Monday, 3 October 2011

بارش میں بھیگتی نظم

بارش میں بھیگتی نظم

سنو !

اے جان بہار ،

آجاؤ

یہ مست و الست بادل

یہ اٹھکیلیاں کرتی ہوا

یہ برستی بارش کی بوندیں

سب تمھیں بلاتی ہیں

سناٹا جو آج یہاں ہے

ویرانی جو آج یہاں ہے

یہ سب تمہاری جدائی کا سبب ہے

پربتوں کی وادیوں سے اتر کر

کبھی مری طرف آؤ

تم سے دھرتی ملن چاہتی ہے

میگھ ملہار وصل چاہتی ہے

وہ تشنہ لب ہے

تم سے مل کر تسکین چاہتی ہے

اسے دھرتی سے ملنے کا مزہ نہیں آتا

اسے اپنا ہی ساون سونا لگتا ہے

تمہارے بن فقط میں ہی نہیں اداس

سارا جہاں لگتا ہے

تمہارا سفر کیسا ہے

کیا رستے میں میرا گھر نہیں پڑتا

سنو!

اے جان بہار

تم بن یہ گھر ،گھر نہیں ہے

شہر خموشاں میں ڈھے گئی قبر لگتا ہے

جس پر کوئی کتبہ نہ ہو

chle کوئی تیز آندھی

اور رہا سہا نشان بھی مت جائے

سنو!

اے جان بہار

کبھی ہو سکے تو

اک پڑاؤ مرے گھر بھی کر لینا

مری ہستی فنا ہونے سے بچ جائے گی

میگھ ملہار کی اداسی مٹ جائے گی

دہراتی کی پیاس بھی مٹ جائے گی

سنو !

اے جان بہار

یہ مست و الست بادل

یہ اٹھکیلیاں کرتی ہوا

یہ برستی بارش کی بوندیں

سب اداس ہیں

تمھیں اپنی طرف بلاتی ہیں

آجاؤ!

آجاؤ!

اے جان بہار

آجاؤ

(عامر مستجاب حیدر )

No comments:

Post a comment