Friday, 23 September 2011

عریضہ جاں اور جلتے چراغ (افسانہ )

عریضہ جاں اور جلتے چراغ (افسانہ )
عامر حسینی
وہ تھکا ہارا ،ملال زدہ ،بوجھل قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تو اس کی ماں سمجھ گئے تھی کہ آج بھی اسے کام نہیں ملا-وہ سر شام کوارڈ کھولے صحن میں اس کی رہ تکنے لگتی تھی-آج بھی جب وہ آیا تو اس کا ہاتھ پکڑ کے نلکے کے پاس لے گئی-اس کے ہاتھ دھلواتے ہوئے کہنے لگی "خدا بخش پتر !دکھ نہ کر ،رب سائیں کرم کرے گا"اس کو اس کے بعد چار پائی تک لے گئی -کہنے لگی کھانا کھا لو-خدا بخش نے مشکل سے اپنی آنکھوں میں آتے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا -وہ جانتا تھا کہ آج پھر ماں نے اپنے حصہ کی روٹی بچا رکھی ہوگی-چنگیر اور پلیٹ لے کر وہ پلتی اور اس کے سامنے انھیں رکھتے ہوئے کہنے لگی لے پتر کھا لے-اس کو یہ نوالے حلق سے نیچے اتارنا عذاب لگتے تھے-اسے یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی کا کلیجہ چبا رہا ہو-آخر یہ فاقے اور قربانی ماؤں کی قسمت میں کیوں لکھی ہوتی ہے-یہ خیال اس کو اکثر ستاتا تھا-ایسے موقعہ پر وہ زبردستی آدھی روٹی کے لقمے ماں کے منہ میں ڈال دیتا تھا-ماں نا پتر ،نا پتر کہتے نہیں تھکتی تھی-توں کھلے کہتے اس کی زبان نہیں سوکھتی تھی-
خدا بخش ایک ویلڈر تھا-روز شہر جا کر بلیہ کے سامنے بیٹھ جاتا تھا -اس نے "خدا بخش ویلڈر"کے نام سے ایک پلیٹ تیار کر رکھی تھی-جو وہ اپنی سائیکل پر لٹکا دیتا تھا-بلدیہ کے سامنے سڑک کے کنارے فجر کے بعد مزدوروں کی ایک بڑی تعاد قطار میں بیٹھ جاتی تھی-سب گھنٹوں بیٹھتے تھے-ان میں سے چند خوش نصیب ہوتے تھے جن کو مزدوری ملتی تھی-اکثر رات کو مایوسی اور غم کے ساتھ اپنے گاؤں ،بستی میں لوٹ جاتے تھے-کئے خدا بخش تھے جن کے گھروں میں مفلسی کا عذاب مستقل ڈیرے ڈالے ہوئے تھا-
خدا بخش کے ہاں بھی بڑے سخت دن چل رہے تھے-صبح اپنے گاؤں سے سائیکل پر وہ پندرہ کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے شہر پہنچتا تھا-اور اکثر اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تھا-اس نے میٹرک پاس کر رکھی تھی-اس کی ماں سارے گاؤں کو فخر سے بتاتی تھی کہ اس کا بچہ بابو بنے گا-میٹرک کا رزلٹ آنے پر اس نے اپنے باپ اصغر علی اور ماں صغراں کو فخر سے سر اٹھا کر چلتے دیکھا تھا-وہ آگے کیسے پڑھتا ؟گاؤں میں تو کوئی کالج نہیں تھا-شہر جا کر جب کالج کی فیس پتا چلی تو اس نے چپکے سے ایک دوکان پر ویلڈر کا کام سیکھنا شروع کر دیا-جلد ہی کام سیکھ گیا -

No comments:

Post a comment