Monday, 27 February 2012

انکار

انکار
افسانہ /عامر حسینی
وہ ریل وے اسٹیشن میں ایک روم میں بیٹھا ٹکٹ چیکرز سے کیش وصول کر رہا تھا-اسٹیشن پر تیز گام آکر رکی تھی-اس میں ایک نوجوان نکل کر اس کے کمرے میں داخل ہوا -اور اسی سے پوچھنے لگا کہ آپ میں سے عادل کون ہیں؟اس نے کہا کہ میرا نام عادل ہے-آپ کو کیا کام ہے؟نووارد نے کہا کہ اس کا نام حیدر ہے اور ایک کوپے میں ان کی اہلیہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں-عادل کو بہت حیرانی تھی کہ اس کو کون خاتوں اور کیوں ملنا چاہتی ہیں؟عادل وہاں سے اٹھا اور اس نوجوان کے ساتھ تیز گام کے اس کوپے کی طرف چل پڑا-کوپے میں داخل ہوا تو سامنے جس کو بیٹھے دیکھا تو وہ ساکت ہوگیا -سامنے سرخی لگائے اور ایک شوخ سا لباس زیب تن کئے شاہین بیٹھی تھی-اس کے چہرے پر عجب سی اداسی تھی-اور یہ لباس اس کی ظاہری کیفیت سے لگا نہیں کھا رہا تھا-شاہین کے شوہر نے کھا کہ وہ جاکر اخبار لیکر آتا ہے-آپ باتیں کیجئے -یہ کہہ کر نوجوان چلا گیا -اور عادل اور شاہین کوپے میں تنہا رہ گئے-کچھ دائر کی خاموشی کے بعد شاہین کہنے لگی کہ عادل یہ لباس میں نے حیدر کے ضد کرنے پر پہنا ہے-عادل کی دنیا زیر و زبر ہوگی تھی-اس سے کوپے میں بیٹھا نہیں جارہا تھا-تھوڑی دیر بعد حیدر کوپے میں آگیا تو وہ بہانے بہانے سے اٹھ کر کپوپے سے باہر جاتا کبھی کچھ تو کبھی کچھ ان کو لاکر دیتا -حیدر نے کھا بھائی جان !آپ تشریف رکھیں-لیکن عادل کیا بتاتا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے-اس دن تیز گام بھی ایسا لگتا تھا سست گام ہوگئی تھی-جو چلنے کا نام نہیں لے رہی تھی-خیر جیسے تیسے ٹرین وہاں سے روانہ ہوئی تو وہ کوپے سے اتر گیا-اس کی ذہنی حالت بہت خستہ تھی -اس نے اپنے ایک ساتھ کے ذمہ کام لگایا اور گھر چلا آیا-گھر آکر اپنے کمرے میں بیڈ پر دراز ہوگیا-اس کے ذہن پر ماضی کی ایک فلم چلنے لگی تھی-وہ ماضی کی یادوں میں کھوگیا-
اس کی ریل وے میں نئی نئی ملازمت ہوئی تھی-ٹرین میں اس کا سفر اور کھانا فری تھا-وہ پہلی مرتبہ ملازمت کے بعد کراچی گیا-اور وہاں اس اپنے ایک عزیز کے ہاں ٹھہرا -اس کے عزیز ایک رات اس کو نارتھ ناظم آباد ایک گھر لے گئے-یہ مصطفیٰ حیدری کا گھر تھا جو ایک عرصۂ ہوا وفات پا گئے تھے-ان کے بیٹے سعودی عرب ہوتے تھے-جبکہ گھر میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی شاہین رہا کرتی تھیں-شاہین ایک اسکول میں ٹیچر تھیں-عادل جب وہاں گئے تو شاہین ان کو بہت زبردست ادبی اور جاملیاتی ذوق کی مالک خاتون لگیں-عادل کو بھی شعر و ادب اور موسیقی سے خاص لگاؤ تھا-شاہین کے پاس موسیقی کی بہت اچھی کلیکشن تھی-اور اس کا ایک