Monday, 3 October 2011

پراگندہ طبع لوگ (تیسرا حصہ

پراگندہ طبع لوگ (تیسرا حصہ

قبانی نے ایک نظم لکھی "ایک جھلی عورت کا خط "کیا کمال کی نظم تھی-قدامت پرستوں اور نام نہاد عورت کی آزادی کے علمبردار مردوں پر گہرا طنز -میری ڈائری میں اس کا اردو ترجمہ لکھا ہے -میں اس کو درج کرتا ہوں-


ایک جھلی عورت کا خط

میرے پیارے آقا ،

یہ خط ایک جھلی عورت نکی طرف سے ہے-

کیا تم کو لکھنے والی عورت جھلی ہے؟

میرا نام؟

آقا ناموں میں کیا رکھا ہے؟

رائنا ہو کہ زینب ،

ہند ہو کہ حیفہ ،

نام وام کو ایک طرف رکھو

دنیا میں یہ نام تو ہیں جو ہمرے پاس سب سے احمقانہ شے ہوتے ہیں-

٢

میرے آقا

میں اپنے خیالات تم پر ظاہر کرنے سے ڈرتی ہوں

مجھے لگتا ہے -اگر میرے خیالات کھلے تو ،

تمہاری جنت ان سے جل کر راکھ ہو جائے گی-

میرے آقا

تمہارا

مشرق

محبت کے نیل گوں خطوط ضبط کر لیتا ہے-

عورتوں کے سینے میں چھپے خوابوں کے خزانے لوٹ لیتا ہے-

عورتوں کے جذبات پر یہ اپنے جبر کی مشق کرتا ہے-

یہ چا قو استمعال کرتا ہے

کہیں بھالے اٹھا لاتا ہے-

بہار اور جذبات کے لئے

عورتوں کے بات کرنے پر

یہ قصائی بن کر آتا ہے-

ان کی سیاہ گندھی چوٹیوں کو کاٹنے کے درپے ہوتا ہے-

مرے آقا

تمہارا مسرق

اپنے دلکش تاج

عورتوں کی کھوپڑیوں سے بناتا ہے-

٣

میرے آقا

مجھ پر برافروختہ مت ہوں،

اگر میرا خط شکستہ ہے-

میں تو اس کو یوں لکھتی ہوں

کے دروازے کے پیچھے جلاد تلوار بدست کھڑا ہے-

اور میرے کمرے کے باہر

صر صر چلتی ہے-

کتے بھونکتے ہیں -

میرے آقا

انٹر ال عبیس میرے کمرے کے باہر کھڑا ہے-

وہ مجھ کو ذبح کر ڈالے

اگر اس خط کو پالے

وہ میرے صر کو تن سے جدا کر دے

اگر میں خود پر ہونے والے ظلم بیان کر دوں-

وہ مجھ کو ذبح کر دے

اگر میرے لباس کی باریکی دیکھ لے -

میرے آقا

تمہارے مشرق نے عورتوں کو

نیزوں سے گھیر رکھا ہے

میرے آقا

تمہارا مسرق

مردوں کو پیغمبر منتخب کرتا ہے-

اور

عورتوں کو مٹی میں گاڑ دیتا ہے-

٤

No comments:

Post a comment