Monday, 3 October 2011

جشن آزادی -١٤ اگست ١٩٤٧

جشن آزادی -١٤ اگست ١٩٤٧

رات کے گیارہ بج رہے تھے جب فاضل کا بنگلہ تحصیل فیروز پر سے ایک قافلہ پیدل ریاست بہاول پر کی ایک چھوٹی سی جگہ مندی صادق گنج اسٹیشن پر آ کر ٹھہر گیا-اس قافلے میں فقط تین لوگ تھے -ایک آدمی جس کی عمر کوئی چالیس سال ہوگی -جبکہ دوسری ایک عورت تھی جو اتنی ہی عمر کی تھی -اس کے ساتھ ایک تین یا چار سال کی بچی تھی -تین افراد کے اس قافلے میں عورت کے سے پر نہ چادر تھی اور نہ ہی اس کے ہٹوں ،پیروں،ناک،کان میں کوئی زیور تھا-تینو افراد کے پیر میں جوتی بھی نہ تھی-جبکہ گرد سے اٹے ہوئے جسم تھے-یاس اور غم و اندوہ ان کے چہرے پر نقش ہو کر رہ گیا تھا-شکل سے دونو مرد عورت پڑھے لکھ معلوم ہوتے تھے-یہ وہ علاقہ تھا جو ان کے مسکن سے بہت دور تھا-انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ حوادث زمانہ ایک دن ان کو یہاں لا کر پھینک دیں گے-یہ لوگ ضلع حصار سے پیدل چلے تھے تو ان کی تعداد ساتھ تھی -ایک شیر خار بچی گود میں تھی -جو پیاس سے فیروز پر سے کچھ پہلے ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی-ایک جوان رعنا تھا جو جو ان کی ڈھال بن کر چلا تھا -لکین حصار سے نکلتے ہی کہیں سے ایک جتھا حملہ اور ہوا تو اپنے خاندان کو بچانے کے لئے وہ بلوائیوں کو روکنے کی کوشش میں اپنی جان ہار گیا-ایک نوجوان لڑکی تھی معصومہ وہ ناجانے کب سے زہر کی پڑیا سنبھالے بیٹھی ہوگی -بھائی کے مرنے پر یک دم اس کو پھانک گئی اور یہ میاں، بیوی دیکھتے رہ گئے-دیور اور نند کو کفن تک نہ مل سکا اور شیر خوار بچی کو ایک جنگلے میں ویرانے میں دفنا کر جان بچانے کو آگے کی طرف چل نکلے-

دو دن کے بھوکے پیسے نڈھال ریل اسٹیشن پر دھڑام سے پنچ پر ایسے گرے جیسے کوئی چکر آنر پر گرتا ہو-یہ رمضان کی ٢٧ ویں شب تھی-اگست کا مہینہ تھا -ٹھیک ایک گھنٹے بعد ١٤ تاریخ ہونے والی تھی-ایک دن پہلے حصار کالج میں تو اس قافلے کے واحد بچے مرد نے ریڈیو پر جناح اور نہرو کی تقریر سنی تھی -جس میں دو ملکوں کے قیام کا اعلان ہوا تھا-ایک خواب تھا جو دونوں رہنماؤں نے لوگوں کو دیکھایا تھا-

یہ وہ خواب تھا جس پر اسے تو بلکل یقین نہیں آیا تھا-کیونکہ اس نے دیکھا تھا مذھب کے نام پر تقسیم کبھی بھی اچھے نتائج لے کر نشی آ سکتی تھی-جب جوں میں تقسیم کے پلان کا پتا چلا تو نواکھلی بنگال میں زبردست ہندو ،مسلم فساد ہوا تھا-اس کے بعد بہار میں خوں کی ہولی کھیلی گئی تھی-سارا ہندوستان مہا سبھاییوں اور مسلم انتہا پسبندوں کے ہاتھ میں یرغمال بن گیا تھا-

