Monday, 10 October 2011

خالی راستہ عامر حسینی /افسانہ

خالی راستہ
عامر حسینی /افسانہ
الارم کب کا بج بج کر خاموش ہوگیا تھا-لکین نجانے کیوں آج اس کی آنکھ نہیں کھل سکی تھی-وہ تو بہت کم نیند لیتا تھا-اس کو ایک لمبی اور پرسکون نیند کی ہمیشہ سے آرزو رہی تھی-جاگتا تو خیالات کا ایک سیلاب بلا کی طرح اس کو بہائے لیجاتا تھا-اور سوتا تو خواب اس کو بے چین رکھتے تھے -اسے سونے اور جاگنے میں کیا فرق ہوتا ہے؟اس فرق کو تلاش کر لینے کی چاہ تھی-
وہ جلدی سے اٹھا تو اس کو احساس ہوا کے آج شائد وہ وقت پر یونیورسٹی نہ پہنچ سکے -تیزی سے اس نے ضروری کام نمٹائے-روکھا سوکھا ناشتہ کیا -اور صحن میں کھڑی پرانی سی موٹر سائیکل نکالی -اور روانہ ہو گیا-
یونیورسٹی پہنچ کر وہ سیدھا اپنے ڈیپارٹمنٹ گیا اور کلاس روم میں داخل ہو گیا-وہ انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں کافی سالوں سے ورلڈ لیٹریچر کی کلاسس لے رہا تھا-وہ مدرسی طرز پر کلاس نہیں لیا کرتا تھا-اور نہ ہی اس کو روایتی طرز پر پڑھانا پسند تھا-وہ جب بھی کسی ادیب ،شاعر یا ناقد پر کوئی بات کرتا تو پہلے سے اس کے ذہن میں کوئی خاکہ موجود نہ ہوتا -اچانک سے الفاظ کی بنت شروع ہوتی اور وہ ایک خاص جذب کی کیفیت میں بولتا چلا جاتا تھا -اس نے کبھی نوٹس کا کاروبار نہیں کیا تھا-وہ فارمولہ تدریس کا سخت مخالف تھا-
آج اس کو پیرسیین ادب پر بات کرنا تھی -کل جب اس نے اپنے شاگردوں کو کہا تھا کہ ہم پیرس میں پیرس کو ان لوگوں کی نظر سے دیکھ کر پیدا ہونے والے ادب کا جائزہ لیں گے -جنھوں نے پیرس میں ایک تارک وطن کے طور پر قدم رکھا اور پھر پیرس کے بارے میں شاہکار ادب تخلیق کیا -تو اسے بے اختیار ہمنگوے یاد آگیا تھا-جس نے پیرس کے بارے میں جو کہانی لکھی اور جو ادب تخلیق کیا -اس نے بہت سے لوگوں کو اس رہ پر چلنے کی ترغیب دی-
آج جب وہ کلاس میں داخل ہو تو اس نے اپنے طالب علموں کے چہرے پرحیرانگی تھی کہ کبھی نہ لیٹ ہونے والا آج کیسے لیٹ ہو گیا تھا-اس نے ان کی حیرانگی کو دور کرتے ہوئے زرہ مزاح سے کام لیا -اور کہا کہ بھئی پیرس کوئی نزدیک تھوڑی ہے ہے-وہاں سے آتے ہوئے.اور پیرسیان ادب کو لاتے ہوئے تھوڑی دیر تو لگ ہی جاتی ہے-یہ سنکر کلاس ہنس پڑی-
پھر اس نے بولنا شروع کیا اور پتہ ہی نہیں چلا کہ کب لیکچر ختم ہوا -اور کب وہ کلاس سے باہر آگیا -
وہ سٹاف روم ،یا اپنے کمرے میں نہیں جایا کرتا تھا-وہ کسی تنہا سے گوشے میں جا کر بیٹھنے کا شائق تھا-آج بھی اسی ارادہ سے وہ ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر کہیں کا رخ کرنے والا تھا کہ اس کو رخشانہ جمیل نے آ پکڑا-یہ بھی ان کے ڈیپارٹمنٹ میں لیٹریچر کی استاد تھیں -اور امریکہ سے انھوں نے پی ایچ ڈی کی تھی-
طارق کہاں چل دئے ؟رخسانہ بولی ،
بس کہیں نہیں ایسے ہی ،طارق نے جواب دیا -
ایسے تو تم کہیں نہیں جاتے -رخسانہ بولی -
