Monday, 13 February 2012

محبت کرنے والے کم نہیں ہوں گے



محبت کرنے والے کم نہیں ہوں گے
افسانہ /عامر حسینی
پورے روم میں خوف کی فضاء طاری تھی -شہنشاہ کے سپاہی روم کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے-چوکوں اور چوراہوں پر پہرے اور ناکے لگے ہوئے تھے-گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری تھا-اور سرکاری منادی کرنے والے منادی کرتے پھرتے تھے کہ خبردار روم کا کوئی شہری محبت کرنے کی کوشش نہ کرے اور کوئی پادری کسی گرجا میں کسی محبت کرنے والے جوڑے کی شادی نہ کرے-اگر کسی نے شادی کی رسومات ادا کیں تو اس کو سخت سزا کا سامنا کرنا ہوگا-شہنشاہ کا یہ فرمان روم کے کوچہ کوچہ اور قریہ قریہ میں گشت کر رہا تھا-نوجوان دبک کر بیٹھ گئے تھے-اسقف اعظم نے تمام گرجا گھروں کو سختی سے حکم دیا تھا کہ روم کے حاکم کے فرمان کو سختی سے نافذ کیا جائے-کوئی اس حکم کے خلاف بولنے کو تیار نہیں تھا-
روم میں مشرق کی طرف ایک قدیم محلہ تھا-جس کی ایک تنگ و تاریک گلی میں ایک دو منزلہ مکان میں جان پال نام کا ایک نوجوان بیچینی سے اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا-وہ ایک کلیسائی مدرسہ میں پڑھتا تھا -اور اس کو اس مدرسہ میں روز جانے کے لئے محلہ سینٹ پال سے گزرنا ہوتا تھا-اس محلہ کی ایک گلی سے جب بھی وہ گزرتا تھا تو ایک مکان جو سرخ اینٹوں سے بنا ہوا تھا کے ایک کمرے کی کھڑکی کھل جاتی تھی اور ایک نقاب پوش لڑکی وہاں سے جھانک رہی ہوتی تھی-اس کی آنکھوں میں کوئی سحر تھا جو اس کو جکڑ لیتا تھا-پہلے پہل وہ بس کی خیال نہ کرتا لیکن آہستہ آہستہ اس کو اب روز صبح ہونے کا انتظار رہنے لگا تھا-صبح سویرے جب وہ محلہ سینٹ پال کی گلی سے گزرتا اور اس مکان کے سامنے کچھ دیر ٹھہر جاتا تھا-اب کھڑکی پوری طرح سے کھلنے لگی تھی-اور اس میں سے اس لڑکی کا پورا سراپا دکھائی دیتا تھا-وہ کچھ دیر وہاں کھڑا رہتا اور جب گلی میں چہل پہل کے آثار نظر آنے لگتے تو وہاں سے چل پڑتا تھا-یہ سلسلہ یونہی چل رہا تھا کہ ایک دن جب وہ اس گلی میں اس مکان کے سامنے جا کر ٹھہرا تو کھڑکی سے جھانکتی نقاب پوش لڑکی نے ایک پھول اس کی طرف پھینکا جس کو اس نے کیچ کر لیا-سرخ گلوب کا پھول ترو تازہ تھا-اس میں سے بھینی بھینی مہک آرہی تھی-یہ نقاب پوش لڑکی کے جذبات کا اظہار تھا-پھر ایک دن جب وہ چھٹی والے دن مرکزی بازار سے گزر رہا تھا تو اس کو وہ نقاب سے جھانکتی آنکھیں نظر آئیں تو وہ اس کے پیچھے چل پڑا-لڑکی کے ساتھ ایک خاتون تھی-اور لڑکی نے بھی اس کو دیکھ لیا تھا-اس کی آنکھوں پر پلکوں کی جھالر اچانک نیچے جھکی گویا لڑکے کو سلام کیا گیا تھا -اس نے بھی آنکھ کے اشارے سے اس کو سلام کیا-ابھی وہ لڑکی کے قریب ہونا چاہتا تھا کہ اس کی نظر روم کے ایک فوجی گھڑ سوار دستے پر پڑی جو تیزی سے بازار میں داخل ہو رہا تھا-وہ چپ چاپ دوسری طرف نکل گیا-اس کو بہت افسوس تھا کہ وہ لڑکی سے کوئی بات نہ کر سکا-
