Saturday, 17 September 2011

دھانو (افسانہ)

دھانو (افسانہ)
عامر حسینی
وہ سردیوں کی ایک شام تھی-اس دن دھند بہت تھی-لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے -سڑکوں پر ویرانی کا راج تھا-ٹریفک بہت کم تھی -وہ بھی بس دل کی ویرانی سے گھبرا کر گھر سے نکل پڑاتھا-اس کا گھر ملتان کے شمال میں ایک متوسط طبقے کی رہائشی کالونی میں تھا-کئے سال پہلے اس کے باپ نے یہ مکان بنا لیا تھا -ورنہ اس کی کمائے سے تو گھر چلنا مشکل تھا-وہ ذات کا سید تھا-سنتے تھے کہ پدرم سلطان بود والا معاملہ تھا-لکین کالج کے زمانے میں اس کی یاری چند سرخوں کے ساتھ ہو گئی-بس پھر تو سماج کو بدل ڈالنے کی خواہش نے دل میں،دماغ میں ایسا گھر کیا کہ سب کچھ بھول گیا -اس کے باقی رشتہ دار تو پیری مریدی اور مجلس خوانی سے کافی پیسہ کما رہے تھے -لکین اس نے تو جوڑے ہوئے پیسے بھی خدمت خلق پر لگا دئے تھے-اس پر اسے کوئی ملال بھی نہیں تھا-بیوی اس کو بہت شاکر صبر ملی تھی-ویسے وہ اس کے برعکس مذہبی لحاظ سے مومنہ تھی-نماز روزہ کی پابند،عشرہ محرم کو تزک و احتشام کے ساتھ منانے والی،لکین اس نے کبھی اس پر کوئی زور نہ دیا تھا-مظفرعلی نام تھا اس کا-اکثر ایسا ہوتا تھا کہ اس کو گھر بیٹھنا محال ہو جاتا اور وہ گھر سے نکلتا ،سڑکیں ماپتا ہوا شمس تبریز کے مزار پر ان نکلتا تھا-وہ ملحد تھا لکین اسے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئے تھی کہ اسے ملامتی صوفیوں سے اس قدر پیر کیوں تھا-وہ جب بھی لاہور جاتا تو شاہ حسین،میاں میر ،بیبی پاک دامن ،قصور میں بابا بلھے شاہ کے مزار پر ضرور جاتا-پاکپتن میں بابا فرید کے مزار پر حاضری دیتا تھا-اسے یہ سب مزار پر ایسے لگتے تھے جیسے سامنے آ کر بیٹھ گئی ہوں اور وہ ان سے باتیں کر رہا ہو-ایک مرتبہ جب وہ عراق گیا تھا اور وہاں جا کر وہ نجف اشرف میں امام علی کے مزار پر گیا تو نجانے کب کی پڑھی ہوئے نہج البلاغہ کے چند خطبے اس کو یاد آ گئے تھے اور اس نے امام سے خوب باتیں کی تھیں-کئے سوال کے تھے-اور اسے ایسا لگا تھا جیسے یہ سارے سوال اپنا جواب لیکر لوٹے ہوں-اسے یاد ہے کہ بغداد سے امام موسیٰ کاظم کے مزار کی اور جاتے ہوئے اس کے ساتھ ایک اور فیملی بھی شریک سفر ہو گئے تھی-یہ لوگ پاکستان سے آئے تھے -اور شیخ عبدل قدر جیلانی کے مزار پر جانا چاہتی تھی-امام موسیٰ کاظم اور شیخ عبد القادر جیلانی کے مزارات قریب قریب پڑتے ہیں-اس فیملی نے امام موسیٰ کاظم کا نام پہلی مرتبہ سنا تھا-ان کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کوئی بہت بڑی شخصیت تھی-مظفر علی نے ان کو امام موسیٰ کاظم کے مزار پر چلنے کو کہا تو وہ چل پڑے -وہاں اس وقت ٢ لکھ سے زیادہ افراد جمع تھے-یہ شوال کا دوسرہ ہفتہ تھا-اور امام جعفر صادق کی وفات پر ان کو پرسہ دینے کی مجلس ہو رہی تھی-مظفر وہاں جا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا تھا-اور اس نے اس خاندان کو امام موسیٰ کاظم کی داستان الم سنائے تھی-اس خاندان کے سربراہ خالد نے اچانک اس سے پوچھا تھا ،کیا تم شیعہ ہو؟وہ یہ سوال سن کر ہنس پڑا تھا-اس نے کہا کہ وہ ملحد ہے-وہ تو میٹا فزکس پر یقین نہیں رکھتا تو وہ سب بہت حیران ہوئے تھے-جب اس نے بتایا کہ وہ ایک مارکسسٹ ہے تو وہ اور حیران ہوئے کے کافر مادیت پسند فلسفی کا عاشق یہاں موسیٰ کاظم کے مزار پر کیا کرنے آیا ہے؟بس ایسا ہی تھا وہ-
