Thursday, 27 October 2011

بابا غنی (افسانہ ) عامر حسینی

غنی احمد چک ٣٤ ٹن آر کا رہنے والا تھا-اس کو سب بابا غنی کہتے تھے-وہ فوج میں سپاہی بھرتی ہوا تھا-ایک دن اس کو فوج سے یہ کہ کر ریٹائر کر دیا گیا کہ وہ اب فوج میں خدمات سر انجام نہیں دے سکتا-حالانکہ اس کی عمر بھی زیادہ نہیں تھی-وہ محض ٣٥ سال کا تھا-
سپاہی کی پوسٹ سے ریٹائر ہونے والوں کو افسروں کی طرح نہ تو رقبہ ملتا ہے-نہ ہی کوئی پیسہ بنانے کا موقعہ -وہ تو بس ریٹائر ہونے کے بعد یا تو کہیں دکان ڈال سکتے ہیں -یا پھر سیکورٹی گارڈ کے طور پر بھرتی ہوسکتے ہیں-غنی احمد نے بھی اپنے چک واپس آ کر سبزی کی دکان کرنا شروع کردی تھی-
گھر میں اس کی بیوی ،اور ایک بیٹا تھا جو ابھی سات سال کا تھا-وہ صبیح سویرے اٹھتا -فجر کی نماز پڑھ کر وہ چک کی سولنگ پار کرتا ہوا اس سڑک کے کنارے آ جاتا جہاں سے وہ اس رکشے میں بیٹھ جاتا جو شہر سبزی منڈی کی طرف جا رہا ہوتا تھا-اس میں اور بھی لوگ ہوتے جو سبزی منڈی کی طرف جا رہے ہوتے تھے-منڈی سے وہ سودا خرید کرتا اور واپس چک آ جاتا-
وہ ٣٥ سال کا تھا لکین سب اس کو بابا غنی کہتے تھے-وجہ یہ تھی کہ وہ دیکھنے میں ٦٠ سال کا لگتا تھا-اس کے سر کے سارے بال سفید ہو گئے تھے-جن کو اس نے لال مہندی کے خضاب سے رنگا ہوا تھا-اس کی مونچھوں کے بال بھی سفید ہو گئے تھے -ان کو بھی مہندی کے کذاب سے رنگے رہتا تھا-اس کے چہرے اور ہاتھوں کی جلد بھی مرجھا چکی تھی-وہ اسی لئے کسی کے اس کو بابا غنی کہ کر بلانے پر برا نہیں مناتا تھا-
وہ ایسا نہیں تھا-وہ تو اپنے گاؤں کا سب سے کڑیل جوان تھا-اس کی چھاتی بہت چوڑی تھی-قد اس کا ٦ فٹ سے بھی زیادہ تھا-اس کے کندھے چوڑے تھے-رنگ خوب گورا تھا-اس کے بازو کی مچھلیاں اس کی قمیض کو پھاڑ کر باہر آنے کو لگتی محسوس ہوتی تھیں-وہ چلتا تو اس کے چلنے سے زمین میں جو دھمک پیدا ہوتی -تو لوگ سمجھ جاتے غنی جا رہا ہے-وہ چک کے کئی جوانوں میں کھڑا دور سے نظر آ جاتا تھا-آج تک کوئی کبڈی میں اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکا تھا-اور اس کی پکڑ میں جو آ جاتا وہ پھر بھاگ نہیں پاتا تھا-
اس کی کڑیل جوانی ہی اس کو فوج میں لیجانے کا سبب بن گئی تھی-اسے یاد تھا کہ کیسے اس کے گاؤں میں فوج کی بھرتی والی موبایل وین ائی تھی-اور اس میں موجود ایک حوالدار نے اس کے قد کاٹھ کو دیکھ کر اس کو فوج میں بھرتی ہونے کو کہا تھا-فوج میں جانے کا اس کو بھی بہت شوق تھا-بچپن سے وہ بھی فوج کے شیر جوانوں کے قصے سنتا آیا تھا-گاؤں کے بوڑھے اس کو جب ٦٥ کی جنگ کے قصہ سناتے تھے تو اس کے من میں بھی محاز پر جا کر کافروں سے لڑنے کی خواہش طوفان بن کر مچلنے لگتی تھی-وہ فوج میں بھرتی ہو گیا-وہ پنجاب رجمنٹ کا حصہ بنا -اس کی پہلی پوسٹنگ فورٹ عباس کے نزدیک سرحد پر ہوئی تھی-وہ جن جذبوں کو لی کر فوج میں گیا تھا -اس پہلی پوسٹنگ پر ہی اس کو اپنے جذبے ماند پڑتے نظر آئے -جب اس نے اپنی یونٹ کے میجر صاحب کو سرحد پار سے شراب کی سمگلنگ کرنے والوں سے رشوت وصول کرتے اور ان کے ساتھ شراب و شباب کی محفلیں سجاتے دیکھا-اس کی یونٹ کے لوگ ملک میں مارشل لاء لگ جانے پر ایک کرنل صاحب کے ساتھ واپڈا میں مانٹرنگ ٹیم کے طور پر بھی کام کرنے گئے تھے-اس دوران اس نے اپنے کرنل کو رشوت لیتے اور ٹھیکے پاس کرنے کی قیمت وصول کرتے بھی دیکھا تھا-
ایک مرتبہ وہ جب کشمیر میں چکوٹھی سیکٹر میں تھا تو وہاں ایک استاد سے اس کی دوستی ہو گئی-اس نے ٦٥ کی جنگ بارے اس کو بتایا تھا کہ یہ جنگ جیتی نہیں بلکہ ہاری گئی تھی تو اس کو پہلے یقین نہ آیا -لکین جب اس کو ایک ریٹائر برگیڈئر جو کے استاد کا دوست تھا نے بتایا تو بڑا حیران ہوا تھا کہ کیسے اس کے ملک میں تاریخ کچھ کی کچھ بنا دی جاتی تھی-
اس نے دوران نوکری فوج میں طبقاتی تقسیم کو بھی بہت نزدیک سے دیکھ لیا تھا-افسروں کے میس سے لیکر گھر تک الگ تھے-اور ان کو سب کچھ ملتا تھا-اور وہ صرف ملٹری ڈیوٹی ہی نہیں کرتے تھے-بلکہ افسروں کی بیویوں اور بچوں کی چاکری کرتے تھے-اس نے اسی دوران سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے بچے کو لکھا پڑھا کر افسر بنائے گا-
وہ ریٹائر ہونے کے بعد سخت محنت کر رہا تھا-لکین اس کے اندر لگتا تھا کہ ٹیزیسے کوئی شے کم ہو رہی تھی-وہ اپنی زندگی کو بہت بچا کر خرچ کر رہا تھا-لکین لگتا تھا کہ وہ بہت تھوڑی ہے جو بچانے کے بعد بھی ختم ہوتی جاتی ہے-کچھ دنوں سے اس کا بایاں بازو بہت درد کرنے لگا تھا-کبھی کبھی کندھوں میں پیچھے کی طرف زبردست دباؤ محسوس ہوتا تھا-بازو سن ہو جاتا تھا-اس نے درد کی گولیوں کا پتہ خرید کیا اور صبیح شام دو گولیاں کھانی شروع کر دیں-درد کم نہ ہوا -تو ایک دن شہر ڈاکٹر کے پاس چلا گے-اس نے کوئی چار پانچ ٹسٹ لکھ کر دے دئے اور بازار کی دوائیاں بھی-اس نے سب کو پھاڑ کر پھینک دین-گھر واپس آیا تو بیوی نے پوچھا کہ ڈاکٹر نے کیا کہا؟تو کہنے لگا "الله کی بندی ڈاکٹر کہتا ہے کہ تو چنگا بھلا ہے-معمولی سا درد ہے-ٹھیک ہو جائے گا-"یہ سن کر اس کی بیوی کہنے لگی کہ اتنے دنوں سے گولی کھا رہے ہو تو ٹھیک کیوں نا ہوا/صغرا !مجھے کچھ نہیں ہوا-اب تو درد بھی کم ہے-اس نے جھوٹ بولا-لا مجھے روٹی دے-اس کی بیوی نے اس کو کھانا دیا -اس نے کھانا کھایا -اور پھر جا کر وہ چارپائی پر لیٹ گیا-