آج اتوار تھا-اس نے فیصلہ کیا کہ اس دن عبادت وہ سینٹ پال محلے کے گرجا گھر میں کرے گا-وہ صبح تیار ہوکر سینٹ پال گرجا گھر چلا گیا-اور اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب نس نے اس لڑکی کو اسی طرح سے نقاب میں ایک خاتون کے ساتھ دیکھا-اس نے لڑکی کے پیچھے والی نشست سنبھال لی-اس نے رات کو بیٹھ کر کی ورق لکھے تھے اور پھر ایک ورق پر لکھا خط چن کر اس کو دینے کا فیصلہ کیا تھا-اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-جب سب لوگ باری باری پادری برکت حاصل کر رہے تھے تو اس نے موقعہ پا کر اس لڑکی کے ہاتھ میں وہ خط تھما دیا-جس نے خط کو اپنی عبا میں چھپا لیا تھا-سینٹ پال کا پادری ایک نوجوان تھا-اس کے چہرے پر بہت معصومیت تھی-نور کی کرنیں اس کے جوان چہرے سے پھوٹتی محسوس ہوتی تھیں-اس نے بہت نرم دلی سے جان پال کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کو ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں-جان پال بہت خوش تھا-وہ گرجا سے باہر نکل آیا -اگلی صبح جب وہ مدرسہ جا رہا تھا تو اسی گلی سے گرا-جب مکان کے پاس پہنچا تو کھڑکی کھلی ہوئی تھی-آج اس نقاب پوش لڑکی نے نقاب کھول رکھا تھا-اس کا چہرہ دیکھ کر جان پال کو لگا جیسے اس کا دل دھڑکنا بند ہوگیا ہو-ساری کائنات ٹھہر گئی ہو-لڑکی نے کوئی چیز اس کی طرف پھینکی جس کو اس نے اپنی جھولی میں کیچ کر لیا-یہ بند لفافہ تھا-اس نے اس کو اپنی قمیض کی جیب میں ڈال لیا -لڑکی اپنے ہاتھ کو ماتھے تک لے گئی اور اس کے لب حرکت کرتے نظر آئے-اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے اس کو سلام کیا اور چل پڑا-مدرسہ میں اس کا دل نہ لگا-وہ جلدی سے گھر جانا چاہتا تھا-شام کو جب چھٹی ہوئی تو اس نے اپنے کسی بھی ساتھ کی طرف نہ دیکھا اور تقریبا دوڑتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوگیا-گھر میں اس کا مروہ سب سے اوپر والی منزل پر تھا-اس نے اوپر آکر بیتابی سے خط کھولا .............
میرے گمنام شہزادے ...........
سلام !
تمھیں میں ادھ کھلی کھڑکی سے روز گلی سے صبح سویرے گرزتے دیکھا کرتی تھی-مجھے نہیں معلوم کے کب تمھیں یوں چوری چھپے دیکھتے دیکھتے میں تم سے محبت کرنے لگی-مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ تم سے اظہار کر پاتی-بس پھر جب تم بھی مجھے دیکھنے لگے اور اس دن بازار میں تمہارا بیتابی سے میری طرف کھنچے چلے آنا مجھے یقین دلا گیا کہ تم بھی مجھ سے پیر کرتے ہو-اس دن سنڈے کو تم نے جب گرجا گھر میں مجھے خط دیا تو مجھے معلوم ہوا کہ تمہارا نام جان پال ہے اور تم مدرسہ کے طالب علم ہو-میں اس خط کو رات بھر لیکر کرسی پر بیٹھی پڑھتی رہی-کئی بار اس خط کو سینے سے لگایا -پتہ ہی نہیں چلا کب صبیح ہوگئی-میں نے صبح تمہارے آنے سے پہلے یہ خط لکھنا شروع کیا تھا-تمہیں کیسے بتاؤں دل کا کیا حال ہے-ہمارے ملنے میں بہت سی مشکل حائل ہے-لیکن میں تمھیں کہتی ہوں اس مرتبہ جب تم گرجا گھر او تو میں سب سے نظریں بچا کر تم سے گرجا کے پیچھے والے صحن کی گیلری میں ملوں گی-تم بھی وہیں آجانا-
