Monday, 3 October 2011

ایک تھی عورت (افسانہ )

ایک تھی عورت (افسانہ )

رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیل گیا تھا -جب وہ ایک چادر میں لپٹی تھکے تھکے قدموں سے کوڑے کے اس دھیر تک پہنچی جہاں اس نے شام کو گزرتے ہوئے ایک مری ہوئی مرغی کو پڑے دیکھا تھا -اس نے اپنے سارے بدن کو ہر طرف سے چھپا رکھا تھا-صرف اس کی بڑی بڑی آنکھیں اس چادر سے دکھائے دے رہی تھیں-جب وہ کوڑے کے دھیر پر پہنچی تو اس نے چادر سے اپنا ایک ہاتھ نکالا -ہاتھ پر ساری رگیں جیسے باہر نکلنے کو تھیں اور ان میں نیلاہٹ جھلک دکھلا رہی تھی-خون تو جیسے اس میں تھا ہی نہیں ہاتھوں کی جلد سکڑی ہوئے لگتی تھی-حوادث زمانہ سے گزری اس عورت پر نہ جانے کیا بیتی تھی کہ وہ ایک کوڑے پر مردہ مرغی کو اٹھانے چلی آئے تھی-سارا بدن چادر کے اندر کانپ رہا تھا-اس کی آنکھوں میں دیکھ جانے کا خوف تھا-کوڑا تو کسی کی ملکیت بھی نہ تھا پھر یہ کیسا خوف تھا جو آنکھوں میں جھلک رہا تھا-اس خوف کی تاثر اس قدر تھی کے سارے بدن پر لرزہ طاری تھا-سفید پوشوں کے ہاں دیکھ لئے جانے کا خوف ہی تو ان کی زندگی کے جہنم میں کئے اور جہنم پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے -یہ چادر اسی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے تو اس نے پہن رکھی تھی-اس کی سری مجبوریاں،اور غربت سے جنم لینے والے سارے عذاب اس چادر میں چپے تھے-آنکھیں بھی عجب چور ہوتی ہیں کہ سری کہانی بلکہ سارا وجود اور داستان حیات ان میں سمٹ کر آ جاتی ہے-اب جب سارا وجود چادر میں چب گیا تھا تو اس کے وجود پر گزرے سارے عذابوں کی کہانی سمٹ کر اس کی آنکھوں میں آ گئے تھی اور اس کے بدن کی کپکپاہٹ میں اس کہانی کا ظہور ہو رہا تھا-کوڑے پر وہ خاتون بس کچھ دیر ہی ٹھہری تھی-لکن وقت تو جیسے وہیں کوڑے پر ٹھہر گیا تھا-یہ منظر آنکھوں میں کیا دماغ میں نقش ہو گیا تھا-اسے کوڑے کے ڈھیر سے گھر آتے ہوئے اپنی زندگی کے سارے بیتے پل یاد آنے لگے تھے -اس کو سب کچھ یاد آنے لگا تھا-

وہ نارتھ ناظم آباد میں ایک کشادہ بنگلے میں آنکھ کھولنے والی لڑکی تھی-کیا خوش اور بے فکری میں گزرا تھا اس کا بچپن-گھر سے اسکول اور اسکول سے کالج اور پھر یونی ورسٹی تک کا سفر بہت بے فکری کا دور تھا-اسی دور میں اس کی شادی کا وقت بھی آ گیا تھا-اس نے ماں باپ کی پسند کے آگے سر جھکا دیا-اپنے سارے خواب دفن کر لئے اور ایک طرح سے اپنے پیدا ہونے کا سب سے بڑا کفارہ اتار دیا-کوشش کی شوہر جیسا بھی ہے اس کے ساتھ نباہ کیا جائے-مجزی خدا پہلے دن سے اس کی تعلیم سے بہت خوف زادہ تھے-ووھب خود میٹرک پاس تھے -اکثر اس کو کہا کرتے کہ زندگی کی حقیقت بس دو جمع دو برابر چار میں چھپی ہے-اس کو کوہلو کا بیل بنانے میں بھی یہی جزبہ کار فرما تھا-ایک دن کسی بات پر اس نے اختلاف کی جرات کر ڈالی تو اچانک مجازی خدا بھڑک اٹھے اور پھر زندگی میں پہلی دفع اس نے وہ کلمات سنے جو سیسے کی طرح اس کے کانوں میں انڈیلتے دکھائی دئے-پھر زیادہ پڑھنے کو سارے فساد کی جڑ کہا گیا-وہ اپنی ذات پر ظلم شائد زیادہ دائر برداشت نہ کر پاتی لکین اس کے پاؤں میں دو معصوم زنجیریں دل دی گئیں جن کے مستقبل کا خیال کر کے اس نے سارے ستم برداشت کرنے شروع کر دیے-