آج بھی وہ شمس سبزواری کے مزار کے صحن میں آ کر بیٹھ گیا تھا-حالانکہ سردی بہت تھی-لکین اسے یہ سرد اور ٹھنڈا فرش بہت اچھا لگ رہا تھا-اس کے دل و دماغ کو یہ ٹھنڈک سکون پہنچا رہی تھی-وہ آج اس صحن میں بیٹھ کر شمس کے گنان کو دوہرانا چاہتا تھا-ابھی وہ اپنے واجد میں کھونے کی تیاری کر رہا تھا کہ کہیں سے ایک عورت آ نکلی-کم از کم اس کا سات فٹ قد ہوگا -چھریرا سا بدن،جسم نہ دبلا تھا نہیں موٹا تھا-اس نے ہاتھوں میں کہنیوں تک چوڑیاں ڈال رکھی تھیں-ناک میں ایک سونے کا کوکا تھا جو اس کے چہرے کو بہت بھلا لگ رہا تھا-سر ننگا تھا -جب کہ اس نے ایک چولی اور لہنگا پہن رکھا تھا-پیروں سے لگی جھانجر جب وہ حرکت کرتی تو کھنکنے لگتی تھی-عجب سے با وقار چال تھی اس کی-ایک رعب تھا اس کی چال میں-مظفر شائد سحر زدہ ہو گیا تھا-اتنی سردی میں وہ عورت مزار کے احاطے میں سیدھی اس کی طرف آئی-وہ مزار کے اندر نہیں گئی-اس کے قریب آ کر چند قدموں کے فاصلے پر وہ بیٹھ گئی-اس کی طرف خاموشی سے کافی دیر تک دیکھتی رہی-کچھ نہ بولتے ہوئے بھی وہ کافی کچھ کہ رہی تھی-مظفر کو یوں لگتا تھا کہ اس کی آنکھیں کوئی سکینر ہیں اور اس کو اندر سے دیکھ رہی ہیں-مظفر کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس سے پوچھے کہ بیبی کیا کام ہے-وہ بھی بس خاموش بیٹھا رہا -اچانک اس نے خاموشی توڑ ڈالی اور کہنے لگی-
شاہ جی !مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتلائے کہ میرا محبوب میرے پیچھے پاگل ہو
جائے-وہ میری بات نہیں سنتا ہے-میں اس کے پیچھے جھلی ہو گئیں ہوں-وہ
کملا ہر ویلے نیلی آنکھوں والے.ہاتھوں میں بندوں لئے ،گھوڑوں پر سوار حملہ
آوروں کی بات کرتا رہتا ہے-شاہ جی!اس کو بہت سمجھاتی ہوں کے گھوڑوں کا زمانہ چلا گیا -پر وہ مانتا ہی نہیں ہے-مجھے کوئی وظیفہ بھی دو اور پانچ روپیہ بھی -
تاکہ میں اس کو فون کر سکون کہ واپس لوٹ آ -ساون آ گیا ہے-اس موسم میں دریاؤں پر کام کرنا اچھا نہیں ہوتا-پر شاہ جی وہ جھلا کبھی دریا کا کنارہ نہیں چھوڑتا
ہے کہتا ہے "کملی یہ جو گھوڑے والے ہوتے ہیں -یہ بہت ظلم ہوتے ہیں-جب دریاؤں کی طغیانی عروج پر ہوتی ہے تو یہ دہرایا میں گھوڑے اتر دیتے ہیں-اور ہم دراوڑ ملیچہ پن کر صدیوں کے غلام بن جاتے ہیں-کہتا ہے"سب تو چلے گئے-میگھ ملہار کو خوش آمدید کہنے اگر میں بھی چلا گیا تو یہ ساون عذاب بن جائے گا-
اس نے اچانک مظفر پیر پکڑ لئے -کہنے لگی شاہ جی !آل محمد ہو -بی بی فاطمه سے کہو اپنے سر کے سائیں علی کے صدقے میرے محبوب کا جھلا پن ختم کردے -اس کے دل سے نیلی آنکھوں والوں کا خوف اتر جائے-وہ ساون میں تو گھر آ جائے-
شاہ جی !میں دھانو برسوں سے سرگرداں پھر رہی ہوں-کسی مزار اور کسی بزرگ نے اب تک میری بات نہیں سنی-حکیم جی کے پاس بھی گئی تھی -اس نے مجھے جھلی کہ کر جھڑک دیا-شاہ جی تم ہی بتاؤ کیا میں جھلی ہوں-اپنے محبوب کی سلامتی چاہنا کوئی جھلا پن ہوتا ہے-
بس یہ کہہ کر روتی ہوئی دہانو چلی گئی-اب اسے مزار کے صحن میں بیٹھنا دوبھر ہو گیا تھا-اس کے دماغ پر نیلی آنکھوں والے ،ہاتھ میں بندوق لئے ،گھڑ سوار قوبزہ جما چکے تھے-اسے شمس کے گنان بھول گئی تھے-کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا-بیس کانوں میں دھانوں کی آواز گونج رہی تھی-
شاہ جی !کیا محبوب کی سلامتی چاہنا -جھلا پن ہوتا ہے؟

No comments:

Post a comment