مختصر سا کتب خانہ تھا-جس میں کتابوں کا انتخاب خوب تھا-دونوں میں خوب نبھ گئی تھی-شاہین نے عادل کو پیشکش کی وہ اس کو کراچی کی سیر کرتی ہے-عادل کو جس طرح سے شاہین نے کراچی کی تاریخی اور ثقافتی سیر کرائی وہ عادل کبھی نہیں بھول سکتا تھا-یہ سفر اس کے لئے یادگار سفر تھا-شاہین اس کی اچھی دوست بن گئی تھی-عادل کراچی سے واپس آگئے-لیکن دونوں میں خطوط کا تبادلۂ ہوتا رہا-دوستی مستحکم ہوگئی-
ہندوستان میں عادل کے ایک رشتہ دار کان پور میں رہا کرتے تھے-ان کو سب پیار سے پیارے میاں کہ کر بلاتے تھے-موصوف خوب گورے چٹے تھے-بہت وجیہ تھے-ان کو اپنی رعنائ پر ناز تھا-وہ پاکستان آئے-عادل کے پاس بھی ٹھہرے -اور پھر عادل کے ساتھ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کراچی بھی تشریف لے گئے-وہیں پر عادل کے ساتھ پیارے میاں بھی شاہین سے ملے-شاہین کو دیکھا تو دیکھ کر ان پر فریفتہ ہوگئے-اور عادل سے کہنے لگے کہ یار میں تو شاہین پر یہ دل ہار بیٹھا ہوں-اور عادل کو کہا کہ کوئی سبیل کرو کہ میں اظہار کر سکوں-عادل نے سمندر کی سیر کا پروگرام بنا لیا -اور ایک مقرہ دن تینوں سیر پر چلے گئے-کراچی کے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے پیارے میاں نے جب شاہین کو اپنے دل کا حال سنایا تو شاہین نے سختی سے پیارے میاں کو کہا کہ ان کے دل میں پیارے میاں مکے لئے کوئی جگہ نہیں ہے-وہ عادل کے دوست ہونے کی وجہ سے ان کی عزت کرتی ہے-سمندر سے واپسی آتے ہوئے شاہین نے کار میں بیٹھتے ہوئے عادل کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اس کو ہلکا سا دبایا-اور جب عادل واپس اپنے شہر جانے لگا تو اس کو استاد امانت علی کی ایک کیسٹ دی جس میں ان کا صرف ایک ہی گانا ریکارڈ تھا-ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے-عادل جب گھر آیا اور اس کیسٹ میں یہ گانا بار بار سنا تھ اس کی حالت بھی دبدل گئی-ایک ہفتہ نباد عادل کو شاہین کا خط ملا -خط میں پہلی دفعہ اظہار محبت کیا گیا تھا-عادل نے بھی جواب میں محبت سے بھرا ایک پتر لکھا-یوں قیامت کے ناموں کا ایک سلسلہ چل نکلا-عادل کراچی جاتا تو شاہین اور وہ اکثر شامیں یا تو ساحل سمندر پر گزارتے یا پھر ان کی شامیں صدر میں بنے مختلف کیفوں میں گرتی تھیں-زندگی بہت حسین ہوگئی تھی-
