Saturday, 24 January 2015

تخلیقیت کے ریشم بننتے بنتے مرجانے والا منٹو


تخلیقیت کے ریشم بنتے بنتے مرجانے والا منٹو اٹھارہ جنوری 1955 ء اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی وفات کا دن تھا اور اس دن پوری دنیا میں منٹو کے چاہنے والوں نے منٹو کو یاد کیا ، اس دن ہندوستان کی ایک معروف فلم میکر نے منٹو کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان کیا جس نے اس سے پہلے طوطی ہند رگھو پتی ناتھ سہائے فراق پر فلم بنائی تھی میں بھی اس دن کی مناسبت سے سعادت حسن منٹو کو یاد کرنے بیٹھا تو مجھے دنیا زاد کے شمارے چالیس میں چھپا افسانہ نگار ، نقاد محمد حمید شاید کا سراج الدین اسلم مرحوم کو بعد از مرگ لکھا خط یاد آیا ،جس کے آغاز میں انھوں نے سراج الدین اسلم کا ادب اور ادیب بارے یہ لکھا یہ بیان نقل کیا تھا امید اور نا امیدی کے درمیان ایک پیچاک ہی ادب ، خاص طور پر فکشن کا موضوع ہے اور اسی پیچاک کے درمیان ایک پڑاو برج عاج ہے جس میں بیٹھ کر ادیب خواب و خیال کے لچھوں سے جھوجھتا رہتا ہے ، کچھ کو سلجھا لیتا ہے ، کچھ میں ریشم کے کیٹرے کی طرح الجھ کر رہ جاتا ہے اور انجام کار مرجاتامگر دنیا کو تخلیقیت کا ریشم دے جاتا ہے منٹو برج عاج میں بیٹھا ایسا ادیب تھا جس کی تخلیقیت کے ریشم کی آب و تاب ، اور قدر و قیمت اردو ادب کے دیگر ادیبوں کی تخلیقیت کے ریشم سے کہیں زیادہ ہے اور شاید اسی لیے منٹو خون تھوکتے 18 جنوری 1955 ء کو بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوگیا یوسا نے ایک جگہ لکھا کہ فنکار بہت پیچیدہ لوگ ہوتے ہیں ، ان کو نہ تو مثالیت زدگی کے ساتھ دیکھنا چاہئیے ، نہ ہی ان کو مجسم شیطان ، ان کا فن ہے جو اہم ہوتا ہے نہ کہ ان کی زندگی ، ان کو سادھو سنت یا شیطان سمجھنا غلطی ہوگی اسی لیے منٹو کو اگر ہم اس کے کام سے الگ کرکے دیکھیں گے تو اسے سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا احمد راہی سے کسی نے منٹو کی نرگسیت اور انانیت بارے پوچھا تم انھوں نے کہا تھا منٹو کی انانیت و نرگسیت اس کی تنہائی کے ساتھ اس کے تفاعل کا نتیجہ تھی ، منٹو کو امرتسر سے دلی اور وہاں سے ممبئی تک دفتر میسر رہا جو لاہور میں کبھی میسر نہیں آیا ادیب کے خود بین ، انانیت اور نرگسیت میں مبتلا ہونے میں شمس الرحمان فاروقی کو بھی کوئی برائی نظر نہیں آئی تھی اور اس موقعہ پر انھوں نے اشعر نجمی کو کہا تھا منٹو جس قدر انانیت پسند اور جتنا بڑا خود بیں و بڑا نرگسی تھا ، اس کا اپنا فن بھی اتنا بڑا تھا جبکہ حنیف رامے نے کہا تھا کہ سماج اگر ایک دیو ہے تو منٹو وہ پرندہ جس میں اس کی جان ہے ، منٹو انا کی بادشاہت کا اکیلا مالک تھا اور اس کے مرنے سے انا کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا ابھی فیس بک پر مرے دوست جمیل خان نے وسیم علی کا ایک مضمون شئیر کیا جس میں انھوں نے برطانوی ڈرامہ نگار