Monday, 3 October 2011

پراگندہ طبع لوگ(१)

پراگندہ طبع لوگ

عامر حسینی

گرمیوں کی ایک شام تھی-میں لڑکپن کی سرحدوں کو بس پار کرنے والا تھا-ایک کتاب نے میرے دل و دماغ کی دنیا بدل ڈالی-یہ کتاب مجھے میرے ماموں کی لابریری سے ملی تھی-حیدر آباد شہر تھا-ایک اونچی پہاڑی پر آباد یہ دشهر مجھے بہت پسند رہا ہے-یہاں کی شام بہت سوہنی ہوتی ہے-جب سمندر کی ٹھنڈی ہوا آپ کا استقبال کرتی تھی تو گرمی کی سری کسل مندی دور ہوجاتی تھی-اس شہر میں ایک خوبصورت علاقہ ہیرا آباد تھا جہاں میرے ماموں رہا کرتے تھے-اس گھر کا سب سے پرسکون گوشہ ان کی لابریری تھی-یہیں اس دیں میں نے اس نئی چھپی کتاب کا مطالعہ شروع کیا تھا-کتاب کا متن عربی میں تھا-ساتھ ینفگلش میں ترجمہ تھا-یہ ایراب کے جدید شاعروں کے کلام کا انتخاب تھا-میں نے اس کتاب میں ایک شاعر نزار توفیق قبانی کی شاعری پڑھی تو یہ میرے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئی-

مجھے آج بھی یاد ہے کے قبانی کی پہلی جو چیز میں نے پڑھی تھی وہ قبانی کا مرثیہ تھا جو اس نے اپنی بیوی کی یاد میں لکھا تھا-قبانی ور بلقیس کی کہانی کو میں نے خود سے تشکیل دیا ور کی منظر میں نے تشکیل دے تھے-غم و اندوہ سے بھرا قبانی کا چہرہ -کہیں ایک معصوم پر پیکر بلقیس-میری ایک استانی تھیں -ان کا چہرہ اکثر اداس ور آنکھیں ملول رہتی تھیں-میں کلاس میں جب بھی ان کو کرسی پر چھپ بیٹھے دیکھتا تھا تو مجھے قبانی کی محبوبہ بیوی بلقیس یاد آ جاتی تھی-ایک بار ورڈز ورتھ کو پڑھتے ہوے میں نے ان سے بلقیس کا ذکر چھیڑا تو نجانے مجھے کیوں لگا کہ میری استانی کی آنکھوں میں اداسی کے رنگ مزید گہرے ہو گئے تھے-

کبھی ایسا ہوتا کہ میں دمشق کے پرانے محلے میں بیٹھے بیٹھے پہنچ جاتا جہاں قبانی کا بچپن ور لڑکپن گزرا تھا-مجھے اپنا کالج دمشق کا کالج لگتا جہاں قبانی اپنی جوانی میں رومان سے بھری نظمیں لکھ رہا تھا-میں بلوغت کی شرہاد پر کھڑا تھا ور مرد و زن کے باہمی پرکشش تعلق کی کہانی کے کئی باب ورق در ورق مجھ پر کھولتا چلا جا رہا تھا-

دمسق ایک روایتی شہر تھا-قدامت پرستی سے لتھڑا ہوا-جہاں جمالیات کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا-حسن ور عشق کی بات کرنا سنگین جرم تھا-قبانی کی اپنی بہن اس گھٹے گھٹے ماحول میں اپنی جان دے بیٹھی تھی-مجھے دمسق کی کہانی اپنے شہر کی کہانی لگتی تھی-ععورتوں پر نظم لکھنا قیامت تھا-قبانی مجھے اپنے یہاں کا کوئی باغی لگا تھا جس نے گھٹے گھٹے ماحول میں آزادانہ سانس لینے کی کوشش کر ڈالی تھی-

قبانی کی نظموں کی پہلی کتاب پر بہت شور مچا تھا- مولویوں کی ایک فوج اس کے پیچھے پڑ گئی تھی-میرے محلے کی مسجد کے ایک امام صاحب تھے-جن کی لاوڈ سپیکر میں آواز میرے کانوں کے پردے پھاڑے دیتی تھی وہ میرے ذہن میں آجاتے-میں محراب و منبر پر رگیں پھلا کر،منہ سے جھاگ نکلتے چہرے نذر آتے -میں قبانی کا چہرہ چشم تصور سے دیکھتا کہ اس کہ چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ہے-وہ کندھے اچکا کر کہتا ہو

"جانے مری بلا "

قبانی نے یہ قدم کیوں اٹھایا تھا؟جوانی میں کیا یہ اس کے جوش جذبات کا نتیجہ تھا کہ ایک رومن بھری نظموں کی کتاب سامنے آ گی تھی-نہیں ایسا نہیں تھا-یہ اس کی بہن وصال کی خود کشی تھی جس نے اس کو باغی بنا دیا تھا-کتنا خوصورت نام ہے وصال -سارا ادب ،ساری شاعری اس لفظ کے گرد گھومتی ہے-یہ تمنا ہے ہر شاعر کی-یہ آرزو ہے ہر صوفی کی-یہ کلپنا ہے ہر جوگی سادھو کی-

وصال نے عین جوانی میں اس وقت خود کشی کر لی تھی جب اس کی شادی اس لڑکے کے ساتھ کرنے کی کوشش کی گئی جس سے وو پیار نہیں کرتی تھی-قبانی اپنی بہن سے بہت پیار کرتا تھا-اس کو بہت رنج تھا وصال کے جانے کا-وہ حیران تھا کیا اس طرح سے بھی ایک فرسودہ رسم کی بھینٹ اس کی بہن چڑھ سکتی تھی-

قبانی نے لکھا تھا

"اس کا جنازہ پڑھنے کے بعد جب میں اپنی بہن کا جوان جسم مٹی کی نذر کر رہا تھا تو میں نے عہد کیا تھا کے میں عرب سماج کو بدل کر رہوں گا-

No comments:

Post a comment