Saturday, 17 September 2011

پیلو راگ اور گورنمنٹ کالج لاہور

ذاتی واردات قلبی بھی عجیب و غریب ہوا کرتی ہے-اس کو بیان کئے جاؤ تشنگی مٹنے کا نام نہیں لیتی ہے-آج بہت عرصے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور جانے کا اتفاق ہوا-مجھے فلسفہ کے شعبہ میں جا کر ایک اندوہناک خبر تو شاہد حسین صاحب کے مرنے کی ملی -دل بہت اداس ہو گیا -کیفے میں بیٹھ کر بدمزہ چائے پیتے ہوئے مجھے وہ یاد آتے رہے-عجب سی اداسی من پر اتری ہوئے تھی-فلسفہ کا شعبہ وہ ہے جہاں بلراج ساہنی صاحب بھی پڑھے تھے-میں وہاں گیا تو مجھے فضا خاصی بدلی ہوئے لگی-مجھے یہ پرانا جی سی نذر نہیں آیا-ویسے بھی گیت پر داخل ہوتے ہوئے جس ترہ کی سیکورٹی کا حصار دیکھا دل پر بڑی اکتاہٹ طاری ہوئی-میں وہاں اپنے ایک دوست کے ہمراہ گیا تھا-یہ وہاں پر کچھ عرصہ پڑھاتے رہے تھے-انھوں نے مجھے اردو ڈیپارٹمنٹ میں ما بعد جدیدیت پر پی ایچ ڈی کرنے والی ایک خاتون سے ملوایا -بس پھر کیا تھا -انیس ناگی کا تذکرہ جو چلا تو پھر بات دنیا بھر کے ادیبوں پر چلی گئی-کافکا ہم دونوں کے درمیان بات کا مشترک حوالہ بن گیا -جین پال سارتر کا تذکره ہوا -تو بورخیس کو بھی یاد کیا گیا-کامیو کی بھی یاد آئی-مجھے انیس ناگی صاحب کے ان کے ناولوں ترجموں کی یاد آئی-کیسے انھوں نے پوری طاقت اور صلاحیت کے ساتھ فرانسیسی ادب کا ترجمہ کیا تھا-عسکری صاحب کی بات کو انھوں نے پلے باندھ لیا تھا-فرینچ سیکھی -اور پھر وہیں سے تراجم کئے-ان ناولوں کی تکنیک کو اردو میں بھی ناول لکھنے میں استعمال کیا اور خوب کیا-وہ پاکستان کے چند ایک بڑے ادیبوں اور عالم فاضل لوگوں میں سے ایک تھے-جی سی میں بیٹھا ہوا میں ایک تو ان کو بہت یاد کر رہا تھا-دوسرے مجھے سہیل صاحب بہت یاد آ رہے تھے-طاہرہ کو انھوں نے مشوره دیا تھا کہ وہ سیموں ڈی بوا کو ضرور پڑھے -کیا اسمی تھے سھیل صاحب بھی-یہاں جو لوگ پہلے ایم اے کے تھیسس لکھوانے کا کام کرتے تھے فلسفہ میں -وہ ہر تھیسس میں زبردستی اپنا مواد شامل کرنا اپنا حق خیال کرتے تھے-جبھی تو کئے ایک تھیسس ان کے تعصبات کی نذر ہو گئے-اب بندہ کس کس زیادتی کی طرف عوام کی توجہ اس طرف مبذول کرے-جی سی کی فضا خاصی بوجھل تھی تو میں وہاں سے نکل آیا -مجھے اس موقعہ پر امرتا پریتم کی بات یاد آ گئی

"میں لاہور اس لئے نہیں جاتی کہ جو لاہور میرے خیال میں نقش ہے-اگر لاہور ویسا نہ نکلا تو مجھے بہت تکلیف ہوگی"

میں اپنے دوست کو کہ رہا تھا کہ میں جی سی نہیں جانا چاہتا -جی سی ویسا نہ نکلا جو میرے خیال پر نقش ہے تو بہت تکلیف ہوگی-لکن میرا دوست نہ مانا-اب مرے دل کی جو حالت ہے وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے-ویسے بھی ساون کے مہینے میں دل کبی قابو میں نہیں رہتا -آنکھیں ساون بھادوں کی طرح برسنے کو جیسے تیار رہا کرتی ہیں-اقبال ہاسٹل کے سامنے اور اس کے ایک کمرے کو دیکھ کر بہت سی یادوں نے دماغ سے سفر کر کے نظروں میں ڈیرے ڈال دئے-بہت سی بھولی بسری یادوں کے سیلاب امنڈ امنڈ کے آئی-بہت سے چہرے جو خواب ہو گئی تھے یاد آ گئے-انہی میں مرے روم میٹ کا چہرہ بھی گھوم گیا -عبدللہ کیا دن تھے وہ بھی -نیو نائٹ ائر کو پیرس میں ایفل ٹاور کے نیچے بیٹھ کر شمپین کی بوتل کھولے -اس کے گھونٹ بھرنے سے پہلے اس نے مجھے کال کیا تھا-وہ مرے نام جام کرنے سے بیشتر مجھے کئے اس طرح کی راتوں کا احوال سنا رہا تھا-بولا مولوی کامریڈ کیا اب بھی دسمبر کی اس سرد رات میں کافی کو جام کی طرح گھونٹ گھونٹ پیتے ہو-امجد کی نظم وقار بلوچ سے سنتے ہو-جواب میں میں ہنس دیا تھا-کیونکہ واقعی میرے ہاتھ میں بلیک کافی کا کپ تھا-آج فرق صرف اتنا تھا کہ مجھے "آخری چند دن دسمبر "کے سنانے والا کوئی نہیں تھا -میں خود ہی اس کو خود کو سنا رہا تھا-ہاں اس دن سخت دھند تھی اور میں کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے گھر سے بہت دور نکل آیا تھا-پھر کافی ختم کرنے کے بعد ناجانے وہ کپ کیوں میں نے راستے میں پڑنے والے ایک پارک کی دیوار کے ساتھ رکھ دیا تھا-مجھے یاد آیا کہ کیسے عبدللہ پیانو پر دھنیں بجاتا اور میں اس سے اکثر اداسی کا راگ پیلو سنا کرتا تھا-اس رات بھی پیلو راگ میرے کانوں میں اپنی اداسی گھول رہا تھا-اور آج بھی گی سی سے نکلتے ہوئی یہ اداسی میرے ساتھ تھی- پیلو راگ پوری طرح سے مجھے اپنی گرفت میں لئے ہوئی تھا-میں اسی سحر میں اداسی بکھرتی شام کو جی سی سے باہر نکل آیا تھا

No comments:

Post a comment