Monday, 19 December 2011

دسمبر (افسانہ) عامرحسینی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میری رجائیت بہت تیزی سے ختم ہونے لگے گی -شک کے سائے طویل ہوجائیں گے-اور مجھ میں کوئی تلخی کسی جگر کو خوں کردینے والے زہر کی طرح میری ہستی میں گھل جائے گی -اور مجھے اپنے اعصاب پر ایک ان دیکھا خوف ہر دم طاری ہوا ملے گا-بہت خوبصورت دن تھے-اور بہت ہی خوبصورت راتیں تھیں-ایک جوش تھا من میں اور ایک جزبہ تھا دل میں -جسے شائد انگریزی کا شاعر ولیم بلیک جوانی کا جوش کہتا ہے-میرے ایک ہم دم رفیق تھے وقار اسلم بلوچ-ہم دن رات اکٹھے گزارتے تھے-وہ پرویز صاحب کے عاشق تھے اور میں کارل مارکس کا-لکین بہت مزے لیکر ادب اور شعر کی محفل سجاتے تھے-ہم نے سال کے آخری دنوں کی سردی کو لمبی دھند بھری راتوں میں تنہائی کو اکٹھے اپنے صحن میں،گلی،بازار میں اترتے دیکھا تھا-اور سارے جہاں کی باتیں تھیں جو ہم کرتے تھے-عجب رنگ کی اداسی تھی-جس میں مایوسی نہیں ہوتی تھی-اس اداسی میں بھی امید کے چراغ جلا کرتے تھے-شہر کا سناٹا ہمیں کاٹ خانے کو نہیں دوڑتا تھا-وہ اور میں رات کو جب نکلتے تھے تو گرلز ہاسٹل سے سحربھی ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا کرتی تھی-خود کو گرم رکھنے کےلئے برانڈی کے چند گھونٹ ہم اپنے اپنے معدوں میں اتار لیا کرتے تھے-وقار اسلم ایسے موقعہ پر ہمیں پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں سے لیجاتا ہوا سول لائن میں آنکلتا تھا-اور یہ سول لائن کسی زمانے میں انگریزوں نے تعمیر کی تھی-اور آج یہاں کے اکثر بنگلے پرانی طرز کے تھے-اور ان میں پرانی اشرافیہ یادگار زمانہ کی طرح رہتی تھی-وقار اسلم کا معمول تھا کہ وہ ہمیں سول لائیں لیجانے سے پہلے کرسچن کی اس بستی سے ضرور گزارتا تھا -جہاں برصغیر کے وہ افتادگان خاک بستے تھے جو اپنی ذات کے چھوٹے پن کو ختم کرنے کے لئے کرسچن ہوئے تھے-لکین انگریز نے ان کو اپنے برابر میں بٹھانا پسند نہ کیا-اور ان کی بستی کو اس طرح سے بنایا کہ وہ انگریز حاکموں کی ترقی یافتہ کالونی اور غلام بنا لئے گئے ہندوستانی باشندوں کے پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں والے محلوں کے درمیان عملی طور پر ایک بفر زون بن کر رہ گئی-ان کا گرجا گھر بھی انگریز نے الگ بنایا تھا -یہ بستی پاکستان بننے کے بعد بھی ایک طرح سے بفر زون ہی بنی رہی پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں میں بسنے والی غریب عوام اور سول لائن میں قیام پذیر ہونے والی اشرافیہ کے درمیان -وقار اور ہم غریبوں اور اچھوتوں کے گرجا گھر کو دیکھتے اور پھر سول لائن میں بنی اس عظیم الشان عمارت کو بھی دیکھتے جو انگریزوں نے اپنے لئے تعمیر کی تھی-وقار اسلم نے ایک مرتبہ مجھے کہا کہ برطانیہ ایسٹ کمپنی کے فرنگی ان فرنگیوں سے زیادہ ہوشیار تھے جنہوں نے امریکہ اور آسٹریلیا میں جاکر قبضے کے تھے-اور انھوں نے اپنے وہاں کے رائد انڈینز کو نیست و نابود کر ڈالا