Monday, 3 October 2011

بیمار کر دینے والا نظام

بیمار کر دینے والا نظام

سارتر نے ایک مرتبہ ایک دوست کی طرف سے بھیجی جانے والی کتاب پر اپنے تاثرات پر مبنی خط اس دوست کو روانہ کیا-اس خط میں اس نے لکھا تھا کہ

"کامریڈ !میں نے تمہاری کتاب کو پڑھا -اور مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے سماج میں پھیلی بیماری کا صحیح ادراک کیا ہے-تم نے ٹھیک اندازہ لگایا ہے کہ اس سماج میں جس کو نفسیاتی بیماری کہ کر انفرادی علاج کی جو باتیں کی جاتی ہیں وہ در اصل حقیقی سبب کو چھپانے کے لئے کی جاتی ہیں-اس سماج کا اصل روگ بیگانگی ہے جس کے بارے میں مارکس نے کہا تھا کہ یہ اصل روگ ہے سرمایہ دارانہ سماج کا"

اینگلس نے ١٨٤٥ میں مزدورں کی حالت زار کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ انڈسٹریل لائیزشن نے اس سماج کو کہ ایسے سماج میں بدل ڈالا ہے کہ جس میں انسان نامی مخلوق صرف غیر انسان اور پست درجہ ہو کر رہ سکتی ہے-وہ بس دانشوارانہ اور اخلاقی پستی کے ساتھ ہی زندگی گزار سکتی ہے-

بیگانگی کی بیماری سے سماج میں انسان کا باطن اور خارج کس طرح سے متاثر ہوتا ہے اس کا اندازہ سماج پر ایک نذر ڈالنے سے لگایا جا سکتا ہے-ایک محنت کش کی مادی اور ذہنی زندگی اس بیماری سے کس طرح متاثر ہوتی ہے -تاریخ اس کے بیان سے بھری پڑی ہے-

اینگلس نے یہ سب تو ١٨٤٥ میں لکھا تھا -سارتر نے یہ ١٧ اپریل ١٩٧٢ میں لکھا تھا-آج ٢٠١١ کا اختتام چل رہا ہے-پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا ہے-

ہم نے سرمایہ داری کی فتح اور سماج کی خوش حالی کے بہت سے دعوؤں کا حشر اپنے ہاتھوں سے دیکھ لیا ہے-لکین سماج میں بیگانگی آج بھی ایک اطل حقیقت کی طرح موجود ہے -ختم نہیں ہوئی -

مجھے یہاں اپنی ایک دوست کی بات یاد آ رہی ہے -جو مارکس کے فلسفہ بیگانگی پر تھیسس لکھ رہی تھیں-انھوں نے کہا تھا کہ ان کو سارتر کا یہ قول بہت اچھا لگتا ہے کہ

"جہنم تو دوجے پن کا نام ہوتا ہے"اس کو یوں بھی تو کہا جا سکتا ہے کہ "جہنم تو بیگانگی کا دوسرا نام ہے"

سرمایہ دارانہ نظام سماج کو جہنم میں بدل دیتا ہے کیوں کہ یہاں آپ کی محنت آپ کی نہیں رہتی،آپ کی تخلیق آپ کی نہیں رہتی،آپ کا ثمر آپ کا نہیں رہتا -سب تو ایک اقلیتی طبقہ لے جاتا ہے جو سرمایہ کا مالک ہوتا ہے-آپ کے پاس کیا آتا ہے اور وہ ہے اس سماج سے اور خود اپنے آپ سے بیگانگی-

بیماری یہ وہ شکل ہے زندگی کی جو سرمایہ دارانہ سماج میں ممکن ہوتی ہے-سرمایہ داری آپ کو بیمار زندگی کا تحفه دیتی ہے -اگر آپ اس بیماری کا علاج کرانے کے لئے کسی نفسیاتی معالج کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کا کیا علاج کرے گا -وہ تو خود اجرتی مزدور ہوتا ہے-وہ تو خود اس بیماری کا شکار ہوتا ہے-اس کے ہاں بھی بیگانگی ایسے ہی پلتی ہے جیسے آپ کے ہاں پلتی ہے-سرمایہ داری اس کو بس آپ کو بہلانے اور وقتی طور پر کوئی مسکن دوا دینے کی طاقت دیتی ہے -لکین اس کے پاس آپ کو اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے کی طاقت دینے والی دوا نہیں ہوتی-

وہ تو یہ کرتا ہے کہ آپ کو اس بیماری کے ساتھ اس نظام کو پیدوار دینے اور اپنی خدمات پیش کرنے کے قابل رکھے-

سارتر نے لکھا تھا کہ"ہمارے سماج میں دو طرح کے لوگ سرمایہ داری کے نزدیک پائے جاتے ہیں- ایک صحت مند اور دوسرے بیمار لوگ-

حالانکہ بیمار یہ دونوں ہی ہیں -صحت مند وہ ہیں جو اپنے حالت سے بےخبر ہوتے ہیں-جب کہ سرمایہ داری ان کو بیمار قرار دے دیتی ہے جو حالت سے با خبر ہو جاتے ہیں-اور ان کی آگاہی ان کو کام کی جگہ پر احتجاج پر اکساتی ہے-وہ جب کوئی روکاوٹ ڈالتے ہیں تو ان کو بیمار قرار دے کر نفسیاتی معالج کے حوالے کر دیا جاتا ہے-

