Monday, 3 October 2011

گمشدہ روح کی تلاش

وہ کراچی کے علاقے الکریم سنٹر میں پیدا ہوا تھا -اس کو اس کے دادا نے پالا تھا-اس کا گھر کسی ہندو سنار کا گھر تھا جس میں ساگوان اور دیودار لکڑی کا بہت کام ہوا تھا-بہت قدیم سا گھر تھا یہ-لکن اس کی پر اسراریت اسے اچھی لگتی تھی-وہ اس مکان کے تنگ و تاریک کمروں کو بہت پسند کرتا تھا-جب وہ صبح سویرے اسکول کی طرف جاتا تو راستے میں ایک عمارت اس کو بہت خوبصورت لگتی تھی-اس نے ایک مرتبہ اس عمارت کو اندر سے دیکھنا چاہا تو ایک گارڈ نے اس کو روک دیا اور کہا کہ اس عمارت میں اس کو جانے کی اجازت نہیں ہے-یہ صرف پارسیوں کے لئے ہے-اس کے لئے یہ لفظ بھی نیا تھا-اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیوں ایک عمارت کو دیکھنے سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ اس کا من کر رہا ہے-پھر ایک مرتبہ اس کے محلے میں بنی ایک مسجد پر دو فریقوں کے درمیاں لڑائی ہوگئی-اس نے لوگوں کو مسجد میں ھتیار بند ہو کر لوگوں کو لڑتے دیکھا تو اپنے دادا سے پوچھا "دادا/یہ لوگ خدا کے گھر پر ملکیت کے دعوے کیوں کرتے ہیں اور آخر سب انسان کیوں امن کی جگہ کو کچھ لوگوں کے لئے خاص کرنا چاہتے ہیں-وہ ٨ سال کا تھا جب پہلی مرتبہ لاہور آیا تھا اس نے پہلی مرتبہ جب فورٹ دیکھا اور مال روڈ پر وکٹورین طرز تعمیر دیکھا تو ایک دم سے اسے لگا کہ وہ ٢١ ویں صدی کی بجاے پھر سے ١٨ ویں صدی کے ہندوستان میں آ گیا ہے-اس نے جب لارنس باغ دیکھا تو یہ سخت سردی کا موسم تھا-دسمبر کی سرد ہوائیں بدن کو چیرے دے رہی تھیں -رات کا سماں تھا وہ ایک پیپل کے درخت کے نیچے کھڑا تھا اسے یوں لگتا تھا جسے درخت درخت نہ ہوں گم سم سے مجسمے ہوں اور سب کے سب گیاں دھیان میں مصروف ہوں-اس کے دادا نے اسے برگد کے درخت کے نیچے گوتم بدھ کی کہانی سنیی تھی-کیسے اس نے سنیاس لیا تھا-کیسے وہ برگد کے نیچے دھونی جما کر بیٹھا تھا-اور کیسے اس پر حقیقت کا کشف ہوا تھا-iاس وقت دادا اسے کوئی گورو لگے تھے جو نروان کے کے حصول میں اس کی مدد کر رہے تھے-دادا اس کو جب پہلی مرتبہ ہندوستان لے کر گئے اور اعظم گڑھ میں ان کی ہولی دکھائی تو نجانے کیوں اس کو لگا کے اس حویلی میں اس نے کوئی صدیاں گزاری ہوں گی-وہ محض دس سال کا تھا اس وقت لکن اس کو وہاں جاتے ایسے لگ رہا تھا کے وہ کوئی بچھڑی کونج ہے جو دوبارہ اپنے گھر آ پونچی ہے-کئی سالوں بعد جب دادا کو فوت ہوے دس سال گزر گئے تھے اس کو خیال آیا تھا کے ہجرتوں کے زخم کیوں نہیں بھر پاتے-کیوں ایسا ہوتا ہے کے آدمی کے کی وطن ہو جاتے ہیں اور سب سے اس کو پیر ہو جاتا ہے-وہ کراچی،اعظم گڑھ ،ماسکو کو بیک وقت یاد رکھتا تھا-تینو شہروں میں سے دو شہروں میں اس کی زندگی کے ماہ و سال گزرے تھے جب کے تیسرا شہر وہ تھا جہاں اس کے باپ دادا کی قبریں تھیں -اس کے قبیلے نے دو سو سال زندگی کے وہاں بسر کے تھے-اس کے جد امجد عرب سے اے تھے -ایک مرتبہ جب وہ ہیٹی کی کتاب عرب پڑھ رہا تھا تو اس کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے جیون کا ایک حصہ وہاں بھی گزارہ تھا-اس کے ذہن میں کتنی دنیا آباد تھیں یہ بس ووہی جانتا تھا-اس کو نجانے کیوں سندھ کا سچل ،سرائیکی کا فرید ،پنجابی کا شاہ حسین،بلوچی کا سموں اور پشتو کا رحمان بابا اپنے اپنے لگتے تھے-یہ جو انس اور کشش تھی اس کو کیا نام وہ دیتا بس دل کے آنگن میں سب کو

