Monday, 3 October 2011

فلسفہ ما بعد جدیدیت -تنقیدی مطالعہ

فلسفہ ما بعد جدیدیت -تنقیدی مطالعہ


جناب شاہد صاحب !


سلام '


آج ہی آپ کی کتاب مجھے ڈاک کے ذریے ملی -میں نے ابھی تک اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن اور پیش لفظ کے ساتھ ساتھ "فلسفہ مابعد جدیدیت "تک تقریباً ٤٢ صفحات کا مطالعہ کیا ہے-آپ کی بہت مہربانی کہ آپ نے یہ کتاب مجھے ارسال کی-میں نے اردو میں ابھی تک اتنی اوریجنل فلسفیانہ تحریر آج تک نہیں پڑھی ہے-آپ جکی فلسفہ پر گرفت دیکھ کر مجھے کم از کم اپنی رائے بدلنا پڑی ہے کہ پاکستان میں حقیقی فلسفیوں کا ہمیشہ فقدان رہا ہے-آپ نے اپنے دیباچہ اور پیش لفظ میں اردو ادب کے لکھاریوں کی جہالت کا جو رونا رویا ہے وہ بلکل ٹھیک ہے-میں نے نارنگ کی کتاب جب پڑھی تھی تو اپنے ایک دوست کو کہا تھا کہ یہ کتاب بس اس تبصرے کے قابل ہے "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی "آپ نے بلکل درست لکھا ہے کہ ہمارے ہاں مغربی تھیوریوں اور افکار کو مغرب کے سماجی تناظر سے ہت جوں کا توں اپنانے کا رجحان سب سے بڑی رکاوٹ ہے یہاں تخلیقی عمل کے پیدا ہونے میں-اب جب یہاں وزیر آغا جیسے لوگ بھی اگر کسی موضوع پر اس موضوع کے ماہر کی اصلی کتب کو پڑھے بغیر اس پر لکھنے بیٹھ جائیں تو دوسرے لوگ کہاں جائیں گے-صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر مغربی افکار پر بحث ان افکار کو بیان کرنے والے مفکرین کا گہرا مطالعہ کرنے اور ان کے تناظر کو ذہن میں رکھے بغیر کی جاتی ہے-اور یہ جو نارنگ جیسے لوگ ہیں یہ اسی لئے اندھوں میں کانے راجہ بن جاتے ہیں-آپ نے ٹھیک کہا کے مغرب میں ایووارڈ اور انعامات ان دانشوروں کو دے دِیے جاتے ہیں جو سرمایہ داری نظام کا تحفظ کرنے کے لئے اپنی فکر کو مختص کر دیتے ہیں-وہاں پر سرمایہ داری نظام کا پول کھولنے والوں اور سامراجیوں کے نظام فکر کے تاروپود بکھیرنے والوں کو کوئی انعام یا ایوارڈ نہیں دیا جاتا-جبکہ پاک و ہند میں تو اس سے بھی زیادہ تنزلی ہے کہ یہاں یہ سب خوشامدیوں اور حکام کے تلوے چاٹنے والوں کو ملتا ہے-آپ نے ٹھیک لکھا کہ


"تقلید ہندوستانی غلامانہ ذہنیت کا حصہ ہے "ے نہ ہی تشریحی -صرف و صرف تقلیدی ہے-


"ہمارے ہاں تفہیم کا معیار عدم تفہیم ہے،تنقید کا معیار عدم تنقید ہے،فلسفے سے مرد فلسفہ دشمنی ہے-"


شاہد صاحب!


آپ نے مذکورہ بلا جملے میں کوزے میں دریا بند کر دیا ہے-اس سے زیادہ بلیغ جملہ پاکستان میں ادبی صورت حال اور فلسفیانہ زبوں حالی پر لکھا جانا ممکن نہیں ہے-


آپ نے بلکل درست فرمایا کہ پاکستان میں آپ جب بھی دقیق علمی موضوعات پر کوئی تحریر لکھنے لگتے ہو تو سب سے پہلے اس طرح کی تحریر لکھنے سے آپ کو یہ کہ کر روکا جاتا ہے کہ یہ بہت مشکل موضوع ہے-اس کو اردو ادب و علم کی دنیا میں سمجھے گا کون؟


آپ نے لکھا کے پاکستان میں "فلسفیانہ تحقیق بارے معقول رائے ووہی لوگ فدہینے کے اہل ہو سکتے ہیں جو انسانی سماج کے لئے تحقیق کی اہمیت اور انسانی ذہن کی تربیت کے لئے اس کی افادیت کو سمجھتے ہوں-"آپ نے اہلیت کا میر یہ رکھا کہ ان کے سامنے ارسطو،افلاطون،کانٹ ،ہیگل ،اور مارکس جیسے فلسفی موجود ہوں،"


