہ جو ملتان میں کسی سے عشق ہوا اور اس کی آگ روہی میں دہکتی رہی -وہاں اپنا رنگ دکھاتی رہی -اس کی کچھ کچھ سمجھ مجھے اب آتی ہے-

آج عجب سے بیچینی ہے-اور بیقراری بھی -لکین اس کو کیا نام دوں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا-بہت دیر سے بہت سی چیزوں سے دل کو بہلانے کی کوشش کی لکین نہیں بہلا پایا -جانے وہ کون سی چیز ہے جس کے سبب آج دل میں کچھ درد سوا ہوتا ہے-لکین غالب ککی طرح کوئی تلخ نوائی مجھے نہیں کرنی ہے-ہاں بس کسی کمی کا احساس آج بہت شدت سے ہو رہا ہے-کوئی یاد آرہا ہے-کون؟کچھ کہ نہیں سکتا-کسی کو بلانے کو من کرتا ہے -کیسے ؟کچھ پتہ نہیں -کسی کے ساتھ ہونے کی خواہش ہے-کس کے؟یہ بھی تو نہیں معلوم--آپ اس کو تجاہل عارفانہ کہ سکتے ہیں لکین بس حالت کچھ ایسی ہی ہے-اتنی بےبسی تو کبھی دیکھی نہیں تھی-ایسا کیوں ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے-اور آج تو یادیں اور علامتیں بھی دکھ کشدت کو کم نہیں کر پا رہیں-کیا کیا جائے-کوئی اپنی بیماری کو موسم کی تبدیلی کہ کر اصل بات چھپانا چاہئے تو بہت ہی تکلیف ہونے لگتی ہے-اصل معاملہ سمجھ کر-یہ دوری پاگل کر دیتی ہے-ہاں کر تو دیتی ہے-اور لفظوں پر ارتکاز بھی ختم ہونے لگتا ہے-آپ کو دوری عذاب لگتی ہے-لکین کبھی رواج اور کبھی طبقہ آڑے آجاتا ہے-اور کبھی وہ تعلقات جو آپ کے پیروں میں زنجیریں ڈالے ہوتے ہیں-یہ پاگل پن بھی عجیب سا پاگل پن ہوتا ہے-اس میں آپ سب کو اپنے ہوش حواس میں لگتے ہیں-اور آپ کو بھی اپنے ہونے کا احساس ہوتا ہے-اسی لئے خود فراموشی کی وہ منزل آپ کا مقدر نہیں بن آتی جہاں آپ ہر احساس سے بیگانہ ہو کر سب چیزیں فراموش کر ڈالتے ہو-مجھے تو پاگل بھی بھی ان فرزانگی میں دیوانگی رکھنے والوں سے بہتر لگتے ہیں-اور مجھے ان کا پاگل ن ایک انعام لگنے لگتا ہے-کاش یہ پاگل پن ہمارے حصہ میں آجاتا اور ہم اس عذاب سے بچ جاتے جس سے گزر رہے ہیں-

