Monday, 3 October 2011

تلاش حقیقت

اگر ہم تلاش حقیقت کے سفر میں کوئی نئے چیز نہیں بھی پاتے تو کوئی بات نہیں ہے-لکین ایک بات ضرور ہے کے اس سفر میں ہمیں بہت سے ایسے چیزوں کے بارے میں معلوم ہوگا جن سے آگاہی ہمیں ایک خوشگوار تجربہ لگے گا-تلش حقیقت کا سفر بھی عجیب ہے-علم کیمیا کے بنی کہلانے والے جابر بن حیان کو سری عمر دیگر دھاتوں سے سونا بنا لینے کا خبط رہا-اس سونا بنانے کے چکر میں وہ علم کیمیا کی مسلم تاریخ میں بنیاد رکھ گیا -اور علم کیمیہ کا پبانی کہلایا-یہ صرف جابر بن ہیں پر ہی بات صادق نہیں آتی بلکہ یو نانی فلسفہ کے اسیر ایک عرصہ سے اس علم کیمیا کی تلاش میں رہے -دنیا سے کٹ گئے لکین ان کا جانوں کم نہ ہوا-تو کیا ہوا جو ان کی تپسیا رنگ نہ لا سکی؟لکین اس دوران جو نثری اور منظوم نمونے سامنے آئے وہ آج بہت قیمتی اثاثہ ہیں-دیکھئے نہ فرشتوں،اور دیگیر ان اشیا کی تلاش جن کو حواس سے پوشیدہ بتایا جاتا ہے -ان کی تلاش کرنے والوں نے کیسا ادب پیدا کیا ہے-آپ زیادہ دور مت جائیے-بس ابن عربی کی کتاب کھول لیجئے -ان کا دوں شاعری آپ کو ہفت طلسمات کی سیر کرائے گا-آپ کو جمالکے ایسے ایسے پہلو معلوم ہوں گے کہ آپ کی عقل دنگ رہ جائیے گی-ذرا شمس تبریز کا دیوان یتھا لیجئے -اس میں عشق اور حسن کی جلوہ گری دیکھئے -آپ کو زندگی سے پیر ہونے لگے گا-آپ مسکرانے لگیں گے-جب ہجر و فراق کی بات آئے گی تو درد سے سینہ پھٹنے لگے گا-سب کچھ آپ کو خود پر گزرتا معلوم ہوگا-

اصل میں لگن،محبت ،عشق.وابستگی.یہ سب چیزیں اگر جانوں بن جائیں تو پھر جو بھی کام کیا جائے اس میں نئے تجربات ضرور ہوتے ہیں-اور ان تجربات کی قدر و قیمت ہوتی ہے-ہمیں نجانے کیوں انسان کو تقسیم کرنا اچھا لگتا ہے-اس کے حواس کو اس کی عقل سے الگ کر کے دکھانے کا جنوں تو بہت چھایا رہا ہے-اب کسی کو کیا پتا تھا کہ ٢١ ویں صدی کے آتے آتے علم اتنا ترقی کر جائے گا کہ خالص علم اور ہسی تجربوں سے ما ورا ہو کر حقیقی علم کی تلاش کے نام پر لکھی گئے باتیں از کار رفتہ معلوم ہوں گیں -لکین کیا اس نثر اور شاعری کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی؟اس سوال کا جواب تو نفی ہی میں ہے-ہمارے سماج میں آج جو جہالت کا دور دورہ ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے ہمارے ہاں تلاش کے سفر سے ڈرا جاتا ہے-ملا کی ہٹ دھرم روش نے یہاں لوگوں کو تلاش حقیقت کے سفر سے روک رکھا ہے-وہ اپنے تعصبات کے ساتھ جینے میں فخر محسوس کرتے ہیں-یہاں بہت سے لوگ علم کی زیادتی کو علم کو بےتحاشا حاصل کرنے کو بے کار کی مشق خیال کرنے لگتے ہیں-کیا یہ سماج مہذب کہلانے کے لائق ہے جہاں زیادہ پڑھی لکھی عورت کو رشتہ نہیں ملتا -اسگر مل جائے تو اس کا مرد اسے ہر وقت یہ باور کرانے میں مصروف رہتا ہے کہ وہ چند کتابیں یاد کر کے برابر کا درجہ پانے کی کوشش نہ کرے-پیر کی جوتی جیسی اصطلاح جہاں ایک جیتے جاگتے وجود کے لئے استمعال ہوتی ہوں -جہاں تعلیم یافتہ مرد بھی آخر میں بس مرد ہی نکلتے ہوں اس سماج میں حقیقت کی تلاش کا سفر کیسے ہو پائے گا ؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب مجھے اور آپ سب کو تلاش کرنا ہے-

No comments:

Post a comment