آج اس اسٹیشن پر تباہ حال بیٹھے دونوں میاں ،بیوی سوچ رہے تھے کیسے پیارے خاب تھے جو انھوں نے نے اپنے کالج کے دنوں میں دیکھے تھے- کیسے سبط حسن نے شیعہ مدرسہ میں مولوی بنانے سے انکار کرتے ہوئے لکھنو کے انگریزی اسکول میں داخلہ لے لیا تھا تو اعظم گڑھ میں ان کی حویلی میں ایک زلزلہ آگیا تھا-گویا مولوی نقی علی نقوی کی اولاد کرسٹان ہونے لگی تھی-سبط حسن کی دادی انگریزوں کوے ٹینک میں کیڑے پڑنے کی دعا مانگنے کے ساتھ ساتھ انگلستان کی نگوڑی ملکہ کی موت کی دعا بھی مانگنے لگی تھیں-اصل میں ہوا یہ تھا کہ ایک دن سبط حسن کے ایک چچا حشمت علی اعظم گڑھ آئے تو سارے شہر میں چرچا ہو گیا کہ کرسٹان سید آ گیا ہے-گھر میں چچا حشمت علی کا نام لینا جرم تھا-یہ تو ان کی بی بی فاطمه حشمت تھیں جو ایک اجنبی کی طرح حویلی کے اسب سے آکری اور تنگ و تاریک کمرے میں رہتی تھیں جہاں چراغ ہمیشہ یا تو شب عاشور جلتا دیکھا یا جب سیدہ کاینات کا یوم وفات آتا تو روشنی ہوتی تھی-حشمت بی بی سبط کو دادی کی کہانیوں میں موجود وہ شہزادی لگتی تھیں جس پر سات سمندر پار کا کوئی شہزادہ فریفتہ ہو جاتا اور شہزادی بھی اس کو دل دے بیٹھتی تھی-پھر وہ شہزادہ بارات کے ساتھ آنے کا وعدہ کر کے جاتا اور نہ لوٹتا -شہزادی سوگوار حسن کے ساتھ شہزادہ کا انتظار کرتی رہتی-حشمت چچا کے بارے میں ایک شب عاشور کی رات شام غریباں کی رات جب اس حویلی میں حزن اور ماتم کی فضا رچی بسی ہوتی تھی-حویلی میں بیبیاں بال کھولے،سیاہ کپڑے پہنے ،کسی آرایش و زیبایش کے بنا اہل بیت کے پر کربلا میں ہوئے ظلم کا سوگ اور گم منا رہی تھیں تو فائمہ چچی اپنے کمرے میں اکیلی ماتم گساری اور غم اہل بیت منانے میں مصروف تھیں-سبط حسن کی آواز میں بہت سوز تھا -اسے بیبیاں کہنے لگی کہ حسین کا نوحہ پڑھے -لکین نجانے وہ کیوں سب کو چھوڑ اور فاطمه چچی کے کمرے میں چلا آیا تھا-اس روز چچی فاطمه کی سوگواریت کچھ زتیادہ ہی لگ رہی تھی-سبط حسن نے چچی کو بی بی فاطمه کی قسم دی اور کہا کہ اس کو چچا ہسمت کے بارے میں بہتے کیا وہ کرسٹان ہو گئے ہیں-چچی اس دن پھٹ پڑیں اور انھوں نے بتایا کہ اس کے دادا نقی علی نے کیسے مولوی ذاکر حسین کے کہنے پر سارے خاندان پر انگریزی کی تعلیم حرام قررار دے دی تھی-اور حشمت علی کیسے علی گڑھ کالج چلے گئے تھے-حشمت اور فاطمه کا نکاح پچپن میں ہی ہو گیا تھا-اور اس نے پچپن ،لڑکپن سب حویلی میں گزارا تھا-وہ سبط حسن کی خالہ کی بیٹی تھیں-اور بچپن میں یتیم ہو گئیں تھیں- دادا نقی علی خان فاطمه کو گھر لے آئے تھے-بعد ازاں اس کا نکاح سبط حسن سے کر دیا گیا-حشمت چچا کے انگریزی پڑھنے کے فیصلے کس نزلہ فاطمه پر بھی گرا تھا-اسے اچھوت جان کر بھرے پرے گھر میں الگ تھلگ رہنے پر مجبور کر دیا گیا تھا-وہ منحوس خیال کی جاتی تھی-کسی کی شادی پر اس کو لیجانا جرم خیال کر لیا گیا تھا-

