Tuesday, 20 September 2011

خواب گری کی سزا(کہانی)

خواب گری کی سزا(کہانی)

عامر حسینی

مجھے اپنی بات کہاں سے شروع کرنی چاہئے -بس یہی الجھن ہے جو میرے آڑے آ رہی ہے-مجھے نہیں معلوم کب میں نے خواب گری کا پیشہ اختیار کیا تھا-بس اتنا یاد ہے کہ پہلے پہل ایک بارش تھی جو دھند کی طرح میرے دماغ پر برسنے لگی تھی-یہ بارش صرف پانی کی پھوار نہیں تھی بلکہ اس میں رنگ بھی ہوتے تھے-مجھے خواب گری میں نیلے ،پیلے اور سیاہ رنگ تو کبھی پسند ہی نہیں آئے تھے-مجھے کیا پتہ تھا کہ کبھی یہی رنگ میری قسمت کا لکھا بن جائیں گے -اور میں نیلے،پیلے اور سیاہ خوابوں کے دائروں سے باہر نہیں آ سکون گی-

میرے والد ایک کالج میں پرنسپل تھے-والدہ ایک گھریلو عورت تھیں-مڈل کلاس گھرانہ تھا ہمارا -ہم نے بچپن کے دن بڑے خوش و خرم انداز میں گزارے تھے-میں تعلیم کے دنوں میں پھولوں،تتلیوں اور شوخ رنگوں سے خوب خوب لگاؤ رکھتی تھی-میرے خوابوں میں اداسی کا کوئی رنگ نہیں تھا-میں نے ہمیشہ زندگی کو سرخ رنگ میں،کبھی آسمانی رنگ میں،کبھی شربتی رنگ میں اور کبھی دھنک رنگ میں دیکھا تھا-میں خوشی کے انہی رنگوں میں کھلتی کودتی رہتی تھی-میرا بچپن،لڑکپن انہی رنگوں میں خوش ہوتے گزرا تھا-

پھر یوں ہوا کہ کالج کہ زمانے میں میرے ایک کزن میرے ساتھ تعلیم حاصل کرنے لگے-خالد تھا ان کا نام-وہ مجھے میرے نام زینرہ احمد کہ کر جب پکارتا تو مجھے اپنے دل کے سارے تار ہلتے محسوس ہوتے-مجھے اپنے دل و دماغ کی دنیا بدلی بدلی لگنے لگتی تھی-میرے ذہن کی کیمسٹری تبدیل سی ہونے لگی تھی-اب بھی سارے رنگ خوشی اور مستی کے میرے ساتھ تھے لکین اب ساتھ ساتھ مجھے ایک عجب سا سرور بھی آنے لگا تھا-یہ سب کیا تھا میں اس کو کوئی نام دینے سے قاصر تھی-بس محسوس کرتی تھی-لکین کبھی کھیل کو کہنے کی ہمت نہیں پڑی تھی-ایک دیں خالد اور میں نے کالج بنک کیا اور ہم دونوں لارنس چلے گئے-یہ باغ ایک جنت ہہے زمین پر -یہ کہنا کوئی غلط نہیں تھا-ہم نے ایک اونچی پہاڑی کے ایک ویران غوشے کو بیٹھنے کے لئے منتخب کیا-اس دیں خالد کی آنکھوں میں مجھے عجب سا سحر نذر آ رہا تھا-میرے رگ و پے میں عجب سے سنسناہٹ تھی-میں عجب سی مستی میں تھی-خالد نے اچانک میرا ہاتھ تھما اور کہا کہ وہ مجھ سے پیر کرتا ہے-اور برسوں سے یہ کہنا چاہتا ہے لکن کہ نہیں پاتا تھا-آج اسے نجانے کہاں سے یہ ہمت ہو گئے کہ مجھے یہ سب کہ رہا ہے-میں اس کے یہ سب کہنے پر حیران نہیں ہوئے-مجھے تو یہ سب ایسے لگا جیسے میں کہ رہی ہوں-میں نے اس کو جواب میں صرف یہ کہا کہ میں بھی کچھ ایسا ہی کہنا چاہتی تھی-لکین شرم اور حیا آڑے آتی رہی-کہ نہیں پائی-مگر میں نے خالد پر واضح کیا کہ ہم اب اس سلسلے کو تب آگے بڑھائیں گے جب وہ اپنے گھر والو کو کہ کر میرے گھر والوں سے میرا ہاتھ مانگیں گا-خالد یہ سنکر خوش ہو گیا -پھر ایک دن اس کے گھر والے میرے گھر آئے-اور دونوں طرف سے کیا باتیں ہوئیں مجھے معلوم نہیں تھا-مگر ایک ہفتے بعد میری اور خلد کی منگنی ہو گئے-میں بہت خوش تھی-خالد سے میری محبت اور زیادہ بڑھ گئی تھی- میں دن رات اس کے اور اپنے ملن کی دعا مانگتی تھی-

