Monday, 3 October 2011

پراگندہ طبع لوگ(४थ पार्ट)

پراگندہ طبع لوگ

جب میں نے اس تحریر کو لکھنا شروع کیا تھا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بات اس قدر پھیل جائے گی اور میں ایک طرح حسے یاد گار زمانہ ہیں ہم لوگ جیسی کوئی داستان لکھنے کی طرف آ جاؤں گا-قبانی کا تذکرہ کرتے ہوے جابجا ہما علی کا تذکرہ آیا تو یادوں کا ایک سیلاب بھی ساتھ ساتھ چلا آیا-میں نے بہت دفعہ ہما علی کی یادیں لکھنے کا اردہ باندھا لکین بیچ میں ہی کمر ٹوٹ گئی-دو دن سوچتا رہا لکھوں یا نہ لکھوں -پھر ایک دوسدت نی اصرار کیا کہ پراگندہ طبع لوگ میں ایک نوٹ ہما علی پر بھی لکھا جانا ضروری ہے-میں نے پہلے چار نوٹس اپنے ایک دوست کو بھیجے تو اس نی بھی اصرار کیا ہما پر ضرور نوٹ لکھو-میں بری مشکل سے یہ سطریں لکھ رہا ہوں-میری ڈائری کے ایک تہائی صفحے اس کے یادوں سے بھرے ہوے ہیں-میں اس نوٹ کے پڑھنے والوں کو صاف صاف بتا دوں کے ہما ور میں دو دوست تھے بس اس کے علاوہ ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہیں تھا-دوستی آدمی کا اپنا انتخاب ہوتی ہے جبکہ محبت اور عشق اس کا اپنا انتخاب نہیں ہوتے-ہما علی سے میری دوستی فلسفی ڈیپارٹمنٹ کراچی میں ہوئی تھی -جو کہ ظاہری طور پر اس کی جسمانی موت تک قائم رہی لکین وہ اب بھی قائم و دائم ہے-

یہ سردیوں کی ایک روشن صبح تھی-فلسفہ ڈیپارٹمنٹ میں ہمارا پہلا دن تھا- سعید عالم ایک ایک سے اس کا تعارف پوچھ رہے تھے-تیسرے درمیان والے ڈیسک پر ایک دھان پان سی لڑکی جینز کی پینٹ اور لمبی سی قیمض میں کھلے بالوں کے ساتھ سب سے الگ تھلگ نظر آ رہی تھی-اس کی باری آیی تو اس نےخاصا مزاحیہ انداز اختیار کیا-بظاہر ایسا لگتا تھا جیسے وہ بس وقت پاس کرنے آیی ہے-تعارف کے بعد استاد نے باری باری سب سے ان کے پسندیدہ فلسفی کا نام پوچھا تو اس لڑکی جس نی اپنا نام ہما علی بتایا تھا کہ اسے سپنوزا پسندہ ہے-سر کی عادت تھی جب ان کو کسی بات پر شک ہوتا یا وہ کسی کا امتحان لینا چاہتے تھے تو ان کے ہونٹوں پر مسکان کھل اٹھتی تھی-انھوں نے بری معصومیت سے ہما علی کو سپنوزا کے بارے میں کچھ بتانے کو کہا تو اچانک وہ شوخ و ترنگ میں ڈوبی نظر آنے والی لڑکی سنجیدہ ہو گی -اس نی اپنی گفتگو سے ایسا سماں باندھا کے ساری کلاس پر سکتہ چھا گیا -





سر بھی کافی دیر کی خاموشی کے بعد بولے اور کہنے لگے کہ دلی میں جب بھی کوئی شاعر مشاعرہ میں ایسے شعر کہتا جس کے بعد کوئی اور چیز سننے کی ضرورت نہ رہتی تو شمع گل کر دی جاتی اور نشست برخاست -تو اب سپنوزا پر اتنی خوبصورت تقریر کے بعد کلاس جاری رکھنا مزہ خراب کرنے کے مترادف ہوگی-اس طرح سے یہ پہلا تعارف تھا جو ہما سے ہوا-اب میں جب یاد کرتا ہوں کہ ہماری باقاعدہ دوستی کا آغاز کب ہوا تو مجھے یاد آتا ہے کہ یہ یونانی میتھالوجی پر اسباق چل رہے تھے تو ہما مجھ سے اس حوالے سے ڈسکس کرتی تھی-ایک مرتبہ ہم گراسی لان میں بیٹھے تھے تو گفتگو پہلی مرتبہ سبق سے ہٹ کر ایک دوسرے کے بارے میں جاننے پر چلی گئی-یہ ہماری دوستی کا باقاعدہ آغاز تھا-

ہما علی سندھی بخاری سید گھرانے سے تعلق رکھتی تھی-اس کے والد آکسفورڈ سے پڑھے تھے-وکالت کرتے تھے-جبکہ والدہ ڈاکٹر تھیں-اس کے تین بھائی منتظر،معصوم رضا ،مطاہر تھے جو امریکہ میں ہوتے تھے-ہما علی سندھی سوسایٹی میں ایک بہت پرانے سے بنگلے میں رہتی تھی-ان کا گاؤں لاڑکانہ میں تھا-بڑی سیکولر اور لبرل فیملی تھی-میں ایک مرتبہ ان کے گاؤں گیا تھا-تو گاؤں میں خاصے کٹر مذہبی رجحانات کے لوگ تھے-ہما نے مجھے ہنستے ہوے بتایا تھا کہ اس کے والد کو یہاں کافر سید کہا جاتا ہے-دراصل ہما علی کے دادا نے سب سے پہلے یہاں سے انگریزی تعلیم کی طرف قدم بڑھایا تھا-وہ سر سید کے علی گڑھ کالج گئے تو گاؤں میں مشہور ہو گیا بندے علی کا بیٹا کرسٹان ہوپ گیا -پھر یوں ہوا کہ ہما کے دادا نی تھری پیس سوٹ پہننا شروع کر دیا پھر تو کافر سید کے نام سے مشہور ہو گئے-ان کے والد نہ تو پیر بنے ،نہ ہی انہونے وہاں قایم دربار کو سنبھالا -وہ بھی کافر سید کے نام سے جانے جانے لگے-ہما کی والدہ بھی بہت نائس خاتون تھیں-ان کو ادب اور تاریخ سے بہت شغف تھا-میرے ساتھ ان کی خوب چھنتی تھی-وہ قدیم عربی ادبی تاریخ پر بہت عبور رکھتی تھیں-میں آج بھی ان کا شکر گزار ہوں کہ ان کے وجہ سے میں عربوں کے اندر روشن خیال اور خرد افروز تحریک سے واقف ہوا-بہت بعد میں جب میں عابد الجابری کی عرب ذہن پر تنقید پڑھی تو مجھے وہ بہت یاد آییں-

No comments:

Post a comment