Monday, 10 October 2011

دوجی جنس "کی اشاعت کو ٢٥ سال پورے ہونے پر سیموں دی بوا کا انٹرویو - ترجمہ و تلخیص :عامر حسینی

"دوجی جنس "کی اشاعت کو ٢٥ سال پورے ہونے پر سیموں دی بوا کا انٹرویو -
ترجمہ و تلخیص :عامر حسینی
گراسی :آج "دوجی جنس "کو چھپے ٢٥ سال ہو گئے ہیں-بہت سے لوگوں کا خیال یہ ہے کہ موجودہ دور کا جو فیمنزم ہے -اس کا آغاز اس کتاب کی اشاعت سے ہوا تھا -کیا آپ بھی ایسا ہی خیال کرتی ہیں ؟
بوا :میں ایسا خیال نہیں کرتی-آج جو فیمنسٹ تحریک موجود ہے -جس کا آغاز آج سے پانچ یا چھے سال قبل ہوا تھا -وہ تو اس کتاب سے واقف بھی نہیں لگتی-لکین اتنا ضرور
ہے کہ اس تحریک کے کچھ رہنماؤں نے اپنے نظریہ کی بنیادیں استوار کرنے میں اس کتاب کے اندر بیان کئے گئے کچھ نکات کو اپنی فکر کا حصہ ضرور بنایا ہے-
زیادہ ترخواتین جو اس تحریک کا حصہ بنیں تو جب یہ کتاب شایع ہوئے ١٩٤٩-٥٠ میں تو وہ بہت کم عمر تھیں-اس لئے میرا نہیں خیال کہ وہ اس کتاب سے متاثر ہوئی ہوں گی-
مجھے جس بات کی خوشی ہے-وہ یہ ہے کہ انھوں نے اس کتاب کو بعد میں دریافت کر لیا -ہاں کچھ بزرگ خواتین نے اس کو پڑھا بھی تھا اور اس کے زیر اثر بھی آئیں تھی-جیسے بیٹی فریڈمین -جنھوں نے اپنی کتاب "اسرار نسائیت"کا انتساب میرے نام کیا تھا-لکین جیسے کیٹ مل ہے -اس کے کام میں تو میں نے اپنی کتاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا -یہ ہو سکتا ہے کہ وہ فیمنسٹ ہوں ان وجوہات کی بنا پر جن کو میں نے اپنی کتاب "دوجی جنس "میں بیان کیا -لکین یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ وہ میری کتاب پڑھ کر فیمنسٹ بنی ہیں-
گراسی :آپ کہتی ہیں کہ آپ کی فمینسٹ فکر اس وقت زیادہ بالغ ہوئی -جب آپ یہ کتاب لکھ رہی تھیں-تو آپ نے فیمنسٹ تحریک کو جن خطوط پر استوار ہوتے دیکھنا چاہا تھا -تو کیا اس کتاب کے بعد تحریک اسی طرح سے استوار ہوئی ہے ؟
بوا :"دوجی جنس "کو لکھتےہوئے مجھے یہ احساس ہو گیا تھا -کہ میں تو خود اب تک ایک غلط زندگی گزر رہی تھی-اور شاید نادانستہ طور پر مردوں کی بالا دستی والے سماج سے خود بھی فائدہ اٹھا رہی تھی -میری ابتدائی زندگی می کیا ہوا تھا -بس یہی نہ کہ میں نے مرد پرست اقسر کو اپنا لیا تھا -اور ان کے ساتھ زندگی بیتا رہی تھی-لکین پھر میں نے کامیابی کہ ساتھ یہ یقیندوبارہ حاصل کر لیا تھا کہ مرد اور عورت دونوں برابر ہو سکتے ہیں اگر عورتیں ایسا چاہئیں تو -دوسرے لفظوں میں یہ کہ میں خوش قسمت تھی کہ میں سرمایہ دار طبقے سے تھی تو مجھے یہ طبقہ بہترین اسکول بھیج سکتا تھا -اور مجھے آزادانہ طریقہ سے خیالات سے کھیلنے کی اجازت بی دیتا تھا-میں ایک دانشور بھی اسی لئے ہو گئی تھی-اسی وجہ سے میں کسی خاص قابل ذکر مشکل کے بغیر مردوں کی دنیا میں داخل ہو گئی تھی-میں نے دکھا دیا تھا کہ میں مردوں کی سطح پر ،ان کے برابر آرٹ ،فلسفہ ،ادب پر ڈسکس کر سکتی تھی-میں نے وہ سب بھی رکھا جو میری نسائیت کے حوالے سے خاص کیا جاتا تھا-میں اتنا ہی کما سکتی تھی جینا مرد دانشور کما رہے تھے-اور مجھے بھی اتنا ہی سنجیدگی سے لیا جاتا تھا -جتنی سنجیدگی سے میرے ہم عصر مردوں کو لیا جا رہا تھا-اپنے ہونے کے لحاظ سے میں کون ہوں ؟