نہ نیند چینا.....نہ آپ آویں...نہ بھیجیں پتیاں

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں

اندھیری رتیاں

Friday, 9 December 2011

فرشتہ

فرشتہ
وہ نو محرم کی رات تھی جب اس کو درد زہ کی تکلیف شروع ہوئی تھی-یہ بہت تیز درد تھا-وہ بہت خوفزدہ تھی -حالنکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا-لکین اس مرتبہ اس کو بہت خوف تھا-پچھلی مرتبہ جب وہ اس درد سے گزر رہی تھی اور نئے مہمان کے آنے کا وقت ہوا تھا تو مستجاب حیدر حسب روایت گھر کیا شہر میں نہیں تھے-وہ اکتوبر کا مہینہ تھا-اور ڈاکٹر نجیب کی برسی ان پہنچی تھی-مستجاب کو ان کے دوستوں نے افغانستان میں آنے کی دعوت دے ڈالی تھی-وہاں پر مستجاب کے کافی دوست آنے والے تھے-پرانے پرچمی اور خلقی جو کبھی سرخ انقلاب کے حامی تھے-اب یورپ اور امریکہ جا بسے تھے-وہ بھی نجیب کی برسی میں آ رہے تھے-ان سے ملے مستجاب کو عرصۂ ہو گیا تھا-وہ اس حالت میں نہ ہوتی تو مستجاب کے ساتھ ضرور جاتی -کیونکہ اس کے بہت سے دوست روس ،چیک اور پولینڈ سے آرہے تھے-یہ سب اس کے وہ دوست تھے -جو اس کو ماسکو میں تعلیم کے زمانے میں ملے تھے-
ماسکو جانے کی کہانی بھی بہت عجیب تھی-وہ اور مستجاب کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر کے فارغ ہوئے تھے-کہ دونوں کی شادی کردی گئی-اور مستجاب نے چپکے سے اپنے اور اس کے کاغذات ماسکو بھیجے -وہاں سے دونوں کا سکالرشپ ویزہ آگیا-جب کہ ان کی شادی کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا-دونوں ماسکو کی سرد ماحول میں چلے گئے لکین یہاں ان کے دوستوں نے ان کو سرد نہیں ہونے دیا-ماسکو سے آنے کے بعد ایک عرصۂ تک ان کی کسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی-سو جب مستجاب نے اس کو بتایا کہ وہ کابل جا رہا ہے جہاں نتاشا اور کروپسکایا ،میخوف بھی آ رہے ہیں-تو اس کو اپنی تکلیف کی وجہ سے وہاں نہ جانا برا لگا تھا-
وہ ١٨ اکتوبر کی رات تھی جب اس کو مستجاب کے بغیر اس درد سے گزرنا پڑا تھا-جس کے بارے میں اس نے سنا تھا کہ وہ جان نکال لیتا ہے-اس کو جب ڈاکٹر نے نشہ دیا تو وہ حالت مدہوشی میں بھی مستجاب کو پکار رہی تھی-اور بعد میں ہسپتال کی ایک نرس نے بتایا تھا کہ آپریشن کے دوران اس نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا تھا اور وہ مستجاب مستجاب پکار رہی تھی-ڈاکٹر بھی تھوڑا سا گھبرا گئے تھے-اورانہوں نے مستجاب کو بلانے کا کہا تھا-جب ان کو پتہ چلا کہ مستجاب ملک میں نہیں ہی تو وہ خاصے حیران ہوئے تھے-مستجاب اس کے بعد ایک مرتبہ جب اس کا چیک اپ کرانے اس لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئے-تیس نے مستجاب کو دیکھ کر انہیں کافی کھڑی کھڑی سنائی تھیں-اور مستجاب جن کو اپنی سخن وری پر ناز تھا -بہت بوکھلائے ہوئے نظر آئے تھے-
اس مرتبہ وہ جیسے کہیں جانا بھول گئے تھے-وہ مسلسل تین ماہ ہوگئے تھے -شہر سے باہر نہیں گئے تھے-اور ان کی ہر شام اور رات گھر پر گزرتی تھی-وہ ان کی اس پابندی پر حیران تھی-اور وہ اسے بہت کم کوئی کام کرنے دیتے تھے-پھر جب آخری ماہ آیا تو وہ ساری ساری رات جاگ جڑ گزرتے تھے-تھوڑی سی تکلیف پرتھ جاتے-اور ہر ممکن طریقہ سے اس کا خیال رکھتے تھے-لکین اس کے اندر نجانے کہاں سے کوئی