تھا-جبکہ برطانوی سامراج نے یہاں کے مقامی ہندوستانی نیچ ذات کے لوگوں کو نیست و نابود نہیں کیا بلکہ ان کو اپنے ہم مذھب بنا کر ان کی ایسی کایا کلپ کی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اجنبی ہوگئے-اور برطانوی سامراج کے محکوم ہوگئے-ہم سول لائن کے ارد گرد بننے والی نئی کالونیوں کو بھی دیکھا کرتے تھے-یہ کالونیاں ایک اور تہذیب کی آئنہ دار تھیں-اور وہ تھی کارپوریٹ امریکی تہذیب -ایک مرتبہ ہمیں سول لائن میں سابق وزیر خارجہ عزیز احمد کی کوٹھی میں جانے کا اتفاق ہوا-یہاں میاں اعجاز رہتے تھے-انھوں نے ہمیں جس ڈرائنگ روم میں بٹھایا وہ پرانے وکٹوریائی طرز پر بنا ہوا تھا-یہ جنگلے والی کوٹھی کے نام سے مشہور کوٹھی تھی-اور اس کو ایک آباد کار رائے جسونت سنگھ نے بنایا تھا-جس کے نام پر ایک علاقہ جسونت نگر اب بھی اس شہر میں موجود تھا-میاں اعجاز ہم سے کہنے لگے کے نو دولتیوں نے ملک ملک میں تہذیب اور ثقافت کو تباہ کر دیا ہے-یہ ایک ایسا فقرہ ہے جو ہم نے بارہا سنا تھا-اور لکھا ہوا بھی دیکھا -جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ١٨٥٧ میں دلی اجاڑ دی اور پورے ہندوستان میں وکٹوریائی کلچر ابھرا تو فارسی اور اردو کی تہذیب والی اشرافیہ کچھ ایسا ہی مرثیہ پڑھتی نظر آتی تھی-اور جب فرنگی کلچر سے امریکی کلچر ظہور پذیر ہوا تو ہم نے فرنگی دور کے امراء سے ایسا ہی گلہ سنا -میں، وقار اور سحر علی تینوں ہنستے ہوئے کوٹھی سے باہر آگئے تھے-بس کچھ ایسے ہی وہ دسمبر کے آخری دن تھے-ہوا بھی بہت سرد تھی-اور ہم راتوں کو اسی طرح سے مٹر گشت کرتے تھے-اور جب دسمبر کی آخری تاریخ تھی-اور رات کے دس بج چکے تھے-ہم تینوں باہر نکلے تھے-اس چھوٹے سے شہر میں شائد ہم تین ہی تھے جو سال نو کا جشن منانے رات کو نکلے تھے-اور کوئی نہیں تھا جو یہ جشن مناتا -اس مرتبہ ہم نے یہ رات ایک شمشان گھاٹ میں منانے کا فیصلہ کیا تھا-یہ شمشان گھاٹ اس دور کی یاد گار تھا جب اس شہر میں ہندو ،مسلم،سکھ اور کرسچن سب ہی تو رہتے تھے-اس شہر کے بیچ میں ایک گردوارہ بھی تھا-جس کے درمیان ایک بازار تھا -جس کو گردوارہ بازار کہتے تھے-یہاں جو بھی لاہور کی طرف جاتا یا لاہور کی طرف سے آتا تو وہ اس جگہ متھا ٹیک کر جاتا تھا-اسی طرح یہاں ایک خالصہ اسکول تھا-جو اب مسلم ہائی اسکول ہوگیا تھا-ایک رام چونترہ تھا جہاں سے دریا بکل سیدھا تھا-کہا جاتا ہے کہ رام کرشن اور سیتا جی یہاں آئے تھے تو کنارے پر وہ سیتا کو چھوڑ کر اشنان کرنے چل نکلے -اس وقت دریا کا رستہ ٹیڑھا تھا-انھوں نے دریا کے بیچ جا کر جب سیتا کو دیکھنا چاہا تو دریا کے کنارے بکل سیدھے ہوگئے-اس کو رام چونترہ کہتے تھے-یہ جگہ بھی بہت مقدس جگہ تھی-پیچھلے سال ہم نے نئے سال کا جشن وہیں منایا تھا-آج یہاں شمشان گھاٹ آئے تو بہت سی کہانیاں اس گھاٹ کے بارے میں مشہور تھیں-کہ یہاں رات کو پچھل پیری فرا کرتی تھیں-یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک مذھب کے ماننے والے اپنے