تو میں نے اس وقت یہ پایا کہ میں مردوں کی تہ سفر کر سکتی ہوں،ان کی طرح کیفے میں بیٹھ سکتی ہوں اور مرد لکھاریوں کی طرح لکھ سکتی ہوں -اور مجھے بھی ان کی طرح اتنی عزت مل سکتی ہےوغیرہ وغیرہ -تو ایسے ہر مرحلہ پر میرا جو آزادی اور مساوات کا جو احساس تھا وہ ایک حصار میں قید ہو گیا-اسی لئے میرے لئے یہ بھولنا آسان ہو گیا کہ وہ عورت جی کسی کی سیکرٹری ہو وہ ان سب کے ساتھ لطف اندوز نہیں ہو سکتی-وہ اس طرح کی ساکھ نہیں بنا سکتی اور نہ ہی اس کی ایسی کوئی ملکیت ہو سکتی ہے-وہ اس طرح نہ تو کیفے میں بیٹھ سکتی ہے-نہ ہی وہ آزادی کے ساتھ وہاں کتاب پڑھ سکتی ہے کہ کوئی اس کو میلی نظر سے نہ دیکھے-یا اس کے ساتھ کوئی بد اخلاقی نہ ہو -تو مجھے اس عورت کی مالی اور روحانی آزادی بارے سوچنا پڑا
جو کہ مرد پرست سماج میں کسی طرح سے بھی آزاد نہیں سمجھی جا سکتی-تو میں کہے بغیر یہ سوچ رہی تھی کہ جیسے میں کر سکتی ہوں اور سوچ سکتی ہوں کیا وہ بھی کر اور سوچ سکتی ہیں-
"دوجی جنس "کے حوالے سے تلاش اور لکھنے کے عمل کے دوران مجھے یہ پتہ چلا کہ میری مراعات در اصل میرے اغواء کا نتیجہ ہیں-دراصل مجھ سے میری ہست چھین کر مجھے یہ مراعات دی گئیں ہیں -کم از کم اگر ساری نہیں تو کئی پہلووں سے میری نسائیت مجھ سے چھین کر یہ مراعات مجھ کو دی گئی ہیں-اگر ہم اس کو طبقاتی معشیت کی اصطلاح میں ڈال دیں تو آپ اس کو آسانی سے سمجھ جائیں گیں -یعنی میں طبقاتی مصلحت پسند بن گئی تھی-صنفی جدوجہد میں میں اسی قسم کی قبیل سے ہو گئی تھی-
دوجی جنس کو لکھتے ہوئی مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ جدوجہد کرنی چاہئے جس کی ضرورت ہے-مجھے اس سادہ سی بات کا پتہ چل گیا کہ جو چوئیس میرے پاس ہے وہ خواتین کی اکثریت کے پاس نہیں ہے-خواتین کی اکثریت اس سماج میں جو کہ مرد پرست سماج ہے کو دوسری جنس کے طور پر اور دوسرے درجے کی جنس کے طور پر لیا جاتا ہے -ان کا دوسرے درجہ کی جنس کے طور پر استحصال کیا جاتا ہے-اور اس سماج میں اگر مرد پرستی کا خاتمہ ہو جائے -اور اس کی مرد کی ترگ جھکاؤ والی جہت کا خاتمہ کر دیا جائے تو یہ جس ڈھانچہ پر استوار سماج ہے وہ سارا دھڑام سے نیچے آ جائے گیا -جس طرح سیاسی اور معاشی طور پر مغلوب لوگوں کے لئے مشکل ہوتا ہے کہ وہ اپنی مغلوبیت کو سمجھ لیں اور پھر اس کے خلاف کمر بستہ ہو جائیں -بلکل اسی طرح سے یہ عورتوں کو سمجھنا بھی مشکل ہوتا ہے-تو پہلے لوگوں کو اپنے اوپر غلبہ کر لینے والے نظام کو سمجھنا ہوتا ہے-پھر وہ اس نظام کے خلاف لڑائی کرنے نکلتے ہیں-پھر جو ان کے اتحاد اور اشتراک سے فائدہ اٹھانے جا رہے ہوتے ہیں ان کو ان کے انحراف کی قدر و قیمت کی پہچان کرنا ہوتی ہے-آخر کار جن کو اس طرح کے موقف اپنانے پر سب سے زیادہ کھونا ہوتا ہے جیسے میری طرح کی عورت جس نے اپنا مستقبل بڑی توجہ اور