خوف آ کر بیٹھ گیا تھا-وہ بہت کوشش کر کے بھی اپنے آپ کو سنبھال نہیں پاتی تھی-اس نے اپنے بہت سارے ڈر مستجاب سے چھپا رکھے تھے-لکین مستجاب کو نجانے کیسے پتہ چل جاتا تھا-رات کو ووہکرسی پر بیٹھے بظاہر کسی کتاب میں گم ہوتے تھے-اور وہ بعید پر لیتی آنکھیں بند کر کے یوں ظاہر کرتی تھی کہ سو رہی ہے-مستجاب اچانک کتاب پر سے نظریں ہٹا کر اس سے مخاطب ہوتے اور کہتے کہ "بتول کیا سوچ رہی ہو،"وہ ہڑبڑا جاتی اور کہتی کچھ بھی تو نہیں"مستجاب اس پر ہنس پڑتے اور کہتے کہ مولا کی بیٹی جھوٹ بولتی اچھی تو نہیں لگتی-اور ہاں تم سے کہا ہے کہ اندیشہ ہائے دور دراز سے خود کو ہلکان مت کیا کرو-
وہ مستجاب کی یہ بات سن کر حیران ہو جاتی کہ کیسے کتاب میں مگن ہونے کے باوجود وہ اس کی حالت جن جاتے تھے-وہ ان کے سامنے کوئی بات بھی سوچتے ہوئے ڈرتی تھی کہ ان کو پتہ چل جائے گا -
مستجاب کی شخصیت اس کو ہمیشہ سے بہت عجیب لگتی تھی-وہ اپنے چہرے کے تاثرات کے اعتبار سے کبھی ایسے نہیں لگتے تھے کہ ان کی شخصیت میں جذبات کوئی اہمیت رکھتے ہونگے-سخت اور سیاسی قسم کے ثقیل مضامین لکھنے یا پھر فلسفیانہ مباحث پر تحریروں کو دیکھ کر ہر کوئی یہ تاثر پکڑتا تھا کہ موصوف دل کے خانے میں کوئی پتھر ہی رکھتے ہوں گے-لکین ان کے اندرکے آدمی سے اس کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ بہت بیمار ہوئی -یا کسی صدمہ سے اس کو گزرنا پڑا -عامحالات میں بھی وہ بہت خاموشی سے اپنے درد مند ہونے کا احساس دلاتے تھے-اور کبھی اس کا اعلان نہیں کرتے تھے-
اس مرتبہ وہ بہت زیادہ بدلے ہوئے نظر آئے-وہ کچھ دنوں کے لئے اسلام آباد گئے تھے-واپس آئے تو بہت بدلے ہوئے سے لگے تھے-مستجاب سے ان کی جو شکایتیں تھیں وہ ایک طرح سے ختم ہی ہو گئیں تھیں-مستجاب کو اہنوں نے زیادہ سگریٹ پینے سے روکا تو وہ رک گئے-اپنی صحت کا خیال رکھنے کو کہا تو وہ بات بھی مان لی-ان کو مستجاب میں یہ تبدیلی بہت عجیب لگی تھی-پھر ایک دن وہ بہت حیران ہوئی جب ان کو فون آیا کہ اسلام آباد میں ان کو وزیر آزم سے ملاقات کرنی ہے -لکین انھوں نے دوسری طرف بات کرنے والے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کہ گھر میں ان مصروفیت ہے تو وہ نہیں آ سکتے-
دسمبر میں جب عاشور کا آغاز ہوا تو انھوں نے دیکھا کہ پہلی مرتبہ اتنے سالوں میں وہ عاشور میں رات کو مجلس سننے بھی جاتے رہے-یہ بہت عجیب سی تبدیلی تھی-کیونکہ ہر محرم ک آغاز پر بتول ان کو کہتی کہ مجلس سسنے چلیں یا امام بارگاہ چلنے کو کہتی تو وہ سختی سے انکار کر دیتے تھے-ایک دو مرتبہ بتول نے ان کو کہا تو اس کے بعد نہیں کہا-بتول اس وقت بہت حیران ہوئی تھی -جب وہ زیارات پر گئی تھی-اور واپس آکر انھوں نے مشہد سے امام علی رضا کے مزار سے لیا ہوا ایک نگ دوری میں پرو کر ان کی دائیں کلائی پر باندھا تو انھوں نے چھپ چاپ بندھوا لیا تھا-ورنہ ان کو یاد تھا کہ وہ جب