Monday, 3 October 2011

پراگندہ طبع لوگ (six)

پراگندہ طبع لوگ ہما علی کے ساتھ میری دوستی چلنے کیا بھاگنے لگی تھی-ہما ویسے تو بہت خوش مزاج لڑکی تھی-لیکن جب علمی بحث کا میدان آتا تو بہت سنجیدگی سے وہ بات کرتی تھی-مجھے اس نے اپنے ذہنی ارتقا کی کہانی بھی سنائی تھی-اس نی مجھے بتایا تھا کہ ایک مرتبہ اس نی اپنے دادا کے کتب خانے میں سے رسل کی ایک کتاب "فلسفہ کا پیش لفظ" پڑھی تو اس کتاب نے اس کو شک کرنا سکھایا-ہما جب یہ بات کر رہی تھی تو مجھے یاد آگیا تھا کہ تشکیک ایک ایسا مظہر ہوتا ہے جو کسی بھی سماج میں ترقی کی راہیں ہموار کر سکتا ہے-کتنی عجیب بات ہے کہ ہر مذھب کے پنڈت یہ درس دیتے اے ہیں کہ کسی سماج کا زوال اس سماج میں تشکیک سے پیدا ہوتا ہے -جب کہ فلسفہ کے رہگزار کہتے ہیں کہ زوال اس سماج کا مقدر ہوتا ہے جو شک کرنے اور سوال اٹھانے کو جرم قرار دے دیتا ہے- ہما علی اور میں ایک لڑکیوں کے مذہبی مدرسے کی ایک معلمہ سے ملے تھے-جو کہ پرانی منطق اور مسلم فلسفہ پر بہت عبور رکھتی تھیں-ان کا نام زاہدہ تھا-اصل میں میں اندلسی صوفی ،فلسفی،شاعر شیخ ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود پر کام کر رہا تھا -میرا ٹاپک تھا "شیخ ابن عربی کے فلسفہ وحدت الوجود کی سماجی جہات "اس سلسے میں ہما اور میں نے عربی مدرسوں کی خاک چھانی-ان مدارس میں دورے کے دووران فلسفہ،منطق،حکمت کا درس دینے والے بہت کم ملے-جو ملے وہ ان مدراس کے طلبہ اور مدرسین کی نظر میں رہ راست سے ہٹ چکے تھے-زاہدہ بہت کمال کی خاتون تھیں-ان کا گھر اس مدرسے کی اندر تھا-ان کے شوہر اسلامیات میں پی ایچ دی تھے-بہت روشن خیال تھے-زاہدہ نے مجھے اور ہما کو اس قدیم خزانے کی سیر کرائی جو عرصہ دراز سے مدرسوں میں پڑھایا نہیں جا رہا تھا- میں نے ٹھیک طرح سے مسلم تہذیب کی ضو فشانیاں آٹھویں صدی میں پہلی مرتبہ یا تو ہما کی والدہ کی مدد سے دیکھیں تھیں یا پھر یہاں-زاہدہ نے تو ایک طرح سے ان کتابوں کو ٹائم مشین بنا ڈالا جس کے زریعے ہم نے ماضی کا سفر کیا آٹھویں صدی کا بغداد کیا شہر تھا-اس شہر میں اتنا ثقافتی تنوع تھا کہ آپ جتنا تصور کریں کم ہوگا-کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس شہر کے چوک میں کوئی ملحد کھڑا ہوکر خدا کے وجود پر بحث کرے گا-کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ١٦ سال کا ابو حنیفہ کوفہ کے ایک چوک میں ایک ملحدفلسفی سے بات چیت کر رہے ہوں گے اور ان کو سننے والے تحمل،برداشت کے ساتھ سن رہے ہوں گے-کیا کسی کو خبر ہے کہ ایک نابینا شاعر آخرت بارے یا دنیا کے فنا ہونے بارے کسقدر بیباکی سے شعر لکھتا تھا-کبھی وقت ملے تو ابن الراوندی کو پڑھنے کی کوشش کرنا-آپ کو حیرت ہوگی کہ یہ لوگ کیسے کوفہ،بغداد ،دمشق،اندلس میں نہ صرف زندہ تھے بلکہ اس شہر کی علمی اور ثقافتی زندگی کی جان بھی تھے-ان میں سے کسی کے ساتھ وہ نہیں ہوا جو سلمان تاثیر کے ساتھ ہوا تھا یا پھر ایک مسیح ملک شہباز بھٹی کے ساتھ ہوا تھا ایک شامی مسیح لکھاری بنو امیہ کے دور میں فلسفہ اور علم کلام کی سریانی،عبرانی میں لکھی کتب کے تراجم کرتا تھا اس کو سماج میں علم حکمت اور فلسفہ میں اتھارٹی خیال کیا جاتا تھا-کسی نے اس کے مذھب بارے نہیں پوچھا-اس زمانے میں جب عرب و عجم میں مسلم تہذیب کا طوطی بول رہا تھا تو ایک بات حقیقت تھی کہ کے فکری آزادی پر کوئی قدغن نہیں تھی-یعنی تہذیب کی ترقی اور آزاد خیالی کے آپس میں گہرے رشتے موجود تھے-تہذیب کی ترقی کا سفر بھی رک سا گیا جب آزاد خیالی کو پابند سلاسل کرنے کی کوشش ہوئی زاہدہ نے ایک مرتبہ مجھے فروعات فقیہ کی ایک کتاب دکھلائی جس میں ابو حنیفہ کا یہ قول لکھا تھا کہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا-پھر ابو حنیفہ کا ہی قول تھا جو شک کرنا نہیں نہیں جانتا -وہ یقین کرنا بھی نہیں جانتا- ایک مرتبہ کسی نے ابو حنیفہ سے کہ کہ وضو نصف ایمان ہے-ابو حنیفہ فورا بولے کہ پھر ٹھیک ہے صاحب تم دو دفعہ وضو کرڈالو تمہارا ایمان تو مکمل ہو گیا-یہ ابو حنیفہ کہتے تھے کہ فارسی میں اگر کوئی نماز پڑھنا چاہے تو نماز پڑھ سکتا ہے-عقلیت پسندی کی بہت سی مثالیں ان کتب میں موجود تھیں- ہما نے ایک مرتبہ سپنوزا کے فلسفہ میں انجیل کی اخلاقیات سے فلسفہ کہ حقایق کو ملانے کا ذکر کرتے ہوے انسان،کاینات اور خدا کی تثلیث کو ایک مظہر کی تجلیاں قرار دینے کی طرف توجہ دلائی تھی-میں حیران رہ گیا کہ کس طرح شیخ ابن عربی سپونوزا سے بہت پہلے یہ کام قران اور فلسفہ کے ساتھ کرچکے تھے -وہ سپنوزا سے بڑے فلسفہ کے مالک تھے- میں ایران میں علمی صورتحال پر ایک کتاب وہاں کے عظیم دانشور عبدالکریم سروش پر لکھ رہا تھا -اس دورران سروش سے جب میری بات ہوئی تو سروش نے مجھے بتلایا کہ اب مغرب میں رومی اور ابن عربی کے کام کو دریافت کیا جارہا ہے-

No comments:

Post a comment