Monday, 3 October 2011

خواب اور روشنی سے بنے کچھ لفظ

خواب اور روشنی سے بنے کچھ لفظ


عامر حسینی


تخلیق میں خواب اور آگہی کی روشنی سے گوندھ کر لفظ بنانے کا عمل کچھ ایسی گہرائی رکھتا ہے کہ جو جتنا اچھا تیراک ہو،کتنا ہی گہرائی میں جا کر گوہر ڈھونڈھ کر لانے کا دعویٰ کرتا ہو -کبھی بھی اس عمل کی مکمل تعریف نہیں کر سکتا-


تخلیق کے عمل کو تحلیل کر کے دیکھنے والوں نے دعوے تو بہت کئے-لکین ایک شاہکار فن پارہ بار بار کی تحلیل کے بعد بھی اپنا راز کسی کو نہیں دیتا-اس فن پارہ کی قدر اور اس سے حاصل ہونے والی مسرت تو اس کو ایک وحدت کی شکل میں دیکھنے سے ہی ملتی ہے-یہی وجہ ہے کہ اچھا ناقد اپنے قاری کے پڑھنے کی اور اس کے دیکھنے کی صلاحیت کو نکھارتا ہے اس کو یہ بتانے سے گریز کرتا ہے کہ اس فن پارے میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے-گویا کوشش یہ ہوتی ہے کہ قاری کو دیکھنا اور پرکھنا سکھایا جائے-اس کو مچھلی پکڑنے کا طریقہ سکھ دیا جائے نہ کہ اس کو مچھلی پکڑ کر دے دی جائے-


کسی فن پڑے کی تشکیل کی رد تشکیل کرنے والوں نے بہت اہم کام کیا ہے-لکین انکے ٹکڑے کر دینے سے اور کسی بھی چیز کو تحلیل کر دینے سے فن پارہ تو ہاتھ نہیں آیا-جیسے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسجین میں تحلیل کر کے پانی کی حقیقت سمجھ نہیں آتی اور نہیں پانی ہاتھ آتا ہے-


جب بھی کوئی تخلیق وجود کے سانچے میں ڈھلتی ہے تو وہ ایک انقلابی جسٹ سے یہاں تک آتی ہے-وہ جن اجزا سے مل کر بنتی ہے اس کی کاصیت ان اجزاء سے الگ ہوتی ہے-اس کی مکلم کایا کلپ ہو جاتی ہے-


ایک بڑا تخلیق کار خود اپنی ذات میں ایک مکتبہ فکر ہوتا ہے-لوگ اسے اپنے اپنے خانے میں اور اپنے بنائے ہوئے چوکھٹے میں فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس ذات کی وحدت کو اور اس کی تخلیق کو ٹکڑوں میں بانٹنے کے مرتکب ٹھہر جاتے ہیں-


بس پھر وہ ذات کہیں گم ہو جاتی ہے اور اس ذات کے نام پر درباری لوگ اپنی دوکان کھول کر بیٹھ جاتے ہیں-


اب رومی کی ذات کو دیکھ لیں-کچھ لوگ اس کو سنی اور کچھ لوگ اس کو شیعہ ثابت کرنے پر سارا زور صرف کرتے رہے -لکین وہ تو اپنی ذات میں مسلک اور ایک فلسفے کا نام ہے اور رہے گا-وہ سب کئے لئے روشنی اور خواب سے بنے لفظوں کو پا لینے کے سفر میں مدد دینے والا آدمی ہے-اس کو خانوں میں بانٹے والے اس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے-رومی جیسے لوگوں کی کئے جہات ہوتی ہیں-ان کے ہاں کئے زمان اور کئے مکان ہوتے ہیں-آپ ان کو ایک وقت اور ایک مکان میں قید کر نہیں سکتے-ان کی خاص مکانیت اور خاص زمنیت اپنی جگہ لکین اسی میں سے تو ان کی آفاقیت برآمد ہوتی ہے-یہ بات رومی کی بارے میں جتنی سچ ہے اس سے کہیں زیادہ یہ علی کے بارے میں سچ ہے-علی کی ذات کا جوہر ان کا علم .ان کی معرفت ہے-جس کو دریافت کرتے کرتے آج ہم اس نیتجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ علی خود ایک مکتبہ فکر ہے اور ان کا کوئی ہم عصر ان تک نہیں پہنچ پایا-اب اگر علی کی ذات کو خانوں میں بانٹنے والوں کی تعداد دیکھی جائے تو وہ تو گننے میں نہیں آتی-لکین علی اور اس کی تخلیق کی وحدت اپنی جگہ قائم ہے-