ابسن کے حوالے سے لکھا کہ ابسن نے اپنے ڈرامے میں ایک عورت کو مرد کو طلاق دیتے ہوئے دکھایا تو اس زمانے کا برطانوی معاشرہ ڈرامے میں بھی ایک عورت کی جرات رندانہ کو برداشت نہ کرسکا اور ابسن پر سخت تنقید ہوئی منٹو نے جس زمانے میں افسانے لکھنا شروع کئے تو ان افسانوں میں دکھائے جانے والے کرداروں کو قدامت پرست تو کیا قبول کرتے ، خرد افروزی ، روشن خیالی ، عقلیت پسندی ، صنفی برابری ، مساوات کے علمبرداروں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا سعادت حسن منٹو پاک و ہند کے ایک ایسے ادیب تھے جنھوں نے سچائی کے ساتھ سماج کے ان کرداروں کی زندگی پر کہانیاں لکھیں جن کے بارے میں کوئی بات کرنا ایک ٹیبو خیال کیا جاتا تھا اور سماج کے اندر منافقانہ طور پر اخلاقیاتی ملمع کاری کرتے ہوئے اس کے بدترین پہلووں کو چھپائے جانے کی جو روائت تھی اس کو انہوں نے توڑدیا ، منٹو کی اس بے باکی اور ہمت کو متحدہ ہندوستان میں بھی اردو کی ادب ، صحافت کی دنیا پر چھائی اشرافیہ نے قبول نہ کیا ، یہاں تک کہ اس وقت کے جو اشتراکی خیالات کے مالک ترقی پسند ادیب تھے وہ بھی منٹو کی اس سچ بیانی و تلخ بیانی کو برداشت نہ کرسکے اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ منٹو کو ترقی پسند تحریک کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا سعادت حسن منٹو کے افسانوں کو شاہد دہلوی نے اپنے رسالے میں شایع کرنا شروع کیا اور اس حوالے سے منٹو کے افسانے " بو " کو شایع کرنے پر ان کو بطور رسالے کے ناشر و ایڈیٹر لاہور کی ایک عدالت میں ماخوز بھی کیا گیا ، شاہد دہلوی نے منٹو پر لکھے اپنے خاکے میں اس بارے کافی تفصیل سے بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ منٹو کو اپنے خلاف مقدمات کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور اس پر وہ پریشان نہیں ہوتے تھے نندنا داس سچیتا کہتی ہیں کہ جب وہ طالب علم تھیں تو انہوں نے منٹو کو پہلے انگریزی میں پڑھا اور اس کے بعد انہوں نے دیوناگری خط میں لکھی اردو کہانیاں پڑھیں تو منٹو نے ان کو پوری طرح سے اپنی گرفت میں لے لیا منٹو نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز تراجم سے کیا اور اس سلسلے میں وہ معروف کمیونسٹ ادیب و تاریخ دان باری علیگ کے ساتھ ہوئے اور یہ امرتسر میں ان کی ادبی زندگی کا بطور ایک اشتراکی ادیب کے آغاز تھا ، ہندوستان کے معروف ادیب ڈاکٹر علی فاطمی نے " کامریڈ منٹو " کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ان کی اشتراکی خیال کے زیر اثر لکھی تحریروں کا جائزہ اور فہرست پیش کی ہے ، منٹو نے اردو ادب کے قاری کو روسی فکشن نگاروں سے واقف کرایا ، چیخوف کے گورکی کے نام خط کے تراجم کئے اور روس کے معروف ادیبوں کی کہانیوں اور شاعری کے منتخب تراجم کئے جن کے مستند ہونے پر کسی کو شک نہیں ہے فیض صاحب نے بھی ایک جگہ منٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی زمانہ طالب علمی کی چند جھلکیاں دکھائیں ، جس میں منٹو کو نصابی تعلیم سے باغی مگر ادب کا زھین طالب علم کی جھلکیاں دکھائی ہیں ، آزاد منش طبعیت منٹو کی آغاز کار سے تھی اور یہی آزاد منشی تھی جو منٹو کو ممبئی تک لے گئی تھی پطرس بخاری نے بھی آل انڈیا ریڈیو سروس میں منٹو کی زندگی کی کچھ جھلکیاں ہمیں دکھائی ہیں منٹو کے بارے میں حمید شاہد نے بھی بہت ہی پیاری بات لکھی ہے کہ اردو ادب کبھی بھی منٹو کے سحر سے باہر نہیں آسکا اور اردو ادب کو دوسرا منٹو بھی کبھی میسر نہ آسکا منٹو نے کالونیل دور میں انگریز راج بارے عام آدمی اور سفید فام آقا کی زھنیت کو بے نقاب کرنے والے کئی ایک افسانے بھی لکھے جن میں " نیا قانون " ایک ایسا افسانہ ہے جو کوئی بھی پڑھتا ہے تو اسے فراموش نہیں کرپاتا ، منٹو نے فرنگی راج کے خاتمے سے ایک عام آدمی کو کیا توقعات تھیں اسے منگو کوچوان کی شکل میں دکھانے کی کوشش کی ، اس زمانے میں 1935 کا انڈیا ایکٹ نافذ کئے جانے کی باتیں ہورہی تھیں اور اسے ہندوستان کی عام طور پر اور پنجاب کی سیاسی اشرافیہ اور وکلاء وغیرہ اسے بہت بڑا کارنامہ بتلارہے تھے ، ایسے میں " نیا قانون " کا مطلب ایک تانگہ چلانے والے کوچوان نے کیا لیا اور جب اس نے آزادی کے اپنے معنی متعین کرتے ہوئے اس پر عمل کیا تو اس کے ساتھ کیا بنا ، بین السطور اس افسانے میں منٹو نے پوسٹ کالونیل دور ، ہندوستان کے برطانوی قبضے سے آزاد ہونے کے بعد کی صورت حال کی پیشن گوئی بھی کرنے کی کوشش کی جو بعد میں گماشتہ ریاست ، گماشتہ سرمایہ داری ، گماشتہ حکمران طبقے کے ساتھ ہمارے سامنے آن کھڑی ہوئی اور اس کو جب نیو کالونیل یا نو آبادیاتی دور کہا گیا جس میں سفید جلد والے آقا تو چلے گئے تھے لیکن ان کی جگہ کالے ، زرد جلد والے جن کے نام ، خدوخال ، زبان ہماری جیسی تھی لیکن زھنیت وہی سفید آقا والی تھی اور بقول فرانز فینن کہ کالونی بن جانے والے علاقوں کے لوگ جو محکومیت اور غلامی کے تجربے سے گزرے تھے ان پر غلام بنائے جانے کا اثر یہ ہوا کہ وہ خود بھی آقا جیسے بننے کے خبط میں مبتلا ہوگئے منٹو نے تقسیم ہندوستان کو " ٹوبہ ٹیک سنگھ " میں تصویر کیا اور اسے ایک طرح سے پاگل پن اور جنون سے تعبیر کیا اور اس سے جو تقسیم کلچرل سطح پر ہونی تھی اور اس سے ایک عام آدمی کو اپنی جنم بھومی کے اچانک اجنبی بن جانے کا جو صدمہ اٹھانا پڑرہا تھا اور اپنے شہر ، گاوں اور محلے کے یک دم کوئی اور جگہ بن جانے کا جو نقابل فہم عمل تھا اس سے جو صورت حال پیدا ہوئی اسے پاگلوں کی مذھبی شناخت کے حوالے سے تبادلہ آبادی کی صورت بیان کیا ہے ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں جائے گا ، اس کے پیچھے دراصل نئے بننے والے دونوں ملکوں کو اصل میں ایسی جگہ بن جاتے ہوئے دکھائے جانے کا عمل ہے کہ کسی کو بھی اپنی جنم بھومی نہیں ملتی اور سب اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں آج اس افسانے کی کہیں زیادہ بڑی تفہیم کی جاسکتی ہے کہ ایک طرف تو پاکستان کے اندر بسنے والی قومیتیں بلوچ ، سندھی ، پشتون ، سرائیکی ، گلگتی بلتی ، کشمیری اور یہاں تک کہ خود پنجابی بھی اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ تلاش کررہی ہیں ، جبکہ 1971ء میں بنگالی اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ بنانے کے لئے بنگلہ دیش کی منزل تک پہنچ گئے تھے ، ادھر ہندوستان میں کشمیری ، ناگا لینڈ ، آسام ، چھتیس گڑھ سمیت ساوتھ انڈین اپنے اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کو تلاش کررہے ہیں ، اسی طرح سے برصغیر پاک ہند کی مذھبی اقلیتوں ، نسلی گروہوں ، عورتوں کو بھی اپنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تلاش ہے ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی رٹ لگانے والا بشن سنگھ نو مین لینڈ پر جم کر کھڑا ہوجاتا ہے اور بالآخر دم توڑ دیتا ہے اور بشن سنگھ کا نو مین لینڈ جہاں نہ پاکستان تھا اور نہ ہندوستان تھا پر کھڑے ہوجانا ایک طرح سے ہندوستان اور پاکستان کے ان لوگوں ، گروہوں اور اقوام کا المیہ ہے جن کو تاحال اپنا ٹوبہ ٹیک سنگھ نہیں مل سکا اور وہ ان ملکوں میں اصل میں نو مین لینڈ پر کھڑے ہیں نو مین لینڈ پر پاکستان میں ہندو ، کرسچن ، احمدی بھی کھڑے ہیں اور مذھبی دہشت گردی کے سامنے آنے کے بعد نومین لینڈ پر کھڑے برصغیر کی متنوع اور تکثیر المذھبیت کی نمائیندگی کرنے والے بھی کھڑے ہیں جن کو ان کے مخصوص عقیدے اور یہاں تک کے مخصوص ناموں کی وجہ سے مارے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور ا ن کی بہت بڑی تعداد ہجرت زدگی کا شکار ہوئی ہے ایسی نو مین لینڈ ہندوستان میں مسلمانوں ، کرسچن کے لئے بنی ہوئی ہے جن کو آر ایس آیس ، بجرنگ دل جیسی ہندو فسطائی تنظیموں کے جبر کا سامنا ہے منٹو نے ہندوستان کی تقسیم کے دوران افراتفری ، نفسانفسی کے دوران کئی ایک تصویروں کے زریعے اس طرح کی شاک تھراپی سے کام لیا ہے کہ اس کا سامنا ایک منافق سماج کرہی نہیں سکتا ٹوبہ ٹیک سنگھ افسانے کے بارے میں پاکستانی نژاد ن-م -دانش نے ایک مضمون میں لکھا کہ یہ افسانہ ادب میں Irony کی بہترین مثال ہے ، اس میں راوی کے بیانات سے ، کرداروں کی گفتگو سے ، عمل سے اور کہیں بیان و عمل کے درمیان اور کہیں پوری صورت حال میں ، کہیں پیراڈوکس کی شکل میں اور کہیں دبے ہوئے طنز میں ،یہاں تک کہ اس کے پورے سٹرکچرل نیچر سے یہ Irony جھلک رہی ہے تقسیم کے وقت ایک پاگل پن ظہور پذیر ہوا جس نے پوری فضا کو Ironic کردیا کالی شلوار ، کھول دو ، ٹھنڈا گوشت ، موزیل ، بابو گوپی ناتھ ، یزید جیسے افسانے گہرے طنز کے ساتھ ساتھ جس بدنمائی کو بے نقاب کرتے ہیں اس بدنمائی کو دیکھ کر ہمارے بہت سے واعظ ، محتسب ، مفتی ، قاضی ، اخلاقیات کے ٹھیکے دار کل بھی منٹو کو کوستے تھے