مردوں کو روحیں اور دوسرے مذھب کے مردوں کو بدروحیں کہتے تھے-ویسے ہم تینوں کو پیچھل پیری دیکھنے کا بہت شوق تھا-لکین حمائ یہ خواہش پوری نہ ہوسکی-وقار کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے لان کوٹ میں بہت سے کاغذ ٹھونسے ہوتا تھا-اور ہر کاغذ پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا تھا -اس رات بھی اس نے کچھ کاغذ اپنی جیب میں ٹھونسے ہوئے تھے-ہم پہلے ٹیلی فون ایکسچینج گئے-اور وہاں جا کر ہم انتظار کرنے لگے عبد الله اور دوسرے دوستوں کی کال کا جو پیرس میں ایفل ٹاور کے نیچے رات کو سال نو کا جشن منانے اکٹھے ہورہے تھے-یہ زمانہ بھی خوب تھا -ابھی ہمارے یہاں ا کمپوٹر آیا تھا-نہ کوئی موبائل فون تھے-نہ انٹرنیٹ-رسائی اور وصال ایک دشوار مرحلہ ہوا کرتے تھے-ایسے ہی ٹرنک کال آئی-باری باری ہم نے بات کی-عبد الله نے کہا کہ وہ شیمپین کے ایک گھونٹ سے سال نو کے جشن کو ہمارا نام لیکر شروع کر رہا ہے-میں نے حیرانی سے کہا مولوی عبد الله حسین کیسے مسٹر بنا گیا-اور ہمیں مولوی بنانے کی انتھک کوشش کرنے والا عبد الله کی یہ کایا کلپ کیسے ہوئی -تو پیچھے سے راحیلہ نے آواز لگائی یہ نیلی آنکھوں والی نت کھٹ فرنچ لڑکی جینی کا کمال ہے-بات کرنے کے بعد ہم تینوں وہاں سے نکلے اور شمشان گھاٹ کی طرف چلنے لگے-وقار نے جینز کی پینٹ اور موتی سی شرٹ کے اوپر لان کوٹ پہنا ہوا تھا-اس نے سر سے لیکر کانوں تک ٹوپ لیا ہوا تھا -اس کے نیچے اس کے لمبے بال جو اس کے شانوں تک آتے تھے-بھکرے نہیں تھے-آج اس نے ان کی پونی بنا رکھی تھی-سحر علی نے بھی جینز ،شرٹ اور لانگ کوٹ پہن رکھا تھا-اس کے بال ٹوپ کے نیچے بکھر کر شانوں تک آئی ہوئے تھے-دونوں کے گال ریڈ وائن سے اور زیادہ سرخ ہو کر قندھاری اناروں کی طرح لگ رہے تھے-اور آنکھیں نشیلی تھیں-جبکہ میں حسب معمول شلوار کامیز اور اس کے اوپر کوٹ پہنے ہوئے ان کے ساتھ چل رہا تھا-میرا رنگ جو کبھی گندمی ہوا کرتا تھا -قدرے سانولا ہوگیا تھا-چلتے چلتے وقار کو جانے کیا سوجھی کہنے لگا تم ہمیں ایسا لگتا ہے کہ دراوڑ قوم کے باشندے ہو اور ہم کوئی آریہ جو ساتھ ساتھ چل رہے ہیں-آج کی رات تم کو مہمان بنایا ہے-تاکہ ہم اپنے بزرگوں کی غلطیوں کی تلافی کرسکیں-مجھے دونوں بہت عجیب لگے تھے-سحر علی اور وقار کا کہنا تھا کہ ہم سرخ و سفید رنگت والے ہندوستان کی وادی کے لوگ نہیں تھے-کتنی عجیب بات ہے کہ کرشن بھی تو کالے تھے گورے نہیں تھے-ہندوستان کا رام بھی گورے رنگ میں اپنے شہود کو پسند نہیں کرسکا- وقار کو جانے کیا ہوگیا تھا اس رات -وہ مجھے خود بھی کوئی دیو مالا کا کردار لگ رہا تھا-آج جب یہ سطریں لکھنے بیٹھا ہوں تو ووہی دسمبر کے آخری دن اور سرد لمبی راتیں ہیں-لکین اس چھوٹے شہر میں نہ تو سحر ہے اور نہ ہی وقار -اس رات وقار نے جانے کیوں امجد اسلام امجد کی نظم "دسمبر "ہمیں سنائی تھی-سماں باندھ دیا تھا-اس کی آواز ایک گونج کی صورت تھی-اور مجھے کبھی وہ لفظ بھولتے نہیں تھے-