پھر یہ آرزو بھی پوری ہو گئی-ماسٹرز کے بعد کھیل کی جاب لگی تو ہم دونوں کو رشتہ ازواج میں باندھ دیا گیا-حجلہ عروسی کی رات جو سب جوان دلوں کے خوابوں کا مرکز و محور ہوتی ہے- مجھے نہیں معلوم تھا میرے خوسی کے سارے رنگ اڑا کر رکھ دے گی-مجھے اپنی خواب گری کی سخت سزا دے گی-رات کے دو بجے تھے-مائیں تمام تر تھکن کے باوجود پیا رنگ رنگنا چاہتی تھی-اس رات کو وصل کی رت میں بدلنے کی آرزومند تھی-وہ دیار خواب میں دبے پاؤں آئے خواہش تھی میری-مگر یہ کیا کہ وہ آیا تو نشہ میں دھت تھا-آتے ہی مجھ سے درشتی سے بولا !تم جانتی ہو زنیرہ احمد !تم میری محبت،میرا مقصود نہیں تھیں-میں نے کبھی تم سے محبت نہیں کی-میں نے کوئی دیپ آنکھوں میں تمہاری رہ تکتے نہیں جلائے تھے-تم تو میری زد تھیں-تمھیں پانے پر شرٹ بندھی تھی میں نے-سو آج جیت لی ہے-تمھیں مغرور کہا جاتا تھا-تمہارا کوئی بوائے فرینڈ نہیں تھا-مجھے بس تمھیں جیتنا تھا سو جیت لیا-

میں اس سے آگے سنانے کی متحمل نہ تھیں-مجھے لگا میں کوئی لیگل ویشا ہوں جو اس کمرے میں ایک کاغذ پر دسخط کر بند کر دی گئیں ہوں-مگر اس دل کا کیا کرتی جو ستمگر سجنا کی آمد پر اس کی سارے ستم کے با وجود اس کو خوش آمد دید کہنے کو تیار تھا-میں نے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر سب قبول کر لیا-اس کے ساتھ دن گزرتے ہوئے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ میرا سجن جھوٹا بدن لئے پھرتا ہے-یہ وہ بدن ہے جو نجانے کہاں کہاں جھوٹا ہوا پھرتا ہے-میں سب برداشت کرتی رہی-اسی دوارن میرے ہاں ایک کلی کھلی -جس کا نام میں نے طاہرہ رکھا-اب تو خالد مجھے مارنے پیٹنے پر اتر آیا تھا-میں سب برداشت کرتی رہی-کبھی بھولے سے بھی میں نے نہ تو ماں کو بتایا -اور مجھ نسبوں جلی کی کوئی بہن تو تھی ہی نہیں جس سے میں اپنے دکھ بنتی-اس دور میں پہلے پہلے میں نے اپنے ہاتھوں کو خواب میں نیلے دیکھا اور مجھے خواب میں بڑھتے بڑھتے اپنے سارا جسم نیلا نذر آنے لگا-عجب سے زہر میرے بدن میں سرایت کرتا خواب میں مجھے دکھائے دینے لگا تھا-خوشی رنگ تو جیسے کہیں دور رہے گئی تھے-طاہرہ بمشکل چار سال کی ہوگی جب ایک دن میرے سر پر قیامت ٹوٹ پڑی -وہ کاغذ جنھیں ہمارے یہاں لوگ کلنک کا ٹیکہ کہتے ہیں اس نے میرے ہاتھ میں تھما دے اور رات کے ٣ بجے مجھے گھر سے بچی سمیت نکل جانے کو کہا-میں نے اپنی بچی کو اٹھایا چھپ چاپ اس گھر سے نکل آئے جسے میں اپنا گھر بنانے کے کیلے منتیں مانا کرتی تھیں-صبیح ٥ بجے میں بابل کے گھر پہنچی اور انھیں وہ کاغذ تھما دئے-ظالم نے ایک نوٹ میں لکھ ڈالی تھی ضد والی بات-سارا گھر ششدر تھا-دکھ اداسی کے سمندر میں ڈوبا-اس رات میں نے زرد رنگوں میں بھیگی بارش کو برستے دیکھا-میں حیران تھی آخر یہ بارش کیوں زرد زرد ہوئے جاتی ہے-