چارپائی پر لیتے لیتے اس کو خیال آیا کہ اس کی جوانی کو شائد گھن نہ لگتا اگر وہ سیاچن نہ جاتا-وہ کشمیر کے محاذ پر تھا جب اس کو کئی اور یونٹوں سے چنے فوجیوں کے ساتھ سیاچن جانے کا حکم ملا-وہ اور اس کے ساتھ لام ہیلی کاپٹر کے ذریے سیاچن بنی ایک چاک پوسٹ پہنچا دئے گئے-ہر طرف برف ہی برف تھی-وہ ہر طرح سے بند لباس میں ہونے کے باوجود بھی سردی کو اپنی ہڈیوں میں گھستا محسوس کرتے تھے-برفپوش پہاڑ نا جانے اسے کیوں لگتا تھا کہ ان کی آمد سے ناراض تھے-اس کو یہ گھورتے ہوئے اور ناراض ناراض سے نظر آتے تھے-اس کو لگتا کہ پہاڑوں کے درمیان ہر طرف بارود کی بو اور خون کی سرانڈ پھیلی ہوئی ہے-بعض اوقات بدبو سے اس کا سر پھٹنے لگتا تھا-اور وہ الٹیاں کرنے لگتا-اس کو اپنی جوانی جمتی ہوئی لگتی تھی-سیاچن میں آئے اس کو تیسرا سال تھا -جب اس کو چکر آنے لگے-سانس پھولنے لگا-اور اس کے سر اور مونچھوں کے بال یک دم سفید ہونے لگے-پھر اس کو سان چڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹانگوں اور ہاتھوں کی جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی-ایک روز وہ بیہوش ہو کر گر پڑا-ہوش میں آیا تو وہ ملترے کے عارضی ہسپتال میں تھا-جہاں پر اس کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے کے بعد اس کو سیاچن کے لئے ان فٹ قرار دے دیا گیا-وہ اپنی یونٹ میں واپس آ گیا-وہاں اس کو پھر طبی معائنہ کرانا پڑا -اس چیک اپ کے بعد اس کو فوج سے مکمل طور پر ریٹائر کر دیا گیا-جب وہ واپس اپنے چک آیا -تو جیسے ہی وہ بڑی سڑک سے اپنی چک کو جاتی سولنگ پر چڑھا تو راستے میں کئی اس کے چک والوں نے اس کو نہ پہچانا -اس کے بچپن کا دوست چھیما جب اجنبیوں کی طرح اس کے قریب سے گزرنے لگا تو اس نے بختیار اس کو آواز دے ڈالی-وہ اوز سن کر پلتا اور قریب آ کر جب غور سے اس کو دیکھنے لگا -اور اچانک چیخ کر بولا اوے یہ توں اے غنی -اور وہ بھی بہت حیران تھا اور دکھی بھی تھا -اس کو اس حال میں دیکھ کر-اس نے چھیمے کو بتایا تھا کہ ووہی نہیں سیاچن جانے والے اکثر سپاہی اسی عذاب میں گرفتار ہو جاتے تھے-گھر آیا تو اس کی بیوی کافی دیر سکتے میں کھڑی رہی-اس کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ اس ا مجازی خدا ہے-جس کی جوانی پر سارا چک رشک کرتا تھا-وہ جب چک میں لوگوں کو ملنا شروع ہوا تو اکثر اس کی عمر