اگر آپ اردو ادب میں اس حوالے سے جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ ہمارے یہاں بھی تخلیق کر اور اس کی تخلیق کو خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کی کوشش نے بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیا-جب ترقی پسندی کا شور بلند ہوا تو بہت سے نقاد ایسے تھے جن کو والی دکنی سے لیکر غالب تک سب شاعر غیر ترقی پسند نظر آئے-اسی لئے ایک صہب نے تو یہ کیا کہ حافظ کو کی متروک اور ترقی پسندی سے خالی قرار دے دیا-کچھ اقبال پر برس پڑے -کچھ کو منٹو غیر ترقی پسند لگا-کچھ عصمت چغتائی کے سر ہو گئے -آئینی آپا کی تخلیق بھی ان کو نہ بھائی -لکین وقت نے ان کی تخلیق کو زندہ رکھا-ان کی تخلیق کو قاری بے بہا ملے-"آگ کا دریا " لحاف " کھول دو " سب آج بھی زندہ ہیں-تین نسلیں ان کو متواتر پڑھتی آ رہی ہیں-اب ترقی پسند بھی منٹو کو یاد کرتے ہیں اور وہ بھی جنہوں نے مولوی اشرف علی تھانوی اور ماجد دریا آبادی سے ڈر کر ان کو اسلام دشمن قرار دے ڈالا تھا-

پھر وہ لوگ بھی سامنے آئے جنھوں نے ادب برائے ادب کا نعرہ لگایا تھا اور انھوں نے تخلیق میں زندگی کو بلکل ہی خارج کرنا چاہا -ادب کو کسی اسلام پسند یا کسی سیاسی آمر کی خواہشات کے تابح کرنا چاہا -اس دور میں فیض ،جالب ،دامن جیسے لوگ بے نشان کرنے کی کوشش ہوئی-آج سب ہی فیض کا نام لیتے ہیں-جالب کو ضیاء کے شاگرد بھی لہک لہک کر پڑھتے ہیں-

تخلیق کبھی فنا نہیں کی جا سکتی-میں نے ایک دفعہ سوچا تھا کہ احمد ندیم قاسمی صاحب کا کیا جاتا اگر وہ حلقہ بگوش ضیا نہ ہوتے-ان کی اہل قلم کانفرنس میں جا کر اپنی ادبی زندگی کو داغ دار نہ کرتے -میں نے ان کی ایک فین کو یہ بات یاد دلائی تھی تو انھوں نے غصہ میں لکھا "کہ قاسمی صاحب اپنے فن اور تخلیق کی وجہ سے زندہ رہیں گے"

کون کافر ان کے فن کی موت چاہئے گا-کون ان کے افسانوں کی تخلیق کاری کا منکر ہوگا-لکین جو میں نے کہا وہ بھی غلط نہیں تھا-زندگی کو تصویر کرنے والا قاسمی جب ادیبوں کی پیٹھ پر پڑتے کوڑوں کی آواز نہیں سن سکا اور کسی کے عقیدہ کی وجہ سے اس کی آزادی کو سلب کرنے والوں کے بارے میں ایک حرف مذمت نہ لکھ سکا -تو پھر افسوس تو ہوتا ہے نا-

No comments:

Post a comment