Saturday, 17 September 2011

خوابوں والے روگ

ایک زمانہ تھا جب لوگ لفظوں کی حرمت جانتے تھے-وہ ان کے اندر چھپے سچے جذبوں کو جان جاتے تھے -لکین برا ہو اس شہرت اور ناموری کی ہوس کا کہ اس نے لفظوں کی حرمت کو کھیل اور تماشہ بنا ڈالا ہے-اب تو انتہائے ذوق اور مقصود یہ ٹھہرا ہے کہ آپ کسی نہ کسی طرح سے تی وی چینل پر پر بولتے نظر آ جائیں-اب آپ کے مشہور لوگ کون ہیں ؟وہ جن کے اندر خیالات کی گہرائی تو کیا ہوگی ؟ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ ان نشر کردہ کلپس سے ہوجاتا ہے جو سوشل نیٹ ورکس سائٹ پر آپ کو دیکھنے کو مل جاتے ہیں-میں حیران ہوتا ہوں کہ کیسے کیسے لوگ ہمارے رہنما ٹھہر گئے ہیں-میں ان تمام لوگوں کو یاد کرتا ہوں جنھوں نے ہمارے سماج کے علمی ورثہ کی تخلیق و تشکیل میں دیں رات ایک کر دیا تھا-جن کی ساری زندگی "کبھی سوز و ساز رومی ،کبھی پیچ و تاب راضی"کی مصداق ٹھہری تھی-گورنمنٹ کالج لاہور کے ہر شعبہ میں بہت سری نیم پلیٹ آپ کو نظر آ جائیں گی-یہ بہت بڑے بڑے نام ہیں -جو کبھی اسی لاہور میں زندگی کرتے رہے -رسول ساقی صاحب نے آرنلڈ جیسا استاد ذکر کر دیا خلیفہ حکیم جی ذکر ان کے مونہ سے سنا تو مجھے زمانہ طالب علمی میں وہ رات جگوں کے ساتھ ان کی کتب کے مطالعہ سے لطف اندوز ہونے کے شب روز یاد آ گئے-کیسے ایک رات میں نے سر ظفر الحسن کا وہ خطبہ استقبالیہ ڈھونڈھ نکالا تھا جو علامہ اقبال کے مشہور و معروف خطبات کے پہلے خطبہ کے موقعہ پر انھوں نے دیا تھا-آج کتنے لوگوں کو پتہ ہوگا کے سر ظفر الحسن کون تھے-اور وہ کس طرح سے رائل فلاسفکل کانگریس کے رکن بنا لئے گئے تھے-جنھوں نے کانٹ کے فلسفہ پر ایک دقیق کتاب لکھی تھی-یہ کتاب بھی اب سال ھا سال سے نہیں چھپ رہی-انہی کے ایک شاگرد ڈاکٹر برہان احمد فاروقی تھے-پنجاب یونی ورسٹی میں ان کا لیکچر سننے کے لئے صرف طلبہ ہی نہیں باہر سے بھی لوگ اتے تھے-بعض اوقات لیکچر باہر گراونڈ میں دینا پڑتا تھا-یہ لوگ لاہور کی پہچان تھے-ان کے دمقدم سے لاہور کی رونق تھی-چراغ حسن حسرت،مجید سالک،سعادت حسن منٹو،اے حمید سمیت کئے ادیبوں نے اس لاہور کا اور اس میں رہنے والے پراگندہ طبع لوگوں کا احوال لکھا ہے-لاہور کافی ہاؤس ککی یادوں کے تناظر میں کے کے عزیز نے ہمیں لاہور کے لاہور ہونے کا راز بتلایا ہے-امرتا پرائم کا لاہور ،پرکاش متل کا لاہور،خشونت سنگھ کا لاہور ،بپسی سدھوا کا لاہور ،ایک جہاں ہے جو اب بس کتابوں میں آباد ہے-آج کا لاہور کیا ہے؟بس کھانے کی اور پہننے کی بڑی بڑی دوکانوں کا شہر ؟