کراچی سے ماسکو کے لئے روانہ ہوئے تھے تو ان کی اماں نے ان کو امام ضامن باندھنا چاہا تھا تو انھوں نے انکار کر دیا تھا -تو اس پر وہ بولی تھیں کہ بیٹا تو تو اپنے کیمونسٹ دادا سے بھی دو ہاتھ آگے ہے-وہ کم از کم ایسا تو نہیں کرتے تھے-تو تب جا کر وہ امام ضامن بندھوانے پر راضی ہوئے تھے-لکین اب تو چپ چاپ وہ یہ سب ہوتا دیکھ رہے تھے-اسی طرح ایک مرتبہ انھوں نے پہلی مرتبہ ان کے دائیں ہاتھ ہی دوسری انگلی میں ایک انگوٹھی daikhi -تو انھوں نے پوچھا یہ کہاںسے آئی-تو کہنے لگے ایک دوست شام گئی تھیں-اہنوں نے یہ بی بی زینب کے مزار سے میرے لئے لے لی تھی-تو میں نے پہن لی-اس مرتبہ وہ وہ عشرہ محرم میں پوری طرح سے شریک ہوئے-
نو محرم کی رات وہ ہسپتال داخل ہوگئیں تھیں-وہ رات سے وہیں اس کے پاس تھے-لکین فجر کی اذان سے پہلے یہ کہ کر نکل گئے کہ قاسم کی اذان کی آواز کانوں میں تبھی گونجے کی جب امام کی بارگاہ میں ہوں گا-اور بتول شانت رہنا -گھبرانا نہیں -جلوس معینجاؤں گا -عزاداران حسین کا ساتھ دینا بہت ضروری ہے-یہ کہ کر چلے گئے-دوپہر گزر گئی-اور اس کو آپریشن تھیٹر میں جب لیجایا جا رہا تھا تو مستجاب کا فون آگیا -کہا بتول گھبرانا مت -شہادت امام کے وقت تم عمل تخلیق سے گزرنے جا رہی ہو-بہت مبارک گھڑی ہے-مولا کرم کریں گے-اس کو ذرا دیر پہلے جو خوف تھا اور ڈر تھا-وہ سب دور ہوگیا -اس کو آپریشن تھیٹر جاتے ہوئے اپنے دادا کی بات یاد آئی جو کوئی بھی بات کہتے تو یہ ضرور کہتے تھے کہ مولا تجھ کو کوئی دکھ نہ دے سوائے غم حسین کے-بس جب آج کے دن کے بارے میں سوچا تو ایک ایک کر کے ساری تصویریں سامنے آنے لگیں-اور ایک عجب سی کیفیت طاری ہوئی اور وہ اپنی تکلیف بھول گئی-اپپریشن تھیٹر میں جب ڈاکٹر نے اس کو بیہوش کیا تو بیہوشی میں ادراک کا جو در وا ہوا وہ بھی بہت عجیب تھا-اس نے خود کو ایک حسین جمیل باغ میں پایا -جہاں ہر طیف گلاب کے پھولوں کی کیاریاں لگی تھیں-پیپل کے درخت تھے-اور درمیان میں ایک فوارہ تھا-جس سے رنگ برنگا پانی نکل رہا تھا-وہ اکیلی تھی-اچانک کہیں سے ایک سیاہ پوش عورت نمودار ہوئی -اس نے بتول کا ماتھا چوما -اور پھر اس کو ایک گلاب کا پھول دیا -اور کہا خوش قسمت ہو کہ عاشور حسین تمھاری قسمت میں لکھا گیا-وہ یہ خواب دہکتی رہی جوبیس کو ہوش آیا تو لیڈی ڈاکٹر نے اس کو مابرک بعد دی اور کہا کہ تمھارے بیٹا ہوا ہے-اس کو اپنا خواب یاد آیا-
ادھر مستجاب عزداران کے ساتھ جلوس میں تھا کہ اس کو فون پر بیٹے کے پیدا ہونے کی خبر ملی -اس نے فون پر بتول سے بات کی -اور کہا بتول ہم اس ننھے فرشتہ کا نام عاشور حسین رکھیں گے-بتول حیراںره گئی-اس نے مستجاب کو اپنا خواب سنایا -تو مستجاب نے ہنس کر اسے اس کے تخیل کی پرواز قرار دیا-اور بتول کو کہنے لگا آج جب وہ جلوس میں آیا توبہت سے لوگ اسے دیکھ کر کہنے لگے کافر سید مسلمان ہوگیا ہے-اور وہ یہ سن کر مسکراتا رہا-