میں نے ہمت نہیں ہاری-ہاں دل کھمباخت اب بھی اسی ستم گر کے لئے کباب بنے جاتا تھا-میرے دل میں سوال اٹھتا تھا-کہ محبت کیوں اپنے میز بان کون کھا جاتی ہائی-میٹل ڈالتی ہے-پھر بھی ھل من مزید کی صدا اس کے لبوں سے نکلنا بند نہیں ہوتی-میں اپنا قصور ڈھونڈتی تھی نہیں ملتا تھا تو بہت اضطراب ہوتا تھا-میں نے کئے مرتبہ مرنے کا سوچا -لکین طاہرہ کی معصوم شکل سامنے آتی تھی-جیسے وہ کہ رہی ہو-نہیں ماما -ہمیں آپ کی ضرورت ہے-کہیں مت جانا -میں نے خود کو بیٹی کے لئے وقف کر ڈالا-ایک سکول میں جاب کرنے لگی-پھر مجھ پر ایک اور سانحہ ہو گزرا-میری ماں ایک دن بنا کچ کہے چل بسی-میں سکول جاتی تھی-پیچھے بابا طاہرہ کو سنبھالتے تھے-ایک دن نجانے ان کو کیا ہوا اور انھوں نے طاہرہ کو واپس اس کے والد کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا-میں نے بہت کوشش کی ان کو اس فیصلے سے باز رکھنے کی نہ رکھ سکی -سو طاہرہ کو اس کے والد کے حوالے کر دیا گیادن کے بعد بارش میرے خوابوں میں سیاہ رنگ میں برسنے لگی تھی-یہ رنگ مجھے اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا-مجھے ایسے خواب آتے کہ جیسے کلی سیاہ راکھ آسمان سے برس رہی ہے اور سارا شہر اور اس کی عمارتیں ،لوگ سب کلی رکھ میں بھیگ گئے ہیں-میں کسی صحرا میں اکیلی کھڑی ہوں اور سہرہ میں بھی کلی رکھ برس رہی میں اس رکھ میں بھیغ کر رکھ زادہ ہو گئے ہوں-تھی دامنی کے ساتھ سارے جسم پر پھوار کی طرح برسنے والی راکھ میرا نصیب کیوں تھی-میں کئے مرتبہ رب سے ملنے کی کوشش کرتی -مگر نا کمی ہوتی-وہ مجاز میں ملتا نہیں تھا اور میں پردوں میں اس سے ملنے کو تیار نہیں-ایک مجذوب سے سر رہ ملاقات ہوئے تو وہ کہنے لگا -اے راکھ زدہ سن!تو اس سے ہم کلام ہونا چاہتی ہے تو خود سے ہم کلام ہو جا-تیری اس سے ملاقات ہو جائے گی-میں حیران تھی -خود سے بولتے ہوئے تو مجھے عرصۂ بیت گیا تھا-پھر اگر خود سے ہم کلامی میں خدا ملتا تو میں راکھ زدہ نہ ہوتی-میں تھی دامنی کا غم نہیں کرتی لکین یہ سوال ضرور کرتی ہوں میرے خوابوں کو سیاہ رنگ دینے والے ستم گر کی یاد میں میرا سینہ اب بھی کباب کیوں بنتا ہے/ مجھے اس کی یاد سے کنارہ کرنے یہ دل کیوں نہیں دیتا؟میرے دل میں محبت کی جگہ نفرت کیوں گھر نہیں کرتی؟خوشی کے رنگوں میں چمکنے دمکنے والوں کیا کوئی جواب ہے اس راکھ زدہ کا تمہارے پاس -

No comments:

Post a comment