Monday, 3 October 2011

ایک آتنک واد کی کتھا

ایک آتنک واد کی کتھا

عامر حسینی

میں کوئی گاندھی واد بھی نہیں تھا

میں کوئی عدم تشدد کا پیرو بھی نہیں تھا

جو صبر شکر کر کے رہ جاتا

میں کوئی پیغمبر بھی نہیں تھا

جو فقیری کو اپنا فخر بنا لیتا

میں کوئی صوفی بھی نہیں تھا

جو قناعت کو اپنی ڈھال بنا لیتا

میری ذلت اختیاری نہیں تھی

میری مسکینی میرے بس میں نہیں تھی

میں تو نظام زر کا تھا ڈسا ہوا

بھوک میری شناخت تو نہ تھی

ننگ میرا لباس تو نہ تھا

میری محنت کبھی بیگانہ نہ تھی

میرا ثمر کبھی میرا اپنا بھی تھا

میں اپنے گاؤں میں خوش باش بستا تھا

میں جو جنگلے میں ان نکلا ہوں

کوئی نروان پانے نہیں نکلا

کسی برگد کے سائے میں

میں دھونی جمانے نہیں آیا

خلا میں آسمانوں سے پرے

دور آکاش پر کسی دیوتا سے نہیں ملنا مجھے

میرے ساتھ کیا ہوا کہ میں گھر سے بے گھر ہو چلا

میرے گاؤں میں لوہا نکل آیا ہے

میرا گاؤں ٹاٹا اور متل کو اچھا لگنے لگا ہے

وہ چند روپوں کے عوض مجھ سے میری زمیں مانگتے ہیں

ترقی کا نام دیکر میری بستی اجاڑ دینے کی کوشش کرتے ہیں

میں اپنی زمیں چھوڑنا نہیں چاہتا

میں اپنی بستی ویران نہیں چاہتا

مجھے بھلا بڑی سڑک سے کیا لینا ہے

میں تو بس اپنی بستی کی زندگی بچانا چاہتا تھا

دہلی شہر کے رہنے والو

تم نے جو جنتر منتر میں

لندن کا ہائد پارک بنا رکھا ہے

وہاں میری کتھا کون سنے گا

میں نے اپنی تہذیب کو چمکتے ہندوستان کی قربان گاہ پر ذبح نہ کرنے کی مانگ کی تھی

ریاست نے لاکھوں سپاہ

میرا گاؤں فتح کرنے بھیج دی

گاؤں کو بچانے میں جنگل میں ان نکلا ہوں

یہاں ہتیار بند ہوئے ماؤ کے کامریڈ ہیں

جو ہمیں انوکھا مرن بھرت رکھنا سکھ رہے ہیں

اے کے فور رائفل

جو میرے کندھوں کو شل کئے دیتی تھی

اب مجھے اپنے وجود کا حصہ لگتی ہے

میں اپنے گاؤں کو سرمایہ کی مار سے بچانے نکلا ہوں

منموہن سنگھ لاکھ مجھے بڑا خطرہ کہے

میں اپنے گاؤں کو چمکتے ہندوستان پر قربان نہ ہونے دوں گا

میں جانتا ہوں

کسی دن باڈر فورس کے شیر جوان

کسی چوک پر

جعلی مقابلہ میں مجھے پار لگا دین گے

انعام و اکرام کے حقدار ٹھریں گے

دہلی کے میڈیا والے

میرے مرنے پر

حب الوطنی کے نغمے تیز کر دین گے

No comments:

Post a comment