Monday, 3 October 2011

پراگندہ طبع لوگ (5th part)

پراگندہ طبع لوگ (5th part)

میں نے ان سے ہی پہلی مرتبہ حماسہ دیوان میں عرب کے معروف شاعروں کا کلام سنا تھا--اور پھر ان سے سے ہی بنو عباس کے دور میں بغداد شہر سے اٹھنے والی آزاد خیالی کی تحریک اور اس کے نتیجے میں آزاد خیال کلچر کی نمود بارے سنا تھا-آج میں حیرانی سے سوچتا ہوں کہ بغداد میں بہت سے ایسے دانش ور موجود تھے جو علانیہ ملحد تھے-ان کی شاعری اور ان کی نثر آج بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے-اسی طرح بہت سے غیر مسلم فلسی موجود تھے جو آزاد خیالی میں مشہور تھے-ہمارے یاں ایک دانش ور محمد کاظم صاحب ہیں جو ان دنو عربی ادب اور شعر پر احمد ندیم قاسمی مرحوم کے رسالے فنون میں مضامین لکھ رہے تھے -انھوں نے اس حوالے سے ایک مصری عالم دیں کا مضمون ترجمہ کیا تھا-جوشاید فسساد خلق کے ڈر سے مختصر تھا-یہ مضمون جب ہما کی والدہ نے پڑھا تو انھوں نے ایک تفصیلی مضمون قاسمی صاحب کو ارسال کیا جس کو چھاپنے سے انھوں نے معزرت کر لی-

ہما علی فلسفہ کی طرف اپنی لگن اور جستجو کے سبب سے آیی تھی-میں اس طرف حادثاتی طور پر آیا تھا-ہوا یوں کہ میں ایف ایس سی کے بعد بی ایس سی سے جان چھڑانا چاہتا تھا-تو میں نے بی اے (آنرز )میں داخلہ لے لیا تھا آسان سمجھ کر نفسیات اور فلسفہ جیسے مضمون رکھ لئے تھے-کیا معلوم تھا کہ آسمان سے گریں گے اور کجھور میں اٹک جاییں گے -بحرحال فلسفہ کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ چھٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی-ہمارے یہاں فلفہ کے نام پر عموما تطبیق اور تکلیم کا کام ہوتا رہا ہے-اگر پاکستان میں فلسفہ کے علم کا ارتقا دیکھنا ہے تو صاف نذر اے گا کے ہم نی گزشتہ ٦٦ سالوں میں انفرادی طور پر اور اجتماعی طور پر آزادانہ فلسفہ کی تشکیل کی کوشش نہیں کی-

ہمارے پاس کوئی فلسفی موجود نہیں ہے-علم کلام کے ماہر تو ہم نے بہت پیدا کے لکین آزاد اور مربوط فلسفہ تشکیل دینے والے فلسفی پیدا نہیں کر سکے-اصل میں مذھب کا تحکم ہم پر ہمیشہ سے رہا اور اسی لئے ہم نے مذھب اور فلسفہ کو الگ الگ رکھ کر دیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی-فلسفیانہ تفکر کے آ ڑے ہمیشہ اندھا اعتقاد آتا رہا ہے-

ویسے لہور اور کراچی میں اکثر جو نامور استازه تھے ان کی کوشش ایک نیا علم کلام تشکیل دینے کی رہی-ایم ایم شریف سے لیکر خلیفہ حکیم تک اور استازی ڈاکٹر منظور احمد سے لیکر قاضی جاوید تک سب درمیانی راہ کی تلاش میں تھے-جو آزاد خیال تھے اور اندھے یقین سے آگے کی طرف جانا چاہتے تھے وہ اس سماج کے جبر کے آگے لاچار نظر آتے تھے-

No comments:

Post a comment