یہ سارے لوگ سماج کی اس اجتماعی بیماری کا شکار ہوتے ہیں جو سرمایہ داری کے بٹن سے جنم لیتی ہے-مگر ان کے کیس کو انفرادی طور پر ڈیل کر کے اصل معاملے کو چھپا لیا جاتا ہے-یہ جو شیزو فینیا کا مرض ہے اور یہ جو سٹراس کی بیماری ہے اس کو الگ سے سارے سماج کے میکنزم سے ہٹ کر دیکھتے ہوئے نفسیاتی معالج سرمایہ داری کو بچاتے ہیں-

بیگانگی ایک انفرادی مظہر نہیں ہے-یہ ایک سماجی مظہر ہے -جس کے اندر سے بے ہسی ،کینہ ،خود غرضی،نفسہ نفسی کا جنم ہوتا ہے-بے وفائے بھی اس کے بٹن سے نکلتی ہے-یہ جو خوابوں میں روشن زندگی کے دیپ جلے جاتے ہیں-اور ایک پر اسرار زندگی کو تلاش کر کے وہاں آکاش پر سورگ بنایا جاتا ہے -اس کے پیچھے بھی مادی حالت سے جنم لینے والا وہ جہنم ہوتا ہے جو سرمایہ داری نظام سے پیدہ ہوتا ہے-

یہ نظام جسموں کو روگ نہیں لگاتا بلکہ آپ کی ذہنی اور روحانی زندگی کو بھی روگ لگا دیتا ہے-یہ سارے حسین جذبوں کو توڑ کر پھینک دیتا ہے-آپ کا کوئی خواب اور کوئی سپنا بھی سچ نہیں ہونے دیتا-عشق اور رومانس سب ہی تو دم طور جاتے ہیں-اسی لئے کارل مارکس نے اپنی مشہور کتاب "اشتراکی منشور "میں لکھا تھا کہ یہ سرمایہ داری اتنی ظالم ہے کہ کسی شاعر کی ،کسی فلسفی کی ،کسی عالم کی بھائی چارے اور محبت سے بھری تعلیم کو باقی نہیں رہنے دیتی ہے- ہر شئے کو بدل کر خود غرضی کا لباس پہنا دیتی ہے-ہر شچےےذ خرید اور فروخت کی چیز بن جاتی جاتی ہے-لوگ محبت اور وفا کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ان کو یہ کہیں نہیں ملتی-بہت سارے فلسفے اور بہت سے نفسیاتی معالج میدان میں آتے ہیں-اوشو جیسے سکون دینے کی بات کرتے ہیں-صوفی کا وجدان ہاتھ پیر مارتا ہے-مولوی اور پادری کی مذہبیت بہت ہاتھ پاؤں مارتی ہے-لکین سرمایہ داری سے بیمار ہونے والا سماج بیگانگی سے نجات نہیں پتا-

آپ کو موقعہ ملے تو اورہاں پامک ترکش ادیب کی کتاب "برف "ضرور پڑھئیے گا -اس کا ایک کردار کیسے سرمایہ داری سماج سے پیدا ہونے والی بیگانگی سے نجات پانے کے لئے صوفی ازم کی طرف جاتا ہے-ایک اور کردار مذہبی دہشت گرد بن جاتا ہے-ایک مثل ریڈکل اصلاح پسند سیاست میں پناہ لیتا ہے-لکین یہ سب اپنے اندر اور باہر کی بیگانگی کو ختم نہیں کر پاتے-ان کو سکون نہیں ملتا-ان کو چین نہیں آتا -پامک نے ان کرداروں کی اس بے چینی کو سرمایہ داری سے نہیں جوڑا -لکین ذرا تہ میں جا کر دیکھنے سے پتہ چل جائے گا کہ اصل قصہ کیا ہے-

یہ جو ارون دھتی رائے جیسی ادیبہ "ٹوٹی ریاست" جیسی اصطلاح کو بیان کرتی ہے -تو یہ بھی سرمایہ داری کے بٹن سے جنم لینے والی بیگانگی کی برماری کا ایک تذکرہ ہے-اس کا ناول "چھوٹے لوگوں کا خدا "میں سارے کردار بیگانگی کا شکار ہیں-سب بڑھا کے مارے ہیں -سب اپنا علاج دھنودنے نکلے ہیں مگر علاج تو ملتا نہیں ہے-

اندر کی بیگانگی اور اندر کا حبس جب باہر کے مادی حالت کے ساتھ لنک کر کے نہ دیکھا جائے تو پھر افسانہ تجریدی ہو جاتا ہے-اس میں سے کردار گاییب ہوجاتے ہیں-

کہانی گاییب ہو جاتی ہے-رد تسکیل آتی ہے-پوسٹ ماڈرن ازم میں یہ جو تشکیک ہے اور بے یقینی ہے اس کا سبب بھی یہی ہے-

پھر اس کا حل کیا ہے؟اس سوال سے پہلے یہ واضح ہونا چاہئے -کہ بیگانگی سرمایہ داری کا نتیجہ ہے -اس کو ختم کرنے کے لئے نفسیاتی معالج کے پاس نہیں نلکہ سرمایہ داری کے خاتمے کی طرف جانا ہوگا -

سارتر نے لکھا تھا کہ"جب آپ اس حل کی طرف جائیں گے اور مسلسل اس حل پر زور دین گے تو حکمران طبقہ تم پر سازش کرنے کا الزام عائد کرے گا-وہ تمھارے رستے بند کرنے کی کوشش کرے گا -یہ اقدامات تمہارے قدموں کے درست سمت میں جانے کی نشاندھی کریں گے -اور تمھیں اور زیادہ لوگوں کو قائل کرنا ہوگا کہ نظام بیمار کرتا ہے،محنت نہیں ،او نظام کو بدل ڈالیں "

No comments:

Post a comment