محنت سے بنایا ہوتا ہے -تو اس کو اس طرح کا مقف اور پوزیشن لیتے ہوئی بہت سے عدم تحفظات کو آواز دینا پڑتی ہے-اب یہ چاہئے انقلابی تبدیلی ہو یا دوسروں کی نظر میں محترم بننے کے لئے -بہرحال یہ خاصا دقت طلب کام ہوتا ہے-اور ان کو یہ بھی سمجھ لینا پڑتا ہے کہ ان کے ساتھ سب سے آخر میں جو شامل ہوں گی -وہ ان کی وہ بہنیں ہوں گی جن کا سب سے زیادہ استحصال ہوتا ہے-مثال کے طور پر ایک مزدور کی بیوی کے پاس تحریک میں شامل ہونے کے کم چانس ہوتے ہیں-وہ جانتی ہے کہ اس کے شوہر کا فیمنسٹ رہنماؤں سے زیادہ استحصال ہوتا ہے-اور اس کا شوہر کے گھر کی بقاء اس کہ گھریلو بیوی ہونے اور ایک اچھی ماں بننے پر ہے-بہرحال کوئی بھی وجہ ہو عورت متحرک نہیں ہو پاتی-ہاں کئی بہت ہی اچھی تحریکیں ہوتی ہیں جو عورت کی سیاسی اور معاشی شراکت داری کے لئے جدوجہد کرتی ہیں-میں ایسے گروپس سے ان کو جوڑ کر نہیں دیکھ سکی -پھر ١٩٦٨ آیا اور ہر چیز تبدیل ہو گئی -میں جانتی ہوں اس سے بھی پہلے کئی اہم باتیں رونما ہوئی تھیں-بیتی فریدن کی کتاب ٦٨ سے پہلے شایع ہو چکی تھی -امریکہ میں خواتین بہت آگے جا چکی تھیں-وہ اچھی طرح سے جانتی تھیں کے ٹیکنالوجی اور قدامت پرستوں میں کیا تضاد رونما ہوا ہے جو ٹیکنالوجی سے احبرنے والے تقاضوں کو نظر انداز کر کے عورتوں کو کچن تک محدود کرنا چاہتے تھے-ٹیکنا لوجی جب پھیلتی ہے تو عورتوں کو دوسرے درجہ کا جو کردار سونپا جا رہا ہوتا ہے اس کو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے-امریکہ میں ٹیکنالوجی کی ایجادات بہت زیادہ ہو رہی تھیں تو عورتیں بھی اس سے جنم لینے والے تضادات میں گرفتار ہونے سے خود کو روک نہ سکیں-اسی لئے یہ بات حیرانی کا سبب نہیں ہونی چاہئے کہ سامراجی سرمایہ داری کا جو دل تھا امریکہ وہاں عورتوں کی تحریک نے سب سے زیادہ زور پکڑ لیا -یہاں تک کہ اس تحریک کا زیادہ دباؤ معاشی تھا -کام اگر مردوں کے برابر ہے تو پھر پیسے بھی ان کے برابر ہونے چاہئیں -لکین یہ سامراجیت مخالف تحریک تھی جس کے ابھار نے حقیقی فیمنسٹ شعور کو احبرنے کا موقعہ فراہم کیا-یہ ویت نام، مخالف تحریک ہو یا ٦٨ میں فرانس کے اندر چلنے والی پاپولر تحریک یا پھر مغربی ملکوں میں انقلابی ابھار اس نے عورتوں کو ٹھیک طرح سے ریڈیکل خیالات سے لیس کیا-جب یہ بات سمجھ میں آنا شروع ہوئی کہ اکثریت کی غربت کا سبب سرمایہ داری نظام ہے تو تو پھر عورتوں کی اکثریت نے طبقاتی جدوجہد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا-اغرچہ انھوں نے طبقاتی جدوجہد کی اصطلاح کو قبول نہیں بھی کیا لکین وہ سرگرم ہو گئیں-انھوں نے مہم،جلسے،جلوس میں شرکت کرنی شروع کر دی اور وہ لیفٹ کے ملتینٹ زیر زمین گروپس کا حصہ بن گئیں -وہ مردوں کے شانہ بشانہ استحصال سے پاک اور بیگانگی سے پاک مستقبل کے لئے لڑیں -لکین ہوا کیا؟