وسلام
تمھاری نتاشا ڈومینیکا
خط کو جان پال نے کئی مرتبہ پڑھا اور اس کو اپنے سینے سے لگا کر خونب خوب بھینچا -ساری رات اس کی بھی جاگتے گزری-اس کے دماغ میں نتاشا ڈومینکا کا سراپا گھوم رہا تھا-
پھر اتوار کا دن آپہنچا اور جب سب پادری سے برکت حاصل کر رہے تھے تو جان پال اور نتاشا ڈومینکا دونوں گرجا کی عمارت کے عقبی حصہ میں بنے ایک لان کے ساتھ بنی گیلری میں ملے-دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور کافی دیر ایک دوسرے میں کھوئے رہے-پھر اچانک نتاشا ڈومینکا نے کہا کہ اس کی ملازمہ پریشن ہو جائے گی اب وہ چلتی ہے-دونوں نے اگلے اتوار پھر ملنے کا وعدہ کیا-
دونوں ہر اتوار گرجا گھر میں اسی طرح سے چوری چھپے ملتے رہے-روم میں محبت کرنے اور شادی کرنے پر پابندی لگ چکی تھی-شہنشاہ کو تجرید کی زندگی کو روم کا رواج اور قانون بنانے کا خبط ہوچلا تھا-اور کسی مذہبی رہنما میں جرات نہیں تھی کہ شہنشاہ کے اس خبط کو خبط کہہ کر رد کرنے کی ہمت کرے-چند ایک نوجوانوں لڑکے اور لڑکیوں قانون کی خلاف ورزی کی سخت سزا دی گئی تھی-ایسے میں جان پال اور نتاشا کیلئے بہت مشکل تھا کہ وہ ایک ہونے کی کوئی سبیل کرتے-
ایک اتوار کو جب وہ اسی گرجا گھر کی گیلری میں مل رہے تھے تو نجانے کہاں سے گرجا کا ووہی نوجوان پادری وہاں آنکلا تھا-وہ اس کو دیکھ کر سخت گھبرا گئے تھے-لیکن پادری نے نرم نگاہوں سے ان کو دیکھا -اور ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں-تعارف کے بعد پادری نے ان کو تنہائی میں چھوڑ دیا-جب وہ جانے لگے تو پادری نے کہا کہ آئندہ وہ اس کے دفتر میں مل سکتے ہیں-
روم میں شہنشاہ کے مخبروں نے یاس کو خبر کی کہ روم میں نوجوان محبت کرنے والے جوڑوں کو کوئی شخص ملنے اور ان کو خفیہ طور پر ایک کرنے کی کوشش کر رہا ہے-وہ ان جوڑوں کی شادی بھی کروا رہا ہے-شنشہ نے اپنے سپاہیوں کو تلاشی سخت کرنے اور جاسوسی کے محکمہ کو اس شخص کا پتہ چلانے کا حکم دیا-پورے روم میں سخت قسم کی تلاشی اور جاسوسی کا کام شروع کر دیا گیا -جلد ہی اسقف اعظم نے جاسوسی محکمہ کے سربراہ کو خبر دی کے سینٹ پال گرجا گھر کا ایک نجوان پادری اس طرح کی حرکت کا مرتکب ہورہا ہے-شہنشاہ تک جب یہ خبر پہنچی تو اس نے پفوری طور پر اس پادری کی گرفتاری سے گریز کیا-اور اسقف اعظم سے رائے مانگی کہ اس کو کس طرح سے گرفتار کیا جائے-اسقف اعظم نے اپنی مذہبی کونسل سے مشوره کیا اور شہنشاہ کو مشوره دیا کہ سینٹ پال کے پادری پر شیطان پر ایمان لانے کا الزام لگا دیا جائے-