اب جو چچا حشمت آئے تو پینٹ شرٹ میں سرخ و سپید چچا سبط حسن کو بہت اچھے لگے-چچا حویلی میں آئے رتو وہ کسی سے خوفزدہ نہیں تھے-سب ان سے بات کرتے ڈرتے تھے لکین چچا بے دھڑک سب سے باتیں کر رہے تھے-فاطمه چچی بہت کھلی کھلی نذر آتی تھیں-ان کے چہرے پر خوشیوں کے گلاب کھلے تھے-رات کو چچا چھت پر چارپائی ڈال کر بیٹھ گئے تو سبط حسن بھی وہاں چلا آیا-چچا نے سسبت سے پوچھا کے کیا کر رہے ہو ؟چچا ضرب ،ضربا،ضربوا کی گردان رہتا رہا ہوں-چچا سن کر ہنسنے لگے-کہنے لگے تمہیں معلوم ہے ؟زمانہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے -اور ایک ہم ہیں کہ پتھر کے زمانے میں جی رہے ہیں-انھوں نے اپنے بیگ سے ایک کتاب نکالی اور سبط حسن کو دی -"انگارے "نام تھا اس کتاب کا-سبط حسن نے چراغ کی مدھم سی لو میں اس کتاب کو پڑھا -ساری رات بیت گئی-پہلی مرتبہ سبط حسن کی تہجد قضا ہو گئی-کتاب کا جادو سر چڑھ کر بولا-چچا واپس تنہا نہیں گئے-فاطمه اپر سبط حسن بھی ان کے ساتھ ہی چلے گئے-سبط حسن نے دہلی اسکول میں داخلہ لے لیا-حشمت چچا کا گھر دہلی میں ادیبوں،سیاسی کارکنوں،شاعروں کا مسکن تھا-یہیں سبط حسن نے پہلی مرتبہ اسمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کو دیکھتا تھا-جن کے بارے میں مولوی ذاکر حسیں نے ایک مرتبہ اپنے شاگردوں کو بتاتے ہوئے کہا تھا کے قیامت کی ایک نشانی منٹو،اسمت نامی دو مر و عورت کا ظہور بھی تھا-اب یہ پورا ہو چکا قیامت قریب ہے-سبط حسن بہت حیران ہوا تھا کہ وہ آخر کیسے مرد و عورت ہوں گے جن کی وجہ سے قیامت قریب آ گئے ہے-سبط حسن کا خیال تھا کہ کوئی بہت مکروہ چہرہ ہوگا ان کا-اور ان کی تحریوں میں ایسا کیا` `ہوگا کہ ان کو فتنہ کی نشانیوں میں سے ایک سمجھ لیا گیا-حشمت چچا کرے ہاں اسمت آپا جب آئیں تو سبط حسن ایک نرم گفتار اور محبت سے بھری سفقت سے پیش آنے والی عورت سے ملا -اس کو اس میں اپنی ماں کا ایکس نذر آیا-سچی بات یہ سبط حسن کو بیھٹ سالوں بعد عصمت کی کہانیتیوں کی سمجھ آئے تھی-ایک قطرہ خون سبط حسن نے اپنی دادی کو ان کے آخری دنوں میں سنائے تھی تو دادی نے کہانی لکھنے والی کو جنت کی بشرط دی تھی-اس کو حسیں کی پکی کنیز قرار دیا تھا-سبط حسن چھپ کر گیا تھا-وہ کیسے بتاتا کہ دادی یہ ووہی عصمت ہے جس کو تم کافرہ اعظم قرار دیتے نہیں تھکتیں-سعادت کو جب سبط حسن نے دیکھا تو دبلے پتلے منٹو ان کو مولکوی ذاکر کے کھینچے ہوئے نقشے سے بلکل مختلف نذر آئے-حشمت چچا نے سبط حسن کو بیا تھا کہ کیسے دادا نقی نے "بو"افسانہ پڑھتے دیکھ کر ان کو بےتحاشا مارا تھا-مولوی فطرت حسین