سے بڑے لوگوں نے اس کو بابا غنی کہ کر بلانا شروع کر ڈالا -تو وہ سارے چک کا بابا غنی بن گیا-یہ سب سوچتے ہوئے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی-اور وہ سو گیا -صبیح سویرے وہ اٹھا -وضو کر کے مسجد کی طرف چل دیا-اس کے بازو میں سخت درد تھا-اس نے بیوی کو بتانا مناسب نہ سمجھا کہ وہ پریشن ہوگی-مسجد میں جماعت کھڑی ہوچکی تھی -ایک رکعت گزر چکی تھی-اس نے امام کے پیچھے نیت باندھی اور کھڑا ہو گیا-اس کو کھڑا ہونے میں اور بازوں پیٹ کے گرد باندھنے میں سخت تکلیف ہو رہی تھی-اس نے بڑی مشکل سے نماز ادا کی-اور جب وہ باہر آیا تو ابھی دو تین قدم چلا ہوگا کہ اس کو محسوس ہوا کے کمر میں کندھوں کے درمیان کا درد اب آگے سینے کو توڑ کر باہر کو نکلنے کی کوشش کر رہا ہے-اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی -لکین تیز چکر آیا -اور سینے میں ایک شدید لہر درد کی اٹھی اور اس کی آنکھوں میں اندھیرا آیا -اور وہ دھڑام سے نیچے گرتا چلا گیا-مسجد سے نماز پڑھ کر نکلنے والوں نے اس کو گرتے دیکھا تو اس کو سنبھالنے کے لئے آگے بڑھے -مگر وہ گر چکا تھا-پاس جا کر نبض چیک کی وہاں تو کوئی جنبش نہیں تھی-پاس ایک گھر سے چارپائی پر اس کو ڈالا -اور اس کے گھر کی طرف لیکر چل پڑے-
صغراں ابھی بس نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی کہ دروازہ پر دستک ہوئی-وہ دروازہ پر گئی-پوچھا کون ہے/
دروازے کے پیچھے سے آواز ائی -صغراں پتر دروازہ کھول میں ماسی بشیراں ہوں-صغراں نے دروازہ کھول دیا-ماسی بشیراں اندر داخل ہوئی اور آتے ہی سینے پر دوہتر مار کر کہنے لگی-صغراں توں اجڑ گئی-تیرا سہاگ نہیں رہا-اتنے میں کچ مرد ایک چارپائی اٹھائے اندر آ گئے-اس پر غنی احمد لیتا ہوا تھا-چک کی اور عورتیں بھی صحن میں آ گئیں تھیں-کسی نے اس کے بیٹے کو جگایا اور کہا پتر تیرا پیو نہیں رہا-فوت ہونا کیا ہوتا ہے-یہ اس معصوم کو سمجھ میں نہیں آیا-اس کے باپ کا سوئم ہو گیا تو اس کی ماں نے اس سے کہا کہ پتر ہن تو سکول نہی جانا-دوکان کھولنی ہے-ماسی بشیراں کے پتر کے ساتھ توں سبزی منڈی جایا کر-اگلی صبیح وہ مونہ اندھیرے اٹھا اور چک سے سولنگ والے رستے پر چل پڑا -وہ چلتا ہوا سوچتا جاتا تھا کہ جن کے ابا نہیں ہوتے -وہ سکول نہیں جاتے-اور کیا اسی کو فوت ہونا کہتے ہیں-پیچھے گھر میں اس کی ماں کی سسکیاں ابھر رہی تھیں-وہ غنی کی تصویر کے سامنے کھڑی ہو کر کہ رہی تھی کہ زیشان کے پو مینوں معاف کریں میں تیرے پتر نوں افسر نہ بنا سکی -

No comments:

Post a comment