بس ابھی لیکچر دیا تھا -تو ذرا گوشہ تنہائی کی تلاش میں تھا-
یہ سن کر رخسانہ ہنس پڑی اور کہنے لگی -
طارق !یار تم بھی عجیب ہو کہ فکشن کو خود پر تار رکھتے ہو -یہ بتاؤ آج کیا لیکچر تھا؟
بس پریسیان ادب بارے تھا -
اچھا -واؤ -یہ تو مجھے بھی پسند ہے -رخسانہ بولی -
اب طارق بھی ذرا دلچسپی سے بولا -رخسانہ !تمھیں پتہ ہے کہ میں نے جب منٹو اور ایک دو اور ادیبوں کے ہاں ممبئی کے بارے میں کہانیاں پڑھی تھیں تو مجھے بہت شوق تھا اس ممبئی کو دیکھنے کا جس کا ذکر منٹو نے خوب کیا تھا -لکین ہوا کیا کہ جب میں ممبئی پہنچا اور میں سارا ممبئی گھوم لیا تو یہ شہر مجھے عام شہروں کی طرح لگا تھا -
وہ سارا رومان تو ممبئی کی حقیقت میں کہیں چھپ گیا تھا-بہت کوشش کی تھی میں نے اس خوشبو کو سونگھنے کی جو یہاں قیام کرنے والے ادیبوں کو آتی تھی-مجھے تو یہاں کے موسم بھی عام سے موسم لگے تھے -
آج جب پیریسیان ادب بارے لیکچر تھا تو مجھے یہ بات یاد آ گئی تھی-مجھے یہ بھی یاد آ گیا تھا کہ کیسے ہمنگوے کو پڑھ کر پیرس آنے والے اور اس کی گلیوں میں سرگرداں پھرنے والے ادیبوں پر کیا گزری تھی-وہ تو ہمنگوے کا پیرس کبھی تلاش نہیں کر پائے تھے -
رخسانہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہنے لگی ٹھیک کہتے ہو تم طارق -
میں بھی چار سال نیویارک میں رہ کر نیو یارکر کی نظر سے نیو یارک کو نہیں دیکھ سکی تھی -میں سمجھتی تھی کہ بس چپکے سے نیو یارک مجھ پر اپنا آپ کھول دے گا -لکین یہ تو مجھ پر اتنا بھی نہیں خلا جتنا یہ فلسطینی ایڈورڈ سعید پر کھل گیا تھا-
طارق کہنے لگا کہ اب دیکھو نہ کتنا عرصۂ ہو گیا ہے لاہور میں رہتے ہوئے -کتنی خزاں اور بہار ہیں جو میں نے دیکھی ہیں -لکین مال روڈ پر کسی فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے پاؤں کے نیچے پتوں کے چرچرانے کی آواز سننے کو کان اب بھی ترستے ہیں-مجھے متل کا لاہور تو ڈھونڈھ کرنے سے بھی نہیں ملتا -
یہ وطن میں بے وطنی بہت عجیب نہیں لگتی؟رخسانہ نے پوچھا -
ہاں بس عجیب تو لگتی ہے لکین بری نہیں-طارق بولا -
اس کے بعد طارق سے وہاں ٹھہرا نہیں گیا -وہ پارکنگ میں آیا -اور اپنے پرانے موٹر سائیکل کو نکالا -اس کو سٹارٹ کیا -اور یونیورسٹی سے نکلتا چلا گیا -رات بھر وہ ایک ہی خواب کو دیکھتا رہا کہ ایک لمبی سی سڑک ہے-جس پر آگے پیچھے دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا -نہ ہی کوئی سنگ میل لگا ہوا ہے -اور وہ پہلے موٹر سائیکل پر اور جب وہ جواب دیتی ہے -تو پیدل چلا جاتا ہے-تیز دھوپ ہے مگر تپش کی بجائے وہ برف جیسی ٹھنڈک دے رہی ہے-سورج کی روشنی اندھیرا پھیلا رہی ہے-اور اس کے قدموں تلے زمین میں لگتا ہے کوئی احتجاجی صدا بلند ہو رہی ہے -وہ بس چلتا چلا جاتا ہے -اور خواب ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا -

No comments:

Post a comment