آپ نے تنقید میں مدرسی لوگوں کی بجائے سمیموییل ٹیلر کولرج سے لیکر جارج لوکاش،تھیوڈر عدورنو،رولن برتھ،اور دریدہ جیسے نام ہونے کی تمنا کی ہے-افسوس میں یہ کہوں گا کہ کبھی کبھی تو مجھے یہ خواہش "این خیال است و محال است و جنوں"


کے مصداق لگتی ہے-اگرچہ آپ کی علمی استعداد اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے کہیں کہیں امید کی کرن بھی نذر آتی ہے-


فلسفہ اور اس کی شاخ علمیات پاکستان کے اندر خاص طور پر برہمی کے ساتھ عدم توجہ کا شکار ہیں-ان علوم پر ایک خاص ٹولے نے اجارہ کر رکھا ہے-

شاہد صاحب !


آپ نے ٹھیک کہا کہ ادبی اشرافیہ کے احدہم کے لئے ادبی اشرافیہ کی غلط تعبیرات کو بےنقاب کرنا بہت ضروری ہے-اور یہ بھی صحیح ہے کہ ادبی اشرف کا ظہور جاگیرداری سماج کی وجہ سے ہوا ہے-میں سمجھتا ہوں ہمارے ہاں ادبی نہیں بلکے ہر شعبہ میں اشراف کا قبضہ ہے جن کی علمی بد دیانتی سے پردہ اٹھایا جانا بہت ضروری ہے-آپ نے یہ جو کچھ کہا ٹھیک ہے لکین مجھے آپ نے جو فوٹو ٹیگ کیا اس میں آپ کی کتاب کی تعارفی تقریب کے جو چیف گیسٹ سمیت مقررین کی فہرست ہے وہ مجھے آپ کی پیش لفظ میں لکھی باتوں کی کچھ تغلیط کرتی معلوم ہوتی ہے-ساقی فاروقی کی غزلوں سے میں لطف اٹھاتا ہوں لکین وہ تو خود اس ادبی اشرف طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے انہدام کی آپ بات کر رہے ہیں-اور پھر ایک پاکستانی ریاست کے نمائندے کے ساتھ بیٹھ کر سامراج کے خلاف کون سی جنگ لڑی جاسکتی ہے-کہیں شہرت کی طلب یا ہوس کے جس رجحان کی آپ ادبی اشرافیہ میں ایک بیماری کی طرح پھیل جانے کا ذکر جو کرتے ہیں -اس بیماری کے جراثیم کہیں آپ کی طرف بھی منتقل تو نہیں ہو گئے-یہ سوال میرے ذہن میں ہی نہیں بلکے بہت سارے لوگوں کے ذہن میں آیا ہوگا-


میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ آپ کی تحریروں میں فلسفہ اور سامراج کے متعلق مارکسی نکتہ نظر صحت کے ساتھ موجود ہے-لکین آپ نے خود کہا کہ صرف نظری تنقید کافی نہیں ہوگی بلکہ عمل کو بھی ساتھ جوڑنا پڑے گا-دوسرے لفظوں میں آپ نے کارل مارکس کے لفظوں میں یہ کہنے کی کوشش کی کہ اصل مبت دنیا کو تبدیل کرنے کی ہے نہ کہ اس کوئی تشریح کرنے یا محض اس کو بیان کرنے کی-


اس خط کو کتاب ملنے کی محض رسید خیال کیجئے گا-


میں ڈاکٹر ریاض کا شکر گزار ہوں جن کی وساطت سے آپ تک ہماری رسائی ہوئے-اردو میں ادق علمی اصطلاحات کا ترجمہ کرنا خاصا مشکل رہا ہے-آپ کے ہاں میں دیکھ رہا ہوں کے ان اصطلاحات کا ترجمہ کرتے ہوئے بریکٹ میں ان کا انگریزی متبادل دینے کی کوشش نہیں ہوئے جس سے خاصی پیچدگی پیدا ہو رہی ہے-آپ نے کئے الفاظ ایسے استعمال کئے ہیں جن کا انگریزی متبادل سمجھنے میں مجھے بھی دقت کا سامنا ہے-آپ نے لکھا ہے کہ مغربی دونیہ میں دس سال کا بچہ بھی فلسفہ مابعد جدیدیت کی اصطلاحات کو روزمرہ کاموں میں استعمال میں لاتا ہے-میرے لئے یہ حیران کن خبر ہے-


اجازت دیں-

آپ کا دوست ،

عامر حسینی

١١-٨-٢٠١١

No comments:

Post a comment