ان میں جو لوگ فکر و خیال کے ہمنوا ہیں جو پیدل چل کر پرانے لاہور کو دریافت کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے تو چلنے کی جگہ بھی باقی نہیں ہے-اے حمید نے اور انتظار حسین نے اپنی تحریروں میں ان چائے خانوں اور کیفوں کا ذکر کیا ہے جو کبھی لاہور کی علمی ادبی محفلوں کا مرکز ہوا کرتے تھے-آج جب میں انتظار حسین،مسعود اشعر کو نیر آرٹ گیلری میں ایک میز پر بیٹھے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ کوئی ماحول دوبارہ پیدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لکین وہ پیدا نہیں ہو پا رہا-چراغوں کا دھوواں میں انتظار نے آخری باب میں جو مرثیہ پڑھا ہے وہ شائد اس دکھ اور روگ سے ملتا ہے جو مجھے لہور آ کر اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھا-احمد فراز نے لکھا تھا کے "یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے لوگ" "ان کو بھی ہیں لاحق خوابوں والے روگ "تو کتابوں والے لوگ اور خوابوں کا روگ پلنے والے لوگ کہاں چلے گئے یہ سوال مجھے بھی بہت تنگ کرتا ہے -لکین کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا -نوٹ لکھتے لکھتے خیال آیا کہ صفدر میر جیسا ایک نام تو میں بھولے ہی جا رہا تھا کیوں؟وہ نام جس کے ٹھیریں کبھی میرے سرہانے رکھی ہوتی تھیں اور میں ان کو گاہے گاہے پڑھا کرتا تھا-صفدر میر بھی عجیب تھے -وہ مارکسسٹ تھے لکین ایک روز جب وہ فیض احمد فیض کے ساتھ حویلی نثار گئے اور وہاں مجلس امام سنی تو نجانے کیسے ان کے اندر کا شعیہ کیسے بیدار ہوا قنیز اتری اور کرنے لگے ماتم-فیض صاحب محرم اور اس سے جڑی چیزوں کو ہماری ثقافت کا انمٹ حصہ کہا کرتے تھے -وہ ذوالجناح سے لیکر عاشور کا جلوس تک دیکھنے جایا کرتے تھے-ان کے ہاں ہمیں مرثیہ بھی پڑھنے کو مل جاتا ہے-صفدر صاحب تو ٦٥ کی جنگ میں ترک پر سوار جنگی ترانے پڑھتے لاہور شہر کے باسیوں کو بیدار کرنے بھی چل نکلے تھے-میں حیران ہوتا ہوں کہ تاریخ کے فکری مغالطے درست کرنے والا اتنا بڑا دانشور خود کتنے بڑے مغالطہ کا شکار تھا-ہاں یاد آیا کہ صفدر میر جو انتظار حسین کے ناستلیجا کے سخت ناقد تھے -آخری عمر میں خود بھی گزرے زمانے کی یاد میں جگہ جگہ اپنا ناستلیجا ظاہر کرتے تھے تو مجھے حیرانی ہوا کرتی تھی-میں کل پرانے لاہور کی سڑکیں ماپتا رہا -کربلا گامے شاہ سے لیکر لاہور مال روڈ تک پیدل چلتا رہا -سب کچھ تو بدل گیا تھا-ایک جگہ سے ایک کھوکے والے سے سگریٹ کا پیکٹ لے رہا تھا -تو اس کے ساتھ ہی اورینٹل کالج کی بلڈنگ تھی-شام کا وقت تھا تقریباً ویرانی تھی عمارت میں-مدرسی تنقید کا قبرستان رہا ہے یہ کالج -ہاں اردو کی تدریس تو سید عبد الله جیسے لوگوں نے خوب کی-میں سوچتا ہوں اگر عسکری صاحب جیسا ناقد ہمیں نہ ملتا تو نجانے اردو تنقید اب بھی کہاں پڑی ملتی ہمیں-اتنا پیدل چلنے کے بعد بھی مجھے سم،جھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں بیٹھوں-ادبی بیٹھک ںمیں تو بیٹھنے کو دل نہیں چاہا -چوپال والے اپنی بزم منگل کو سجاتے ہیں-ویسے بھی مجھ جیسا آدمی وہاں جا کر کیا کرتا -میں وہاں سے چلا اور لارنس گارڈن آ گیا -یہ کہانی پھر سہی -

No comments:

Post a comment