نے حشمت چچا کے بارے میں دادا نقی کو خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان پر کوئی اہل بیت کا دشمن جن نے قبضہ جما لیا ہے-ان کا علاج بہت ضروری ہے-اس سے پہلے حشمت چچا کا علاج ہوتا وہ گھر سے باغ لئے تھے-سبط حسن کالج گئے تو وہاں ان کا تعارف ایسے سیاسی کارکنوں سے ہوا جو آزادی کے باب میں نہ تو کانگریس سے اتفاق کرتے تھے اور نہ ہی مسلم لیگ سے-ان کی نذر میں یہ دونو جماعتیں صرف اقتدار ہندوستان کے جاگیرداروں،سرمایہ داروں اور ان کے مدد گار ملاؤں کے لئے حاصل کرنا چاہتیں تھیں-ہندوستان کی اصل آزادی تب ممکن تھی جب ہنوستان کے محنت کش طبقات مل کر نا صرف انگریز سامراج کا تختہ الٹ دیتے -بلکہ ہندوستان کے رجعت پسن طبقات سے بھی نجات حاصل کرے گا-سبط حسن کو یہ فلسفہ بہت اچھا لگا-اور اس نے کالج میں اس گروہ میں شمولیت اختیار کر لی جو خود کو کیمونسٹ کہتا تھا-یہاں سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا- سبط حسن حدوستان کی آزادی کے لئے کام کرنے لگے -لکین ان کو اوپن کام کرنے کی آزادی نہ تھی-یہ تو دوسری جنگ عظیم کے وقت جب گرمنی نے سوویت یونین پر حملہ کر دیا -تو کیمونسٹوں نے جنگ کو عوامی جنگ قرار دے دیا-سبط حسن کو بڑا عجیب لگتا تھا جب صرف رات پہلے کیمونسٹ انگریز سامراج کے کھیلاگ لڑ رہے تھے اور اگلی صبح وہ انگریزی فوج میں بھرتی ہو رہے تھے-سبط حسن اس صورت حال کو قبول نہ کر سکا وہ انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کرتا رہا-سبط حسن نے سوچا بھی نہ تھا کے ہندوستان کی آزادی کی جنگ کا اختتام اس طرح خونیں انداز میں ہو گا-وہ بطور لیکچرار انگریزی گورمنٹ میں بھرتی ہوگیا اور اس کی پہلی پوسٹنگ حصار کالج میں ہوئی-سبط حسن کو دہلی ہی میں توثیق النسا سے محبت ہو گئی تھی-وہ بھی اعظم گڑھ کی تھی -ایک باغی جس نے پردہ ترک کیا اور اپنا جہاں بنانےنکل پڑی تھی-پھر انجمن ترقی پسند تحریک کے ایک اجلاس میں سبط کی ان سے ملاقات ہوئی-دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہوگئے-شادی کر لی دونوں نے-حصار آکر ایک سرکاری کوارٹر میں رہ رہے تھے-یہ ٤٦ کا سال تھا جب وہ یہاں آئے تھے -ابھی سال ہی ہوا تھا کہ قیامت ٹوٹ پڑی-لہو لہو آزادی سے ایک دیں پہلے حصار شہر ہو گیا تھا-سبط حسن کے پاس اس کا چھوٹا بہائے بھی آکر رہنے لگا تھا-اور ایک چھوٹی بہن ملنے آئے ہوئے تھی-سب کت گئے-ایک بچی کے ساتھ وہ میاں بیوی مندی صادق گنج کے اسٹیشن تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے-سوچتے تھے کہاں جائیں-

No comments:

Post a comment