عادل کو ایک دن شاہین نے فون کیا اور کہا کہ اس کا ایک رشتہ آیا ہے-اور وہ چاہتی ہے کہ تم کسی طرح سے اس کا ہاتھ مانگ لو-پھر بیشک شادی دس سال بعد کرلینا -عادل نے جب یہ سنا تو اس نے بہت ہمت کرنی چاہی کہ اپنی والدہ سے بات کرے مگر نہیں کر پایا-اس نے اپنے دوست رضا واسطی سے بات کی جو اس کی اس محبت سے واقف تھا-تو رضا واسطی اور ان کی بہن عادل کے گھر ان کی والدہ کے پاس گئے-اور ان سے عادل اور شاہین کے رشتہ کی بات چلانے کو کہا-شاہین کی رضا واسطی کی بہن نے بہت تعریف کی تو آدفل کی والدہ کہنے لگیں کہ ان کو شاہین کے بارے میں ان کی بھابی نے بتایا تھا-وہ بہت آزاد خیال ہے-اور ہم سادات کے ہاں ایسی آزاد خیالی کا تصور بھی نہیں ہے-انھوں نے سختی سے انکار کر دیا-رضا اور ان کی بہن میو ہوکر واپس آگئے-عادل اپنی ماں کا بہت فرمانبردار تھا -وہ ان کی نافرمانی کر کے جنت سے محروم نہیں ہونا چاہتا تھا-عادل بہت رنجیدگی کے ساتھ رات کو محسن شیرازی کے گھر پہنچا -جہاں رات کو محفل فسجا کرتی تھی-مشسن شیرازی کٹر مارکسی تھے-ان کا حلقہ احباب میں صرف عادل ہی مذہبی ترقی پسند تھا-محسن نے یہ لقب عادل کو دیا تھا-محسن نے جب عادل کے چہرے کو بھجا بھجا دیکھا تو پوچھا کیوں بھی شاہ جی!اس قدر اداس کیوں ہو-عادل نے پہلے ٹالنا چاہا مگر جب محسن کا اصرار زیادہ ہوا تو اس نے ساری کہانی کھول دی-یاس پر محسن تو بہت غصے میں آگیا-اور کہنے لگا عادل تم بہت زیادتی کر رہے ہو-ماں کے قدموں میں جنت ہوتی ہوگی لیکن اس کا مطلوب یہ نہیں ہے کہ اس جنت کے لئے تم ایک جہنم مستقل طور اپنے سینے میں آباد کر لو-محسن بہت کچھ کہتا رہا لیکن عادل خاموش رہا-
ایک ہفتہ بعد اس نے شاہین کو فون کیا کہ وہ کراچی آرہا ہے اس کو کوئی بات کرنا ہے-اس نے اپنے دوست علی واسطی کو فون کیا کہ وہ کراچی آرہا ہے-اپنے کسی عزیز کو بتانا نہیں چاہتا-اور اس مرتبہ اس کی کراچی آمد شائد ایک زندہ کی آمد ہو اور وہ واپس جاتا ہوا شائد زندہ نہ ہو-علی واسطی یہ سنکر بہت پریشان ہوا-عادل کراچی چلا آیا-اس نے شاہین کو صدر کے اس کیفے میں بلایا جہاں سے انھوں نے اکٹھے پہلی مرتبہ کھانا کھایا تھا-شاہین کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ اس کو کیا کہنا والا ہے-شاہین آئی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی-اس نے شاہین کو بس دو جملے کہے کہ وہ اس سے شہدی نہیں کر سکتا اور وہ اس کو ہر عہد سے آزاد کرتا ہے-یہ سنکر شاہین بھی کچھ نہیں بولی اور خاموشی سے اٹھ کر چلی گئی-دو ماہ بعد عادل کو شاہین کی ماں کا فون آیا-اس نے عادل کو کراچی آنے کا کہا -عادل شاہین کے گھر پہنچا -شاہین ابھی اسکول سے نہیں آئی تھی-شاہین کی ماں نے کہا کہ عادل شاہین تمہاری بہت اچھی دوست ہے-اس کو نجانے کیا ہوا ہے-وہ اپنی فرمایش سے اپنے بھائی سے منگوایا ہوا سامان اپنے دوستوں میں بانٹ رہی ہے -ابھی کل اس نے نیا ٹائپ ریکارڈر اپنی ایک سہیلی کو دے ڈالا-اس نے جو پلات خریدا تھا وہ بھی اونے پونے بیچ ڈالا ہے-ہماری بات تو وہ سنتی نہیں ہے-تم ہی اس کو کہو-عادل کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں -اس کو ساحل سمندر پہ گزری شاموں کا احوال یاد آرہا تھا-شاہین نے اس کو بتایا تھا کہ اس کو جب معلوم ہوا کہ عادل کو ٹائپ ریکارڈر کا بہت شوق ہے تو اس نے اپنے بھیا کو کہہ کر وہ منگوا لیا-جب ان کی شہدی ہوگی تو وہ اس کو گفت کرے گی-اس نے اس طرح سے کراچی کے ایک پاپوش علاقے میں پلاٹ خریدا تھا کہ اس پر مکان بنوا کر وہ دونوں رہیں گے-کیسے کیسے کیسے خواب دیکھ تھے دونوں نے-آج جب ان کی تعبیر نہیں نکلی تو شاہین سارے خواب کدے اپنے ہاتھوں سے مسمار کر رہی تھی-عادل یہ سوچ کر اندر اندر لرز رہا تھا-اور اپنی سوچوں میں گم تھا کہ شاہین آگئی-گرمیوں کے دن تھے-شاہین کا چہرہ دھوپ کی تمازت سے تمتمایا ہوا تھا-سر کے بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے پر آگری تھیں-عادل سے وہ منظر دیکھا نہیں جارہا تھا-اس قدر حسین لگ رہی تھی وہ-مگر آنگون میں اداسی کے ساغر تھے-شاہین کو اس نے سلام کیا اور پھر جب وہ فریش ہوکر اس کے پاس آئی تو اس نے کہا کہ شاہین تم کیا کر رہی ہو-اور کیوں اپنی چیزیں اس طرح سے بانٹ رہی ہو-تو شاہین بولی-عادل اب یہ صرف میری زندگی ہے اور اس سے جڑی چیزیں بھی میری ہیں آپ کو اس بارے میں بولنے کا کوئی حق ماہی ہے-عادل نے یہ سنا تو اس کو چھپ لگ گئی اور وہ وہاں سے چلا آیا-کچھ ماہ بعد شاہین کی شادی کا کارڈ آگیا-وہ شادی میں نہیں گیا تھا-اور وہ تو جیسے دنیا سے بیگانہ ہوگیا تھا-اس نے اپنی بہنوں کی شادی کی- بھائیوں کی شادی کی -لیکن اپنی شادی سے گریز کیا-اسی دوران والدہ کا انتقال ہوگیا-اس کے بہن اور بھائی دوسرے شہروں میں شفٹ ہونے لگے-بھائیوں نے اس کو بھی لاہور چلنے کو کہا مگر اس نے ایسا کرنے سے انکار کیا-عادل کا کہنا تھا کہ اس شہر مینس کی ماں کی قبر ہے - وہ کیسے اس کو چھوڑ کر جاسکتا ہے-پھر اس پر شادی کے لئے دباؤ پڑا اور اس کی بری بہن جو اس کی ماں جیسی تھی-اس نے اپنا دوپٹہ پھیلا کر اس کو شادی کرنے کو کہا تو اس کو مجبوری میں شادی کرنا پڑی-مگر اس نے ساری زندگی اپنی بیوی کو اپنے زخم خوردہ ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا-اس کے مرنے تک اس کو خوش و خرم رکھا-وہ یہ سب سوچ رہا تھا کہ اس کی چھوٹی سی بیٹی کمرے میں آئی اور تتلاتی زبان میں پوچھنے لگی بابا کیا ہوا ؟آپ نے آج ہمیں کھانا نہیں کھلانا؟تو وہ اٹھ کھڑا ہوا-اس نے اپنے بچوں کو کھانا کھلایا اور مغرب کی نماز پڑھ کر وہ گھر سے نکلا اور مکزی قزبرستان چلا آیا -وہاں آکر اس نے اپنی بیوی اور اپنی ماں کی قبر پر دیا جلایا-اور ان کے لئے خیر طلب کی-پھر بوجھل قدموں سے واپس گھر کی طرف لوٹ گیا-

No comments:

Post a comment