"آخری چند دن دسمبر کے ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے کیسے کیسے گمان گرتے ہیں
یہ لائنیں مجھے اس لئے بھی یاد آگئیں کہ آج ایک دوست نے پیغام بھیجا کہ وہ آخری دسمبر میں اپنے دوستوں کی لسٹ مختصر کر رہا ہے-اور اس نے امجد کی یہ نظم لکھ ڈالی-مجھے خیال آیا کہ میں نے تو کبھی کاغذ پر یہ لسٹ بنائی نہیں تھی-اور دل کے کاغذ پر لکھی لسٹ پر کبھی نظر ثانی نہیں کی تھی-پھر آنے والا ہر دسمبر کیوں خود ہی اس لسٹ کو مختصر کرتا چلا گیا -آج بہت عرصۂ بعد وقار کا ایک میسج مجھے موبائل پر ملا -جانے اس کو میرا نمبر کس نے دیا -میسج کچھ یوں تھا
"میرے والد اسلم بلوچ دس دن قبل انتقال کر گئے تھے"
یہ مختصر سا میسج مجھے بہت کچھ بتا گیا تھا-وہ دس دن اپنےاندر حوصلہ پیدا کرتا رہا کہ مجھے اس کی خبر دے تو کیسے دے-مجھے یاد ہے کہ اس کو جتنے بھی دکھ ملے وہ دسمبر میں ملے تھے-وہ اکثر کہا کرتا ہے کہ یہ دسمبر جاتا جاتا چرکہ لگا ہی جاتا ہے-٢٧ دسمبر جب بینظیر بھتو شہید کی خبر آئی تو میں تنہا سول لائن کی اس سڑک پر گرجا کے سامنے کھڑا تھا جہاں ہم تینوں اکثر اکٹھے ہوتے تھے-واقعی دسمبر بہت ظالم ہوتا ہے-دسمبر کے ایک رات دادا روٹھ گئے تھے-اور دسمبر کی رات تھی جب دادی نے رخت سفر باندھا تھا-آج جب دسمبر کے آخری دن تھے تو اسلم صاحب کے جانے کی خبر آگئی-سحر علی کا مجھے پراگ سے فون آیا ہے-وہ بھی سخت دسمبر میں برفباری میں اس خبر سے پیدا ہونے والی اداسی کو ساتھ لئے دریائے پراگ پر بنے لکڑی کے ایک پل پر اکیلی کھڑی تھی-اس نے بتایا کہ وققر نے اس کی ہوں کال پک نہیں کی-اس نے تو میری کال بھی پک نہیں کی-اور ہاں اس کی بیوی جس کو حجن بی بی کہ کر بلاتا تھا-جو اس کی رندی اور اس کی مذھب بیزاری پر اسی طرح سے ماتم کرتی تھی -جس طرح سے میری بیوی کرتی ہے-اور سحر علی تو اب تک اکیلی ہے-اس لئے اس کو کوئی نہیں ملا جو اس پر ماتم کرے-وقار کی بو کہتی ہے کہ وہ کمرے میں بند بس خاموش بیٹھا ہے-کوئی بات نہیں کرتا-میں جانتا ہوں اس کی اس طویل خاموشی کا سبب -آخری رات جب وہ یہ شہر چھوڑ کر جانے والا تھا تو اس نے مجھے آکر بتایا تھا کہ اس نے ایک این جی او میں نوکری کرلی ہے-اور میں یہ خبر سن کر حیران تھا -اس لئے کہ وہ سی ایس پی اکیڈمی چھوڑ کر آگیا تھا-اور ایک رات وہ مجھے کافی دیر تک یہ بتاتا رہا تھا کہ این جی او اور سامراج کی باہمی رشتہ داری ہے کیا-اس سے قبل ایک مذہبی لڑکی سے شادی کر کے اس نے مجھے حیران کرڈالا تھا-جبکہ مجھے یاد ہے کہ جب میری شادی ارینج ہورہی تھی تو لڑکی کے مذہبی ہونے اور اس سے شادی کے بعد مل کر وہ مجھے روایتی مرد ہونے کا طعنہ دیتا رہا تھا-اور پھر خود بھی ایسی ہی ایک لڑکی سے شادی کر بیٹھا تھا-بس وہ ایسا ہی تو تھا-وہ سال کے دوسرے مہینوں میں تو چپ کا لباس پہنے رکھتا تھا-لکین دسمبر کے آتے ہی وہ کلام کی عبا پہن لیتا تھا-لکین اس دسمبر میں اس نے چپ کے لباس کو بدلنے سے نجانے کیوں انکار کرڈالا ہے-

No comments:

Post a comment