Monday, 3 October 2011

خواب گری کا شوق(افسانہ)

خواب گری کا شوق(افسانہ)

جناح ہال میں آج اس کی کتاب کی تقریب رونمائی ہونے جا رہی تھی-وہ آج بھی معمول کی ترہ آسمانی کلر کی قمیض اور سفید رنگ کی شلوار اور اس پر سرخ کولور کا دوپٹہ پہن کر ہال میں داخل ہوئے تھی-ہال دلہن کی طرح سجا ہوا تھا -سامنے سٹیج پر تین کرسیاں رکھی ہوئیں تھیں-ایک پر اسے براجمان ہونا تھا-دوسری کرسی پر تقریب کی صدارت کرنے والی خاتون نے براجمان ہونا تھا-تیسری کرسی سٹیج سیکرٹری کی تھی-کرسیوں کے عقب میں دیوار پر ایک بڑا بینر آویزاں تھا-جس پر اس کی کتاب کے ٹائٹل کا عکس چھپا ہوا تھا-اس تقریب کا اہتمام اس کے اپنے دوستوں نے زبردستی کیا تھا-وہ تو کتاب بھی چھپوانا نہیں چاہتی تھی-یہ تو اس کی دوست ثانیہ ثمر زیدی نے اس کو مجبور کر دیا تھا-اس نے خود کمپوزنگ سے لیکر ٹرکنگ تک اور کتاب کے پریس میں جانے تک سارے کام کی نگرانی کی تو" خواب گری کے شوق میں "اس کا مجموعہ کلام سامنے آ گیا تھا-


وہ عجب طرح کا مزاج رکھتی تھی-وہ بہت چوٹی تھی تو ایک مرتبہ وہ سخت بیمار پڑ گئی-اس کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی-سب مایوس تھے-کہ اچانک اس کی بیماری ٹھیک ہونے لگی اور وہ پھر سے دیگیر بچوں کے ساتھ اسکول جانے لگی-اسکول میں اس کی ساتھ کی لڑکیاں اس کے صحت یاب ہونے پڑ حیرانی کا اظہار کرتیں تو اسے اپنے بچ جانے پر سخت افسوس ہوتا تھا-بارش میں بھیگنے کا اس کو شوق تھا لکین وہ بارش میں بھیگنے کی ہمت نہ پاتی تو اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دیتی-ایک دن اس کی خالہ نے اسے ایسا کرتے دیکھا تو اسے کہا کہ اوپر والہ بھی ہمت کرنے والوں کی سنتا ہے-بس اس کے بعد وہ ہر کام کر گزرتی تھی-وہ بچپن سے ہی کائنات میں تضاد اور بوقلمونی کو دیکھ کر حیران رہ جاتی تھی-اسے اس تضاد کا سادہ جواب پسند نہیں آتا تھا-اسی لئے اس کے ہاں لفظوں کی تشکیل سے جو بھی نثر اور شاعری سامنے آتی تھی وہ عام طرز سے ہٹ کر تھی-


اسے چاند،ستاروں،قمر اور قمریوں میں جو نظر آتا تھا وہ اوروں سے ہٹ کر تھا-اس نے جیسے جب یہ سفر شروع کیا تھا تو سب اس کے ادبی نشیب و فراز جو چانچنے سے زیادہ اس کے جسمانی نشیب و فراز میں زیادہ دلچپی رخت تھے-ان کو وہ جھلی لگتی تھی -کیونکہ اس کی شاعری میں راتوں کو بدن کے سلگنے کا تذکرہ نہیں ہوتا تھا-کسی فرضی غم گساری اور چارہ سازی کا ذکر نہ تھا-وہ وصل کے تجربوں کو شعری تجربے کا حصہ نہیں بناتی تھی-اس کی عادت تھی کہ وہ دوہرے پن کو برداشت نہیں کر سکتی تھی-ایک مرتبہ کالج میں ایک میل استاد اس کو آزادی نسواں کا لیکچر جھاڑ رہے تھے-ساری کلاس میں ان کی نظروں کا محور و مرکز وہ تھی -تو اس نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر کہا"مردوں کی آزادی نسواں کے نعروں کے پیچھے بھی ایک اور مکر سے عورت کو قید کرنے کا حربہ چھپا ہوتا ہے-مرد کے ساتھ کوئی اور،ذہن میں کوئی اور،اور بستر پر کوئی اور ہی ہوتی ہے-یہ سنکر میل استاد سٹپٹا گئی-اور اس کے بعد ان کے آزادی نسواں کے لیکچر بھی بند ہو گئی-

وہ اکثر ایسی حالت جذب سے گزرتی ججب سارے لوگوں سے بیگانہ ہو جاتی -اس کی زندگی کے قریب رہنے وقلی ثمر بھی اسے اجنبی لگنے لگتی تھی-نجانے اسے کیا ہو جاتا تھا-بس ایسا لگتا کہ کوئی نہ تو اس کے دماغ میں ہے اور نہ اس کے خارج میں کوئی ہے-

آج صبیح اپنے اعزاز میں ہونے والی تقریب کے لئے ہال کی طرف جاتے ہوئی اسے خیال آیا تھا کہ نجانے کیا اس کے کلام بارے کہا جائے گا-اس کا تو کوئی استاد بھی نہیں تھا-کیوں کہ جن فکری جذبوں کا وہ اظہار کرتی تھی وہ اجنبی لگتے تھے-اب بھلا ایک عورت لب و رخسار کی باتیں نہ کرے -اپنے وصل اور ہجر کی کہانیاں نہ سنائے تو کیا وہ شاعری ہوتی ہے؟

یہ سب سوچتی ہوئی وہ ہال میں داخل ہوئی -تو ہال بھر چکا تھا-مرد و عورتوں کی تیاری دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کسی فیشن شو کی تیاری ہو یا مقابلہ حسن ہونے والا ہو-وہ سٹیج پر بلائے گئی تو اسے سچ جبوں،خوبصورت آواز کی مالک شاعرہ کا خطاب دی دیا گیا-سلسلہ تقاریر شروع ہوا تو ہر مقرر ان سے ذاتی شناسی کا اظہار کرتا اور پھر ان کی کتاب کی بجائے صاحب کتاب کی سکرینگ کرتا رہا-اس کو احساس ہو رہا تھا یہاں شاعری کی بجائے کسی اور شے کا ذکر مقصود ہے-اس کو بلایا گیا تو اس نے ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ ڈالا -اور "خواب گری کے شوق "میں جس جس کو چھپانے کی کوشش کی گئی تھی اس کو بیان کرتا گئی-اس نے وہ سارے تار و پود بکھر دے جو اس دوران مہا نا قدان ادب نے بنے تھے-اس کو اس دوران سارا منظر دھندلا دھندلا نظر آ رہا تھا-جب اس نے تقریر ختم کی تو دیکھا ہال میں چن لوگ بیٹھے تھے-کچھ مرد اور کچھ عورتیں -شائد وہ بھی اس کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے-اس نے ان کا شکریہ ادا کیا -اور بوجھل قدموں کے ساتھ ہال سے نکل گئی-

( عامر مستجاب حیدر )

No comments:

Post a comment