جب روم کا شہنشاہ رات کو اسقف اعظم سے مشوره کر رہا تھا تو سینٹ پال گرجا گھر کے ایک کمرے میں پادری اور چند اس کے ماننے والے موجود تھے-جبکہ جان پال اور نتاشا ڈومینکا دلہا اور دلہن کے لباس میں موجود تھے-دونوں کو سینٹ پال کے پادری نے ایک کر دیا تھا-سینٹ پال کا پادری دونوں کو کہہ رہا تھا کہ وہ حلف دیں کے وہ جب تک زندہ رہیں گے تو محبت ،امن اور مساوات کے لئے قائم کرتے رہیں گے-
اگلی صبح اتوار تھی-لوگ سینٹ پال کے گرجا گھر میں اکٹھے تھے-سینٹ پال کا پادری انجیل مقدس کی طالوت کر رہا تھا-کہ اچانک مرکزی دروازہ زور سے کھلا اور شنشہ روم کے فوجی دندناتے ہوئے اندر آغسے اور انھوں نے سینٹ پال گرجا گھر کے پادری کو انجیل مقدس پڑھتے ہوئے گرفتار کر لیا-پادری کے چہرے پر ذرا خوف کے آثار نہیں تھے-وہ مسکراتے ہوئے سپاہیوں کے ساتھ چل پڑا -اس کو قید خانے میں ڈال دیا گیا-اور اس کے خلاف مقدمے کی کاروائی شروع ہوگئی-اسقف اعظم مقدمے کی سماعت کر رہا تھا-مذہبی کونسل کے دیگر اراکین بھی موجود تھے-اسقف اعظم نے محکمہ جاسوسی کے سربراہ کو پادری کے خلاف فرد جرم پڑھ کر سنانے کے لئے کہا-محکمہ جاسوسی کے سربراہ نے فرد جرم پڑھنا شروع کی-
،،"سینٹ پال گرجا گھر کا پادری ویلٹائن کے بارے میں ہمارے ایک جاسوس نے خبر دی کہ وہ شیطان کے فرقہ میں شامل ہوگیا ہے-وہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور ان میں زنا کاری کو عام کر رہا ہے-وہ خفیہ طور پر سینٹ پال گرجا گھر کو شیطان کے پیروکاروں کا مرکز بنا رہا ہے-ہمارے کئی جاسوس اس کے پاس گئے اور پھر دکھاوے کے لئے شیطان کے فرقہ کے ممبر بن گئے-ویلنٹائن یہ سب کر رہا تھا-اور وہ کہتا ہے کہ شہنشاہ روم خداوند کے نائب نہیں ہیں-اور وہ یسوع کو مصلوب بھی خیال نہیں کرتا"
محکمہ جاسوسی کا سربراہ اور بھی الزامات لگاتا رہا- اس کے بعد اس نے گواہان پیش کرنے شروع کے-سب نے گواہی دی کہ ویلنٹائن ان سب جرائم میں ملوث تھا جن کا تذکرہ فرد جرم میں ہوا-
اسقف اعظم نے پوچھا کہ ویلنٹائن اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو ویلنٹائن جو خندہ پیشانی سے سب کچھ سبن رہا تھا کہنے لگا کہ نہ تو وہ شیطان کا پیروکار ہے-نہ ہی کسی کو اس کی تبلیغ کرتا ہے-اس نے تو محبت اور شادی کو جرم قرار دینے والے شیطانی حکم کی خلاف ورزی کی ہے-اور یسوع مسیح کے محبت ،امن اور مساوات کی اقدار کو عام کیا ہے یهیگر جرم ہے تو وہ یہ کرتا رہے گا-ہاں شہنشاہ ہوںیا بادشاہ وہ خداوند کا نہ تو سایہ ہیں نہ ہی وہ نائب-وہ ناجیز قابض ہیں-خادوند ظالموں کو نائب تو کیا اپنا پیرو بھی نہیں بناتے-
یہ کہہ کر ویلنٹائن چپ ہوگیا-
اسقف اعظم اور اس کی کونسل کے ممبر کچھ دیر اٹھ کر اندر کمرے میں چلے گئے-گھنٹہ بعد کونسل دوبارہ آکر بیٹھی تو اسقف اعظم نے ایک کپڑے پر لکھی تحریر پڑھنا شروع کی جس میں لکھا تھا کہ پادری ویلنٹائن پر لگے الزام ثابت ہوئے ہیں اور اس کو ان الزامات کے ثابت ہونے پر سولی پر لٹکائے جانے کا حکم سنایا جاتا ہے-