ماں باپ کیا مرے -بھائیوں نے تو جیسے اس کو مرا ہوا فرض کر لیا -اور جب کبھی ڈھیٹ بن کر وہ ان کے گھروں میں چلی جاتی تو اس کے بھابیوں کی نظروں میں چھپے تمسخر اور طنز کے نشتر جیسے اسے چلنی کر ڈالتے تھے-وہ روح کے زخموں پر مرہم رکھنے بابل کے گھر آتی تھی تو مزید زخمی ہو کر گھر چلی جاتی تھی-جہاں کئے اور نشتر اس کے انتظار میں ہوتے تھے-اس کے مجزی خدا کو کالج اور یونیورسٹی مادر علمی کی بجائے شائد ڈیٹ پوائنٹ لگتی تھیں-جبھی تو وہ اکثر اس سے پوچھتا تھا کہ اس زمانے میں اس کے دوست کون تھے-بظاہر لہجہ پرسکون ہوتا اور وہ یس کو نارمل بات بھی کہتا لکین اسے پتا تھا کہ یس سب کے پیچھے اس کا کیا مقصد ہے-اب وہ بیچاری کیا بتلاتی کہ اس کو تو بےفکری کے دنوں میں وقت ہی ماہی ملا کہ وہ ان رازوں کو ٹٹولتی جو اس سماج میں مذہبی سختی اور ظاہر پسندی کے باوجود ساتھ ساتھ لوگوں کی خفیہ زنسگیوں کے گرنے سے مطلق تھے-

پھر ایک دن یوں ہوا کہ نجزی خدا کہیں صبیح گئے اور واپس آئے تو سٹریچر پر-وہ جو بھی تھا گھر کا کفیل تھا-وہ گیا تو گھر میں آمدنی کے سارے راستے بند ہو گئے -سماج کے خوف سے اس کو عدت میں بیٹھنا پڑ گیا-پہلے کچھ دن تو پڑوس سے کھانا آتا رہا پھر ایسا لگا کہ سب ان کو بھول گئے ہیں-اس کے چھوٹے بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی جب بھوک سے بلکل نڈھال ہو گئے تو اس نے قیام عدت کو ترک کردیا-آج وہ شام کو چوری چھپے دور ایک سہیلی کے گھر کچھ مدد کے لئے گئے تھی-لکین آگے تالہ لگا دیکھ کر اس کی مایوسی میں اضافہ ہو گیا وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر آ رہی تھی جب اس کی نذر گلی میں پڑی ایک مردہ مرغی دیکھی تھی-اس کو بڑی گھن آئے تھی -وہ سیدھی گھر چلی گئے تھی لکین اندر اس کی بیٹی بھوک سے بلبلا رہی تھی-بیٹا خاموش ہو چکا تھا کیونکہ اب رونے کی طاقت بھی نہیں باقی تھی-یہ دیکھ کر اس کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے-وہ پھر چادر لیپٹ کر دروازے سے تیزی سے بھاہر نکل گئے تھی-بس وہ پچاس قدموں کو عبور کرتے ہوئے کوڑے کے ڈھیر تک گئی اور کانپتے ہاتھوں سے مرغی کو اٹھایا اور پھر اپنے گھر کو مڑ گئی-وہ گھر جو اس نے اپنی مرضی سے نہیں چنا تھا-دروازہ بند ہو گیا تھا اور گویا ایک کہانی بھی اس کے ساتھ ہی نظروں سے اوجھل ہو گئے تھی -

No comments:

Post a comment