اور آج بھی منٹو ان کے ہاں معتوب ہے پاکستان ، بنگلہ دیش ، ہندوستان ان تینوں ملکوں میں سچائی کی اس سرحد پر جاپہنچنے والوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا گیا جس سرحد پر کئی ایک ٹیبو بے نقاب ہوتی ہوں ،یا ان ملکوں کی ریاستوں اور اس کی نام نہاد نظریاتی سرحدوں کی پول کھلتی ہو ، یا کوئی ایسا شخص کارہائے نمایاں سرانجام دے دے جس کی مذھبی شناخت کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دے دیا گیا ، ایسے لوگ ان سماجوں میں بقول وسیم الطاف مس فٹ ٹھہرادئے گئے قرہ العین حیدر کو پاکستان سے واپس اس لئے جانا پڑا کہ ان کے ناول ، کہانیاں ، افسانے پاکستان کی ریاست اور اس کے نظریاتی نام نہاد محافظوں کے بیانئے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے سجاد ظہیر کو اپنے اشتراکی خیالات کی بنیاد پر پاکستان میں رہنا محال نظر آیا تو واہس ہندوستان چلے گئے ، ڈاکٹر عبدالسلام کو اس ملک نے ان کی مذھبی شناخت کی وجہ سے قبول نہ کیا ساحر لدھیانوی کو سویرا رسالے میں اشتراکی خیالات کی ترویج کرنے کی بنا پر بغاوت کا مرتکب ٹھہرایا گیا اور ان کو بھی ہندوستان جانے پر مجبور کیا گیا لیکن خود ہندوستان میں صورت حال کیا ہے ، ایف ایم حسین کو آرٹ کی وجہ سے قطر بھاگنا پڑا ، ساجد رشید قاتلانہ حملے میں بال بال بچے ، ارون دھتی رائےنے جب ہندوتوا ، سرمایہ دارانہ تصور ترقی کے بخئیے ادھیڑتے ہوئے ماوسٹ تحریک اور کشمیر سمیت دیگر علاقوں کی ٹھیک ٹھیک صورت حال بیان کی اور ابھی حال ہی میں دی ڈاکٹر اینڈ سینٹ میں انہوں نے مہاتما گاندھی کی رد تشکیل کی اور ڈاکٹر امبیدکر کو ہندوستان کا حقیقی مہاتما قراردیا تو اس پر بھی شور مچ گیا منٹو کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا اور ان کی سچ بیانی پر مشتمل ان کا آرٹ کسی کو بھی نہیں بھایا اگرچہ منٹو کو عام آدمی کی طرف سے خوب پذیرائی ملی لیکن منٹو کے ذھبی سٹریس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کیسے وہ اس سٹریس کے تحت پاگل خانے جاپہنچے اور ایک دن خون تھوکتے مرگئے منٹو کو مشرف عالم زوقی نے انگلش میں منتقل کیا تو ایک لاکھ سے زیادہ کاپیاں ہاتھوں ھاتھ بک گئیں اور انگریزی پڑھنے والے یورپی نقادوں نے اسے موپساں کے ہم پلہ قرار دیا منٹو نے اپنے فکشن اور نان فکشن میں جن حقیقتوں کو منکشف کرنے اور حقیقت و فسانہ سے ملاکر جس فنتاسی کو تخلیق کیا وہ نقل بمطابق اصل تو تھی ہی لیکن پورا فکشن بھی تھی اور اتنی تلخ تھی کہ اس کی تلخی سے صرف منہ ہی کڑوا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس سے چہرے بھی بری طرح سے بگڑ جاتے تھے ، کہتے ہیں کہ عبداللہ حسین ، انتظار حسین اور مشتاق یوسفی نے بھی تو اسی ادب سے لاکھوں روپے کمائے لیکن مرا خیال یہ ہے کہ وہ اس چڑھائی پر کبھی نہیں چڑھے جہاں چڑھنا منٹو کے لئے کھیل تماشے سے زیادہ نہ تھا اور ارباب اختیار