Monday, 3 October 2011

ایک دوست کا خط عامر حسینی کے نام -جو کبھی حقیقت تھا -اب خواب کیوں ہو گیا ؟

لوگ کتنی جلدی بدل جاتے ہیں-اس کا احساس مجھے کیوں ہوا اب یہ تو بتانا کچھ اچھا نہیں لگتا -لکین اتنا کہوں گا کہ لوگ جب کبھی جذبات میں بات کرتے ہیں تو وہ جو کہتے ہیں ان کو سچ سمجھ لینے سے دکھ بھو گنے پڑتے ہیں-ایسے میں آپ کو گزرے پلوں کی یاد ستانے لگتی ہے اور وہ سارے لحمے یاد آتے ہیں جب کوئی آپ پر بہت مہربان ہوا کرتا تھا-اس کے پیغمات سے آپ کے موبائل کا ان بکس بھر جاتا تھا-اور کبھی جو جواب میں دیری ہوتی تھی تو مس یو ،مس یو کے پیغامات آپ کے دل و دماغ پر اتنی شدت سے دستک دیتے تھے کہ آپ کو لگتا تھا کہ آپ کوئی خاص چیز ہیں اس دنیا کی-آسمانوں میں اڑنا کیسے کہتے ہیں؟اس وقت آپ کو سمجھ آتا تھا-لکین یہ کیفیت ہمیشہ تو نہیں رہتی -کیونکہ کبھی کسی وقت آپ کو اپنے دامن سے وابستہ کرنے والے کو لگتا ہے کہ اس نے جو بھی جذبات میں کہا اس کفیت سے وہ گزر گیا ہے-اور آپ تو اسی مستی اور اسی جذب میں کھڑے ہوتے ہیں-یہ سب کچھ کیوں ہوتا ہے-اس سوال کا جواب شائد ہم کبھی نہ پا سکیں کیونکہ جذبات کی dniya میں سوچ و بچار تو کم ہی ہوتی ہے-ابھی زیادہ دن نہیں گزرے maire ایک دوست نے مجھے بتایا کہ کیسے وہ اسی کیفیت سے گزرا تھا-اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں"بہرحال مجھے kitna عرصہ لگے گا اس حالت سے باہر آنے میں ؟اس کا تو پتا نہیں لکین ایک بات ہے حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو آدمی باہر اس سے آ ہی جاتا ہے-لکین کیا میں کسی اور کے عہد و پیمان میں جکڑا جاؤں گا؟اب یہ بھی درست ہے کہ ہر انہونی کے بعد آدمی عہد کرتا ہے کہ اب وہ یہ کام نہیں کرے گا لکین وہ پھر کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے _


(ایک دوست کا خط جو اس نے مجھے اس وقت لکھا تھا -جب وہ تازہ تازہ واردات اسحق میں زخم کھا کر نکلا تھا-دوست اب بھی سلامت ہے-اس کا اسحق بھی لکین کسی نئے تجربے کی خبر نہیں ہے-)

No comments:

Post a comment