14 فروری کا دن تھا-روم کے مرکزی چوک میں ایک تختہ گاڑھ کر اس پر پادری ویلنٹائن کو لٹکا دیا گیا تھا-کیلیں ٹھونکی جارہی تھیں اس کے ہاتھوں اور پیروں میں اور پادری ویلنٹائن کے چہرے پر کرب بھی تھا مگر ہونٹوں پر مسکان مٹائے نہ مٹتی تھی-جب اس نے لب کھولے اور انجیل مقدس میں یسوع کے محبت پر مبنی گیت گانے شروع کئے ٹچوک میں کئی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی-ہجوم میں ایک جگہ جان پال اور نتاشا ڈومینکا بھی موجود تھے جو پادری ویلنٹائن کی مسلک محبت سے وابستگی کی وجہ سے ایک ہوگئے تھے-جان پال بہت بچیں نظر آتا تھا-وہ ویلنٹائن کو بچانا چاہتا تھا کہ اس کی نظریں ویلنٹائن کی نظروں سے مل گئیں -ویلنٹائن کی آنکھوں میں چمک آگئی اور جیسے وہ جان پال کے ارادے کو پہچان گیا ہو اس نے آنکھ کے اشارے سے پال کو وجہیں رک جانے کو کہا-اور پھر زور سے بولا
"جن سے محبت ،امن اور مساوات پھیلانے کا عہد ہوا ان کو چاہئے کہ وہ عہد پر قائم رہیں اور محبت کو امر کر دیں-مصیبت پر صبر کریں-مصلوب ہونا تو یسوع کی سنت ہے اس پر گھبرانا کیسا -اور مسلک محبت پر چلنے والوں کی جان سے زیادہ ان کی زبان سے نکلے لفظ خطرناک سمجھے جاتے ہیں-"
اسقف اعظم بہت بچیں نظر آتا تھا اس کو ڈر تھا کہ اگر ویلنٹائن اسی طرح سے بولتا رہا تو ہجوم بغاوت کر دے گا-اس نے چیخ کر جلادوں سے کہا کہ ویلنٹائن کی زبان کاٹ ڈالو -اس پر شیطان کا قبضہ ہوچکا ہے-اور پھر اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالو -جلاد یہ سنتے ہی آگے بڑھے اور ویلنٹائن کی زبان کاٹ ڈالی پھر ہاتھ اور پیر-اس کے بعد وائنتآئن کو مسلونب کر دیا گیا-
رات ہوچکی تھی اور روم کے کئی گھروں میں آج چراغ نہیں جلے تھے-کھانا نہیں پکا تھا-کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سیاہ ماتمی لباس زیب تن کئے ہوئے تھے-
ویلنٹائن کو سولی دئے ایک سال گزر چکا تھا -اسقف اعظم اور شہنشاہ کی موت ہوچکی تھی-نئے شہنشاہ نے نئے اسقف اعظم کو کہہ کر محبت کرنے اور شادی کرنے کا قانون دوبارہ جاری کر دیا تھا-
14 فروری پھر ان پہنچا تھا -اس دن جان پال نے سرخ رنگ کے پھولوں کی ایک چادر لی اور نتاشا اور اپنے ایک سال کے بچے کے ساتھ اس چوک میں آگیا جہاں پر ویلنٹائن کو سولی دی گئی تھی-اس نے اس مقام پر جہاں ویلنٹائن کی سولی تھی پھولوں کی چادر رکھی اور علامتی طور پر اس نے نتاشا کو بوسہ دیا-ایک سال کے بیٹے جس کا نام انھوں نے والنتآئن رکھا تھا اس کو چوما-ابھی وہ وہاں کھرے ہی تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ کئی اور لڑکے لڑکیاں پھول کی چادر اٹھائے چوک کی طرف آرہے تھے-سب ایک دوسرے سے اظہار محبت کر رہے تھے-چوک سرخ گلابوں سے بھر گیا تھا-شام کو جیسے سارے روم کے مرد اور عورتیں اس چوک میں اکٹھے ہوگئے تھے-سب نے مل کر موم بتیاں روشن کی تھیں-جان پال اور نتاشا ڈومینکا کو لگا کہ دور کہیں آسمان پر ویلنٹائن مسکرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا
محبت کرنے والے کم نہیں ہوں گے

No comments:

Post a comment