اور اس ملک کے اخلاقی کوڑے رکھنے والوں کے لئے اس چڑھائی پر چڑھنا ناقابل معافی جرم تھا اس لئے منٹو کو وہ سکون نہیں ملا جو کم از کم انتظار حسین ، عبداللہ حسین وغیرہ کے حصے میں آگیا ، ہمارے ہاں تو جانگلوس کی ڈرامائی تشکیل ہی ریاست اور حکمران طبقہ بچا سکا تھا وہ منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ کیسے بچا پاتا عاصم بٹ نے ایک جگہ لکھا تھا کہ سٹیفن ہاکنگ نے "وقت کے سفر " میں لکھا تھا ایسے طاقتور اور عظیم الجثہ ستارے موجودہیں جو حجم میں بڑے ہونے کی وجہ سے اپنی روشنی خود کھاجاتے ہیں ، ان کا بڑا ہوناان کے حق میں بہتر ثابت نہیں ہوتا .......مگر اس وقت مجھے ایسے چھوٹے ستاروں کا خیال آرہا ہے جو چھوٹے ہونے کے باوجود بڑے ہونے کا زعم رکھتے ہیں اس لئے بڑے ہونہیں پاتے اسی وجہ سے وہ اپنی روشنی ساری کی ساری کھاجاتے ہیں ، ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ بڑے سیاروں کا بڑا پن ان کی روشنی کو کھاجانے سے پتہ چلتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بڑے سیارے تو روشنی کھانے سے پہلے بھی بڑے ہوتے ہیں جبکہ بونے اگر اپنی روشنی کھائیں تو وہ اپنے آپ کو مضحکہ خیز بنالیتے ہیں پاکستان کے اندر منٹو نے جس ٹوبہ ٹیک سنگھ کی نشاندہی کی تھی اس سے یار لوگوں نے ضیاءالحق کے نظریات کے مطابق پاکستانیت برآمد کرنے کی کوشش کی بالکل ایسے ہی جیسے سیکولر ، لبرل ، اعتدال پسند جناح اور مسٹر اقبال کو مولوی بنانے کی کوشش کی گئی تھی ، منٹو پاکستانی تھا یا ہندوستانییہ بحث اصل میں چھوٹے سیاروں کا بڑے ہونے کے زعم میں مبتلا ہونا اور منٹو کی روشنی کو کھانے کی کوسش ہے شاید ایسے ہی بڑے ہونے کا زعم رکھنے والے لوگوں کے بارے میں ہندوستانی نکسل باڑی شاعر پاش نے " کاغذی شیراں دے ناں " ایک نظم لکھی اور کہا تھا تسی اتر ہو نہ دکھن تیرنہ تلوار تے ایہہ جو سلھ والی کچی کندھ اے تسیں ایس وچلیاں دو موریاں ہو جینہاں وچوں کندھ پچھلا شیطان آپنا ڈیفنس تکدا اے تسیں کنک دے وڑھ وچ کرے ہوئے چھولے او تے مٹی تہاڈا وی حساب کرنااے سادے لئے تسی اک ٹھوکر وی نئیں شاید تہانوں آپنی ہوند دا وہم اے میں دسدا آن تسیں کیہ او تسیں کیکر دے بی او جاں ٹٹیا ہویا ٹوکرا جو کجھ وی چکن توں امرتھ او تسیں ایہہ ائر گن موڈھے تے لٹکائی پھردے او تسیں قتل نئیں کرسکدے صرف ست اکونجا دے مدعی ہوسکدے او منٹو کو کیکر کے بیج، ست اکونجا دے مدعی بن سکن آلے دفن نہیں کرسکدے منٹو ایک ایسا فکشن نگار ہے کہ جس کی تحریریں نت نئے معنی اور تفہیم کا در وا کرتی رہیں گی اور جیسے جیسے وقت گزررہا ہے اس کی تحریروں میں چھپے معانی کی پرتیں کھلتی جاتی ہیں اور اس کی تخلیقیت زیادہ سے ہمارے سماج سے متعلق ہوتی جاتی ہے نوٹ : انجمن ترقی پسند مصنفین خانیوال شاخ کی دوسری ادبی نشست کے لئے لکھا جانے والا مضمون ، منٹو کی یوم وفات کے حوالے سے لکھا گیا )

No comments:

Post a comment