Monday, 3 October 2011

نظم

نظم

(وزیر اعظم نے کہا تھا کے گمشدہ بلوچ اپنے گھروں میں عید منائیں گے -اس پر ایک سہاگن نے وزیر اعظم کو وعدہ وفا کرنے پر تہنیت کا پیغام بھجا ہے-)

امیر شہر کے وعدہ وفا کرنے پر

اے امیر شہر !

تجھے مبارک ہو ،

تو زبان کا دھنی نکلا

تو نے میری عید کو یاد گار بنا ڈالا

میرا سہاگ کل رات

کوہلو کی پہاڑی پر

مسخ شدگی کی حالت میں ملا ہے

وہ ایسا سویا ہے کے اٹھتا نہیں ہے

ایک لمبا رت جگا اس نے کاٹا ہے

اس کی آنکھوں کو اب کھلے رہنے کی عادت ہو گئی ہے

اس کے چہرے پر نجانے کیوں نقش ہے

یسوع مسیح کا مصلوب زدہ چہرہ

مجھ سے گھنٹوں باتیں کرنے والا

میری جدائی کا ایک لمحہ قیامت سمجھنے والا

نجانے کیوں چپ ہے

ہجر کی لمبی راتوں کا احوال سناتا نہیں

وصل کی آرزوں میں بیتے پلوں کی کہانی سناتا نہیں

میں نے اس کو بھیجا تھا ،جا کر شہر سے سودا لے آئے

نجانے کیا ہوا

برسوں بعد لوٹا ہے

خود چل کر نہیں آیا

لال بتی والی گاڑی

وہ دل دھلانے والا سائرن

اس سے نکلا ایک سٹریچر

اس میں سفید چادر میل لنپتا وجود

جس کی شکل نہیں پہچانی جاتی

مگر اس کو چھوتے ہی مجھ بد نصیب کو

اس کے ہاتھوں کے لمس یاد آگئے

پہچان گئی ہوں میں اس کو

جان گئی ہوں میں

امیر شہر نے وعدہ پورا کر ڈالا

مجھ سہاگن کا سندور اجڑ گیا ہے

امیر شہر کا وعدہ پورا ہو گیا ہے


عامر مستجاب حیدر

No comments:

Post a comment