ان کو پتہ چلا کے وہ جن گروپس یا تنظیموں میں شامل ہوئی ہیں ان میں بھی ان کی حثیت اسی طرح دوسرے درجے کی جنس کی ہے جیسی اس سماج میں تھی جس کو وہ تبدیل کرنے نکلی تھیں-یہاں فرانس میں اور میں یہ بے باکی سے کہتی ہوں کہ امریکہ میں بھی انھوں نے دیکھا کہ لیڈر تو بس مرد ہی تھے-عورتیں تو ان نام نہاد گروپس میں ٹائپ کرنے والی اور کافی بنانے والی رہ گئیں تھیں-شائد مجھے نام نہاد نہیں کہنا چاہئے تھا -کیونکہ ان میں کئی مرد اصلی انقلابی بھی تھے-کیوں کہ یہ انقلابی بھی ایک مرد پرست سماج میں پلے تھے اور اسی میں ان کی تربیت ہوئی تھی تو یہ بھی تحریک اور تنظیم کو اسی سمت میں استوار کر گے-تو یہ بات سمجھ میں آنے والی تھی کہ یہ مرد بھی ان تنظیموں کی ساخت کو رضاکارانہ طور پر نہیں بدلنے والے تھے جس طرح سرمایہ دار طبقہ اپنی طاقت اور کنٹرول سے رضاکارانہ طور پر دست بردار نہیں ہوتا ہے-تو جس طرح غریبوں پر لازم ہوتقہ ہے کہ وہ سرمایہ داروں سے طاقت چھین لیں اسی طرح سے عورتوں پر لازم ہے کہ وہ مردوں سے اختیار چھین لیں-لکین اس کا مطلب مردوں کو مغلوب کرنا بھی نہیں ہے-اس کا مطلب برابری قائم کرنا ہے جس طرح اشتراکیت ،ایک حقیقی اشتراکیت تمام لوگوں میں معاشی برابری قائم کرتی ہے-تو فیمنسٹ تحریک نے بھی یہ سیکھا کہ اسے برابری قائم کرنے کے لئے مردوں سے تحریک میں پاورچھین لینا ہوگی -طبقاتی جدوجہد کے اند شمولیت کے ساتھ کسی لمحہ میں عورتوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ طبقاتی جدوجہد سے مردوں اور عورتوں کے درمیان نا برابری ختم نہیں ہوگی -بلکہ ان کو اس کے ساتھ ساتھ مرد پرستی کے خلاف بھی جدوجہد کرنا ہوگی-یہ وہ بات ہے جس کو بتانے کے لئے میں نے کہا تھا کہ میں اس بات سے پہلے سہمت تھی کہ سرمایہ دارانہ نظام کے ہوتے ہوئے مرد اور عورت برابر نہیں ہو سکتے تو ہمیں سرمایہ داری نظام کو تباہ کرنا ہوگا اس لئے -........تو یہ لفظ اس لئے ایک فکری مغالطہ تھا-کہ ہمیں پہلے صرف طبقاتی جدّوجہد کرنی چاہئے-یہ بات درست ہے ہے کہ جنسوں میں برابری سرمایہ داری نظام کے اندر نہیں ہو سکتی-ذرا غور کیجئے کہ اگر مرد اور عورت برابر ہو جائیں تو پیس ور،پارٹ ٹائم کام ،شاپس ،سٹور میں کام کلیساؤں ،آرمی فیکٹریوں کا کیا ہوگا جن پر سرمایہ داری انحصار کرتی ہے-یہ جو سستی لیبر اور پارٹ ٹائم ورک ہے اس کا سب سے زیادہ انحصار عورتوں کی محنت کے استحصال پر ہے-لکین یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ سوشلسٹ سماج عورتوں کے استحصال کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے اور مرد و عورت کے درمیان برابری قائم کرتا ہے -روس اور اشتراکی ملکوں میں بھی مرد اور عورت کی برابری کے سوال پر الجھن موجود ہے-المیہ یہ ہے کہ کے پرولتاریہ کی فتح بھی آخر میں مردوں کی فتح بن جاتی ہے-تو عورتوں میں یہ جو شعور ہے کہ طبقاتی جدوجہد کی فتح ہی سے عورتوں کی مردوں سے برابری نہیں ہوتی یہ نیا شعور ہے-پدر سری اقدار کے خلاف بھی جدوجہد ساتھ ساتھ ہو گی-عورتیں اب زیادہ تر اس بات سے واقف ہیں اور ان کی تحریک بھی اس امر کو ساتھ لیکر چلتی ہے-اور یہ شعور مستقبل میں نئی تاریخ رقم کرے گا-

No comments:

Post a comment