سماے ہوے تھا -ایک مرتبہ جب وہ افغانستان گیا تو کابل میں ایک گلوکار کو اس نے فارسی کی غزل گاتے سنا تو اسے لگا کے گویا یہ بھی میرے دل میں ہے-

وہ ایک مرتبہ ملتان النگ پر بیٹھا تھا -ایک عورت آ ئی اس کی آنکھوں میں کوئی سحر تھا-لمبا قد تھا -اس کی سیاہ رنگت اس کو بدصورت نہیں بنا رہی تھی بلکہ یہ سیاہ حسن اس کے وقار میں اضافہ کر رہا تھا-عجیب عورت تھی وہ-اس کے ہاتھ کلائی تک چوڑیوں سے بھرے تھے-ناک میں ایک بڑا سا کوکا تھا جو اس کے کتابی چہرے پر بہت سج رہا تھا-آنکھوں میں کاجل کے ڈورے تیر رہے تھے-جھیل ساگر تھیں گویا وہ آنکھیں-فسوں پھونکتی تھیں جس پر پڑ جاتی تھیں-لکن عجیب بات تھی وہ پیروں سے ننگی تھی-بڑے بڑے پیر تھے جو اس کے لمبے قد کی وجہ سے بڑے نہ لگتے تھے-یہ کوئی جل پری تھی جی جل ساگر سے نکل کر آئی تھی-اس نے اس سے سوال کیا شاہ جی "میرے لئے دعا کرو کہ میں اپنی تمنا کو پالوں-وہ تو اس عورت کے سحر میں گم تھا-اس کو یوں لگ رہا تھا یہ کوئی اپسرا ہے جو آسمان سے اتری ہے-اس نے ہندوستان کی تاریخ میں آریہ ورش کے دور سے قبل ڈراویرد لوگوں کے بارے میںپڑھا تھا تو اسے یہ عورت اسی قبیل کی کوئی بچی نشانی لگی تھی-اس نے عورت سے پوچھا کہ اس کا کیا نام ہے-تو وہ کہنے لگی دھانو -یہ نام سن کر اسے لگا کے دور کہیں مندر میں گھنٹیاں بج اٹھیں ہوں-اور مندر کی دسیوں نے رقص شروع کر دیا ہو -دھانو تو وہاں سے چلی گی لکین وہ کئی روز تک دھانو دھانو کی مدھر سی موسیقی سنتا رہا اور اسے لگا کہیں ہے جو اس کو اپنی طرف بلاتا ہے-خواب اور طلسم تو اس کی زندگی کا گویا حصہ بن گئے تھے-بیٹھے بیٹھے ایک اپنی پسند کی دنیا کی وہ بنت کر لیتا -پھر کافی کافی دیر اس دنیا کا ایک فعال کردار بن کر رہتا -اس کو پرانی عمارتوں ،کھنڈرات ،ویرانوں میں مٹی ہوئی بستیاں جیتی جاگتی لگتی تھیں-اچانک اس کے سامنے کھنڈرات پھر سے آباد ہو جاتے اور کی صدیوں سے ویرانوں میں ہوئی ویرانی میں آبادی کا ہنگم ہو جاتا -وہ سوچ میں پڑ جاتا کہ اس کی یہ امیجری اس کو کہاں لیجانا چاہتی ہے- اس کو کبھی کسی کتاب کے اندر لکھ لفظوں میں پوشیدہ کردار زندہ نظر آنے لگتے تھے-پھر وہ بھی کوئی کردار بن جاتا-ایتھنز کی ایک گلی کے نکڑ پر ایک مرتبہ وہ ماضی میں چلا گیا تھا اور اس نے سقراط کو مکالمہ کرتے دیکھا تھا-عجیب ہیت کا انسان لکین بہت خوبصورت وچار تھے اس کے-یہ تو اس کی دوست اس کا کندھا نہ ہلاتی تو وہ شاید کافی دیر تک اس دونیہ سے واپس نہ آتا-

No comments:

Post a comment